زمین ہماری ماں ہے

زمین ہماری ماں ہے

Nazariya Rango Noor | April 2026

 آج کے سبق میں نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ زمین کو ماں کہا گیا ہے۔ زمین ایسی ماں ہے جس کے رحم میں بے شمار مخلوقات قیام کرتی ہیں پھر وہاں سے پرورش پا کر اپنا مظاہرہ کرتی ہیں۔ جس طرح ماں کے پیٹ میں حمل قرار پاتا ہے اور وہ حمل نشو و نما پا کر جیتی جاگتی تصویر کی شکل میں دنیا میں موجود ہوتا ہے ، اسی طرح زمین بھی ماں ہے اور یہ زمین کی جو تخلیقات ہیں ، وہ اصل تخلیقات ہیں اور یہ زمین کے اوپر دوسری جتنی تخلیقات ہیں ، ان کو ہم ذیلی تخلیقات کہیں گے اس لیے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے ، کسی کا بھی بچہ ہو ، انسان کا ہو یا حیوانات کا تو اس کی نشو و نما زمین کے اوپر مختلف گیسز سے ہوتی ہے اور زمین کے اندر جو پانی ہے ۔ اس کے اوپر (نشو و نما) ہوتی ہے ، زمین کے گلوب میں جو ہوا گشت کرتی رہتی ہے ، اس سے نشو و نما ہوتی ہے اور آکسیجن سے ہوتی ہے ۔ جب آپ غور کریں گے تو انسان کی تخلیق کی جتنی بنیادی چیزیں ہیں وہ سب زمین سے انسان کو ، حیوان کو ، درخت کو ، کسی کو بھی اس زمین سے ملتی ہیں۔

ہم یوں کہیں گے کہ اصل جو تخلیق ہے وہ زمین ہے۔ زمین تخلیق کر رہی ہے ہر چیز کو۔ اب دیکھیں آدمی پیدا ہو۔ پیدا ہونے کے بعد اگر اس کی نشو و نما نہ ہو تو جوان نہیں ہوگا اور نشو و نما ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو غذا حاصل ہو اور غذا کے علاوہ بہت ساری گیسز اس کو چاہئیں۔ بہت ساری قسم قسم کی کھانے پینے کی چیزیں چاہئیں۔

پیدائش کے بعد بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے۔ کسی کا بھی بچہ ہو ، گائے کا ، بھینس کا ، آدمی کا لیکن دودھ پینا بھی زمین کی ایک تخلیق ہے۔ اگر ماں کھانا نہ کھائے۔ بہت ساری مائیں ہوتی ہیں ، وہ ساری مائیں ایسی ہوتی ہیں جب وہ بیمار ہوتی ہیں تو ان کا دودھ بھی بیمار ہو جاتا ہے ۔ بہت ساری مائیں ایسی ہوتی ہیں ، ان کا دودھ بہت ہوتا ہے لیکن بچے کو موافق نہیں آتا۔ ڈاکٹر اس دودھ کو چھڑا کے دوائیوں کا دودھ لگا دیتے ہیں۔ دودھ کا پیدا ہونا اسی وقت ممکن ہے کہ جب آدمی زمین کے اوپر موجود تخلیقات کو کھائے پیئے۔

ایک ماں ہے ۔ بچے کی پیدائش کے بعد اسے کھانے کو نہ ملے تو دودھ نہیں اترے گا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ دودھ کا مسالا جس سے دودھ بن رہا ہے ، کہنے کو تو وہ خون ہے۔ خون دودھ میں تبدیل ہو رہا ہے**۔**لیکن خون بھی جب بن رہا ہے ، جب آدمی کے اندر مختلف گیسز جا رہی ہیں ، مختلف قسم کی معدنیات جا رہی ہیں ، مختلف قسم کی غذائیں جا رہی ہیں ۔ اس کے بعد دودھ بنتا ہے ۔ یوں کہیں گے کہ صحیح معنوں میں اگر ماں کا درجہ دیا جائے یا ماں کا تذکرہ کیا جائے تو وہ ”زمین“ ہے ۔ زمین اگر نہ ہو تو کوئی انسان پیدا نہیں ہوگا۔ زمین کا مطلب کیا ہے؟

زمین کا مطلب ہے ، ایک طرح کی ماں۔ اس میں ہر چیز آپ کو ملتی ہے ۔ اب ماں مختلف قسم کے کھانے کھاتی ہے ۔ سبزی کھاتی ہے ، گوشت بھی کھاتی ہے ، چاول بھی کھاتی ہے ، پھل فروٹ بھی کھاتی ہے ، گھاس بھی کھاتی ہے ۔ پالک گھاس ہی ہے۔ نتیجے میں کیا ہوتا ہے؟ اس کے نتیجے میں دودھ اترتا ہے بچے کے لئے اور توانائی بھی آتی ہے۔

