اللہ تعالیٰ نے فرمایا ،
”اس نے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزوں کو
تمہارے لئے مسخر کر دیا ، سب کچھ اپنے پاس سے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے
جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔“ (اجاثیہ : ۱۳)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
ہم نے تمہارے لئے مسخر کر دیا
تمہارے تابع فرمان کر دیا
تمہارے حکم کے تابع کر دیا
جو کچھ زمین میں ہے اور آسمانوں میں ہے سب کا سب۔
یعنی زمین کے اندر جو کچھ ہے ، پانی ، ہوا ، سمندر ، پہاڑ ، درخت ، آدمی ،
خود زمین ، جو بھی کچھ ہے۔ زمین میں جو بھی کچھ ہے ، سب کا سب مسخر کر دیا اور
مسخر ہونے کا کیا مطلب ہے؟
کیا مطلب ہے۔۔۔؟ حکم کی تعمیل۔
ہر چیز حکم کی تعمیل کرنے پر مجبور ہے اور انسان ۔۔ انسان کے لئے خالقِ
کائنات اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں ، و سخر لکم ۔۔۔ اور میں نے انسان کے تابع کر دیا
، ما فی السمٰوٰت و ما فی الارض جمیعا منہ ۔ جو کچھ زمین اور آسمانوں میں ہے ، وہ
سب کا سب ، انسان کے لئے مسخر ہے ، انسان کے تابع فرمان ہے۔
لیکن یہاں تو بات ہی دوسری نظر آرہی ہے کہ آدمی تابع ہے۔ آدمی زمین کے بھی
تابع ہے، بخار کے بھی تابع ہے ۔ کیوں تابع ہے؟ اس لئے تابع ہے کہ اس کے اندر اللہ
تعالیٰ کی فرماں برداری نہیں ہے ۔۔ اگر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری ہوگی تو قرآن
پاک میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے ، مسلمانوں کے اندر وہی تمام خصوصیات
آجائیں گی۔
تسخیرِ کائنات جس کو آپ کہتے ہیں ۔ تسخیر ِ کائنات ایک یہ بھی ہے کہ جیسے
اب سائنس کی ایجاد ہے ، پہلے یہ سب کچھ نہیں تھا۔ اب جہاز اڑ رہے ہیں۔ جہاز اڑ رہے
ہیں ، کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا یہی مطلب ہوا کہ ہوا آپ کے لئے مسخر ہو گئی ، اور بے
شمار چیزیں ہیں۔ آپ جب تلاش کریں گے تو بے شمار چیزیں آجائیں گی۔
مثالیں بھی ہیں ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نماز قضا ہو گئی۔ روایت ہے کہ
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے سورج کو اشارہ کیا اور غروب ہونے والا سورج پلٹ آیا
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی عصر کی نماز ادا کی اور سورج واپس غروب ہو
گیا۔
قرآن کی آیت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، سب تمہارے تابع کر
دیا۔
” اس نے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزوں کو
تمہارے لئے مسخر کر دیا ، سب کچھ اپنے پاس سے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے
جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔“ (الجاثیہ : ۱۳)
سورج اور چاند کو تابع کر دیا ۔ تابع فرمان ہونا یہ نہیں ہے کہ چاند چاندنی
دے رہا ہے ۔ اس میں کیا فرماں برداری ہوئی؟ اور یہ کہ چاند کا نکلنا اور چاندنی
دینا انسان کے لئے تابع فرمان ہونا ہے تو وہ دوسروں کے لئے بھی ہے۔ شیر کے بھی ہے
، چکور کے بھی ہے ، کبوتر کے بھی ہے۔ کیا کبوتر چاندنی سے فائدہ نہیں اٹھاتا؟
قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے چاند کو اور سورج کو مسخر کر دیا
ہے۔ ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ چاند اور سورج کو تمہارے لئے کام پہ لگا دیا ہے تو
کام میں تو پرندوں کے لئے بھی نہیں لگا دیا ہے؟ یعنی کیا خصوصیات ہوئی؟ یہ درختوں
کے کام میں نہیں آرہے کیا؟ کیوں بھئی؟ قرآن پاک میں ارشاد ہے ،
”ا س نے تمہاری بھلائی کے لئے رات اور دن کو اور
سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور سب تارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ اس میں
بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔“ (النحل : ۱۲)
کیا مطلب ہوا اس کا ۔۔؟
مسخر ہونے کا مطلب اگر یہ ہے کہ چاند اگر چاندنی دے رہا ہے تو کیا جانور
اور پرندے چاندنی سے فائدہ نہیں اٹھا رہے؟ ان کے لئے بھی مسخر ہے ۔۔ پھر ۔۔۔؟
خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں انسانوں سے مخاطب ہیں نا؟ اس کا کیا مطلب
ہوا کہ تابع کر دیا؟
مطلب یہ ہے کہ چاند بھی تابع ہے ، سورج بھی تابع ہے ، ستارے بھی تابع ہیں۔
اب زمین بھی تابع ہے اور زمین تابع ہے تو زمین کے اندر جتنی مخلوقات ہیں ، وہ بھی
تابع ہیں مگر ہمارے تو کچھ بھی تابع نہیں ہے لیکن ۔۔۔ ذکر ہو رہا ہے انسانوں کا ۔
اب دو کیٹیگری ہیں۔
ایک انسان ہے
ایک آدمی ہے
آدمی اور بکری میں کوئی فرق نہیں ہے۔
بکری بھی کھاتی پیتی ہے ، بکری بھی نہاتی دھوتی ہے، بکری کے بھی بچے ہوتے
ہیں ، بکری بھی دودھ پلاتی ہے اور یہ سارے کام آدمی بھی کرتا ہے۔ آدمی جو ہے ، وہ
حیوان ہے اور جب آدمی کو اللہ تعالیٰ کے وہ علوم حاصل ہو جاتے ہیں جو تسخیرِ
کائنات کے علوم ہیں تو اب آدمی کا نام ”انسان“ ہو جاتا ہے۔
”انسان ہماری بہترین صناعی ہے لیکن وہ اسفل سافلین
میں پڑا ہوا ہے۔“ (التّین : ۴۔۵)
جب تک انسان کو الٰہی علوم حاصل نہیں ہوں گے ، وہ تسخیر ِ کائنات کے
فارمولوں سے واقف نہیں ہوگا ، فرشتے اس کے سامنے نہیں آئیں گے ، وہ جنات کی دنیا
سے واقف نہیں ہوگا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کا عرفان اسے حاصل نہیں ہوگا ، وہ حیوان ہے
۔ حیوانِ ناطق۔
آدمی بولنے والا جانور ہے ۔ کیوں بھئی ، یہی کہتے ہیں نا؟ کیا کتا نہیں
بولتا؟ بلی نہیں بولتی؟ شیر نہیں بولتا ؟ مینا نہیں بولتی؟ کون سی ایسی مخلوق ہے
جو نہیں بولتی؟ مچھلی نہیں بولتی؟ مرغی نہیں بولتی؟ پھر بولنے والے آدمی میں کیا
فضیلت ہوئی؟
آپ یہ کہہ لیجئے کہ آدمی کی فضیلت یہ ہے کہ اس کے اندر کچھ سیکھنے کی
صلاحیت ہے آدمی کے علوم سیکھنے کی صلاحیت درزی ، لوہار ، بڑھئی ، یہ بننے کی
صلاحیت موجود ہے اور آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حیوانات سے اس لئے وہ ممتاز ہے ۔ ممتاز
تو ہے لیکن اس بنا پر وہ حیوانات سے خارج نہیں ہوتا۔ انسان کہلانے کا مستحق وہ
نہیں ہے اس لئے کہ بہت ساری صلاحیتیں جانوروں میں ایسی ہیں جو آدمی میں نہیں
ہوتیں۔
مثال کے طور پر بلی اندھیرے میں دیکھ سکتی ہے ، آدمی اندھیرے میں نہیں
