Topics
علامات
قریب کی نظر کمزور ہو تو تھوڑی
دیر لکھنے پڑھنے یا نظر کا کام کرنے سے آنکھیں تھک جاتی ہیں اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا
آ جاتا ہے۔ کتاب وغیرہ پڑھتے ہوئے حروف پر نگاہ نہیں جمتی اور حروف خلط ملط نظر آتے
ہیں۔ آنکھوں میں سے پانی آتا ہے اور سر میں خفیف درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات
نظر دھندلا جاتی ہے۔
دور کی نظر کمزور ہو تو دور
کی چیزیں صحیح طرح نظر نہیں آتیں جبکہ قریب کی چیزیں صاف نظر آتی ہیں۔
علاج
۱۔ آسمانی رنگ کی عینک دن
میں دو تین گھنٹے کے لئے لگائیں
۲۔ Indigoرنگ پانی صبح و شام
۳۔ سبز رنگ پانی کھانے سے پہلے
۴۔ موٹے چکنے کاغذ پر دو دائرے
بنائے جائیں۔ ایک میں نیلا رنگ اور دوسرے میں سرخ رنگ بھر کر گتہ پر یا ہارڈ بورڈ یا
فارمیکا پر چپکا لیں۔ ۴ فٹ کے فاصلے سے صبح شام رات دس
دس منٹ دیکھیں۔ کوشش کی جائے کہ دائرے دیکھنے کے دوران پلک نہ جھپکے یا کم سے کم جھپکے
۵۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے
ایسی جگہ بیٹھ جائیں جہاں سے سورج نکلتا ہوا نظر آئے۔ افق میں ایک منٹ تک پلک جھپکائے
بغیر نکلتے سورج کو دیکھیں۔ ایک منٹ سے زیادہ نہ دیکھیں۔
۶۔ آسمانی رنگ پانی سے صبح
اور سبز رنگ پانی سے رات کو آنکھیں دھوئیں۔
اسباب
زیادہ تر یہ بیماری وٹامن
اے کی کمی سے ہوتی ہے۔
علامات
مریض دن میں دیکھ سکتا ہے۔
جوں جوں دن ڈھلتا ہے اور سورج کی روشنی کم ہوتی ہے اور شام کا وقت قریب آتا ہے آنکھ
کی بینائی کم ہو جاتی ہے۔ گرمیوں کی نسبت سردیوں میں مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
علاج
۱۔ فیروزی رنگ کی عینک دن
میں دو تین گھنٹے لگائیں
۲۔ نیلا رنگ پانی صبح و شام
۳۔ زرد رنگ پانی دونوں وقت
کھانے کے بعد
۴۔ صبح شام آسمانی رنگ پانی
میں بار بار آنکھیں کھولیں اور بند کریں۔ پانی معمول کے مطابق ٹھنڈا ہو گرم پانی استعمال
نہ کریں۔ پانی صاف شیشے کے پیلاے میں رکھیں۔
اسباب
اس بیماری کی وجہ وائرس ہے۔
یہ لگنے والی بیماری ہے۔ احتیاط کرنی چاہئے کہ ایک دوسرے کا تولیہ رومال اور تکیہ استعمال
نہ کیا جائے۔
علامات
پپوٹوں کے اندر کی جھلی اور
کبھی ڈیلے کے اوپر کی جھلی سرخ ہوتی ہے اور آنکھ سے رطوبت بہتی ہے۔ آنکھیں سرخ ہو جاتی
ہیں، آنکھوں میں چپڑ بنتا ہے اور پانی نکلتا ہے۔ سو کر اٹھنے کے بعد آنکھیں چپکی ہوئی
ہوتی ہیں۔ آنکھوں میں کھٹک ہوتی ہے آنکھ کا ڈیلا ہلنے سے آنکھ میں کنکر پڑنے کا احساس
ہوتا ہے اور بہت تکلیف ہوتی ہے۔
علاج
۱۔ آسمانی رنگ کی عینک دن
میں دو تین گھنٹے کے لئے استعمال کریں
۲۔ نیلے رنگ کے پانی سے آنکھوں
کو زیادہ سے زیادہ دھوئیں
۳۔ نیلے رنگ کی روشنی آنکھوں
پر پندرہ منٹ تک ڈالیں
۴۔ نیلا رنگ پانی صبح دوپہر
شام
۵۔ زرد رنگ پانی کھانے سے پہلے
