Topics

قوت ارادی۔سوشل فوبیا۔اعتماد کی کمی۔

                                              

سوال: میں ایک ٹیچر ہوں عمر 32سال ہے اور غیر شادی شدہ ہوں۔ پریشانی یہ ہے کہ مجھ میں خود اعتمادی بالکل نہیں ہے۔ میں مردوں سے بات نہیں کر سکتی اور بعض اوقات تو عورتوں سے بھی بات کرنے میں جھجک محسوس ہوتی ہے چہرہ سرخ ہو جاتا ہے ، آواز بدل جاتی ہے چونکہ میں ٹیچر ہوں اس لئے میرا واسطہ مردوں سے بھی پڑتا ہے۔ انسپکٹریس وغیرہ جو کہ عورتیں ہوتی ہیں ان کو دیکھ کر میری حالت ابتر ہو جاتی ہے۔ مردوں سے نظریں جھکا کر بات کرتی ہوں۔ میں اپنے سگے بھائیوں سے بھی نظریں ملا کر بات نہیں کر سکتی۔ نماز پانچوں وقت کی پڑھتی ہوں۔ دین کی طرف بھی رجحان ہے۔ میری دوسری بہنیں نہایت اعتماد سے ہر ایک سے بات کر لیتی ہیں۔ اپنی اس عادت کی وجہ سے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتی۔ خدا کے لئے کسی اور طرح کا علاج نہ بتایئے گا۔ صرف قرآنی آیت پڑھنے کو بتا دیجئے تا کہ میں مردوں اور عورتوں کے ساتھ اطمینان سے بات کر سکوں۔

جواب: الا ان اولیاء اللّٰہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون پڑھ کر اپنے اوپر دم کر لیا کریں۔

قوت ارادی مسائل کا حل

سوال: میری نفسیاتی الجھنوں ، بیماری اور جذباتیت کا تعلق سلسلہ کی ایک ہی کڑی سے ہے جو کہ جسمانی کمزوری اور میرے اندر خود اعتمادی کا فقدان ہے۔ جسمانی کمزوری ختم ہو جائے اور خود اعتمادی بحال ہو جائے تو میں زندگی کے سارے تقاضے پورے کر سکتا ہوں۔

جواب: آپ ماضی میں جو کچھ کرتے رہے ہیں اس کا اثر دماغ پر ہوا اور پھر دماغ کی کمزوری نے اعصاب کو متاثر کیا۔ اعصاب متاثر ہو جانے کے بعد آپ کی عام صحت گر گئی جب یہ سب ہو چکنے کے بعد بھی آپ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو دماغ مفلوج ہو گیا۔

قوت ارادی اور خود اعتمادی نے آپ سے رشتہ منقطع کر لیا۔ قوت ارادی اور خود اعتمادی بحال ہو جانے سے آپ کی سب الجھنیں رفع ہو جائیں گی۔ علاج بہت آسان ہے آپ ہر روز باوضو رہیں۔ رات کو سونے سے پہلے بھی وضو کر لیا کریں۔ اس پروگرام پر مستقل عمل کرنے سے آپ کی جسمانی کمزوری، دماغی کمزوری اور خود اعتمادی بحال ہو جائے گی۔

Topics


Roohani Daak (2)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