Topics

آسمانی کتا بیں

زمین پر بسنے والا ہر آدمی جب تذکرہ کر تا ہے تو کہتا ہے میں مسلمان ہوں ،میں ہندو ہوں ،میں پا رسی ہوں ،میں عیسائی ہوں حالانکہ انسان کی  اصل "رُوح" کا کوئی نام نہیں رکھا جا سکتا۔ رو شنی ہر جگہ رو شنی ہے چا ہے وہ  عرب میں ہو،عجم میں ہویا یو رپ میں ہو یا ایشیا کے کسی حصے میں ہو ۔اس دنیا میں جو بھی پیغام آیا ہے وہ اپنے الفاظ کے ساتھ قائم ہے ۔عیسائیوں کے لئے بائیبل کے الفاظ مذہب کا درجہ رکھتے ہیں اور مسلمان کے لئے قرآن مذہب کا پیش رو ہے ۔ہندو بھگوت گیتا کے الفاظ کی عبا دت کر تے ہیں ۔سب آسمانی کتابیں دراصل خدا کے بر گز یدہ بندوں کی وہ آوازیں ہیں جو رو شنی بن کر تمام عالم میں پھیل گئی ہیں ۔


Topics


Kashkol

خواجہ شمس الدین عظیمی

اس کتاب کے پیش لفظ میں حضرت عظیمی صاحب تحریر فرماتے ہیں ’’کائنات کیا ہے، ایک نقطہ ہے، نقطہ نور ہے اور نور روشنی ہے۔ ہر نقطہ تجلی کا عکس ہے۔ یہ عکس جب نور اور روشنی میں منتقل ہوتا ہے تو جسم مثالی بن جاتا ہے۔ جسم مثالی کامظاہرہ گوشت پوست کا جسم ہے۔ہڈیوں کے پنجرے پر قائم عمارت گوشت اور پٹھوں پر کھڑی ہے۔ کھال اس عمارت کے اوپر پلاسٹر اور رنگ و روغن ہے۔وریدوں، شریانوں، اعصاب، ہڈیوں، گوشت اور پوست سے مرکب آدم زاد کی زندگی حواس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ 

حواس کی تعداد پانچ بتائی جاتی ہے جبکہ ایک انسان کے اندر ساڑھے گیارہ ہزار حواس کام کرتے ہیں۔میں نے چونسٹھ سال میں تیئس ہزار تین سو ساٹھ سورج دیکھے ہیں۔تیئس ہزار سے زیادہ سورج میری زندگی میں ماضی ، حال اور مستقبل کی تعمیر کرتے رہے ۔ میں چونسٹھ سال کا آدمی دراصل بچپن ، جوانی اور بوڑھاپے کا بہروپ ہوں۔ روپ بہروپ کی یہ داستان المناک بھی ہے اور مسرت آگیں بھی۔ میں اس المناک اور مسرت آگیں کرداروں کو گھاٹ گھاٹ پانی پی کر کاسۂ گدائی میں جمع کرتا رہا اور اب جب کہ کاسۂ گدائی لبریز ہوگیا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں روپ بہروپ کی یہ کہانی پیش کررہا ہوں‘‘۔۲۸۳ عنوانات کے تحت آپ نے اس کتاب میں اپنی کیفیات کوبیان فرمایاہے۔