Topics
” مومن مرد اور
مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور معاون ہیں۔“
(القرآن)
” انسان اپنے
دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ دوستی قائم کرنے سے پہلے تمہیں دیکھ لینا چاہیے کہ تم کس
سے دوستی کر رہے ہو۔“
(الحدیث)
دوستوں کے
انتخاب میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جن لوگوں سے اپ قلبی تعلق بڑھا رہے ہیں ان
کی اخلاقی حالت کیسی ہے۔ دوستوں کی صحبت میں بیٹھ کر وہی رحجانات اور خیالات پیدا
ہوتے ہیں جو دوستوں میں کام کر رہے
ہیں۔لہذا قلبی لگاؤ اُسی سے بڑھانا چاہیئے کہ جس کا ذوق، افکار و خیالات
اور دوڑ دھوپ اُسوؤ حسنہ کے مطابق ہو۔ دوستوں پر اعتماد کیجئے۔ انہیں افسردہ نہ
کیجئے۔ ان کے درمیان ہشاش بشاش رہیئے۔ دوستی کی بنیاد خلوص، محبت اور رضائے الہٰی
پر ہونی چاہیئے نہ کہ ذاتی اغراض پر ایسا رویہ اپنائیے کہ دوست احباب آپ کے پاس
بیٹھ کر مسرت زندگی اور کشش محسوس کریں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی
فرماتے ہیں کہ کہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ہم جب تک فکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر زندگی کو صحیح طرح نہیں
گزارا جاسکتا ہر مسلمان صحیح خطوط پر پر اپنی زندگی کو اس وقت ترتیب دے سکتا
ہے ہے جب قرآن حکیم کے بیان کردہ حقائق کو سمجھ کر اللہ کے ساتھ ، اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اپنی عملی زندگی بنا لیں۔