معین مقداریں

معین مقداریں

Nazariya Rango Noor | November 2025

پچھلے سبق میں کوشش یہ کی گئی تھی کہ آدمی اس بات سے واقف ہو جائے کہ انسان اور آدمی میں کیا فرق ہے۔ ہم اپنی گفتگو میں انسان اور آدمی کو ایک ہی حقیقت سمجھتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے۔ انسان الگ اور آدمی بالکل الگ ہے۔ آدمی اور انسان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آدمی جسے ہم کہتے ہیں ، وہ ایک پیدائش کا پروسیس ہے جس میں زمین کی ساری مخلوق مشترک ہے۔ مثلاً کتّا ، اس کی فی میل ہے ، جب وہ دونوں یکجا ہوتے ہیں تو نتیجے میں حمل قرار پاتا ہے۔ حمل قرار پانے کے بعد پیٹ میں نشو و نما ہوتی ہے اور پھر ولادت ہوتی ہے۔

یہ ایسا عمل ہے کہ دنیا میں کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو اس پروسیس سے اپنے آپ کو دور کر سکے۔ اس میں کتّا بھی ہے ، بلّی بھی ہے ، بھینس بھی ہے ، گائے بھی ہے ، اونٹ بھی ہے ، بکری بھی ہے ، ہاتھی بھی ہے اور دوسرے جانور بھی ہیں ، پرندے بھی ہیں۔

پرندوں میں یہ پروسیس تھوڑا مختلف ہے کہ وہ انڈے دیتے ہیں لیکن مرغی کا انڈا اور کسی عورت کے انڈے میں فرق یہ ہے کہ فی میل کا انڈا ظاہر نہیں ہوتا۔۔ مرغی کا انڈا ظاہر ہو جاتا ہے لیکن پروسیس جو انڈے کا ہے ، وہ فی میل میں بھی ہوتا ہے اور مرغی میں بھی ہوتا ہے۔

مرغی کو بھی فی میل کہیں گے۔ پروسیس میں کوئی فرق نہیں ہے البتہ مدت کا فرق ہے۔ ساخت کی بات ہے۔ کسی کے بطن میں سال یا نو(9) مہینے میں بچہ ہوتا ہے۔ بکری کے ہاں سال میں بیس بائیس (20،22) دن میں مرغی کا بچہ نکل آتا ہے ۔ وقت کا تعین الگ ہے ۔ اس کا بھی ایک قانون ہے ، مقداریں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ،

پاک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے تخلیق کیا معین مقداروں کے ساتھ اور ان مقداروں کی ہدایت بخشی۔“ (الاعلیٰ : ۱۔۳)

ہر چیز مقداروں کے ساتھ تخلیق ہوتی ہے اور معین مقداریں ہی مخلوق کو الگ الگ کرتی ہیں مثلاً بکری کا بچہ ۔ بکری کے بچے کے پروسیس میں اور آدمی کے بچے کے پروسیس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ میل فی میل ملتے ہیں ، حمل قرار پاتا ہے ۔ اسی طرح بکری میں بھی ہے ، گائے میں بھی ہے ، بھینس میں بھی ہے ، شیر میں بھی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب عمل ایک ہے ، پروسیس اور پیدائش کی ترکیب بھی ایک ہے تو صورتیں کیسے الگ الگ ہو جاتی ہیں۔ یہ اہم سوال ہے کہ پرندوں ، آدمیوں ، بکریوں ، بھینس ، گائے ، شیر ، سب کا وہی پروسیس ہے تو یہ مقداریں کیسے بنیں ، کیسے تبدیل ہوئیں کہ بکری کے یہاں بکری ، آدمی کے یہاں آدمی ، کبوتر کے یہاں کبوتر کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔

دیکھئے ، فاختہ ہے ، جنگلی کبوتر ہے اور پرندے ہیں ، سب کے بچے الگ الگ ہوتے ہیں ۔ یہ تبدیلی کہاں سے واقع ہو رہی ہے جب کہ عمل ایک ہے ، پروسیس بھی ایک ہے پھر یہ صورتیں کیسے مختلف ہو گئیں۔۔؟ اونٹ کے یہاں اونٹ پیدا ہوتا ہے ۔ بکری کے یہاں بکری پیدا ہوتی ہے۔ جِن کے یہاں جِن پیدا ہوتا ہے ۔ پرندوں کے یہاں پرندے پیدا ہوتے ہیں ۔ تو یہ تبدیلی کیوں ہوئی اور کہاں ہو رہی ہے۔؟

