آدمی لباس ہے

آدمی لباس ہے

Nazariya Rango Noor | August 2025

 

پچھلے ہفتے ہم نے تمہید بیان کی تھی نظریہ رنگ و نور کے سلسلے میں تا کہ ذہن تیار ہو جائے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے زمین میں کاشت کرنے سے پہلے زمین کو تیار کرتے ہیں اور تیاری سے پہلے زمین کے اوپر جو کانٹے اور جھاڑ وغیرہ ہوتے ہیں ، اس کو نکالتے ہیں۔ نکالنے کے بعد زمین کی مٹی میں ہل چلاتے ہیں یا پھاوڑے سے صاف کر کے اس قابل کر دیتے ہیں کہ ہم زمین میں جو بیج ڈالیں ، وہ ضائع نہ ہو۔ اگر ویسے ہی زمین میں بیج ڈال دیں گے تو ہو سکتا ہے ، دس بیج یا سارے کے سارے بیج سخت ہو جائیں ، جل جائیں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک آدھ بیج نکل آئے لیکن کوئی یقینی بات نہیں ہے کہ جو بیج آپ نے ڈالا ہے ، وہی درخت نکل کے تناور ہو جائے۔ یہ ضروری ہے درخت کے لئے بھی کہ زمین اچھی ہو ، ہموار ہو، اس میں جھاڑ نہ ہو۔ زمین پتھریلی نہ ہو۔ زمین (مٹی) کی بہت ساری قسمیں ہیں۔ کالی مٹی ، بھر بھری مٹی ، سفید مٹی ، گلابی رنگ کی مٹی ۔ مٹی کی اقسام سے قطع نظر ، ہر مٹی کو بنانا پڑتا ہے یعنی میدان ہموار کرنا پڑتا ہے کہ جس میں ہم بیج ڈالیں ، وہ بیج جلے نہیں اور سخت نہیں ہو ۔ یہی صورتِ حال دماغ کی ہے۔

دماغ بھی کھیت یا زمین کی طرح ہے ۔ اگر دماغ کے اندر اصلاحی باتیں نہ ڈالی جائیں ، خراب باتیں ڈالی جائیں تو خراب ہو جاتے ہیں ، ڈاکو بھی ہو جاتے ہیں ، چور بھی ہو جاتے ہیں، جھوٹ بھی بولتے ہیں ، دھوکا اور فریب بھی اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ دماغ کو ، ذہن کو بنایا نہیں جاتا۔

اب تھوڑی سی زمین تیار ہوئی ہے ۔ زمین تو ایک دفعہ میں تیار نہیں ہوتی اور اس زمین کے اندر جو ہمیں کاشت کرنی ہے ، اس کے بارے میں آپ سے گفتگو کروں گا ۔ وہ یہ ہے کہ انسان پیدا ہوتا ہے ۔ ہم انسان کہتے ہیں ، وہ انسان پیدا نہیں ہوتا ، آدمی پیدا ہوتا ہے ۔یہ بہت غور طلب ہے کہ انسان پیدا نہیں ہوتا، آدمی پیدا ہوتا ہے ۔ انسان ایک چولا پہنتا ہے اور وہ چولا ایسا ہے کہ اس کے اوپر محیط ہو جاتا ہے ۔ وہ کس طرح چولا پہنتا ہے؟

اب یہ سمجھیں کہ ایک آدمی ہے ۔ وہ کُرتا اس طرح سلواتا ہے کہ اس میں آستین بھی ہوتی ہے ، آستین میں دستانے کی طرح انگلیاں ہوتی ہیں ۔ شلوار یا پاجامہ اس طرح ہو کہ اس میں پیر بن جائیں اور پیر کی انگلیاں بھی اس کے
اندر آجائیں۔ ناک میں ناک آجائے ، کان میں کان آجائیں ، یہ مشکل کام نہیں ۔ ٹوپی اوڑھیں ، ٹوپی کے اندر آنکھ بنا دیں یا منہ پر ناک بنا دیں ، اس میں سوراخ کر دیں یعنی لباس کے اوپر ایسا لباس وضع کیا جائے کہ ہاتھ پیر کی انگلیاں ، سر ، ناک اور منہ بھی اس کے اندر بنا ہوا ہو۔ آنکھیں بھی نظر آتی ہوں وغیرہ۔