دیکھتا۔ کتّے جو آپ کے مجرموں کو پکڑتے ہیں ، وہ سونگھ کے بتا دیتے ہیں کہ یہ مجرم
ہے۔ چیونٹی ، اس کی ناک اتنی تیز ہوتی ہے کہ دور دراز کی چیز بھی سونگ لیتی ہے۔
آدمی گھر بناتا ہے۔ گھر چڑیا بھی بناتی ہے ، اپنی ضرورت کے مطابق ۔ ہم یہ کہہ سکتے
ہیں کہ آدمی کو حیوانات سے زیادہ عقل و شعور ہے لیکن عقل و شعور کی بنیاد پر آدمی
چرندوں سے ، پرندوں سے اور درندوں سے ممتاز نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ابھی دیکھیں ،
آدمی کیا کر رہے ہیں۔ ہر آدمی دوسرے آدمی کو مار رہا ہے۔ ہتھیار بن رہے ہیں۔ شیر
کو درندہ کہتے ہیں۔ شیر نے کبھی بندوق نہیں بنائی۔
حیوانِ ناطق جس کو آپ کہتے ہیں تو بولنے والے کتّے بھی ہیں۔ یہ آپ کہہ سکتے
ہیں کہ آدمی میں عقل و شعور زیادہ ہے۔ اب عقل و شعور زیادہ ہونے کی بھی وجوہات
ہیں۔ آدمی کی ساخت کو بھی سمجھنا ہے یعنی آدمی پڑھنا سیکھ لیتا ہے ، لکھنا سیکھ
لیتا ہے۔ اس کے ہاتھ کی ساخت ایسی ہے کہ وہ یہ سیکھ لیتا ہے۔ مرغی کیسے سیکھے گی
یا شیر بندوق کیسے بنائے گا؟ اس کی ساخت ہی ایسی نہیں ہے لیکن شیر کو شکار کرنے کے
لئے جتنی عقل و شعور کی ضرورت ہے ، وہ ایک آدمی کے اندر بھی موجود ہے۔
قرآن پاک میں سورتوں کے نام ہیں۔
سورۃ النمل ، سورۃ العنکبوت ، سورۃ البقرۃ ، سورۃ الفیل ، سورۃ الشمس ،
سورۃ القمر ، سورۃ النجم ۔ اس کا مطلب یہ کہ سورتوں کے نام اس بات کی نشاندہی کرتے
ہیں کہ یہ سب چیزیں باشعور ہیں۔ ان میں عقل بھی ہے ۔ ان میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی
تعمیل کی پوری پوری صلاحیت موجود ہے۔
انسان محض عقل کی بنیاد پر جانوروں سے اور کائنات میں دوسری مخلوقات سے
ممتاز نہیں ہو سکتا۔ کائنات میں اگر انسان ممتاز ہو سکتا ہے تو وہ یہ ہے۔۔ خالقِ
کائنات اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو بنانا اور آدم ؑ کو علم الاسماء سکھائے پھر
آدمؑ کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ فرشتوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ ہم نہیں
جانتے جو آپ نے آدم ؑ کو سکھا دیا ہے۔
فرشتوں نے عرض کیا کہ آدم زمین میں فساد برپا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے آدمؑ سے فرمایا کہ ہم نے تمہیں جو علم سکھایا ہے ، وہ تم
بیان کر دو ۔
”اور اللہ نے آدم کو علم الاسماء سکھائے۔“
(البقرۃ : ۳۱)
آدم ؑ نے ملائکہ کے سامنے وہ علوم بیان کئے۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ اگر تم بھی یہ علم جانتے ہو تو
بیان کرو۔
فرشتوں نے عرض کیا کہ نہیں ، ہم یہ علم نہیں جانتے۔ ہم تو اتنا ہی علم
جانتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سکھا دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان ، اللہ تعالیٰ کی اصل مخلوق ہے۔ ساری اصل مخلوق
ہیں لیکن آدمی اللہ تعالیٰ کی مشترک مخلوق ہے۔ جیسے کتّا ، بلّی ، شیر ، گدھا ،
بیل ، بھینس ، گائے ، ایسا آدمی بھی ہے ۔ آدمی کے بھی بچے ہوتے ہیں ، بلّی کے بھی
بچے ہوتے ہیں۔ بکری بھی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے ، ماں بھی اپنے بچے کو دودھ
