ابھی آپ نے سنا (لیکچر سے پہلے کتاب ”نظریہ رنگ
و نور“ کی ریڈنگ کی جاتی تھی) ہر مخلوق باشعور ، باحواس ہے۔ یہ بہت سوچنے اور
سمجھنے کی بات ہے اس لیے کہ ہم ہر مخلوق کو باحواس اور باشعور نہیں مانتے اور نہیں
کہتے جب کہ اس میں یہ لکھا ہے ہر مخلوق با شعور ، باحواس ہے۔ اب مخلوق میں پرندے
بھی ہیں ، چوپائے بھی اور زمین کے اندر گھاس پھوس بھی ہے ۔ پہاڑ بھی ہیں۔
اس نقطۂ نظر سے دنیا میں جو بھی کچھ ہے، وہ ایک
تنکا ہے یا ٹڈا ہے، چھوٹی سے چھوٹی مخلوق ہے اور بڑی سے بڑی مخلوق ہاتھی ہے ۔
کھیتی باڑی میں مولی ہے ، شلجم ہے ، گاجر ہے ، یہ سب چیزیں شعور رکھتی ہیں۔ سب
چیزیں اس بات کا احساس کرتی ہیں مثلاً سبزی ہے ، بھنڈی توری ہے۔ بھنڈی توری کو اگر
صحیح وقت میں پانی نہ دیا جائے ، کھاد نہ دی جائے تو وہ مر جائے گی ، درخت مر جائے
گا ۔ اسی صورت سے اگر زیادہ پانی دے دیا جائے تو اس سے اس کی جڑیں کمزور ہو جائیں
گی اور وہ ختم ہو جائے گی۔
بات پر بہت زیادہ توجہ کے ساتھ غور کریں۔ ہر
مخلوق باشعور اور اس کے اندر حواس ہیں۔ اس میں پیدائش کا عمل بالکل اسی طرح جاری
ہے جس طرح انسانوں میں جاری ہے۔ بیکٹیریا پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے
اندر پیدائش کے حواس ، پیدائش کے عوامل یا پیدائش کی ضروریات موجود ہیں۔ ایک سوئی
کی نوک پر لاکھوں بیکٹیریا آ جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مرتا بھی ہے ۔ مخلوق مر
جاتی ہے۔
یہاں ڈائنوسار سب سے بڑا جانور شمار ہوتا ہے ۔
ہاتھی اس کے بعد بڑا جانور شمار ہوتا ہے۔ چیونٹیاں ، وہ چھوٹی مخلوق ہیں ۔ شہد کی
مکھی ، وہ بھی کوئی بڑی مخلوق نہیں ہے لیکن جب ان کے نظامِ زندگی پر تفکر کرتے ہیں
تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بڑا عجیب و غریب نظام دیا ہوا ہے۔ ایک ملکہ ہوتی ہے ،
سپاہی ہوتے ہیں ، مکھیوں کے چوکیدار ہوتے ہیں۔ جو مکھیاں باہر سے چھتّے میں آتی
ہیں تو وہاں چوکیدار مکھیاں ان کو سونگھتی ہیں باقاعدہ۔ اگر وہ کسی قسم کا غلط رس
لے کر آجاتی ہے تو یہ نہیں کہ اس کو قید کر لیں ، وہ اس کو مار کے باہر پھینک دیتی
ہیں۔ یہ ایک پورا نظام ہے اور اس نظام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پوری ایک سورۃ
قرآن پاک میں نازل کی سورۂ نحل۔
اسی طرح سے چیونٹیوں کا ایک نظام ہے۔ ان میں
ملکائیں ہوتی ہیں ، ان میں سپاہی ہوتے ہیں، ان میں چوکیدار ہوتے ہیں ، ان میں
سامان بردار مزدور ہوتے ہیں ۔ چیونٹی کی عظمت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس نام کی
ایک سورۃ ہے قرآن شریف میں سورۂ نمل۔
عرض یہ کرنا ہے کہ یہاں کائنات میں ہر مخلوق
چاہے وہ چھوٹی ہو ، چاہے وہ بڑی ہو، اس کے اندر شعور ہے اور شعور ہے تو حواس بھی
ہیں ۔ حواس کے بغیر شعور نہیں ہوتا۔ یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ شعور اور
حواس دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اگر حواس ہیں تو شعور ہے اور شعور ہے تو حواس ہیں ۔
یہاں کائنات میں جتنی چیزیں ہیں ، چھوٹی سے چھوٹی ، زمین کے اوپر ، ہم نے مثالیں