یہی مثال اس بات پر پوری آتی ہے کہ انسان اصل انسان کی نقل ہے۔ جیسے یہ انسان ہے ، اس کے پیر ہیں ، اصل انسان کے بھی پیر ہیں۔ وہ اصل انسان اپنے لئے لباس اس طرح بناتا ہے کہ جب پیر بناتا ہے تو پیر کی پوری ساخت کے حساب سے پیر بناتا ہے۔ پانچ انگلیاں بناتا ہے ، اس کے اوپر ناخن بناتا ہے ۔ جب ہاتھ بناتا ہے تو پورا ہاتھ بنتا ہے یعنی ایک آدمی بنائیں آپ۔۔ اچھا چلیں ، اگر آدمی بنانے میں دقت پیش آتی ہے تو آدمی کے اوپر روغن کر دیں ۔ ظاہر ہے ، انگلی پر بھی روغن ہو سکتا ہے ۔ انگوٹھے پر بھی ہو سکتا ہے ۔ ہاتھ پر بھی ہو سکتا ہے۔

روغن سے میری مراد رنگ ہے۔

یہ جو ہمارا مادی جسم ہے ، یہ دراصل روح نے ایک لبادہ اوڑھا ہوا ہے یا روح نے ایک لباس پہنا ہوا ہے، وہ کس قسم کا لباس ہے؟ آدمی جو کچھ ہے وہ روح کے اوپر ایک پینٹ ہے۔ ایک کلر ہے ۔ مثال کے طور پر میں اپنے ہاتھ پر ، انگلی پر پینٹ کر لوں تو ظاہر ہے میں جب انگلی ہلاؤں گا تو پینٹ بھی خود بہ خود ہلے گا۔ میں ناک کے اوپر کوئی رنگ کر لوں تو ظاہر ہے ، میں جب اس طرف گردن ہلاؤں گا تو ناک کے اوپر جو پینٹ ہوا ہے ، وہ بھی ہلے گا۔ اب دل ہے ۔ دل کے اندر بھی روح ہے۔ مادی جسم اصل نہیں ہے۔ یہ بات بہت غور طلب ہے۔ مادی جسم میڈیم ہے ، روحانی تحریکات ظاہر ہونے کا ایک واسطہ ہے۔

ایک آدمی ہے ۔ آپ آجائیں ، یہاں کھڑے ہو جائیں ۔ ادھر کو منہ کر لیں۔ (مرشد کریم نے ایک طالب علم کو بلایا)

اب یہ آدمی کھڑا ہوا ہے۔ آپ یہ سمجھیں گے کہ یہ روح ہے ۔ وہ تو ہم سبھی ہیں۔ ایک روح کھری ہوئی ہے آپ کے سامنے۔ اب ہم روح سے کہتے ہیں کہ روح ! ہاتھ ہلاؤ ۔ ہاتھ ہلے گا۔ہم کہتے ہیں کہ سر ہلاؤ ۔ سر ہلے گا۔ ہم کہتے ہیں ، ٹانگ ہلاؤ۔ ٹانگ ہلے گی لیکن اگر جسم کے اندر روح نہ ہو پھر؟ کچھ نہیں ہلے گا ۔ ہم کہتے ہیں ، پھونک مارو ۔ چھو!

پھونک مارو !