۶۔ سبز پانی دونوں وقت کھانا
کھانے کے بعد
گوہانجنی پلکوں کے جڑ کے ورم
کو کہتے ہیں۔
اسباب
جسمانی کمزوری ذیابیطس اور
نشاستہ دار غذا کے کثرت استعمال سے پلکوں کی جڑ پر ایک خاص قسم کا بیکٹیریا حملہ آور
ہو جاتا ہے۔
علامات
متاثرہ پپوٹے میں درد حدت
اور بھاری پن کا احساس متاثرہ پپوٹا سرخ اور متورم ہوتا ہے۔ آنکھ کا رنگ سرخ ہو جاتا
ہے۔ متاثرہ پلک کی جڑ پر پیپ سے بھرا ہوا نقطہ کی طرح ایک دانہ ہوتا ہے جب وہ پھٹ جاتا
ہے تو ورم ختم ہو جاتا ہے۔
علاج
۱۔ جس پلک کی جڑ میں ورم ہو
اس پلک کو احتیاط سے نکال دیں
۲۔ گہرے سبز رنگ کی روشنی پندرہ
منٹ تک پلکوں پر ڈالیں
۳۔ نیلا رنگ پانی صبح و شام
۴۔ بنفشی رنگ پانی دوپہر کھانے
کے بعد
۵۔ سبز رنگ پانی کھانے سے پہلے
۶۔ سبز رنگ پانی میں صاف روئی
بھگو کر آنکھ کو دھوئیں
۷۔ خالص عرق گلاب میں نیلی
شعاعیں جذب کر کے دن میں تین چار مرتبہ آنکھوں میں ڈالیں
اسباب
بچوں میں عموماً یہ مرض بیکٹیریا
اور گندگی سے ہوتا ہے۔
بڑوں میں عموماً یہ مرض خشکی
سر کی خشکی جلد کی خشکی اور الرجی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
علامات
پپوٹوں کے کناروں پر خشکی
نظر آتی ہے۔ خشکی کے ذرات ہٹانے پر پہوٹے کے کنارے سرخ اور متورم نظر آتے ہیں۔ اور
کبھی کبھار چھوٹے چھوٹے زخم بن جاتے ہیں۔ پپوٹوں میں خارش ہوتی ہے۔ پپوٹوں کا اندرونی
حصہ گلابی ہوتا ہے۔
علاج
۱۔ آسمانی رنگ پانی صبح و
شام
۲۔ سبز رنگ پانی کھانے سے پہلے
۳۔ پلکوں پر نیلے رنگ کی روشنی
ڈالیں
اسباب
یہ ایک بہت ہی عام بیماری
ہے۔ اس میں زیادہ تر بیکٹیریا کی وجہ سے سوزش ہوتی ہے لیکن وائرس الرجی اور کیمیکل
کے Reactionکی وجہ سے بھی بیرونی جھلی متاثر ہوتی ہے۔
علامات
زیادہ تر آنکھ کی بیرونی جھلی
گلابی ہوتی ہے۔ آنکھ میں سے پانی نکلتا ہے جو کہ بعد میں پیپ کی شکل اختیار کر لیتا
ہے۔ آنکھ میں درد ہوتا ہے بعض صورتوں میں نظر دھندلا جاتی ہے۔ صبح اٹھتے وقت پلکیں
آپس میں چپکی ہوئی ہوتی ہیں۔
علاج
۱۔ نیلے رنگ کی روشنی پندرہ
منٹ تک چہرہ خصوصاً آنکھوں پر ڈالی جائے۔ جس وقت روشنی ڈالیں آنکھیں بند رکھیں۔
۲۔ آسمانی رنگ کے پانی سے آنکھوں
کو بار بار دھوئیں۔
۳۔ نیلا رنگ پانی صبح و شام
پئیں۔
۴۔ زیادہ روشنی اور دھوپ کے
وقت آنکھوں پر سبز رنگ کی پٹی اس طرح باندھیں کہ آنکھوں کے سامنے پردہ پڑا رہے۔
اسباب
یہ ایک خود مدافعتی (Auto Immune) مرض ہے۔ خود مدافعتی مرض
کا مطلب یہ ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام اپنے ہی جسم کے بعض حصوں کے خلاف برسر پیکار
ہو کر خود کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔
بارش میں بھیگنے، سردی لگنے،
بادی اور سرد چیزیں زیادہ استعمال کرنے اور ریاح زیادہ ہونے سے یہ درد ہوتا ہے۔ ریاح
