جسم اور روح

جسم اور روح

Nazariya Rango Noor | December 2025

    مقداروں کے ردّ و بدل سے انسان کے اندر اور پوری کائنات کے اندر حرکت ہوتی ہے۔ اس حرکت کا نام مذہب روح رکھتا ہے اور سائنس دان اس کو لائف اسٹریم کہتے ہیں۔

ایک دفعہ لندن (کے دورے کے موقع پر) میں کوئی چھ سات سائنٹسٹ گھر میں آگئے۔ ان میں کچھ لوگ ایسے تھے ، وہ اللہ کو نہیں مانتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو نہیں مانتے ۔ خیر ، یہ تو بے کار کی باتیں ہیں کہ اللہ کو نہیں مانتے۔

حضور قلندر بابا اولیاؒ نے ایک قصہ سنایا کہ ایک ڈپٹی کمشنر تھا۔ حضور بابا صاحب ؒ اس کے ٹیوٹر تھے۔ اس کو اردو پڑھایا کرتے تھے۔ وہ بیمار ہو گیا بہت شدید اور بیماری میں بے ہوش ہو گیا۔ اس قسم کا درد اور تکلیف تھی کہ وہ یوں ہاتھ مار رہا تھا اور کہتا تھا Oh God , Oh God , Oh God جب وہ اچھا ہو گیا تو حضور قلندر بابا اولیاؒ نے اس سے کہا کہ آپ تو اللہ کو نہیں مانتے لیکن جب آپ بے ہوش تھے تو تکلیف میں God کہہ رہے تھے۔

اس نے کہا ، کوئی اور ہوگا، میں نے نہیں کہا۔

آپ اس کا نام لائف اسٹریم رکھ لیں، اس کا نام روح رکھ لیں ، اس کا نام کچھ بھی رکھ لیں ، بہرحال وہ وجود ہے جس سے آدمی انکار نہیں کر سکتا ۔ اس کو ہم روح کے نام سے جانتے ہیں۔

اصل صورت یہ ہے کہ ایسی کوئی طاقت ہے جو مادی جسم کو بناتی ہے۔ ماں کے پیٹ میں کروموسوم ہے۔ اگر وہ طاقت نہ ہو تو ماں کے پیٹ میں بچہ نہیں ہو سکتا۔ مذہب نے اس کو روح کہا ہے ۔ کوئی لایف اسٹریم نام رکھ دیتا ہے ۔ کوئی کچھ نام رکھ دیتا ہے۔
بات یہ ہے کہ یہ جو مادی وجود ہے ہمارا ، یہ مادی وجود تابع ہے۔ کس کے ؟ روح کے ۔ اگر ماں کے پیٹ میں روح نہ آئے تو پیدائش نہیں ہو سکتی۔اگر روح کے آنے جانے کا نظام باپ کے اندر صحیح نہ ہو تو حمل نہیں قرار پا سکتا۔