ابھی بچے کا تذکرہ ہے۔ بچے کے لئے دودھ بنتا ہے اور وہ دودھ کہاں سے بنتا ہے؟ سب کو پتہ ہے ، خون سے بنتا ہے ، خون کہاں سے بنتا ہے ؟ آپ زمین کے اوپر موجود مختلف اشیا کھاتے ہیں ، اس سے خون بنتا ہے۔ اگر ماں کو غذا نہ دی جائے ، دودھ نہیں اترتا ۔ خدا نخواستہ ماں بیمار ہو جائے اور اس کا کھانا پینا بند ہو جائے کسی وجہ سے تو ماں کو دودھ نہیں اترتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین کے اوپر موجود جو غذا اللہ تعالیٰ نے فراہم کی ہے ، اس غذا میں دودھ ہے۔

ایک ماں بیمار ہے۔ اسے بھوک نہیں لگتی۔ سوکھ کے کانٹا ہوگی ، اس کو دودھ نہیں اترتا لیکن ایک ماں صحت مند ہے ، اللہ تعالیٰنے اسے صحت عطا کی ہے ، خوب کھاتی ہے ، کھانا ہضم ہوتا ہے ۔ نتیجے میں بچے کو بہت اچھی غذا ملتی ہے، بچے کی نشو و نما اچھی ہو تی ہے۔ بچہ بہت زیادہ موٹا تگڑا ہو جاتا ہے ۔ غذا کی ضروریات ہمیں کہاں سے حاصل ہوتی ہیں؟ کہاں سے حاصل ہوتی ہیں؟ زمین سے حاصل ہوتی ہیں لیکن ساتھ ساتھ زمین کی ذیلی تخلیق ماں کو اس (زمین) سے غذائیت حاصل ہوتی ہے اورماں کی جو غذا ہے۔ وہی دودھ بنتی ہے۔

ہم کتاب میں یہ کہہ رہے ہیں کہ جس طرح ایک ماں اپنے بچے کو جنم دیتی ہے ، اسی طرح زمین تخلیقی عوامل سے گزر کر ایسے ایسے رنگ بکھیرتی ہے کہ وہ انسانوں کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے۔ اگر زمین بنجر ہو ، آپ نے دیکھا ہوگا کہ جہاں پانی نہیں ہوتا۔۔ بارشیں نہیں برستیں ، وہاں زمین سے کوئی چیز نہیں اگتی۔

اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ زمین ایک ذیلی تخلیق تو ہے لیکن اس کی نشو و نما کے لیے ضروری ہے کہ پانی ہو۔

و انزل من السمآء مآء
اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل کیا

فاخرج بہ من الثمرات رزقاً لکم

مطلب یہ ہوا کہ اصل چیز پانی ہوئی۔ دیکھیں اگر بارش نہ ہو ، کھیتی باڑی نہیں ہوگی ، سبزیاں نہیں ہوں گی، پھل فروٹ نہیں ہوگا ، کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اگر پانی نہ ہو تو زمین بنجر ہو جائے گی۔ اگر پانی نہ ہو تو کوئی درخت آپ کو ایسا نہیں ملے گا جس میں ہرے بھرے پتّے ہوں۔ اگر پانی نہ ہو تو انسان سارے کے سارے مر جائیں گے۔ جہاں پانی نایاب ہو جاتا ہے ، وہاں کے لوگ نقل مکانی کر لیتے ہیں ، وہاں نہیں رہتے۔

اب بنیادی چیز پانی ہوئی۔

اور ہم (اللہ) نے سماوات سے پانی اتارا ، پانی نازل کیا ، پانی بھیجا۔ پھر اس میں سے ہم نے تمہارے لیے طرح طرح کی غذائیں نکالیں۔ کیوں؟ تاکہ تم اس سے رزق حاصل کرو۔

دوسری بات جو آپ کے سامنے آئی ، وہ یہ ہے کہ اصل پانی ہوا۔ پانی نہیں ہوگا ، زمین بنجر ہو جائے گی ، کچھ نہیں اُگے گا۔ اب یہ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔ دریا کا جو مسئلہ کھڑا ہوا ہے اس وقت، پانی نہیں ہوتا ، بڑی بڑی پریشانیاں لاحق ہو رہی ہیں۔

دو چیزیں بلکہ تین چیزیں انسان کی پیدائش میں ، آدمی کی پیدائش میں زیرِ بحث آتی ہیں۔ پہلے ماں ۔۔۔ پھر ماں کی غذا اور غذا کے لیے ضروری ہے زمین ہو ۔۔ زمین کے اوپر غذا کے لیے ضروری ہے کہ پانی ہو۔