اب مردہ آدمی کو اسی طرح کھڑا کر دیتے ہیں۔ سیدھا۔ لاش کھڑی ہو سکتی ہے؟ ہم مردہ جسم سے کہتے ہیں ، پھونک مارو ! کیا ہوگا؟ پھونک کس نے ماری؟

جیسے میں بول رہا ہوں ، آپ سن رہے ہیں۔ ایسی کوئی صورت واقع ہو کہ قیامت آجائے ، سب مر جائیں ۔ آپ سن سکیں گے؟ تو کس نے بولا؟ کس نے سنا؟ کس نے پکڑا؟ کس نے کھانا کھایا؟ مردہ آدمی کھانا نہیں کھاتا۔ مردہ آدمی کے منہ میں ایک مشت پانی ڈال دیں۔ کتنے قطرے پیٹ میں جائیں گے؟ ایک قطرہ نہیں جائے گا کیوں؟ کس نے پانی پیا؟ کھانا کس نے کھایا ؟ ہاتھ کس نے ہلایا؟ اس کا مطلب ، انسان کے اندر جتنی حرکات و سکنات ہیں ، وہ اس مادی جسم کی نہیں ہیں۔ مادی جسم کی جتنی حرکات و سکنات ہیں، وہ روح کی ہیں۔

ایک کھلونا ہے۔ اس میں چابی بھی ہے۔ آپ اس میں چابی نہ دیں تو کھلونا حرکت نہیں کرے گا ، اگر چابی دے دیں تو کھلونا حرکت کرے گا۔۔ حرکت کس کی ہوئی؟ چابی کی اور ہم کیا کہتے ہیں؟ کھلونا چل رہا ہے۔ کھلونا اگر چل رہا ہے تو بغیر چابی کے بھی چلے۔ اس کا مطلب کھلونا ایک طرح کا میڈیم (واسطہ) ہے۔ اگر اس کے اندر بجلی نہ ہو، بیٹری نہ ہو، وہ نہیں چلے گا۔ اسی صورت سے آدمی کے اندر روح نہ ہو تو روح کیا چیز ہوئی؟ چابی ہے۔ کھلونے میں چابی نہ ہو ، کھلونا نہیں چلے گا۔ اصل چیز کھلونا ہوا یا چابی ہوئی؟ اصل چابی ہوئی ، کھلونا میڈیم ہوا۔

انسانی شکل و صورت ، ڈھانچہ ، جسم ، ہاتھ ، پیر ، آنکھ ، ناک ، کان جو کچھ ہے ، یہ میڈیم ہوا۔ اگر اس کے اندر اصل نہیں ہے تو کام بے کار ہیں۔ اگر اس کے اندر اصل نہیں ہے ، ناک بھی بے کار ہے ۔ اگر اس کے اندر اصل نہیں ہے ، ہاتھ پیر ہر چیز اندر کی مشینری سب بے کار ہے ۔ کیوں بے کار ہے؟ جو چیز اس کو حرکت دینے والی ہے ، وہ چیزیں اس کے اندر نہیں ہیں۔

ان حقائق سے ثابت ہوا کہ آدمی کا گوشت پوست کا جسم ، میڈیم ہے ، اس کی کوئی اصل نہیں ہے سوائے روح ، چابی ، پاور یا کرنٹ کے ، جو بھی نام رکھو۔

یہاں انسان ۔۔ انسان ہم غلط بولتے ہیں ، بولنا چاہیے ، آدمی ۔ جتنے آدمی ہیں ، مشین کا پرزہ یا مشین کا کھلونا ہیں۔ جس طرح کھلونے میں بیٹری ہوتی ہے اور کھلونا اچھلتا ہے ، کودتا ہے ، چلتا ہے ، پھرتا ہے ۔ اسی طرح آدمی کے اندر جب تک وہ مشین ہے اور مشین چل رہی ہے ، اس کے اندر کرنٹ ، بجلی اور لائف اسٹریم ہے۔

مردہ آدمی ڈاکٹر کیوں نہیں بنتا؟ وکیل کیوں نہیں بنتا؟ اس کے اندر روح نہیں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ روح نے جسم کو مظاہرے کے لیے ایک شکل ، صورت ، تصویر یا میڈیم بنایا ہے۔