اس جسم کی پوزیشن حضور قلندر بابا اولیا ؒکے فرمان کے مطابق ، ایک لباس کی ہے۔ یہ پہلے بھی آپ نے پڑھا ہوگا ، سنا ہوگا ۔ اسے پھر سمجھ لیں ۔ ایک گڈّا ہے۔ پانچ فٹ کا ہے۔ اس کے ہاتھ بھی ہیں، پیر بھی ہیں ، منہ بھی ہے، سب کچھ ہے۔ اس کے اندر چابی بھر دیتے ہیں۔ اب چابی کو کھول دیتے ہیں۔ کیا ہوگا؟ چلنا شروع کر دے گا ۔ اس کے اندر آپ لاؤڈ اسپیکر بھی لگا دیتے ہیں ، چھوٹی سی کوئی چِپ ۔ اس کی وجہ سے وہ بولتا ہے بھی ہے ، وہ روتا بھی ہے ، وہ ہنستا بھی ہے ، گڑیوں میں دیکھا ہوگا آپ نے ۔ ہمارا جو مادی وجود ہے ، اس کی حیثیت اس کھلونے کے علاوہ نہیں جس کھلونے کی میں نے مثال دی۔ جب تک کھلونے کے اندر چابی بھری رہتی ہے ، کھلونا چلتا رہتا ہے ۔ جب چابی ختم ہو جاتی ہے ، کھلونا رک جاتا ہے ، مر جاتا ہے۔ اب آدمی میں اور کھلونے میں کیا فرق ہوا؟ کیا فرق ہوا؟ آپ بتائیں۔ ایک کھلونے میں اور ایک آدمی میں کیا فرق ہوا؟ انسان کا ذکر نہیں ہو رہا۔ آدمی کا اور کھلونے کا ذکر ہو رہا ہے۔ کیا فرق ہے؟ آدمی کے اندر بھی چابی بھری ہوئی ہے۔ اس کو مذہب روح کا نام دیتا ہے لیکن اگر روح نہ ہو ، اس کھلونے کے اندر جسے ہم آدمی کہہ رہے ہیں ، اسے حرکت کہہ لیں ۔ کھلونے کے اندر چابی نہ ہو تو اس کے اندر حرکت نہیں رہتی۔ روح جو ہے ، وہ ایک نظام ہے حرکت میں رکھنے کا ۔ جب تک روح آدمی کے اندر ہوتی ہے ، جسم متحرک رہتا ہے اور جب روح جسم کے اندر سے نکل جاتی ہے تو آدمی کیا ہو تا ہے؟ حرکت ختم ہو جاتی ہے ۔ بالکل اس طرح جس طرح کھلونے میں چابی ختم ہو جائے ، کھلونا رک جاتا ہے۔ چابی اور روح ایک چیز نہیں ہے لیکن مثال سے بات سمجھ میں آتی ہے۔

اب یہ صورت سامنے آئی کہ ہمارا مادی جسم ایک گڈے کے علاوہ ایک کھلونے کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا جب تک کہ روح کی چابی اس کے اندر نہ ہو اور اگر حیثیت ہے تو جب وہ چابی ختم ہو جاتی ہے یعنی روح نکل جاتی ہے تو ایک کھلونے کی جس میں چابی نہیں بھری ہوئی ، اور آدمی کی ، کیا دونوں کی حیثیت برابر نہیں ہوئی؟

یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم زندہ اس لئے ہیں کہ روح ، یہ مثال ہے کہ روح ہمارے اندر چابی بھر رہی ہے ۔ جب تک روح ہمارے اندر چابی بھرتی رہتی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ روح حرکت ہے۔ جب تک حرکت ہمارے اندر منتقل ہوتی رہتی ہے ، ہم چلتے رہتے ہیں اور جب روح یعنی چابی ہمارے اندر ختم ہو جاتی ہے ، ہم مر جاتے ہیں ۔ اصل کیا ہوا پھر؟ اصل کیا چیز ہوئی؟ اور مادی جسم ، اس کو حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے لباس کہا ہے ، یہ میں نے پچھلی دفعہ بھی سمجھانے کے لئے آپ کو کہا تھا کہ ایک جسم ہے ، اس کے اندر چابی بھری ہوئی ہے ۔ کھلونے کا پورا ایک جسم بنا ہوا ہے۔ اس کے اندر چابی نہیں ہے۔ اس کی کیا حیثیت ہوگی؟ مردے کی ہوئی نا؟ اور اسی کھلونے کے اندر چابی بھری ہوئی ہے ، اس کی کیا حیثیت ہوگی؟ اسے آپ زندہ کہیں گے ، متحرک کہیں گے۔