یہ تینوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ ان تینوں چیزوں میں سے کوئی ایک چیز گڑ بڑ ہو جائے تو ہمیں غذا نہیں ملے گی ، ہم غذا سے محروم ہو جائیں گے ۔ اس کے بعد کون سی چیز ضروری ہے؟

پہلے آپ کے پاس زمین ہونی چاہیے۔

زمین کے بعد آپ کو بیج چاہیے۔

بیج کے بعد آپ کو پانی چاہیےپانی کے بعد آپ کو دھوپ چاہیے۔

دھوپ نہیں ہوگی تو کھیتی باڑی نہیں پکے گی۔ کوئی چیز نہیں پکے گی۔ اس کا مطلب ہے ، چوتھی چیز دھوپ ہوگئی۔ دھوپ کا آپ تذکرہ کریں گے تو سورج زیرِ بحث آگیا۔

اب جو ضروری بات ہے کہ کھانوں میں ذائقہ ہوتا ہے ، کڑوا ہوتا ہے ، کھٹا ہوتا ہے ، میٹھا ہوتا ہے ، انسانی مادی وجود کے لیے مٹھاس کا ہونا ضروری ہے ۔ مٹھاس نہیں ہوگی تو آٹومیٹک انسانی زندگی میں سے آکسیجن خود بہ خود کم ہو جائے گی۔ مٹھاس آکسیجن کی ضرورت کو پورا کرتی ہے ۔ مٹھاس بھی آگئی اس میں ۔

اب دیکھیں ، کتنی عجیب بات ہے کہ درخت میں جب پھل لگتا ہے تو وہ عام طور سے بد مزا ہوتا ہے لیکن جب اس درخت کے اوپر دھوپ پڑتی ہے تو وہ پکنا شروع ہو جاتا ہے لیکن اگر چاندنی نہ ہو تو کوئی پھل میٹھا نہیں ہوگا۔ یہ ایک اور نظام اللہ کا بنا کہ دھوپ پکاتی ہے اور چاند کی کرنیں مٹھاس پیدا کرتی ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ہماری زمین کے اوپر سب سے پہلے جو شے زیرِ بحث آتی ہے ، وہ زمین کا فرش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ ” ہم نے زمین کو بچھونے کی طرح بچھا دیا ہے۔ بستر بچھا دیا۔

زمین کے اندر پہاڑ بھی ہیں۔ اگر ساری زمین سنگلاخ ہو جائے اور اس میں پہاڑ ہو جائیں تو چلنا پھرنا محال ہو جائے گا ۔ کھیتی باڑی کہاں ہوگی؟ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس سے طرح طرح کی غذائیں ، پھل فروٹ پیدا کرتا ہے۔ کھیتی باڑی کے لیے دھوپ ضروری ہے ، دھوپ نہیں ہوگی۔۔ کھیتی نہیں پکے گی ۔ چاندنی نہیں ہوگی۔ مٹھاس پیدا نہیں ہوگی۔ ہوا نہیں ہوگی تو آکسیجن اس کو پوری طرح نہیں ملے گی اور دوسری بے شمار گیسز ہیں جو ہوا کے ذریعے ملتی ہیں ، ان سے ، پانی سے ، ہوا سے ، دھوپ سے ، چاندنی سے اللہ تعالیٰ کی جو تخلیقات زمین پر پیدا ہوتی ہیں ، ان کا کوئی شمار نہیں ہے ۔ ان کے بارے میں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک لاکھ ہیں ، ایک کروڑ ہیں، دس کروڑ ہیں ۔ کوئی شمار نہیں ہے اس کا ۔ کوئی اس کا شمار نہیں ہے۔ کروڑوں چیزیں ہیں۔

بہت زیادہ غور طلب ہے ، بہت سمجھنے کی بات ہے کہ زمین کے اوپر موجود ہر شے کی ڈائی بنی ہوئی ہے۔ ڈائی کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آئے گی۔ جیسے سیب ہے ، اس کی اپنی ایک ڈائی ہے ۔ کیلا ہے اس کی اپنی ایک ڈائی ہے۔ گنّا ہے ، اس کی اپنی ایک ڈائی ہے ، انجیر ہے ، اللہ تعالیٰ نے انجیر کی قسم بھی کھائی ہے ، اس کی الگ اپنی ڈائی ہے۔ آدمی ہے ، اس کی اپنی الگ ڈائی ہے۔

