زمین ہماری ہے

زمین ہماری ہے

Nazariya Rango Noor | September 2025

(محترم عظیمی صاحب نے طلبہ سے پوچھا۔) کون پڑھے گا؟ آپ پڑھیں گے؟ کتابیں سب کے پاس ہیں؟

(ایک طالب علم نے ریڈنگ شروع کی۔)

(طالبِ علم کے پڑھنے کی رفتار پر فرمایا،)

آرام سے۔ اتنی جلدی نہ کرو۔ ایسے پڑھو کہ جیسے آپ سمجھارہے ہیں، پڑھ نہیں رہے۔

(طالب علم نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔)

(فرمایا،) سمجھ میں نہیں آرہا، آپ کیا پڑھ رہے ہیں ۔آپ تقریرکی طرح پڑھیں۔ ایک ایک لفظ۔ جلدی کیاہے؟

(طالبِ علم کی رفتار تیز اور الفاظ کی ادائیگی غیر واضح تھی۔محترم عظیمی صاحبؒ نے فرمایا،)

پڑھنے کا طریقہ صحیح نہیں ہے۔ چلیں۔ اتنا ہی کافی ہے۔ پڑھوانے کا مقصد یہ ہےکہ لوگ پڑھیں بھی اور جو بات ہورہی ہے، وہ ذہن نشین ہوجائے۔اب دیکھیں میں پڑھتا ہوں۔

زمین ہماری ہے۔ یہ اس کا عنوان ہے۔

"جب ہم اپنی زمین، چاند، سورج، کہکشانی نظام اور کائنات کی ساخت پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ سارا نظام ایک قاعدے ضابطے اور قانون کے تحت کام کر رہا ہے اور یہ قانون اور ضابطہ ایسا مضبوط اور مستحکم ہے کہ کائنات میں موجود کوئی شے اس ضابطے اور قاعدے سے انچ کے ہزارویں حصے میں بھی اپنا رشتہ منقطع نہیں کر سکتی۔ زمین اپنی مخصوص رفتار سے محوری اور طولانی گردش کر رہی ہے۔  

(یہاں سے لیکچر کی تفہیم شروع ہوئی۔)

یعنی زمین چل رہی ہے، مسلسل چل رہی ہے۔ اس کی رفتار اور چلنے کا طریقہ محوری (معنی گول گول) اور طولانی معنی لمبی ہے۔ اب ہم یوں کہیں گے کہ زمین یوں (اشارے سے بتایا) چلتی رہی ہے اور آگے بڑھ رہی ہے ،گول دائروں میں۔ اس کی آسان مثال لٹو ہے۔ رسی سے جب لٹو کو پھینکتے ہیں تو زمین پر لٹو گھومتا ہے اور جب لٹو گھومتا ہے تو وہ ایک ہی جگہ نہیں گھومتا، گول گول بلکہ وہ گھومنے کے ساتھ ساتھ آگے بھی بڑھتا رہتا ہے۔ زمین لٹو کی طرح ہر وقت، ہر آن، ہر لمحہ، رات دن، دھوپ میں، سائے میں، بارش میں یعنی برابر گھوم رہی ہے۔ زمین ٹھہری ہوئی مخلوق نہیں ہے۔ اس کو اپنے مدار پر، مدار یعنی جہاں وہ محوری اور طولانی گردش کررہی ہے اپنی مخصوص رفتار سےمحوری اور طولانی گردش کررہی ہے، اس کو اپنے مدار پر حرکت کرنے کے لئے  مخصوص رفتار گردش کی ضرورت ہے۔ اگر قاعدے اور ضابطے کے تحت اس رفتار کی قدر نہ ہو تو ظاہر ہے۔ اب جیسے ہم زمین پر چل رہے ہیں ، زمین بھی چل رہی ہے۔ زمین کی رفتار اور ہماری رفتار میں ایک توازن ہے۔ زمین تیز رفتاری سے چلنے لگے تو ہم چلیں گے نہیں۔ گرجائیں گے اور اگر زمین کی رفتار بہت کم ہوجائے تو ہم چلنے کے بجائے رک جائیں گے، ایک جگہ کھڑے ہوجائیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے زمین کی رفتار کی معین مقدار بتائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورۃ الاعلیٰ پارہ 30 میں فرمایا ہے:

 سبح اسم ربک الاعلیٰ

 (پاک اور بلند مرتبہ ہے اللہ تعالیٰ)

 الذی۔جس نے

 خلق فسویٰ- تخلیق کیا معین مقداروں کے ساتھ، برابری کے ساتھ یعنی ہر چیز میں توازن ہے۔