اس میں سوچنے کی بات ہے۔

آج کی مجلس میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

گھوڑے میں اور آدمی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ جب ایک ہی عمل ہے ، ایک ہی صورت ہے ، ایک ہی مادہ ہے ، ایک ہی رحم ہے ، تبدیلی کہاں اور کس طرح واقع ہو رہی ہے؟ اس کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعلیٰ میں فرمایا کہ پاک اور بلند مرتبہ ہے تیرا رب جو معین مقداروں کے ساتھ تخلیق کرتا ہے اور معین مقداروں کے ساتھ اس میں وہ تبدیلی آجاتی ہے۔

دیکھئے ، اللہ تعالیٰ کا کیسا نظام ہے کہ بیل میں اور گائے میں وہی معین مقداریں کام کر رہی ہیں ، بکری میں وہی معین مقداریں کام کر رہی ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ مرغی کے یہاں باز پیدا ہو یا باز کے یہاں مرغی پیدا ہو جائے۔ بکری کے یہاں کتّا یا کتّے کے یہاں بکری پیدا ہو جائے۔ شیر کے یہاں گیدڑ یا گیدڑ کے یہاں شیر پیدا ہو جائے۔ یہ کیوں نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ نے ایک نظام ، ایک قانون بنایا اور وہ مقداروں کا قانون ہے ، مقداروں کا ردّو بدل ہے۔ مثلاً پانی میں شوگر ، مٹھائی یا شربت ڈال دیں ، اب وہ پانی نہیں رہا۔ اس کو آپ شربت کہیں گے۔ کیوں ؟ مقداریں بدل گئیں ! پانی کی مقداروں میں مٹھاس کی مقداریں غالب آگئیں۔ اگر ایک بالٹی پانی میں ایک چمچ چینی ڈال دیں ، پانی میٹھا نہیں ہوگا ، کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اگر مقدار کے مطابق آپ پانی میں چینی ، شہد ، گڑ یا کچھ بھی ڈال دیں ، مقدار جب غالب ہو گی تو وہ شربت بن جائے گا۔

دوسرا قانون یہ معلوم ہوا کہ ساری کائنات مقداروں پر تخلیق ہوئی ہے اور مقداروں کی کمی بیشی سے نئی نئی مخلوقات پیدا ہوتی ہیں۔ بظاہر عمل ایک ہے ، مادہ بھی ایک ہے ، جنس کا جذبہ بھی ایک ہے ۔ پھر یہ چیزیں الگ الگ کیسے ہو گئیں ۔ یہ بہت زیادہ غور طلب بات ہے ۔ مادہ بھی وہی ہے لیکن جب تجزیہ کرتے ہیں تو مقداریں الگ الگ نظر آتی ہیں۔

اب کائنات کا سارا نظام مقداروں کے اوپر بسا ہوا ہے اور یہ مقداریں جو ہیں ، ان کا بظاہر تعلق مادی جسم سے ہے لیکن ہمارے سامنے ایک اور بات ہے کہ اگر مادی جسم میں قبولیت نہ ہو تو اولاد نہیں ہوتی یا مادی جسم پر موت وارد ہو جائے تو اولاد نہیں ہوتی۔ مادی جسم پر جب موت وارد ہوئی تو کیا تبدیلی اس کے اندر آگئی؟ سوالیہ نشان ہے یہ کہ آدمی ابھی زندہ ہے۔ جسم تو بہت دیر میں خراب ہوتا ہے۔ کتنی دیر میں جسم خراب ہوتا ہے ڈاکٹر صاحب؟

(طالب علم ڈاکٹر صاحب : 48 گھنٹے)

48 گھنٹے لگ جاتے ہیں لیکن اس 48 گھنٹے میں حمل قرار نہیں پائے گا۔ کیوں؟ اس لئے کہ مقداروں کا جو نظام ہے ، وہ ٹوٹ گیا ۔ جب تک مقداریں رہیں ، اُس وقت تک نظام قائم رہا اور جب مقداریں ختم ہو گئیں ، تخلیقی نظام ختم ہو گیا ۔ ہر ایک نظام ختم ہو گیا۔

ایک آدمی ہے ، مر گیا ۔ پانی نہیں پیتا۔ آپ اس کو پانی پلانا بھی چاہیں ، اس کا منہ کھول کر پوری مشک انڈیل دیں ، اس کے معدے میں ایک قطرہ نہیں جائے گا ۔ کیوں ؟ معدہ ہے اس کا ، حلق بھی ہے ، پانی سیال بھی ہے ۔ پانی
اندر کیوں نہیں جا رہا؟ رگیں کھلی ہوئی ہیں ، سکڑتی بعد میں ہیں ، ایک دم نہیں سکڑتیں ۔ پانی اندر کیوں نہیں جا رہا؟ چلیں پریشر سے ڈالیں ، پائپ لے کر ۔ کیا ہوگا؟