یہ جتنی چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ، اس دنیا میں جتنی مخلوقات ہیں ، ان کے سانچے بنے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بکری کے اندر جو سانچا فٹ ہے یا بکری کے اندر جو ڈائی فٹ ہے، وہ چونکہ منفرد ہے، اس سے بکری پیدا ہوتی ہے ۔ کبوتر کے اندر جو ڈائی ہے ، اس سے کبوتر پیدا ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر جو ڈائی ہے ، اس سے آدمی پیدا ہوتا ہے ۔ یہ مختلف ڈائیاں ہیں۔

ہو الذی یصورکم فی الأرحام کیف یشاء

دیکھو ! آپ کا کیا عظیم الشان ، طاقت والا ، سمجھ والا ، عقل والا اللہ ہے جس نے ماں کے پیٹ میں ڈائی بنائی ہوئی ہے۔ ڈائی کا بھی کمال ہے کہ ڈائی تو ایک ہے یعنی انسان کے یہاں ، آدمی کے یہاں بچہ ہی پیدا ہو گا۔ ایسا نہیں ہو گا کہ آدمی کے یہاں کبوتر پیدا ہو جائے یا کبوتر کے یہاں آدمی کا بچہ پیدا ہو جائے ، ایسا نہیں ہوگا لیکن جتنے بھی بچے پیدا ہوں گے ، وہ سب مختلف صورتوں کے ہوں گے۔ ایک کروڑ بچوں کو سامنے بٹھا لیں تو ایک کروڑ بچوں میں شباہت تو آسکتی ہے لیکن سب مختلف ہوں گے۔ آنکھ مختلف ہوگی، ناک مختلف ہوگی ۔ انتہا یہ ہے کہ ہاتھ کے اندر جو لکیریں بنی ہوئی ہیں ، یہ مختلف ہوتی ہیں۔ سوچ مختلف ہوتی ہے۔ گروپس بنے ہوئے ہیںمثلاً ایک ذہین گروپ ہے ، وہ الگ ہے۔ ایک گانے بجانے والے کا گروپ ہے، وہ الگ گروپ ہے۔ ایک چور ڈکیتی والا گروپ ہے لیکن بڑی عجیب بات ہے کہ گروپ دار تو یہ سب الگ الگ ہیں لیکن کوئی آدمی ڈاکو کو ، چور کو ، صوفی کو ، بزرگ کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ آدمی نہیں ہے۔

یہ بڑی عجیب اللہ کی شان ہے کہ ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہو رہے ہیں، ایک طرح کی اندر ڈائی ہے لیکن شکلیں مختلف ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈائی بھی ایک نہیں ہے۔ ایک طرف ڈائی ایک سی ہے ، دوسری طرف ڈائی میں مختلف چیزیں ہیں مثلاً ناک الگ ہوگی ، قد الگ ہوگا، ہاتھ الگ ہوں گے ، پھیپھڑے الگ ہوں گے ، سر کے بال الگ ہوں گے ، آنکھوں کا رنگ الگ ہوگا ، آواز کا جو تاثر ہے ۔ وہ الگ ہوگا۔

آواز ہماری بھی ہے ۔ کویل کی بھی آواز ہے ، کوّے کی بھی آواز ہے ۔ جب کویل بولتی ہے، میں نے دیکھا ، ہمارے درخت پر آ کے بیٹھتی تھی D-32 میں ۔ وہ بولتی تھی تو اس کا پورا منہ کھلتا تھا۔ اس کے منہ کے اندر کوئی اس میں ڈائی نظر نہیں آئی ، کوئی ایسا آلہ لگا ہوا نظر نہیں آیا کہ اس کی آواز خوب صورت ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوّا بھی بولتا ہے ، گدھا بھی بولتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ آواز تو گدھے کی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اچھی آواز پسند ہے۔

لَصَوْتُ الْحَمِيرِ

آواز تو گدھے کی بھی ہے۔

یہ کتنا عجیب نظام ہے اللہ تعالیٰ کا کہ ایک ہی حلق ہے۔ حلق میں آپ دیکھیں تو اس میں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی کہ جس کی وجہ سے آپ کہیں کہ اس میں یہ فرق ہے۔ کبوتر کی چونچ کھول کے دیکھیں ، کویل کی چونچ کھول کے دیکھیں، کوّے کی چونچ کھول کے دیکھیں سوراخ ہوگا اس میں ، زبان ہوگی لیکن یہ آواز مختلف کیوں ہوئی؟ جب منہ ہے ، ہونٹ بھی ایک سے ہیں ، دانت بھی ایک سے ہیں ۔ چہرہ ، ٹھیک ہے مختلف ہے، کوئی لمبا ہے ، کوئی گول ہے لیکن چہرہ ایک سا ہے۔ آنکھ ، ناک ، کان ، بال سب تو آواز مختلف کیسے ہو گئی؟ کیوں؟

 

 


More in Nazariya Rango Noor