خالقِ کائنات اللہ نے انسان کو ان صلاحیتوں پر تخلیق کیا ہے کہ                    

۱۔ آدمی کس طرح بنا؟

۲۔ اس کے اندر حرکت کس طرح ہے؟

۳۔ آدمی مر کیوں جاتا ہے؟

۴۔ آدمی کا جسم مٹی میں کیوں تبدیل ہو جاتا ہے ، پانی بن کے ؟

۵۔ آدمی کیوں چلتا ہے ، کیوں نہیں چلتا ؟

اس قانون کو روحانیت کہتے ہیں۔

وہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ آدمی کیوں چلتا ہے ۔

روح اسے چلاتی ہے ۔

اچھا اب روح بھی کسی کے کنٹرول میں ہے ۔ کسی نے روح کو بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپﷺ یہ فرما دیجئے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے اور روح کے بارے میں جو علم دیا گیا ، وہ بہت قلیل اور کم ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ روح کا علم دیا گیا ہے۔

آدمی روح کا علم سیکھ سکتا ہے۔

ایک آدمی ہے ، وہ سائنس نہیں جانتا ۔ ایک آدمی روحانیت نہیں جانتا ۔ دونوں کی پوزیشن ایک ہی ہے ۔ جب وہ سائنس پڑھنا چاہتا ہے تو سائنس کو جان لیتا ہے اور جب وہ روحانیت کو پڑھنا چاہتا ہے ، روحانیت کو سمجھنا چاہتا ہے ، روحانیت کو سیکھنا چاہتا ہے ، وہ روحانیت کو سیکھ لیتا ہے۔ یہ جتنے سلسلے ہیں ، دو سو سلاسل حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے تحریر فرمائے ہیں ۔ یہ ایک اسکول ہے اور ان اسکولوں میں آدمی کو یہ بتایا جاتا ہے ، یہ پڑھایا جاتا ہے کہ جسم کیا ہے؟ مادہ کیا چیز ہے؟ روح کیا چیز ہے؟ روشنی کیا چیز ہے؟ گیسز کیا چیز ہیں؟ یعنی جن چیزوں کا عمل دخل ہے انسانی تخلیق میں ، ان سب کے اوپر روحانی علوم روشنی ڈالتے ہیں اور روحانی علوم ان کی وضاحت کرتے ہیں۔
یہ بات سمجھ میں آگئی کہ انسان وہ ہے جس کو ہم روح کہتے ہیں اور آدمی وہ ہے جو گوشت پوست کے پُتلے کو ہم آدمی کہتے ہیں۔ دو ایجنسیاں ہو گئیں ، ایک گوشت پوست کا پُتلا اور ایک اس گوشت پوست کے پُتلے کو چلانے والا ، محفوظ رکھنے والا ، حفاظت کرنے والا ، زندہ رکھنے والا یا زندگی سے فارغ کر دینے والا ، وہ روح ہے۔

انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ۔ ایک مادی جسم اور ایک روح۔ مادی جسم عارضی زندگی ہے اور روحانی جسم مستقل زندگی۔ مستقل زندگی عارضی زندگی کو چلا رہی ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں ، وہ اس مادی جسم کو چلاتی رہتی ہے یا حرکت میں رکھتی ہے اور جب الٰہی نظام اور قانون کے تحت اس آدمی کو دنیا میں نہیں رہنا تو روحانی جسم یا روح کہہ لیجئے ، وہ اس مادی جسم سے اپنا رشتہ منقطع کر لیتی ہے اور نتیجے میں آدمی مر جاتا ہے ۔ مرنے کے بعد کوئی چیز فوری طور پر تبدیل نہیں ہوتی۔ ہاتھ ، پیر ، آنکھ ، ناک ، کان ، زبان ، جگر ، پھیپھڑے ، ہڈیاں ، کسی چیز میں 24 گھنٹے میں بالکل تبدیلی نہیں ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ جب آدمی مر گیا ، ڈیڈ باڈی ہو گیا ، کیوں ڈیڈ باڈی ہو گیا؟ کیوں ہو گیا؟ اصل مادی جسم ہوا یا روح ہوئی؟