(طالب علم : پانی باہر آجائے گا)

کیوں؟ اندر کیوں نہیں جا رہا؟ اندر اس لئے نہیں جا رہا کہ جو معین مقداریں پیاس لگاتی ہیں اور جو معین مقداریں پروسیس کر کے پیاس کو بجھانے کا عمل کرتی ہیں ، وہ مقداریں سسپینڈ (معطل ) ہو گئیں۔ اب آنکھ ہے ۔ آنکھیں کھول کر دیکھیں ۔ اس (مردے) کی آنکھ ٹھیک ہوگی لیکن آنکھ میں عکس نہیں بنے گا ۔ کیوں ڈاکٹر صاحب؟ عکس پڑتا ہے مرنے کے بعد ؟

(طالب علم : جی نہیں)

کیوں؟ آنکھ تو موجود ہے مردے کی۔ آپ آنکھ کھولیں ۔ آنکھ کھلے گی ۔ اب دیکھیں ، جب میری آنکھ میں آپ دیکھیں گے تو آپ کا عکس پڑے گا میری پُتلی میں۔ مردے کی آنکھ میں عکس نہیں پڑتا۔ کیوں؟ آنکھ کے اندر ابھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تبدیلی تو 24 گھنٹے کے بعد ہوتی ہے ۔ پھر نظر کیوں نہیں آتا؟ پانی اس کے حلق میں کیوں نہیں جاتا؟

ابدالِ حق حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے ”لوح و قلم“ میں تحریر فرمایا ہے کہ لباس کو کاٹ ڈالئے اس کا ایک ایک بازو الگ کر دیجئے ، اپنی طرف سے اس کی کوئی مدافعت نہیں ہوتی۔ نہ اسے کوئی تکلیف ہوتی ہے ۔ کیوں؟

کسی آدمی کو ہاتھ پر چھری ماریں ، کٹے گا، خون نکلے گا، اسے تکلیف ہوگی ، وہ غصے کا اظہار بھی کرے گا اور اگر ممکن ہوا تو مار کٹائی بھی کرے گا لیکن مرنے کے بعد جب آپ ہاتھ پر شگاف ڈال دیں تو قوت مدافعت نہیں ہوتی۔ کیوں نہیں ہوتی؟اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا مقداروں کا جو نظام متعین ہے ، وہ سسپینڈ ہو جاتا ہے۔

یوں سمجھیں کہ ایک آدمی میں ایک لاکھ مقداریں کام کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر کہہ رہا ہوں کہ ایک لاکھ مقداریں ہیں۔

اب وہ ایک لاکھ مقداریں کیا کرتی ہیں؟

کچھ مقداریں سونگھنے کی حس پیدا کرتی ہیں،

کچھ مقداریں بولنے کی حس پیدا کرتی ہیں،

کچھ مقداریں دیکھنے کی حس پیدا کرتی ہیں ،

کچھ مقداریں سوچنے کی حس پیدا کرتی ہیں،

کچھ مقداریں گرمی سردی کی حس پیدا کرتی ہیں،

گرمی لگ رہی ہے ، سردی لگ رہی ہے

کچھ مقداریں بھوک ، کچھ پیاس لگاتی ہیں۔

کچھ مقداروں میں ردّو بدل ہو جائے تو بلڈ پریشر Low ہو جاتا ہے۔ مقداروں میں رد ّ و بدل ہو جائے تو خون گاڑھا ہو جاتا ہے ۔ مقداروں میں ردّ و بدل ہو جائے تو خون پتلا ہو جاتا ہے۔

یہ سب معین مقداریں ہیں۔

پاک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے تخلیق کیا۔ تخلیق کیا ایک فارمولے کے تحت اور اس فارمولے میں مقداریں معین ہیں۔ مثلاً اگر کبوتر کا فارمولا ہے تو اس میں معین مقداریں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑوں سال ہو گئے ، کبوتر کے یہاں کبوتر ہی ہوتا ہے۔ دنیا تبدیل ہو گئی۔ زمین میں بڑی تبدیلیاں آگئیں لیکن پہاڑ پہاڑ ہے ، زمین زمین ہے ، پانی پانی ہے ، ہوا ہوا ہے ، آکسیجن آکسیجن ہے۔