انسان کی اصل کیا ہوئی اور ہم کس کو اصل سمجھتے ہیں؟ جسم کو۔ بس یہی بات ہے۔ گرہ جو لگی ہوئی ہے ، وہ یہی ہے کہ ہم نے کبھی ذہن کو اس تحقیق ، ریسرچ اور اس تلاش میں استعمال نہیں کیا کہ ہمارے جسم کی حیثیت لباس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ابدالِ حق حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے کتاب ”لوح و قلم “ میں کیا بتایا ہے؟ روح کا لباس ۔”لوح و قلم“ کی بالکل ابتدا میں حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے فرمایا کہ انسان بلکہ آدمی کہو۔ لقد خلقنا الانسان فی احسنِ تقویم۔ یہ جسم احسنِ تقویم کی فوٹو اسٹیٹ کاپی ہے۔ احسنِ تقویم پر ان شاء اللہ ، بعد میں بات ہو گی۔

یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی کہ یہ گوشت پوست کا جسم ، اس کی اپنی ذاتی کوئی حرکت نہیں ہے ۔ جب تک روح انسانی جسم کو لباس بنا کر پہنے رہتی ہے ، لباس میں حرکت رہتی ہے۔ لباس کا مطلب کیا ہے؟ ایسا لباس جس میں سر بھی ہے ، ناک بھی ہے ، کان بھی ہے ، آنکھ بھی ہے ، دل بھی ہے ، گردے بھی ہیں ، پھیپھڑے بھی ہیں ، آنتیں بھی ہیں، ہر چیز ہے۔ وہ لباس جب تک اس مشینری کے اوپر ہے جس کے اندر حرکت ہے تو اس لباس میں بھی حرکت موجود ہے۔ اگر اس کے اندر سے حرکت نکال لی جائے تو لباس ڈیڈ باڈی ہے۔

انسان اور آدمی اتنا خلط ملط ہے کہ ہمیں آدمی اور انسان کو الگ الگ بولنا چاہیے ۔ ہم انسان جو لفظ بولتے ہیں ، یہ صحیح نہیں بولتے۔ ہمیں آدمی بولنا چاہیے۔ آدمی کا مطلب ؟ حیوان ۔ کیا بیل گونگے ہوتے ہیں؟ چڑیا بولنے والی نہیں ہے؟

یہ انسان کی اختراع کتنی غلط ہے اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے انسان بولنے والا ہے۔ بھینس نہیں بولتی؟ بھینس کو تکلیف ہو ، وہ کراہتی نہیں ہے؟ اس کے بولنے سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی تکلیف میں ہے۔

ہمارے وہاں بھینسیں پلی ہوئی تھیں تو حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے فرمایا کہ یہ بھینس بہت تکلیف میں ہے۔ میں نے عرض کیا، حضور ، یہ کیسے تکلیف میں ہے؟ کہنے لگے ۔ یہ دردِ زہ میں مبتلا ہے۔

یہ سن کر میں قریب باڑے میں گیا۔ وہ بھینس بہت زیادہ پریشان تھی۔ ایک خاتون آئیں اور کہا ، اس کو دردِ زہ ہو رہا ہے، سب ہٹ جاؤ۔ اس کے لیے پردہ کرو یا کسی کمرے میں لے جاؤ۔

ایک کمرہ خالی تھا۔ وہاں لے جا کر دروازہ بند کر دیا اور تھوڑی دیر میں بچہ ہو گیا۔ کیا مطلب ہوا اس کا؟ یعنی اس کے اندر بھی شرم و حیا ہے۔ یہ میں اپنا چشم دید واقعہ آپ کو سنا رہا ہوں۔

انسان کہتا ہے کہ ناطق ، میں بولنے والا ہوں۔ کیا چڑیا گونگی بہری ہے ؟ ہد ہد گونگا تھا؟ شادی کرادی حضرت سلیمان ؑ کی۔ کیا مکڑی بے عقل تھی؟ جالا بُن دیا غارِ ثور پر۔ شہد کی مکھی ۔ اللہ تعالیٰ نے نام سورۃ النحل رکھ دیا۔ اتنا زبردست نظام ہے اس کا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ غلط رس لے آئی ہے تو اس کو محل کے اندر چھتّے کے اندر داخلے کی اجازت نہیں۔ اس کی سزا موت ہے ۔ یہ عقل نہیں ہے؟

