Topics
اس رات ادب و
احترام سے تمام آداب کے ساتھ زیادہ سے زیادہ یا حی یا قیوم اور درود شریف پڑھنا
چاہئے۔ پھر رسول پاکﷺ کے روضہ اقدس کا مراقبہ کریں یا رسول پاکﷺ کا تصور کر کے
مراقبہ کریں اور جس طرح واقعہ معراج بیان کیا گیا ہے کہ آپﷺ مکہ مکرمہ سے بیت
المقدس تشریف لے گئے۔ تمام انبیاء نے آپﷺ کی اقتداء میں صلوٰۃ قائم کی اور پھر آپﷺ
آسمان پر تشریف لے گئے۔ جس طرح بھی سمجھ آئے آنکھیں بند کر کے اس واقعہ میں اپنے
دماغ میں دہرائیں اور نوافل پڑھیں۔
مسلمان جتنے بھی
گناہگار ہوں لیکن بہرحال حضور پاکﷺ کے امتی ہیں اور اس سعادت سے انہیں حضور پاکﷺ
کی نسبت حاصل ہے۔ اس سعادت اور نسبت کو ذہن میں رکھتے ہوئے معراج کے واقعہ کا تصور
کریں کہ رسول پاکﷺ مکمہ مکرمہ سے بیت المقدس تشریف لے گئے اور وہاں تمام انبیاء
جمع ہیں۔ حضور پاکﷺ نے امامت کرائی اور پھر آسمانوں سے گزر کر حق تعالیٰ کے پاس
تشریف لے گئے۔ جنت و دوزخ ملاحظہ فرمائی اور پھر واپس تشریف لائے۔ فلم کی طرح اس
واقعہ کو ذہن میں دھرانے سے دماغ یکسو ہو جاتا ہے ۔
حضور پاکﷺ کو
نوافل ادا کرنے کا بہت شوق تھا۔ آپﷺ اتنی لمبی لمبی رکعت ادا کرتے تھے کہ پاؤں
مبارک پر ورم آ جاتا تھا۔ شب معراج میں حسب استطاعت زیادہ سے زیادہ نوافل قائم
کریں۔ جب مومن پوری ذہنی یکسوئی کے ساتھ صلوٰۃ قائم کرتا ہے تو غیب اس کے مشاہدہ
میں آ جاتا ہے۔
معراج میں اللہ
تعالیٰ نے حضور پاکﷺ کو بشری لباس میں اپنا دیدار کرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس
دنیا میں رسول اللہﷺ کے بشری تعارف کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور
سب سے آخر میں سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس دنیا میں بشری صورت میں تشریف
لائے۔ واقعہ معراج میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو اسی صورت میں اپنا دیدار کرایا ہے۔
ہمیں حضور پاکﷺ کی
محبت اپنی زندگی میں داخل کرنی چاہئے۔ شب معراج بڑی بابرکت گھڑی ہے۔ اس ساعت اپنے
گناہوں کی سیاہ بختی دور کر کے اس پردے کو ہٹانا چاہئے جو محدودیت اور شقاوت کا
باعث بن گیا ہے۔ کلمہ گو مسلمان کی حیثیت سے ہر ایک نے رسول اللہﷺ کی رسالت کی
شہادت دی ہوئی ہے۔ یہ مسلمانوں کا بہت بڑا اعجاز ہے کہ رسول اللہﷺ کی رحمت و کرم
ہم پر محیط ہے۔
اس نسبت سے ہمارے
اندر موجود نور نبوت میں ضیاپاش ہو جائے تو ہماری روح نور نبوت سے لبریز ہو کر
معراج کے انوارات سے منور ہو جائے گی۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
کتاب اللہ کے محبوبﷺمیں قرآن پاک کے تخلیقی قوانین، سیدنا حضّور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقام پر اور سیرت طیبہ کے روحانی پہلو پر مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی مدظلہ عالی، خانوادہ سلسلہ عالیہ عظیمیہ کے ارشادات کو جمع کیا گیا ہے۔ ان ارشادات پر تفکر سے انسان کے اندر موجود غیب کے عالمین اس طرح روشن ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے اصل مقام اور امانت الٰہی سے آگاہ ہو جاتا ہے۔
قرآن پاک کی آیات پر غور و فکر اور مشاہدہ سے انسانی ذہن اور علم کو وسعت ملتی ہے اور وہ زماں و مکاں کی پابندی سے آزاد ہوتا جاتا ہے۔ صدیوں پر محیط عالمین کا سفر، چند لمحات میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس شعوری ارتقاء سے انسان کی سکت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی ذات پر محیط، اپنے من میں موجود، اپنی رگ جاں سے قریب ہستی۔۔۔۔۔۔اللہ کی صفات کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔
مرشد کریم کے ذریعے سالک کا تعلق سیدنا حضّور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قائم ہو جاتا ہے اور بے شک سیدنا حضّور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت ذات اکبر، اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے قائم ہے۔