یہ سب کیوں ہے؟

ایک مرکز پر یہ ساری چیزیں کیوں قائم ہیں؟

الذی خلق فسوّیٰ۔ جس نے تخلیق کیا ایک اصول اور قاعدے اور ضابطے کے تحت۔

اور ہر چیز کی مقداریں معین ہیں اور وہ معین مقداریں ہی تخلیق کو الگ الگ کرتی ہیں ۔ اب یہ ان مقداروں کا کام ہے جو مادی وسائل کے تحت کام کرتی ہیں۔

ایک آدمی ہے ۔ وہ مردہ ہے ۔ اس کے بچے کیوں نہیں ہوتا؟ اس لئے نہیں ہوتا کہ اس کے اندر جو معین معین مقداریں ہیں بچہ پیدا کرنے والی ، وہ سسپینڈ ہو گئیں ۔ جسم موجود ہے لیکن بچہ نہیں ہوتا۔ کیوں نہیں ہوتا ؟ بھوک نہیں لگتی ، اس کو تکلیف نہیں ہوتی ، اس کے کپڑے اتار دو ، اس کو شرم نہیں آتی ۔ اس لئے کہ جن معین مقداروں سے وہ بندہ تخلیق ہوا ہے ، اس کا جسم ، ان مقداروں میں ردّ و بدل ہو گیا۔

ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے ، بہت بڑا کہ آدمی مر گیا ۔ جب وہ مر گیا تو اس کے جسم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہاتھ بھی ہیں ، پیر بھی ہیں ، کان بھی ہیں ، ناک بھی ہے ، آنکھ بھی ہے ، بال بھی ہیں ، معدہ بھی ہے ، پھیپھڑے بھی ہیں، جگر بھی ہے ، کوئی چیز اس میں ایسی نہیں جو فنا ہو گئی ہو اس طرح کہ نظر نہ آئے لیکن اس میں حرکت نہیں ہے کہ جن معین فارمولوں یا جن معین مقداروں کے ساتھ وہ جسم زمین پر موجود تھا۔ وہ معین مقداریں اور وہ معین فارمولے سسپینڈ ہو گئے۔

اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ انسان کا جو جسم ہے ۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اگر وہ معین مقداریں اور فارمولا یا ایکویشن متحرک ہے تو جسم میں حرکت ہے۔ اگر وہ ایکویشن یا فارمولا سسپینڈ ہو گیا تو جسم بھی سسپینڈ ہو گیا۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان کی زندگی محض مادی نہیں ہے ۔ اگر انسان کی زندگی مادی ہوتی تو اس طرح سسپینڈ ہو جانا کہ ہر چیز غیر متحرک ہو گئی؟

فارمولے کے تحت یا کہئے کہ ترتیب کے تحت یا یوں سمجھئے کہ مقداروں کے ردّ و بدل سے انسان کے اندر اور پوری کائنات کے اندر حرکت ہوتی ہے ۔ اب اس حرکت کا نام مذہب روح رکھتا ہے ۔ سائنس دان اس کو لائف اسٹریم کہتے ہیں۔ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی کہ روح کا نام کسی نے لائف اسٹریم رکھ لیا۔

شیر کا نام کسی نے گائے رکھ لیا ، کسی نے شیر رکھ لیا ، شیر تو شیر ہی رہے گا۔

لائف اسٹریم کیوں بولتا ہے آدمی؟

کہتے ہیں کہ لائف اسٹریم کام کرتی ہے اور لائف اسٹریم ختم ہو جائے تو آدمی مر جاتا ہے۔ لائف اسٹریم کیا ہے؟ اس کا نام عربی میں روح ہے اور سائنس دانوں نے اپنے مذہب کے لئے کہ ہمیں نہیں ماننا روح کو تو انہوں نے اس کا نام لائف اسٹریم رکھ دیا ۔ ڈاکٹر صاحب ! کیا مطلب ہے لائف اسٹریم کا؟

( طالب علم : جو زندگی کو چلائے)

زندگی تو روح چلا رہی ہے۔ اس میں اور اُس میں کیا فرق ہے؟ آدمی مر کیوں جاتا ہے؟ وہ کہیں گے کہ لائف اسٹریم ختم ہو گئی اس کے اندر۔ اب کسی روحانی آدمی سے پوچھیں کہ آدمی مر کیوں جاتا ہے تو وہ کہے گا کہ روح اپنا رشتہ منقطع کر لیتی ہے ۔ فرق کیا ہوا؟

 


 


More in Nazariya Rango Noor