دی ہیں ، ان میں شعور ہے۔
اب دوسری مخلوقات جن میں جنات ہیں کیوں کہ ان میں
ہمارا ابھی کوئی ایسا رابطہ نہیں ہے کہ انہیں دیکھ سکیں عام طور سے۔ یا فرشتے ہیں
وہ بھی باشعور ہیں ، ان سے بھی ہمارا رابطہ نہیں ہے ۔ رابطہ نہ ہو ۔ ہر چیز باشعور
ہے ۔ پہاڑ ہیں ۔ اب پہاڑ کے بارے میں ہم کہتے ہیں ، وہ جمے ہوئے ہیں ، بے شعور
مخلوق ہے۔
اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں ،
وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمر مرالسحاب
تم دیکھ رہے ہو پہاڑوں کو جامدۃ کہ وہ جمے ہوئے ہیں ۔ تم دیکھتے ہو
پہاڑوں کو کہ وہ جمے ہوئے ہیں۔ وھی تمر مرالسحاب۔ وہ جمے ہوئے نہیں ہیں، وہ بادلوں
کی طرح اڑ رہے ہیں۔
قرآن پاک میں وتری الجبال تحسبھا جامدۃ کہ تم
دیکھتے ہو پہاڑ کہ جمے ہوئے ہیں، جمے ہوئے نہیں ہیں۔ وھی تمر مرالسحاب ۔۔ وہ
بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔
زمین پر ہمیں نظر نہیں آرہا کہ پہاڑ اڑ رہے ہیں
لیکن اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرما رہے ہیں کہ پہاڑ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ ہم نے
اپنی امانت یعنی اپنی نیابت یعنی اپنے تخلیقی اختیارات جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں ،
اللہ تعالیٰ نے وہ تخلیقی اختیارات پیش کیے سماوات کو۔ تخلیقی اختیارات کو پیش
کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ آسمان بھی باشعور ہے۔ کسی آدمی کے اوپر ذمہ داری ڈالیں اور
وہ بھی نظام کی ، چھوٹے موٹے نظام نہیں ، پورے نظامِ کائنات کی ذمہ داری ڈالیں جس
کا ہمارے پاس کوئی
figure ہے نہ کوئی اندازہ ہے نہ کچھ ہے ۔ اربوں ،
کھربوں ، سنکھوں کی تعداد سے بھی کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہیں ۔ ان کا نظام۔
دیکھئے ، اس میں ایک دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ
اگر سماوات کہتے کہ ٹھیک ہے جی، میں آپ کی امانت یا نیابت ، خلافت ، اختیارات ،
حاکمیت قبول کرتا ہوں پھر کیا ہوتا؟ آسمان حاکم (نائب) ہو جاتا ۔ آسمان نے کہہ دیا
کہ میں اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ میرے اندر اتنی طاقت یا صلاحیت یا عقل و شعور
نہیں ہے کہ میں اس کائنات کے نظام کو چلا سکوں۔
انّا عرضنا الأمانۃ علی السمٰوٰت والارض
جب آسمان نے معذوری ظاہر کر دی تو اللہ تعالیٰ
نے امانت زمین کو پیش کی کہ اے زمین ! میں نے نظام قائم کیا ہے پوری کائنات کا ،
تُو چلا لے گی اس نظام کو؟ تجھے ہم حاکمیت عطا کر دیں؟ اس نے بھی انکار کر دیا۔
کہا کہ میرے اندر اتنی سکت نہیں ہے کہ میں زمین ، آسمان ، کائنات ، ہوا ، پانی اور
بارش کا انتظام سنبھال سکوں۔
والجبال ۔ اب پہاڑ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا،
پہاڑو ! کائنات کا ایک نظام میں نے بنایا ، اس نظام پر کائنات چلے گی۔ اس کی
حاکمیت تمہارے سپرد کی جائے تو تم قبول کر لو گے؟
اب یہ بڑی عجیب بات ہے کہ پہاڑوں سے کہا۔
پہاڑوں نے جواب دیا ، پہاڑوں نے سنا ، پہاڑوں نے اس بات کا ادراک کر لیا کہ حاکمیت