پلاتی ہے۔ جانور بھی اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ماں بھی اپنے بچوں کی حفاظت
کرتی ہے۔ جانور بھی اپنے بچوں کی ضروریات کے مطابق انہیں علم سکھاتے ہیں کہ کس طرح
شکار کرنا ہے ، کس طرح پکڑنا ہے۔ یہ علم آدمی بھی سکھاتا ہے۔ جب تک آدمی عقل و
شعور کے مشترک دائرے میں رہے گا ، کتنی ہی ترقی کر لے ، وہ آدمی ہے ۔
آپ یہ نہ سمجھیں کہ آدمی زیادہ با عقل اور باشعور ہے ۔ آدمیوں میں سارے
باعقل اور باشعور تھوڑی ہوتے ہیں ۔ سارے تو سائنٹسٹ نہیں ہوتے۔ پاگل بھی ہوتے ہیں۔
ہوتے ہیں کہ نہیں ہوتے؟
یہ بات بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ ہر انسان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ
انسانیت الگ چیز ہے اور آدمیت الگ چیز ہے۔ آدمی حیوان ہے، جانور ہے ۔ اب ہم یہ کہہ
سکتے ہیں کہ ایسا جانور جو جانوروں سے بہت زیادہ عقل و شعور رکھتا ہے لیکن کئی جگہ
ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی عقل و شعور کچھ بھی نہ ہو۔ شہد کی مکھی ہے ۔ آدمی وہ گھر
بنا کر دکھائے۔ ایک پورا نظام ہے وہ۔ اگر مکھی غلط رس لے کر آجائے تو چوکیدار
مکھیاں اس کو مار دیتی ہیں۔
نظریہ رنگ و نور۔۔ یہ عنوان ہے ، جو کتاب آپ پڑھ رہے ہیں ، اس ساری کتاب
میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ انسان الگ چیز ہے ، آدمی الگ چیز ہے۔ اور نوعِ
آدم جو ہے ، وہ انسان بھی ہے اور اس کے اندر وہ صلاحیتیں بھی کام کرتی ہیں جو
حیوان میں کرتی ہیں۔
آدم ۔۔۔ ہم سارے آدم ہیں۔
آدم کی اولاد آدم ہوئی نا؟
ہم سارے آدم کی اولاد ہیں ۔ اگر ہمارے اندر آدمیت ہے تو ہم عالم فاضل نہیں
ہیں۔ جس قدر انسانیت آپ کے اندر ہے ، ارشاد ِ باری ہے ،
”انسان ہماری بہترین صنّاعی ہے لیکن وہ اسفل
سافلین میں پڑا ہوا ہے ۔“ (التین : ۴۔۵)
انسان احسنِ تقویم ہے۔ اسفل سافلین میں اس کو پھینک دیا ۔ وہ جب اسفل
سافلین میں ہے تو وہ آدمی ہے اور جب وہ اسفل سافلین سے نکل کر الٰہی علوم سیکھتا
ہے ، اللہ تعالیٰ کے اسماء کے علوم سیکھتا ہے تو وہ انسان ہے۔
آج کا جو سبق ہے، اس میں یہ پوائنٹ یاد کرنے کا ہے کہ اگر انسان علم
الاسماء نہ سیکھے،
اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہ ہو ،
اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کا عرفان نصیب نہ ہو ،
اگر انسان ، اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھے،
اللہ تعالیٰ سے باتیں نہ کرے،تو وہ کیا ہے۔؟ آدمی۔
اور یہ کہنا کہ آدمی حیوانِ ناطق ہے ، یہ بھی بہت بری بات ہے۔ یہ تو اپنی
شیخی ہے خواہ مخواہ کی۔ کیا جانور بولتے نہیں ہیں؟ سارے کام کرتے ہیں ۔ اب دیکھو
چمپینزی (بن مانس) کو ، مشینیں چلاتے ہیں۔ عقل ہے تو چلاتے ہیں نا؟
دو کیٹیگری ہو گئیں۔
ایک آدمی ۔۔۔ ایک انسان
یہ جو ہم کلاسیں لے رہے ہیں، ان کا مقصد یہ ہے کہ ہم کوشش کریں گے کہ آدمی
، آدمیت میں رہتے ہوئے اس انسان کو تلاش کرے جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے علم
الاسماء عطا کیا ہے۔۔