بندوں کے بندوں پر کیا حقوق ہیں؟

بندوں کے بندوں پر کیا حقوق ہیں؟

Faqeer ki Daak | March 2024


محترم و مکرم عظیمی  صاحب  السلام علیکم ورحمۃ اللہ  ،

 دنیا میں ہر طرح کے لوگ آباد ہیں ۔ کسی کے مالی حالات اچھے ہیں،  کوئی درمیانے طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔  مذہب نے حقوق العباد کو بہت اہمیت دی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ بندوں کے بندوں پر کیا حقوق ہیں؟ آج کے دور میں آدمی کس طرح اﷲ تعالیٰ کی مخلوق کے کام آسکتا ہے  جب کہ وہ (آدمی) خود مجبور و بے بس  ہے ؟

شکریہ ،   وجاہت  رضا   (اسلام آباد)

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ،

خالق ِ کائنات اللہ  سارے جہانوں  کی پرورش کرنے والا ہے،   سب کی ضروریات  کا کفیل ہے  اور سب کا نگہبان  ہے ۔ چناں چہ جب ہم مخلوقات سے بھلائی  سےپیش آتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ کی خوش نودی   کے مستحق  ٹھہرتے ہیں۔قرآن کریم  نے ہم پرحقوق اﷲ کے ساتھ   حقوق العباد  یعنی بندوں کے حقوق پورے  کرنا  لازم و ملزوم  کیا ہے ۔

 حقوق العباد کی ادائیگی  رشتہ داروں  سے شروع ہوتی ہے  جن میں  والدین سب  سے پہلے مستحق ہیں ۔ ماں باپ کی خدمت  اور ان کی اطاعت  اولین  فریضہ ہے ۔ اہل و عیال  کے لئے حلال رزق  کا حصول اور بچوں کی  اچھی تعلیم و تربیت   بھی حقوق العباد میں سے ہے ۔ اس کے بعد دوسرے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا  نمبر آتا ہے ۔ آخر میں تمام مخلوقات   حقوق  العباد  کے دائرہ ٔ   کار میں آتی  ہیں ۔

 حقوق  العباد میں مالی حق بھی ہے  اور اخلاقی حق بھی ۔قرآن کریم نے جا بجا  اس کی حدود بیان کی                                                         ہیں  اور اس  کو ایمان کا جزو قرار دیا  ہے ۔  ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے ،

’’نیکی یہ نہیں کہ تم  نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلئے یا مغرب کی طرف بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم ِآخر کو  اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے  اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال  رشتہ داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔ اور نیک لوگ وہ ہیں کہ جب عہد کریں  تو اسے وفا کریں، اورتنگی و مصیبت کے وقت میں اورحق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔ ‘‘  (سورۃ البقرۃ: ۱۷۷)

میرے  بھائی !  اگر ہم اس حیثیت  میں نہ ہوں  کہ  مالی لحاظ  سے کسی کی مدد کرسکیں  تو خدمت  کے اور بھی ذرائع ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نے ہمیں مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ ہم ان  صلاحیتوں کو لوگوں  کے  فائدے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں ۔

 دین کا بنیادی جذبہ خیر خواہی  ہے۔  چناں چہ  اگر ہم  کسی کے لئے  اچھائی نہیں کر سکتے  تو اس کے لئے برائی  کے مرتکب  بھی نہ ہوں ۔ خیر خواہی  کے لئے محض  مالی حالت  کا اچھا ہونا  ضروری نہیں   لوگوں سے خوش  اخلاقی سے پیش  آنا،  سلام میں پہل کرنا ، کسی کی غیبت  نہ  کرنا اور نہ غیبت سننا ، اﷲ کی مخلوق  سے حسن ِظن  رکھنا، لوگوں کے چھوٹے بڑے کام کردینا ، ضعیف یا بیمار کو سڑک  پار کرا دینا ، بیمار کی مزاج پرسی کرنا ، سڑک پرپڑے  پتھر یا کانٹوں کو راہ سے ہٹا  دینا یہ سب حقوق العباد  کے زمرے میں آتا ہے ۔دعا گو ، عظیمی


More in Faqeer ki Daak