کی جو نظامت ہے ، میں اس کو نہیں سنبھال سکتا۔ اس کا کیا مطلب ہوا ؟ مطلب یہ ہوا،
پہاڑ باشعور ہے۔
زمین باشعور ہے۔
آسمان باشعور ہے۔
والارض والجبال ۔ اور انہوں نے انکار کر دیا کہ
ہمارے اندر اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ ہم آپ کی کائنات کو ، آپ کی نیابت اور خلافت
اور آپ کے اس سسٹم کو چلا سکیں۔
اب اس میں دو باتیں آپ کے سامنے آگئیں کہ جب
کوئی چیز قبول کی جاتی ہے ، اس وقت قبول کی جاتی ہےجب اس کے اندر اس کام کو کرنے
کی یا نہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ آپ مجھے کوئی چیز دیں تو میں کہوں گا ، میں
نہیں سنبھال سکتا ، یہ میں نہیں رکھ سکتا۔ جب یہ کہوں گا کہ اس امانت کو میں نہیں
سنبھال سکتا، نہیں رکھ سکتا تو صاف مطلب یہ ہے کہ میرے اندر اتنا شعور ہے کہ میں
اس کو سنبھال سکوں یا نہ سنبھال سکوں۔ یعنی شعور کی نشاندہی ہو گئی۔ مطلب یہ ہوا
کہ آسمان بھی باشعور ہیں ، زمین بھی باشعور ہے اور پہاڑ بھی باشعور ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ وتری الجبال
تحسبھا جامدۃ ۔ تم دیکھتے ہو پہاڑ کہ جمے ہوئے ہیں ۔ وھی تمر مرالسحاب ۔یہ جمے
ہوئے نہیں ہیں ، یہ تو بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔
ہمیں تو نظر نہیں آرہا کہ بادلوں کی طرح اڑ رہے
ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ پہاڑ کا جما ہوا ہونا ہے ، وہ ہمیں نظر آرہا ہے لیکن اللہ
تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق پہاڑ اڑ رہے ہیں بادلوں کی طرح بالکل اس طرح جیسے آپ
کہیں کہ انسان چل رہا ہے ہوا کی طرح ۔ زمین پر بظاہر نظر آتا ہے کہ انسان کھڑا ہوا
ہے لیکن انسان چل رہا ہے ہوا کی طرح۔ یا اسی طرح ہمیں نظر آرہا ہے کہ درخت کھڑے
ہوئے ہیں ، ایک چیز گڑی ہوئی ہے زمین میں ۔ درخت بھی چل رہا ہے ، زمین بھی چل رہی
ہے ، آسمان بھی متحرک ہے ، جنات بھی متحرک ہیں، فرشتے بھی متحرک ہیں۔ اب جنات اور
فرشتے اس لیے زیرِ بحث نہیں ہیں کہ ہمارا وہاں تک نہ ذہن ہے اور نہ سبق میں کوئی
تذکرہ ہے۔
کائنات میں جو بھی شے ہے ، وہ وائرس ہو،
بیکٹیریا ہو ، اونٹ ہو ، بکری ہو ، درخت ہو ، پہاڑ ہوں ، بادل ہوں ، کچھ بھی ہو ،
جو تخلیق ہے زمین کی ، وہ متحرک ہے اور چل رہی ہے۔ چونکہ وہ چیز متحرک ہے اور چل
رہی ہے ، اس کا لا محالہ یہ نتیجہ نکلا کہ وہ باشعور ہے۔ جو چیز حرکت میں ہے اور
چل رہی ہے، اس کو آپ باشعور ہونے کے علاوہ اور کچھ کہہ نہیں سکتے۔ یہ الگ بات ہے
کہ آپ اس کے شعور سے واقف ہوں نہ ہوں لیکن ان فی ذالک لذکریٰ لأولی الألباب۔ اگر
آپ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور و فکر کریں تو بات سمجھ میں آجاتی ہے۔
مثال : ایک آم کی گٹھلی ہے۔ آپ اس گٹھلی کو
زمین میں بو دیتے ہیں ۔ اس کے اندر درخت کی کونپل نکلی ہے ۔ اس کو کیا آپ یہ نہیں
کہیں گے کہ زمین کے اندر شعور ہے؟ اس طرح ماں کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے، وہ پرورش
پاتا ہے۔ اسی طرح زمین میں درخت کا بیج پرورش پاتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں ، وہ بھی