پریشانی کی بات یہ ہے کہ آدمی کروڑوں اربوں سال سے اس مادی جسم کو سب کچھ سمجھ رہا ہے اور بڑی حیران کن بات ہے کہ روز آدمی مرتے ہیں ، قبرستان بھر گئے ہیں۔ کبھی وہ یہ نہیں سوچتا کہ مجھے بھی اس قبر میں آکے سونا ہے ۔ یہ جسم کیوں مر جاتا ہے؟ کیوں قبر میں چلا جاتا ہے ؟ کیا چیز ہو جاتی ہے؟ روز آدمی مرتے ہیں ۔ وہ اس لیے مر جاتے ہیں کہ روح جس نے یہ جسم بنایا ہے ، وہ اس جسم سے اپنا رشتہ منقطع کر لیتی ہے۔

اس بات سے یہ ثابت ہوا کہ مادی جسم روح کے تابع ہے۔ اس کا کوئی اصل وجود نہیں ہے۔ ابدالِ حق حضور قلندر بابا اولیا ؒ کے فرمان کے مطابق ، روح نے مادی جسم لباس کی طرح پہنا ہوا ہے اور اس کی مثال پچھلی دفعہ میں نے دی تھی کہ ہاتھ ہلاؤ تو آستین ہلے گی ۔ ہاتھ کو اگر ہم روح سمجھ لیں اور اس کے اوپر جو کُرتا پہنا ہوا ہے ۔ اسے مادی جسم سمجھ لیں تو مسئلہ بڑی آسانی سے حل ہو جاتا ہے کہ ہاتھ ہلے گا تو آستین بھی ہلے گی ۔ ہاتھ نہیں ہلے گا تو آستین بھی نہیں ہلے گی۔ اسی صورت میں ، روح ہلے گی تو ہاتھ بھی ہلے گا ، روح چلے گی تو ہاتھ چلے گا۔ روح نہیں چلے گی تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ روح اس جسم سے نکل جائے گی تو اب اس کے اندر سے حرکت ختم ہو گئی۔ نہ وہ سونگھ سکتا ہے نہ وہ بول سکتا ہے نہ وہ کھا سکتا ہے نہ وہ پی سکتا ہے ۔ انتہا یہ ہے کہ اس کے احساسات ختم ہو جاتے ہیں۔۔
بعض لوگ مردے کو جلا دیتے ہیں ۔ ابھی تک کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی کہ مردہ بیٹھ گیا ہو کہ بھائیو! میں تمہارا بیٹا ہوں ، باپ ہوں ، دادا ہوں، نانا ہوں، تم مجھے کیوں جلا رہے ہو؟ کسی آدمی نے جو قبر میں دبایا جاتا ہے ، اس نے احتجاج نہیں کیا کہ میں تمہارا ابا ہوں ، تمہیں پالا ہے ، پوسا ہے ، تمہاری شادی کی، تمہیں گھر بنا کے دیا، تمہیں بچپن میں کندھے پر لیے پھرا ہوں، تم مجھے یہاں اکیلے کیوں دبا کر جا رہے ہو ؟ تمہیں خیال نہیں آتا؟ تمہیں رحم نہیں آتا اپنے باپ پر؟ کیوں نہیں بولتا وہ؟ اس لیے نہیں بولتا کہ یہ جسم بول ہی نہیں رہا۔ سب دھوکا ہے ۔ جسم اگر بول رہا ہوتا تو قبر میں بھی بولتا۔

اصل بات یہ کہ مادی جسم کی حیثیت سوائے کُرتے کے ، قمیض کے ، شیروانی کے یا لباس کے کچھ نہیں ہے۔ کُرتا ، قمیص جب تک جسم کے اوپر رہتی ہے، جسم کے ساتھ آستین بھی ہلتی ہے۔ جسم حرکت نہیں کرتا، آستین حرکت نہیں کرتی۔

