یہ دنیا جب سے بنی ہے اور حضرت آدم ؑ دنیا میں
تشریف لائے تو پہلا عمل درس و تدریس کا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو علم سکھایا۔
یہ ایسا علم ہے جو آدم ؑ سے پہلے نہ جنات کو حاصل تھا اور نہ فرشتوں کو حاصل تھا۔
فرشتوں نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمیں آدم کی تخلیق میں فساد ، خون خرابہ
، بغض و عناد ، بے ایمانی ، دغا بازی اور دشمنی نظر آتی ہے۔ یہ زمین میں فساد برپا
کر دے گا اور زمین خون ریز زندگی بن جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا مکالمہ سن کر یہ نہیں
فرمایا کہ ایسا نہیں ہوگا۔
پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو تخلیق
کیا تو تمام فرشتوں کو جمع کیا۔ تخلیق میں دوسری مخلوق جنات تھی۔ ظاہر ہے ، وہ بھی
وہاں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کی فرماں داری کرنی ہے ، اس
کی حاکمیت کو قبول کرنا ہے اور آدم اب دنیا میں سربراہ کی حیثیت سے رہے گا اور یہی
اس کا تعارف ہے تو فرشتوں نے عرض کیا کہ یہ فساد برپا کر دے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ
فرشتے آدم کی تخلیق میں فساد کے عنصر کو دیکھ رہےتھے۔ جتنی برائیاں ہیں ، وہ آدم
کے اندر فرشتے دیکھ رہے تھے۔
جب فرشتوں نے یہ بات اللہ تعالیٰ کے حضور عرض
کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید نہیں فرمائی۔ یہ نہیں فرمایا کہ نہیں ، ایسا
نہیں ہوگا، آدم خون خرابہ نہیں کرے گا، فساد برپا نہیں کرے گا بلکہ اللہ تعالیٰ نے
آدم کو حکم دیا کہ ہم نے تمہیں جو علم سکھایا ہے ، وہ سب کے سامنے ، فرشتوں کے
سامنے بیان کر دو۔ آدم نے فرشتوں کے سامنے علم بیان فرمایا۔
اب دیکھیں بہت زیادہ غور طلب بات ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے آدم کو علم عطا فرمایا لیکن فرشتے بھی عالم ہیں ، ان کو بھی اللہ تعالیٰ
نے علم سکھایا ہے ۔ انہوں نے اپنے علم کے مطابق آدم کے اندر فساد دیکھا ، خون
خرابہ دیکھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو جو علوم فرمائے تھے، فرشتے
اس سے واقف نہیں تھے اللہ تعالیٰنے آدم سے فرمایا کہ ہم نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے
، فرشتوں کے سامنے بیان کر دو۔ آدم نے جب فرشتوں کے سامنے اس علم کا اظہار کیا تو
فرشتوں نے آدم کی حاکمیت کو قبول کر لیا۔
اللہ تعالیٰ نے آدم کو وہ کون سا علم سکھایا؟
وہ علم سکھایا جو فرشتے نہیں جانتے تھے اور
نہیں جانتے ہیں۔ وہ علم اللہ تعالیٰ نے آدم کو سکھا دیا جو جنات بھی نہیں جانتے
ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے وہ علوم سکھائے جو کائنات میں کوئی
نہیں جانتا سوائے آدم کے اور آدم بھی اس بنیاد پر جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے
انہیں سکھا دیا ہے۔ وہ علم ، علم الاسماء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صفات کا
علم عطا فرمایا ہے۔ اب صفات کیا ہیں؟
اللہ تعالیٰ خالق ہے۔ علوم سکھانے کا مطلب ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو تخلیقی علوم سکھائے۔ یہ بہت غور طلب بات ہے۔ اللہ تعالیٰ
نے آدم کو تخلیقی علوم سکھائے کہ
تخلیق کس طرح ہوگی یا ہوئی؟
تخلیق میں کتنے زاویے ہیں؟
تخلیق میں کتنے راز و علوم ہیں؟
اللہ تعالیٰ کیا چاہتے ہیں؟
آدم سے پہلے جنات موجود ہیں ، فرشتے موجود ہیں،
اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی علوم سکھائے لیکن آدم کو جو علوم سکھائے ، وہ علوم ان
علوم سے مختلف اور ماورا ہیں جو فرشتوں اور جنات کو سکھائے۔
فرشتوں نے جب کہا کہ یہ فساد برپا کرے گا تو
انہیں یہ علم کس طرح حاصل ہوا؟ آدم کی ساخت میں جو خون خرابہ اور فساد کا عنصر
شامل تھا، اس کو فرشتے دیکھ رہے تھے۔ جب آدم نے ان کو علوم کی تشریح کی جو اللہ
تعالیٰ نے نیابت و خلافت کے لئے سکھائے تھے تو فرشتوں نے اعتراف کیا کہ آپ نے آدم
کو جو علوم سکھائے ، وہ ہم نہیں جانتے۔ آپ صادق ہیں، قدرت والے ہیں ، سب کچھ کر
سکتے ہیں۔
”انہوں نے عرض کیا آپ کی ذات پاک ہے ۔ جتنا علم آپ نے ہمیں سکھایا ہے ، اس
کے سوا ہمیں کچھ نہیں معلوم۔“ (البقرۃ : ۳۲)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو جو
علوم عطا فرمائے ، وہ فرشتے بھی نہیں جانتے اور جنات بھی نہیں جانتے ۔ اس سے
فرشتوں کے مقام میں کوئی کمی واقع نہیں ہو جاتی مثلاً ایک آدمی Ph.D کرتا
ہے ، ایک آدمی M.A ۔ Ph.D کرنے
والے کا علم اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے لیکن M.A کرنے والا اس بات سے کہ دوسرے نے Ph.D کر
لی ہے ، جاہل قرار نہیں پاتا۔۔ وہ
M.A ہی رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے آدم کو علم
الاسماء یعنی اپنی صفات کے علوم سکھا دیے۔
اللہ تعالیٰ کی صفات کیا ہیں؟
اللہ تعالیٰ عالمِ کُل ہیں۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ
کے علم میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیقی عوامل آدم کو سکھا دیئے اور فرشتوں نے آدم
کی حاکمیت کو قبول کیا اور کائنات کا سلسلہ پہلے سے جاری تھا، جاری رہا۔ اب
کیٹیگریز میں تبدیلی ہو گئی۔ پہلے فرشتے تھے، اللہ تعالیٰ کا قرب انہیں حاصل تھا۔
ملائکہ مقربین کی بھی ایک کیٹیگری ہے پھر جنات ہوئے۔ جنات کو بھی اللہ تعالیٰ نے
علم عطا فرمایا اور اس علم کی بنیاد پر جنات کو بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوا۔
جیسے کہا جاتا ہے کہ عزازیل (جو بعد میں ابلیس بنا) فرشتوں کا سردار تھا۔ آدم کے
آنے سے پہلے زمین پر فساد برپا ہوا اور جنات کی مخلوق میں فساد داخل ہو گیا تو
اللہ تعالیٰ نے اس نظام کو چلانے کے لئے آدم کے سپرد کر دیا۔ صاف مطلب یہ ہے کہ
آدم اور آدم کی اولاد کی فضیلت اس بنیاد پر ہے کہ ان کو وہ علوم آتے ہوں جو جنات
کو نہیں آتے ، فرشتوں کو بھی نہیں آتے۔ اگر آدم کو وہ علوم حاصل نہیں ہیں کہ جن کی
بنیاد پر فرشتوں اور جنات نے آدم کی نیابت ، خلافت اور حاکمیت کو قبول کیا تو پھر
وہ آدمی ہے۔
ایک حیوان اور ایک انسان ہے۔ حیوان کا نام جب
ہم لیتے ہیں تو حیوان کی بھی خصوصیات ہیں۔ جب آدم کے کردار کا تجزیہ کیا جائے گا
تو ایسا نظر آتا ہے کہ حیوان ہم سے کمتر ضرور ہیں لیکن کسی بھی صورت میں ماورا
نہیں ہیں۔ غور طلب ہے کہ جانوروں کو بھوک پیاس لگتی ہے ، سردی گرمی لگتی ہے ۔
جانور ماں باپ بنتے ہیں ، بچوں کو دودھ پلاتے ہیں۔ آدمی بھی بچے کو دودھ پلاتا ہے،
پرندے بچوں کو دانہ لا کر کھلاتے ہیں۔ آدمی بچوں کو روٹی کھلاتا ہے۔ جانور سوتے
ہیں ، آدمی بھی سوتا ہے۔ جانور بیمار ہوتا ہے ، آدمی بھی بیمار ہوتا ہے ۔ جانور کو
غصہ آتا ہے ، آدمی کو بھی غصہ آتا ہے ۔ جانور کے اندر رحم ہے ، آدمی کے اندر بھی
