Topics

اُمّ محمد زینبؒ

ام زینبؒ محدثہ اور صوفیہ تھیں۔ ’’الحاجہ‘‘ کے لقب سے مشہور تھیں۔ خدمت خلق کا بہت شغف تھا۔ یتیموں اور مساکین کی دلجوئی کرنا محبوب مشغلہ تھا۔ فیاض تھیں۔ بہت سے فلاحی ادارے قائم کئے۔ ان اداروں میں بہترین انتظام تھا۔ خواتین ان کے پاس مسائل لے کر آتی تھیں۔ دم، درود وظائف سے خواتین کو فیض پہنچاتی تھیں۔

ایک دفعہ ایک عورت روتی ہوئی آپ کے پاس آئی۔ آپ نے رونے کا سبب پوچھا۔ اس نے کہا میرا بچہ گم ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا!

صبر سے کام لو۔ بچہ آ جائے گا۔ کچھ عرصے بعد وہ پھر آئی اور کہا۔ بی بی بچہ ابھی تک نہیں ملا۔ آپ نے فرمایا:

’’صبرو کرو، اللہ کرم کرے گا۔‘‘

عورت نے روتے ہوئے کہا:

’’اب مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ میں مجبور ہو گئی ہوں۔‘‘

یہ سن کر آپ نے آنکھیں بند کر لیں۔ تھوڑی دیر بعد فرمایا:

’’گھر چلی جا۔ بچہ تیرا انتظار کر رہا ہے۔ عورت بھاگی بھاگی گھر پہنچی تو بیٹا ماں کو دیکھ کر اس سے لپٹ گیا۔

حکمت و دانائی

* استغنا زبانی کلامی حاصل نہیں ہوتا۔ یہ تجرباتی اور مشاہداتی عمل ہے۔

* ہر انسان کے اندر اللہ بستا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں۔ میں تمہارے اندر ہوں تم مجھے دیکھتے کیوں نہیں۔

* انسان ایک قمقمے کی طرح ہے۔ اللہ کا نور اس کی روشنی اور کرنٹ ہے۔

Topics


Ek So Ek Aulia Allah Khawateen

خواجہ شمس الدین عظیمی

عورت اورمرد دونوں اللہ کی تخلیق ہیں مگر ہزاروں سال سے زمین پر عورت کے بجائے مردوں کی حاکمیت ہے ۔ عورت کو صنف نازک کہا جاتاہے ۔صنف نازک کا یہ مطلب سمجھاجاتا ہے کہ عورت وہ کام نہیں کرسکتی  جو کام مردکرلیتاہے ۔ عورت کو ناقص العقل بھی کہا گیا ہے ۔ سوسال پہلے علم وفن میں عورت کا شمار کم تھا۔ روحانیت میں بھی عورت کو وہ درجہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق ہے ۔ غیر جانبدارزاویے سے مرد اورعورت کا فرق ایک معمہ بنا ہواہے ۔

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی نے سیدنا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے عطاکردہ علوم کی روشنی میں کوشش فرمائی ہے کہ عورت اپنے مقام کو پہچان لے اوراس کوشش کے نتیجے میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ایک سوا ایک اولیاء اللہ خواتین کے حالات ، کرامات اورکیفیات کی تلاش میں کامیاب ہوئے ۔ یہ کہنا خودفریبی کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ عورتوں کی صلاحیت مردوں سے کم ہے یا عورتیں روحانی علوم نہیں سیکھ سکتیں ۔ آپ نے اس کتاب میں پیشن گوئی فرمائی ہے کہ زمین اب اپنی بیلٹ تبدیل کررہی ہے ۔ دوہزارچھ کے بعد اس میں تیزی آجائے گی اوراکیسویں صدی میں عورت کو حکمرانی کے وسائل فراہم ہوجائیں گے ۔