اللہ کے دوست، خاتم
النبیین حضرت محمد ﷺ کے عاشق صادق، ابدالِ حق حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے شاگردِ
رشید اور خانوادہ، صاحبِ نظامِ تکوین، لوح و قلم کے امین، حضرت خواجہ شمس الدین
عظیمیؔ کی ذاتِ بابرکات اور صفات سے مخلوقات بشمول انسان و جنات نے فیض پایا
ہے—فیضان جاری ہے۔
خانوادہ سلسلہ عظیمیہ
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؔ نے تحریر و تقریر کے ذریعے عوام الناس کی تربیت کی۔
خوف و غم سے آزاد کر کے اللہ کا دوست بننے، نظامِ کائنات سے واقف ہونے اور
"اندر میں" مشاہدے کے لیے تفکر کی طرز بیدار کی اور روحانی و سائنسی
طرزوں پر کائناتی رموز کی تشریح کی۔
اس سلسلے کی ایک کڑی
26 جولائی 2009ء کو عظیمیہ جامع مسجد کراچی میں کلاس "نظریہ رنگ و نور"
کا انعقاد ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک خواتین و حضرات شریک ہوئے۔ اس
کلاس میں کتاب "نظریہ رنگ و نور" کے بعد چار کتابیں بالترتیب
"تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ"، "رنگ اور روشنی سے علاج"،
"روحانی علاج" اور "احسان و تصوف" پڑھائی گئیں اور لیکچرز دیے
گئے۔
مرشدِ کریم نے 2024ء
کی ابتدا میں ان لیکچرز کو رسالہ "ماہنامہ قلندر شعور" میں شائع کرنے کا
فیصلہ کر کے مضامین کی طرز پر ترتیب دینے کے لیے کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے اکتوبر
2024ء میں عنوانات منتخب کئے اور پہلی کتاب کے لیکچرز کو "شرح نظریہ رنگ و
نور" کا عنوان دیا۔ مرشدِ کریم "اباجی" کی خواہش رہی ہے کہ قارئین
خواتین و حضرات ان لیکچرز کو باطنی علوم کے طالب علم کی حیثیت سے پڑھیں، ان میں
تفکر کریں، جو سمجھ میں آیا اور سمجھ میں نہیں آیا، ڈائری میں نوٹ کر لیں۔
صاحبِ حق الیقین
مرشدِ کریم محترم عظیمی صاحب کا ورثہ علم ہے، وہ علم جسے حاصل کر کے انسان اللہ کا
دوست بنتا ہے اور فی الارض خلیفہ کے منصب پر فائز ہو جاتا ہے۔ حضور اباجی کی ہدایت
کے مطابق پندرہ سالوں پر مشتمل یہ لیکچرز ترتیب وار "ماہنامہ قلندر
شعور" کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں۔