رحم ہے۔ جانوروں میں پیار ہوتا ہے ، وہ پیار کو سمجھتے ہیں۔ بلی کو پیار کر کے
دیکھئے دو تین دفعہ ۔ گود میں بیٹھی رہے گی۔ اب جانوروں میں اور انسانوں میں کیا
فرق ہے؟
جانوروں کی صفات جب انسانوں کے اندر کام کرتی
ہیں تو انسان کو حیوان کہا جاتا ہے۔ ان کے الگ نام ہیں ، چوپائے ہیں ، درندے ہیں ،
چرند ہیں ، پرندے ہیں لیکن بنیادی طور پر سب کے اندر عقل ہے ، شعور ہے ، اولاد کی
پرورش کا جذبہ ہے۔ غذا کے معاملے میں آئیں کہ ماں دودھ پلاتی ہے اور طوطا یا چڑیا
چوگا دیتی ہے تو یہی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ چڑیا ، طوطا یا جو پرندے چوگا دیتے ہیں
، وہ زیادہ تکلیف دہ ہے۔
اب انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے؟
آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جانوروں میں شعور نہیں
ہے ۔ وہ گھر بناتے ہیں ، کئی میل سفر کرتے ہیں پھر اپنے گھر آتے ہیں۔ ایکٹیویٹیز
کا تعلق ساخت سے ہے۔ بکری کی ساخت ایسی ہے کہ وہ گاڑی نہیں چلا سکتی۔ ہم گاڑی اس
بنیاد پر چلاتے ہیں کہ ہماری ساخت ایسی ہے کہ اس کو چلا سکتے ہیں ، پیر سے
ایکسیلریٹر دبا سکتے ہیں۔ اب چمپینزی گاڑیاں اور مشینیں چلاتے ہیں ۔
یہ بات کہہ سکتے ہیں حیوانوں میں عقل کم ہے اور
انسانوں میں عقل زیادہ ہے لیکن جانوروں میں عقل کا قرآن کریم میں تذکرہ ہے۔ ہد ہد
نے حضرت سلیمان ؑ کی باقاعدہ شادی کرا دی۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جانوروں میں عقل
نہیں ہے۔ آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جانور باتیں نہیں کرتے۔ آپ یہ بھی نہیں کہہ
سکتے کہ جانوروں میں بچے پالنے کے آداب نہیں ہیں ۔ آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ
جانوروں کو گرمی سردی نہیں لگتی۔ آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جانوروں کو بھوک نہیں
لگتی۔ تو کیا چیز ایسی ہے جو انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہے؟
آدمی میں اور حیوان میں ایک فرق ساخت کا ہے ۔
یہ بہت سوچنے کی بات ہے ۔ بکری بندوق بنانا چاہے تو کیسے بنائے گی؟ اس کی تو ساخت
ہی نہیں ہے۔ گائے روٹی پکانا چاہے تو کس طرح پکائے گی؟ اس کی تو ساخت ہی نہیں
ہے۔ساخت کی بنیاد پر حیوان ہم سے کمتر نظر آتے ہیں۔ ویسے وہ کمتر نہیں ہیں۔
اللہ نے ہد ہد ، ابابیل اور مکڑی کا قصہ ، یہ
قصے کیوں بیان کئے ہیں قرآن میں؟اللہ انسان اور حیوان کا تجزیہ فرماتے ہیں ۔ انسان
بالکل الگ چیز ہے ۔ آدمی بالکل الگ چیز ہے۔ آدمی جب تک آدمی ہے ، حیوان ہے۔ اچھا ،
بڑی عجیب بات ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آدمی حیوانِ ناطق ہے۔ آپ لوگ بتائیے کہ چڑیا
گونگی بہری ہے ؟ چوں چوں چوں کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پرندے میری عبادت
کرتے ہیں۔ گونگے بہرے پرندے عبادت کیسے کرتے ہیں؟ جب کوئی فرق نہیں تو عقل کا فرق
ہے اور یہ بھی اس لئے ہے کہ ساخت مختلف ہے۔ اللہ نے ساخت ایسی بنائی ۔ ایک حیوان
ہے جس کا نام آدمی ہے۔ ایک حیوان ہے جس کا نام بیل ہے۔ ایک حیوان ہے جس کا نام
کبوتر ہے۔ ایک حیوان ہے جس کا نام مکڑی ہے۔ دشمن کے پہنچنے سے پہلے اتنی اسپیڈ میں
جالا بُن لیا اس نے غارِ ثور پر یعنی یہ یقین کی بات ہے۔ دشمنوں نے سوچا کہ جالا
بنا ہوا ہے ، کوئی اندر کیسے گیا ہوگا؟ قرآن میں سورتوں کے نام ہیں۔ عنکبوت ، نمل