 والذی قدر فہدیٰ -اور کائنات میں جتنی اشیاء ہیں، آگ، دریا، سمندر، حشرات الارض، درخت، پرندے، چوپائے، سیارے، ستارے، چاند، سورج، آدمی، آسمان جتنی چیزیں اللہ نے بنائی ہیں، یہ اللہ کی مخلوق ہیں۔اللہ کی ہر مخلوق معین مقداروں کے ساتھ تخلیق کی گئی ہے۔

اب دیکھیں! ہر مخلوق میں آنکھ بھی ہے، ناک بھی ہے، ٹانگ بھی ہے، منہ بھی ہے، ہاتھ پیر بھی ہیں۔ مثلاً چوپائے ہیں، ان کے دو ہاتھ، دو پیر ہیں۔ اسی طرح آدمی ہے، اس کے بھی دو پیر، دو ہاتھ ہیں۔ پرندوں کے بھی دو پر اور دو پنچے ہیں یعنی معین مقداریں ہیں۔ کسی مخلوق میں چار پیر ہیں کسی میں دو پر ہیں، دو پیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی رفتار کی معین مقدار بنائی ہے۔ ہر چیز کی معین مقداروں کے ساتھ تخلیق کی گئی ہے۔  اور ان معین مقداروں کی وجہ سے الگ الگ شکلیں اور صورتیں ہمیں نظر آتی ہیں۔ اب آنکھ ہے۔ آنکھ گائے کی بھی ہوتی ہے۔ آنکھ طوطے کی بھی ہوتی ہے۔ آنکھ مچھلی کی بھی ہوتی ہے۔ آنکھ چڑیا کی بھی ہوتی ہے۔ آنکھ نظر آئے نہ آئے، چیونٹی کی بھی ہوتی ہے اور آنکھ آدمی کی بھی ہوتی ہے لیکن— جن مقداروں سے آنکھ بنی ہے، وہ سب کی الگ الگ ہیں۔ طوطے کی آنکھ آپ کو الگ نظر آئے گی، مچھلی کی آنکھ آپ کو الگ نظر آئے گی، گائے کی آنکھ آپ کو الگ نظر آئے گی۔ اتنی خوب صورت ہوتی ہیں، ان میں تو سرمہ بھی لگا ہوتا ہے۔ اونٹ کی آنکھ الگ ہے لیکن آنکھ کو دیکھ کر ہر آدمی بغیر تعارف یہ کہہ دے گا کہ یہ آنکھ ہے۔ کیسی عجیب بات ہے۔ اور آنکھ کا مطلب ہے دیکھنا۔ اب آنکھ جہاں بھی ہے، وہ آنکھ ہے۔ ایک مقدار یہ ہے کہ آنکھ ایک ہے۔ آنکھ کا فنکشن بھی ایک ہے، آنکھ کا کام بھی ایک ہے لیکن یہی آنکھ ہر مخلوق میں الگ الگ ہے۔

ناک گائے کی بھی ہوتی ہے۔ اس کو آپ جو بھی کہیں گے، وہ ہے تو ناک۔ ناک طوطے کی بھی ہوتی ہے، ناک آدمی کی بھی ہوتی ہے۔ وہ مخلوق جو نظر نہیں آتیں مثلاً جنات اور فرشتے، ناک ان کی بھی ہے۔ آنکھیں فرشتوں کی بھی ہیں، آنکھیں جنات کی بھی ہیں، آنکھیں جس طرح طوطے میں ہیں، چڑیا اور دوسرے تمام پرندوں میں ہیں لیکن— اصل بات جو اس میں ہمیں نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ آنکھ تو ایک ہی ہے لیکن ہر مخلوق کی مقداریں الگ الگ ہیں۔

دوسری بات جو بہت زیادہ غور طلب ہے، وہ یہ کہ آنکھ کا کام ہے— دیکھنا۔ آنکھ کسی بھی صورت شکل کی ہو، اس کا کام دیکھنا ہے۔

پاک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے کائنات معین مقداروں کے ساتھ تخلیق کی یعنی مقداریں الگ الگ ہیں۔ مطلب آنکھ کبوتر کی بھی ہے لیکن مقداریں الگ ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ آنکھ گائے کی بھی ہے لیکن مقداریں الگ ہیں۔ آنکھ فرشتے کی بھی ہے لیکن مقداریں الگ ہیں۔ آنکھ جنات کی بھی ہے لیکن مقداریں الگ ہیں۔ اس کے باوجود کہ مقداریں الگ الگ ہیں، شکل و صورت الگ الگ ہے لیکن آنکھ کا کام ”دیکھنا“ سب میں مشترک ہے۔ اللہ نے ہر چیز معین مقداروں کے ساتھ تخلیق کی ہے اور یہ معین مقداریں ہی تعارف کا ذریعہ ہیں۔