بیج ہی ہے۔
نطفے کو آپ کیا کہیں گے؟
وہ آدمی کا بیج ہے۔
آم کی گٹھلی ، آم کی گٹھلی کا بیج ہے۔ اب وہ
گٹھلی اندر سے پرورش پاتی ہے ، درخت بنتا ہے پھر درخت میں پھل لگتے ہیں پھر آپ
کھاتے ہیں۔ اسی طرح انسان پیدا ہوتا ہے۔
جیسے جانوروں میں بھی نر مادہ ہوتا ہے ، درختوں
میں بھی نر مادہ ہوتا ہے۔ انسان میں بھی ۔ جب بچہ پیدا ہوا ۔۔ بیج پھوٹ کے اس کے
کونپل نکلی تو اس میں اور آدمی کے بچے میں کیا فرق ہوا۔؟ کیا فرق ہوا ؟ کوئی فرق
نہیں ہوا۔
کائنات میں جتنی تخلیقات ہیں ، وہ سب ایک قانون
کے تحت ، ساری کائنات ایک ہی قانون کے تحت پیدا ہو رہی ہے۔ جس طرح آدمی کا بچہ بڑا
ہوتا ہے ، جس طرح درخت کا پودا چھوٹا ہوتا ہے پھر بڑا ہوتا ہے پھر تناور درخت بن
جاتا ہے ۔ پھر اس کے بچے ہوتے ہیں ۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ آم پر آم لگ رہے ہیں ،
امرود پر امرود لگ رہے ہیں تو ان کو اگر ہم یہ کہیں کہ امرود کے بچے ہیں ۔ کیوں
بھئی ؟ آم ۔ آم کے بچے ہیں ، امرود ، امرود کے بچے ہیں ، سیب ۔ سیب کے بچے ہیں ۔
اب انسانوں کے ایک بچہ بھی ہوتا ہے ، نو بھی ہوتے ہیں ، بارہ بھی ہوتے ہیں تو
نظامِ کائنات ایک ہے ۔
فلن تجد لسنۃ اللہ تبدیلاً ولن تجدلسنۃ اللہ
تحویلاً۔۔۔ کہ اللہ کا جو نظام ہے ، اس میں نہ تو تعطل واقع ہوتا ہے یعنی گیپ نہیں
آتا اس میں اور نہ اس میں کوئی ردّ و بدل ہوتا ہے ۔ مثلاً بکری ہے۔ کروڑوں سال سے
بکری ہے۔ بکری کے پیٹ سے بچے بکری ہی ہوتے ہیں۔ چوہا ہے ۔ چوہے سے کبھی چھچھوندر
پیدا نہیں ہوتی، چھچھوندر سے کبھی چوہا پیدا نہیں ہوتا۔ کبوتر سے کبھی مرغی نہیں
نکلتی، مرغی سے کبھی کبوتر نہیں نکلتا۔ اسی طرح آدمی سے آدمی نکلتا ہے ۔ کبھی نہیں
سنا کہ آدمی کے یہاں بکری کا بچہ پیدا ہوا ہو۔
سبح اسم ربک الاعلی
الذی خلق فسویٰ والذی قدر فہدیٰ
پاک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے تخلیقی
سانچے بنا دیے ہیں اور ان کی مقداریں معین کر دی ہیں۔ مقداریں معین ہونے کا کیا
مطلب کہ آدمی کی اولاد آدمی ہی ہوگی ، بکری کی اولاد بکری ہی ہوگی، گاجر کے بیج سے
گاجر نکلے گی ، مولی نہیں نکلے گی کبھی ، آم کے درخت سے آم ہی نکلیں گے، گنّے سے
کبھی بانس نہیں بنے گا اور بانس سے کبھی گنّا نہیں بنے گا حالاں کہ بانس اور گنّے
کی بظاہر ایک ہی نسل لگتی ہے۔ گنّے اور بانس میں کیا فرق ہے ؟ ایک سا ہوتا ہے لیکن
گنّے کی مقداریں الگ ہیں ، اس میں رس ہوتا ہے۔ بانس کی مقداریں الگ ہیں، اس میں رس
نہیں ہوتا۔ کیوں کہ گنّے میں رس ہوتا ہے اس لیے وہ نرم ہوتا ہے ۔ کیوں کہ بانس میں
رس نہیں ہوتا ، وہ سخت ہوتا ہے ۔ بظاہر دیکھنے میں گنّا اور بانس ایک ہی نظر آتا
ہے۔ بانس تیزی سے بڑھتا ہے ، گنّا ذرا کم رفتار سے بڑھتا ہے لیکن گنّا بھی تیز
رفتار سے بڑھتا ہے۔
پاک ہے اور بلند
مرتبہ ہے وہ ذات جس نے تخلیق کیا ، معین مقداروں سے
اب یہ بات سمجھنے کی ہے کہ معین مقداریں کیا
ہیں۔۔؟ کس طرح معین مقداروں سے آدمی سے آدمی بن رہا ہے ، بھینس سے بھینس بن رہی ہے
، درخت سے درخت بن رہا ہے، پہاڑ سے پہاڑ بن رہے ہیں۔؟۔