جوڑوں میں جمع ہو جائے تو شدید درد ہوتا ہے۔ امراض خبیثہ کی وجہ سے بھی جوڑوں کا مدافعتی
نظام خراب ہو جاتا ہے۔
علامات
۱۔ مرض شروع ہوتے وقت تھکن
کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ جوڑوں میں ہلکا ہلکا درد ہوتا ہے۔ گھٹنے اور دوسرے جوڑ ٹھنڈے
محسوس ہوتے ہیں۔ جوڑوں پر ورم آ جاتا ہے۔
۲۔ اچانک پیر کے انگوٹھے کے
جوڑ اور ہاتھوں کی انگلیوں میں شدید درد ہوتا ہے۔
مرض پرانا ہونے پر مریض کے
ہاتھوں کی انگلیاں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں اور جوڑوں کی حرکت کم سے کم ہو جاتی ہے۔ ہاتھوں
اور پیروں کی انگلیوں کے جوڑوں کے علاوہ کلائی کے جوڑ کہنی کندھے کولہے گھٹنے ایڑھی
کے جوڑ اور گردن کے جوڑ بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔
جوڑوں میں درد کے ساتھ ساتھ
سوجن اور دکھن ہوتی ہے۔ دبانے سے درد زیادہ ہوتا ہے اور جوڑوں کی حرکت میں کمی واقع
ہو جاتی ہے۔ ہاضمہ خراب رہتا ہے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ سر میں شدید درد اور چکر
آتے ہیں، تکلیف کی شدت سے رات کو نیند نہیں آتی۔ ہاتھ پیر کی انگلیوں میں سنسناہٹ ہوتی
ہے اور انگلیاں کھنچتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ کندھے دبانے سے ڈکاریں آتی ہیں، کہنیوں
کے اندرونی جوڑ پر ہلکا سا ورم آ جاتا ہے۔ دبانے سے میٹھا درد ہوتا ہے۔ زبان پر زردی
مائل سفید تہہ جم جاتی ہے۔
علاج
۱۔ عنابی رنگ پانی صبح و شام
کھانے کے بعد۔
۲۔ نارنجی رنگ پانی ناشتہ کے
بعد۔
۳۔ سبز رنگ پانی رات کو سوتے
وقت کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعد۔
۴۔ گھٹنوں پنڈلیوں پر سبز شعاعوں
کا تیل مالش کریں۔
۵۔ کہنی ہاتھ اور دوسرے جوڑوں
پر سرخ شعاعوں کا تیل مالش کریں۔
۶۔ پیٹ پر پیلی شعاعوں کا تیل
مالش کریں۔
۷۔ گردن اور کمر کے جوڑوں پر
نیلی شعاعوں کا تیل مالش کریں۔
۸۔ درد اگر تر سرد چیزوں اور
بادی کی وجہ سے ہو تو سرخ رنگ پانی صبح و شام دیں۔
۹۔ حبس ریاح کی صورت میں کندھوں پر زرد روشنی ڈالیں اور کندھوں کو دبائیں۔ کمر شانے اور پسلیوں کو دبانے سے اخراج ریاح ہوتا ہے جس کی وجہ سے درد کی شدت کم ہو کر درد ختم ہو جاتا
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضرت لقمان
علیہ السلام کے نام
جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی
وَ لَقَدْ اٰ
تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ
(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)
اور ہم
نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔
اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo
تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo
نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo
(القرآن)