روحانی علوم یہیں سے شروع ہوتے ہیں کہ مادی جسم جو ہے ، یہ فکشن ہے ۔ مادی جسم جو ہے مفروضہ ہے۔ مادی جسم ایک کھلونا ہے جس میں چابی بھری ہوئی ہے۔ اب اس چابی کو آپ تشبیہ دیتے ہیں روح سے۔ جب تک آدمی جسمانی حرکات و سکنات کو نہیں سمجھے گا ، اس وقت تک وہ روحانی علوم نہیں سیکھ سکتا۔

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارا مادی جسم ، فکشن جسے کہتے ہیں ، مفروضہ جسے کہتے ہیں، یہ بالکل بے حرکت و بے حس ہے۔ اگر اس کے اندر روح نہ ہو۔ بالکل ایسی بات ہے کہ ایک کھلونا ہے ، اس کے اندر چابی بھری ہوئی ہے۔ اگر اس کے اندر چابی نہیں بھری ہوئی تو وہ کھلونا نہیں چلے گا۔ اب ہم کیا کہیں گے؟ کھلونے کی حرکت کیوں ہے؟ کیوں ہے؟ آدمی کی حرکت کیوں ہے؟ چابی نہیں ہے۔ چابی کا نام روح رکھ لو ، روح کا نام چابی رکھ لو۔ اب اس کا کنٹرول کہاں ہے؟ یہ بہت زیادہ غور طلب بات ہے۔ اس سارے میکانزم کا کنٹرول کہاں ہے؟ جس ہستی کے ہاتھ میں اس کا کنٹرول ہے ، ہم اس کو اللہ کہتے ہیں۔ ہندو بھگوان کہتے ہیں۔ کچھ لوگ ایل کہتے ہیں ۔ کچھ لوگ ایلیا کہتے ہیں۔ کچھ لوگ God کہتے ہیں۔ اس کے نام مختلف ہیں۔ نام سے کچھ نہیں ہوتا، نام جو بھی رکھیں۔
مثلاً پانی ہے۔ پانی کا ایک نام تھوڑی ہے ، پانی کے دو سو نام ہیں۔ دنیا میں دو سو زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ ہر زبان میں پانی کو مختلف بولا جائے گا لیکن جب پانی کو ماء کہیں گے ، جل کہیں گے ، واٹر کہیں گے، پانی کہیں گے تو جیسے ہی آپ کے کانوں میں لفظ جائیں گے، آپ اپنی زبان کے مطابق اس کو پانی سمجھیں گے۔ اب اس طرح اللہ تعالیٰ کو کوئی بھگوان کہتا ہے ، کوئی God کہتا ہے ، کوئی پر ماتما کہتا ہے ، نام کچھ بھی ہو۔

بات زبانوں کی نہیں ہے۔ عربی میں اللہ تعالیٰ کو اللہ کہتے ہیں ۔ تورات میں اللہ کو تورات کی زبان میں یہواہ بولا جاتا ہے ۔ اس طرح ہندو اپنی زبان میں بولتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ جو ہیں، وہ اللہ ہے ، ایک ہستی ہے۔ اس کے بہت سارے نام اس لیے ہیں کہ انسانی معاشرہ جداگانہ ہے۔ انسانی روایات جدا گانہ ہیں۔ انسانی تقاضے جداگانہ ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک ہستی ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اور اس تخلیق میں جو اس کی پہلی تخلیق ہے ، وہ روح ہے اور روح کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بے شمار تخلیقات زمین میں بھر دیں۔

زمین میں کتنی مخلوق ہے؟ بے شمار مخلوق ہے۔ مخلوق کوئی بھی ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ خالق ایک ہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور خالق کو سمجھے بغیر کوئی آدمی روحانی علوم نہیں سیکھ سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے آدمی کا یقین اللہ کے اوپر ہو اور آدمی روح اور جسم میں فرق کر سکے۔


 


More in Nazariya Rango Noor