Topics

میاں بیوی

 

”اور ان (بیویوں) کے ساتھ حسنِ سلوک سے رہو۔ اگر وہ تم کو پسند نہ ہوں تو عجیب نہیں کہ تم جس چیز کو نا پسند کرتے ہو اللہ اس میں خیرِ کثیر پیدا کر دے۔“

(القرآن)

”بہترین بیوی وہ ہے جب خاوند اسے دیکھے تو پھولے نہ سمائے۔ اگر اسے کوئی حکم دے تو فوراً بجا لائے۔ اور بہترین خاوند وہ ہے جو بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک رکھے۔“                              (الحدیث)

بردباری ، تحمل اور حکمت کی روش یہ ہے کہ آدمی در گزر سے کام لے اور خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی بیوی کے ساتھ خوش دلی سے نباہ کرے۔ ہو سکتا ہے اللہ رابُ العزت اس عورت کے ذریعے مرد کو ایسی بھلائیوں سے نواز دے جن تک مرد کی پہنچ نہ ہو۔ دین دار عورت اپنے ایمان ، سیرت اور اخلاق کے باعث پورے خاندان کے لئے رحمت بن جاتی ہے۔ اس کی ذات سے کوئی ایسی سعید روح وجود میں آ سکتی ہے جو ایک عالم کے لئے مشعلِ راہ ہو۔ عورت کے کسی ظاہری عیب کو دیکھ کر بے صبری کے ساتھ ازدواجی تعلقات کو برباد نہ کیجئے۔ بلکہ حکیمانہ طرزِ عمل سے آہستہ آہستہ گھر کی مکدر فضا کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنایئے۔

”اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم میں تمہاری ہی جنس سے عورتیں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکوون پاؤ اور تم میں محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔“                                (القرآن)

”تم میں سے اچھے وہی ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔“   

(الحدیث)

خوش خلقی اور نرم مزاجی کو پرکھنے کا اصل مقام گھریلو زندگی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی مومن اپنے ایمان میں کامل ہے جو گھر والوں کے ساتھ خوش اخلاقی ، خندہ پیشانی اور مہربانی کا برتاؤ رکھے۔ گھر والوں کی دل جوئی کرے اور پیار محبت سے پیش آئے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ازواج مطہرات کے ساتھ حسنِ سلوک کا قابلِ تقلید نمونہ پیش کیا ہے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو اتنی آواز سے اسلام علیکم کہتے کہ زوجہ جاگتی ہوں تو سُن لیں اور سو گئی ہوں تو نیند خراب نہ ہو۔ آپ ؐ    حسبِ موقع کام کاج میں ہاتھ بٹاتے۔ کوئی کام وقت پر نہ ہوتا تہ ناراض ہونے کے بجائے نرمی سے سمجھاتے۔


Uswa E Hasna

خواجہ شمس الدین عظیمی


مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے ہیں کہ کہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ہم جب تک فکر کرتے  ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر زندگی کو صحیح  طرح نہیں گزارا  جاسکتا ہر مسلمان صحیح خطوط پر پر اپنی زندگی کو اس وقت ترتیب دے سکتا ہے ہے جب قرآن حکیم کے بیان کردہ حقائق کو سمجھ کر اللہ کے ساتھ ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اپنی عملی زندگی بنا لیں۔