، بقرۃ ، فیل۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ میں چھوٹی سے چھوٹی بات کی مثال دے
کر بیان کرتا ہوں ۔ اونٹ کا تذکرہ ہے قرآن میں۔
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے
گئے ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے یہاں ٹھہریے ، ہمارے یہاں ٹھہریے تو حضور اکرم ﷺ
نے فرمایا کہ میری اونٹنی من جانب اللہ ہے۔ جہاں یہ بیٹھ جائے گی، میں وہیں ٹھہروں
گا۔ وہ حضرت ایوب انصاری ؓ کے گھر کے باہر بیٹھ گئی۔ اس کا کیا مطلب ہوا؟ یعنی اس
کا اللہ سے لنک ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے انسپائریشن ہے کہ اسے یہاں بیٹھنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آدمی میں اور حیوان میں کیا فرق ہے؟ انسان جس کو ہم کہتے ہیں ، وہ
کائنات میں جنات ، فرشتوں ، حیوانات ، نباتات ، جمادات سے اس لئے ممتاز ہے کہ اس
کو وہ علم حاصل ہے جو ان مخلوقات کو حاصل نہیں۔ کیوں بھئی ، کیا سمجھے ؟ انسان
کیوں ممتاز ہے؟ اگر اسے وہ علم حاصل نہیں ہے جو حیوانات کو حاصل نہیں ہے تو اس کی
حیثیت کیا بنی؟ انسان کی ساخت ایسی ہے کہ وہ بندوق بنا سکتا ہے ۔ وہ ساخت ایسی ہے
کہ بم بنا سکتا ہے وہ ساخت ایسی ہے کہ گھر بنا سکتا ہے۔ آپ گھر کی بنیاد پر کہیں
تو گھر تو چڑیا بھی بناتی ہے۔ مکڑی ۔۔مکڑی کا جالا۔
انسان کی فضیلت یا یوں کہئے کہ آدمی کی فضیلت
یا اس طرح کہئے کہ آدمی اگر انسان بنے تو ضروری ہے کہ وہ علوم سیکھے جو اللہ نے
آدم کو سکھائے اور آدم نے وہ علوم فرشتوں کے سامنے بیان کئے۔ فرشتوں نے اعتراف کیا
کہ آدم نے جو علوم بیان فرمائے ، وہ ہم نہیں جانتے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ آدمی اگر انسان بننا چاہے تو
اسے کیا کرنا ہوگا؟ وہ علوم سیکھنے ہوں گے جو فرشتوں کو نہیں آتے، جنات کو نہیں
آتے، پرندوں کو نہیں آتے ، چرند کو نہیں آتے، درندوں کو نہیں آتے ، کسی کو نہیں
آتے اور اگر وہ یہ علم نہیں سیکھے پھر ؟ انسان کیا ہوا؟ ہم اسے آدمی تو کہہ سکتے
ہیں لیکن انسان نہیں۔
”ہم نے انسان کو احسنِ تقویم بنایا۔ پس وہ اسفل سافلین میں پڑا ہوا ہے ۔“
(التین : ۴۔۵)
انسان اس کو کہا جائے گا جو وہ علوم جانتا ہو
جو فرشتے نہیں جانتے۔ انسان اسے کہا جائے گا جو وہ علوم جانتا ہو جو جنات نہیں
جانتے ۔ انسان اسے کہا جائے گا ، وہ مخصوص علوم جو اللہ نے صرف آدم کو سکھائے ،
جانتا ہو۔ اگر وہ علوم حاصل نہیں ہیں تو آدمی کی کیا پوزیشن ہوئی؟
اللہ نے خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے
جو فرمایا ، وہ بڑا غور طلب ہے کہ ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا۔“
فرشتوں کو جو علوم حاصل ہیں ، وہ بھی دین ہیں ۔
جنات کو جو روحانی علوم حاصل ہیں ، وہ بھی دین کے زمرے میں آئیں گے۔ انسانوں کو جو
علوم حاصل ہیں ، وہ بھی دین کہلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبران کرام علیہم
السلام اور آخری نبی حضور پاک ﷺ کو اس لئے بھیجا کہ حیوان اور انسان کا الگ الگ
تجزیہ ہو۔ عقل و شعور عطا فرمایا کہ آدمی حیوانات سے ممتاز ہو سکے۔ اگر کسی آدمی
نے اللہ کی صفات کا علم نہیں سیکھا تو اس کی حیثیت زمین پر اللہ کے نائب کی نہیں
ہے۔ قرآن کریم تو کہتا ہے ، نہیں ہے۔ انسان بالکل الگ چیز ہے اور آدمی الگ چیز ہے۔
انسان ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا انعام یافتہ فرد ہے۔