دوسری بات جو بہت زیادہ اہم اور غور طلب ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز جامد اور ٹھہری ہوئی نہیں ہے۔ یہ Law ہے۔

قانون یہ ہے کہ کائنات میں کوئی چیز ٹھہری ہوئی نہیں ہے۔ ہم پہاڑ کو ٹھہرا ہوا کہتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ پہاڑ ٹھہرا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پہاڑ چل رہے ہیں۔ ”تم دیکھتے ہو پہاڑ اور محسوس کر رہے ہو کہ یہ جمے ہوئے ہیں، یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔“ (النمل: 88)

اب جب بادل میں حرکت ہے تو لامحالہ یہ بات ماننی پڑے گی کہ جس طرح اور تخلیقات ہیں، اسی طرح پہاڑ بھی تخلیق ہیں۔ اب ہم یہ بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ پہاڑ بھی پیدا ہوتے ہیں، پہاڑ بھی بڑے ہوتے ہیں۔ تم یہ دیکھ رہے ہو کہ پہاڑ جمے ہوئے ہیں۔ نہیں! پہاڑ جمے ہوئے نہیں ہیں، یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں لیکن ہمیں جمے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

اب یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب پہاڑ اڑ رہے ہیں تو ہمیں جمے ہوئے کیوں نظر آ رہے ہیں؟ ٹھوس کیوں نظر آ رہے ہیں؟ بھاری کیوں نظر آ رہے ہیں؟ وہ اس لئے نظر آ رہے ہیں کہ ہماری جو دیکھنے کی صلاحیت ہے، وہ صلاحیت دو طرح سے کام کرتی ہے۔ ایک صلاحیت اسپیس میں بند ہو کے دیکھتی ہے۔ مطلب اب ہماری صلاحیت یہ ہے کہ جب ہم زمین پر چلتے ہیں تو ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ہم ایک پیر زمین پر رکھتے ہیں، دوسرا پیر اٹھاتے ہیں۔ اگر اٹھا ہوا پیر دوبارہ زمین پر نہ رکھیں تو چل نہیں سکتے، گر جائیں گے۔

حضرت علیؓ کا بڑا مشہور قول ہے۔ کسی آدمی نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ تقدیر کیا چیز ہے اور انسان کتنا بے اختیار اور کتنا بااختیار ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا، تم کھڑے ہو جاؤ۔ وہ بندہ کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ پیر اٹھاؤ۔ اس نے پیر اٹھایا۔ فرمایا، دوسرا بھی اٹھاؤ۔ اس نے کہا، دوسرا تو نہیں اٹھا سکتا، میں گر جاؤں گا۔ بس فرمایا کہ یہ تقدیر ہے۔

تقدیرِ معلق یہ ہے کہ آدمی ایک پیر اٹھا کر دوسرے پیر کو جب تک نہیں اٹھائے گا تو زمین اس کے پیروں میں نہیں لپٹے گی۔ آپ کو پتہ ہے، آپ جب چلتے ہیں، کیا ہوتا ہے؟— زمین  کے اندر ایک کشش ہے، اسے کششِ ثقل کہتے ہیں۔ جب ہم زمین پر چلتے ہیں تو زمین کیا کرتی ہے، ہم ایک پیر اٹھاتے ہیں، جو پیر ہمارا اٹھا ہوتا ہے، وہ زمین اپنی کشش سے کھینچ لیتی ہے۔ جیسے ہی زمین کی کشش سے وہ پیر زمین پر لگتا ہے، دوسرا پیر آٹومیٹکلی اٹھ جاتا ہے۔

قانون یہ ہے کہ آدمی نہیں چل رہا—زمین چل رہی ہے۔ زمین لپٹ رہی ہے۔ جب آدمی چلتا ہے تو زمین لپٹنی شروع ہو جاتی ہے۔

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ابدالِ حق قلندر بابا اولیاء ؒکے صاحبزادے آفتاب میاں حیات تھے۔ انہیں بہت شوق تھا مزاروں پہ جانے کا، سیر و تفریح کرنے کا۔ وہ ہمیں لے جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ہم حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مزار پر گئے۔ راستے میں ایک جگہ ٹھہرے۔ وہاں تھوڑی دیر کھایا پیا، سستایا۔ طے یہ ہوا کہ گاڑی تو صبح آئے گی، چلو پیدل چلتے ہیں۔

حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے مجھے اسپیڈ کا ایک فارمولا بتایا تھا۔ میں نے کہا کہ اب ایسا کرو کہ کوئی بندہ مجھ سے آگے نہ نکلے۔ اس فارمولے کو میں نے آزمایا تو میں نے دیکھا کہ زمین رول (صف) کی طرح لپٹنی شروع ہوئی۔ اس سے کیا ہوا کہ زمین جب لپٹ گئی تو ہمارا بیلنس خراب ہو گیا۔ بہت مشکل سے گرتے گرتے بچا لیکن بہرحال وہ زمین لپٹتی رہی۔ ہم چلتے رہے اور جناب! کوئی 20 منٹ کے بعد ہم بھٹ شاہ میں تھے۔ بہت حیرت ہوئی کہ گھنٹوں کا سفر 20 منٹ میں کیسے طے ہو گیا لیکن اس سے ہوا یہ کہ وہاں جا کر میرے سر میں اتنا شدید درد ہوا کہ میں کچھ کر نہیں سکا۔ لیٹ گیا، سو گیا۔

قانون یہ ہے کہ اگر آپ کسی قانون سے واقف ہو جائیں تو قانون آپ کے اوپر اپلائی ہو جائے گا۔ یعنی جو کائناتی نظام ہے، کائناتی سسٹم ہے جس کو ہم تکوین کہتے ہیں، ایڈمنسٹریشن کہتے ہیں، وہ سب فارمولے ہیں، ایکویشن ہیں۔ ان فارمولوں کے تحت زمین کی حرکت آدمی کے کنٹرول میں آجاتی ہے۔ اسی طرح جب زمین کی حرکت کنٹرول میں آجاتی ہے جیسے حضرت سلیمانؑ— وہ تو ایک پیغمبر ہیں لیکن مثال کے لئے بیان کیا جا رہا ہے۔ مثالوں سے بات کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ حضرت سلیمانؑ— جنات اور پرندے بھی ان کے تابع تھے، زمین بھی ان کے تابع تھی، ہوا بھی ان کے تابع تھی ۔

ایک واقعہ ہے جو روحانی ڈائجسٹ میں چھپا تھا کہ ایک صاحب تھے، ان کی نظر کھل گئی تھی اور وہ فرشتوں کی ایکٹیویٹی دیکھنے لگے ۔ بڑے خوش ہوئے۔ نئی نئی چیز دیکھنے میں آتی تھی ۔ اب انہوں نے یہ دیکھا کہ ملک الموت انہیں گھور رہا ہے اور جہاں یہ جاتے تھے—وہ پیچھے پیچھے جاتا ہے ۔ وہ سمجھ گئے کہ ملک الموت مجھے لینے آگیا ہے ۔ان کی سمجھ میں اور تو کچھ آیا نہیں ۔ حضرت سلیمانؑ کا زمانہ تھا ۔ وہ ان کے دربار میں پہنچ گئے ۔ جب دربار میں پہنچ گئے تو درخواست کی کہ میں ہندوستان جانا چاہتا ہوں ۔حضرت سلیمانؑ نے ہوا کو حکم دیا کہ انہیں ہندوستان چھوڑ دے ۔ہوا نے اڑایا اور ہندوستان چھوڑ دیا ۔تھوڑی دیر میں حضرت سلیمانؑ کے دربار میں ملک الموت حاضر ہوئے ۔حضرت سلیمانؑ نے ان کو دیکھ کر فرمایا، کیا بلاوا آگیا؟ تیاری کریں؟ ملک الموت نے کہا، نہیں، بلاوا نہیں آیا ۔ ہم تو آپ کا شکریہ ادا کرنے آئے تھے ۔حضرت سلیمانؑ نے فرمایا، میرا شکریہ کیسا؟ ملک الموت نے کہا کہ ایک صاحب ابھی آپ کے پاس آئے تھے اور آپ سے کہا کہ مجھے ہندوستان پہنچا دیں ۔ اس کی موت ہندوستان میں لکھی ہوئی تھی، وہ گھوم رہا تھا بیت المقدس میں ۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے ہندوستان لے کر کس طرح جاؤں ۔

ولکم فی الارض مستقر و متاع الیٰ حین

”اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا ہے اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔“ (البقرہ: 36)

ملک الموت نے کہا کہ ایک وقت مقرر ہے موت کا ۔ وہ وقت نکلا چلا جا رہا تھا ۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا ۔ مجھے اللہ کے حکم کی تعمیل کرنی ہے ۔ وہ بندہ آپ کے پاس آیا اور اس نے درخواست کی کہ مجھے ہندوستان بھجوا دیں ۔ آپ نے ہوا سے کہا اور وہ ہندوستان پہنچ گیا ۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا ۔


More in Nazariya Rango Noor