انسان اپنے آپ کو نمایاں کرنا چاہتا ہے ۔ نمایاں ہے انسان لیکن اگر اسے علم الاسماء حاصل نہیں ہے تو اس کی کتّے بلی سے زیادہ ہرگز اہمیت نہیں ہے۔ بیس بیس لاکھ کا ایک کتّا آتا ہے۔ مجرم پکڑنے میں آدمی کی اہمیت ہوئی یا کتّے کی؟ کون سا ایسا جانور ہے جو نہیں بولتا؟ مرغی کے دس بارہ بچے ہوتے ہیں۔ جب خطرہ لاحق ہوتا ہے تو وہ ایک مخصوص آواز نکالتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جہاں جہاں بچے ہوتے ہیں، اس کے پروں میں آکے چھپ جاتے ہیں۔ وہ شریر بچے جو ہوتے ہیں ، پروں سے نکلتے ہیں۔ دیکھا ہو گا آپ لوگوں نے ۔ وہ اس کو چونچ مارتی ہے ۔ چلو اندر ! یہ ناطق نہیں ہے ؟ یہاں کوئی غیر ناطق نہیں ہے ۔ سب بولتے ہیں۔

آدمی ، گدھے ، کتّے ، بلی میں اگر فرق ہے تو یہ ہے کہ انسان کے اندر اللہ نے ایسا شعور عطا فرمایا ہے کہ وہ اللہ کی زبان سمجھتا ہے اور وہ اللہ کی امانت کا متحمل ہوتا ہے ۔ اللہ کی زبان سمجھنے کا مطلب ہے اللہ اس سے ہم کلام ہوتے ہیں۔

اگر آدمی کے اندر وہ صلاحیت ہے کہ وہ اللہ کی آواز سن سکے ، اللہ کی بار گاہِ اقدس میں اپنی معروضات پیش کر سکے تو وہ انسان ہے۔

انسان کو بہترین تخلیق بنایا۔ یہ انسان ہے ۔

یہ اسفل سافلین میں گرا ہوا ہے ۔

یہ کون ہے؟ آدمی

روحانیت کا جو درس ہے ، روحانیت کا جو طریقِ کار ہے ۔ روحانیت کا جو مفہوم ہے یا روحانی علوم کی جو شان ہے ، وہ یہ ہے کہ آدمی ، انسان کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ بالکل ایسا کہ ایک آدمی جاہل ہے لیکن وہ اسکول میں جب داخل ہوجاتا ہے تو پڑھ لکھ جاتا ہے ۔ اگر آدمی روحانی علوم سیکھنے کے لئے کالج میں داخل ہوگیا یا اسکول میں داخل ہو گیا یا کسی خانقاہ میں چلا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ اسنے انسانیت کے دائرے میں پیر رکھ دیا ۔ اگر آدمی انسانیت کے دائرے میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے وہ علوم حاصل کرنے ہوں گے جن علوم سے وہ اللہ سے ہم کلام ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ خود قرآن میں فرما رہے ہیں کہ وحی کے ذریعے اللہ بات کرتا ہے ، پردے کے پیچھے سے اللہ بات کرتا ہے ، کسی قاصد کے ذریعے اللہ باتیں کرتا ہے اور اللہ جس طرح چاہے ، اپنے بندے سے مخاطب ہو سکتا ہے۔

ایک علم یہ ہے کہ آدمی اندرونی صلاحیتوں کو اتنا زیادہ ایکٹو کر لے کہ اس سے تخریب میں کام لے سکے۔ اس کو استدراج اور جادو کہا جاتا ہے۔ اور ایک علم وہ ہے جس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کا تعارف حاصل کرنے کی جدو جہد کرے۔ اس کو روحانی علوم کہا جاتا ہے۔۔

 

 

 


 


More in Nazariya Rango Noor