شعور کی قسمیں

شعور کی قسمیں

Nazariya Rango Noor | February 2026

 

پاک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے تخلیق کیا معین مقداروں سے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ معین مقداریں کیاہیں ۔؟ کس طرح معین مقداروں سے آدمی سے آدمی بن رہا ہے، بھینس سے بھینس بن رہی ہے ، درخت سے درخت بن رہا ہے ، پہاڑ سے پہاڑ بن رہے ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے جب فرما دیا کہ آسمان بھی شعور رکھتا ہے ، پہاڑ بھی شعور رکھتے ہیں تولا محالہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہاڑ پیدا ہوتے ہیں۔ پہاڑ پیدا نہ ہوں تو شعور زیرِ بحث نہیں آتا۔

شعور کا مطلب ہے کہ آدمی پیدا ہو ، بچپن گزارے ، لڑکپن گزارے ، شعور اس کے اندر ہو ، لاشعوری کیفیات شعور میں منتقل ہوں ۔ یہ مقداریں ہیں ۔ اب یہ کہ جتنی مخلوق ہیں ، وہ پیدا ہوتی ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے ۔

آدمی بھی ایک مخلوق ہے ، وہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

پہاڑ بھی ایک مخلوق ہے ، وہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

درخت بھی ایک مخلوق ہے ، وہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

چڑیا بھی ایک مخلوق ہے ، وہ بھی پیدا ہوتی ہے۔

بھینس بھی ایک مخلوق ہے، گائے بھی ایک مخلوق ہے ، اونٹ بھی ایک مخلوق ہے ، چیونٹی بھی ایک مخلوق ہے ، وائرس بھی ایک مخلوق ہے۔ نظامِ کائنات ایک ہے ۔ اس کی مقداریں معین ہیں لیکن فارمولا سب کا ایک ہی ہے۔

 مثلا نر اور مادہ ۔

ایک فارمولا اللہ نے بنا دیا۔

بکرے اور بکری سے بکری پیدا ہو جائے گی، عورت اور مرد سے آدمی پیدا ہوگا۔ اسی طرح درخت ہوتے ہیں ، ان کی جڑوں میں بھی نر اور مادہ ہوتی ہے۔ ان کی جڑیں ملتی ہیں آپس میں ، اسی وجہ سے درختوں میں پھل لگتا ہے۔

قانون ایک ہے ۔

فلن تجد لسنت اللہ تبدیلا

ولن تجد لسنت اللہ تحویلا

اللہ نے جو  نظامِ کائنات بنا دیا ہے ، اس میں نہ تعطل ہوتا ہے یعنی اس میں نہ رکاوٹ ہوتی ہے نہ وقفہ ہوتا ہے ، اس میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے اور نہ اس میں کوئی تعطل واقع ہوتا ہے ، بس چل رہا ہے ایک نظام ۔۔ اور نظام ایک ہے۔

دیکھئے ، یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی صنّاعی ہے کہ ایک ہی طریقِ کار سے اللہ تعالیٰ نے اتنی کائنات پھیلا دی ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہاں جتنی تخلیقات ہیں اللہ کی ، سب ایک قاعدے اور ضابطے کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں ، اس میں آدمی بھی شامل ہیں اور ایک ضابطے کے ساتھ ان میں عقل و شعور ہوتا ہے۔ مثلاً آپ نے بیج ڈالا زمین میں ۔ ہلکا سا اس میں سے پودا نکلا نرم سا۔ اس پودے کو آپ چٹکی مار دیں ، وہ ٹوٹ جائے  گا۔ تیز دھوپ لگ جائے ، وہ مر جائے گا۔ تیز بارش آجائے ، وہ خراب ہوجائے گا۔

یہی بات انسانی بچے کے ساتھ اگر پیش آجائے یعنی پیدائشی بچے کو ، اللہ سب کو محفوظ رکھے ، کیا ہوگا ؟ پیدائشی بچے کو لوُ لگ جائے ۔ پیدائشی بچے کو کوئی غلط چیز کھلادی جائے ۔ مثلاً دودھ کی بجائے اسے روٹی کھلا دیں۔

یہی صورت درختوں کی ہے کہ درخت زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی ڈائی بنا دی ہے کہ درخت کے بچے کو وہی غذا ، وہی پانی متواتر ملتا ہے جو درخت کی رگیں ، درخت کا معدہ اور درخت کا جسم برداشت کر سکے ۔ جب درخت لگاتے ہیں تو گرمی میں حفاظت کرتے ہیں لُو نہ لگے ۔ سردی میں حفاظت کرتے ہیں ، جاڑا نہ گرے۔ انسانی بچے میں بھی ایسی حفاظت ہوتی ہے کہ سردی نہ لگے ، گرمی نہ لگے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ

نظامِ کائنات ایک ہے۔

آدمی جسے کہتے ہیں ، آدمی میں ، بکری میں اور بیل یا کبوتر میں کوئی فرق نہیں ۔ آدمی ایک حیوان ہے۔ بالکل اس طرح جس طرح ایک بکرا ، ایک گائے ، ایک بیل ، ایک اونٹ ، ایک ہاتھی۔ پیدائش کا عمل ایک طرح کا ہے ، حمل کا طریقہ ایک طرح کا ہے۔ یہاں میل فی میل ملتے ہیں ، وہاں میل فی میل کی جڑیں آپس میں ملتی ہیں ۔ کچھ کا طریقِ کار یہ ہے کہ نر سے کوئی پھول خاص قسم کے ، اس کو بور (تولیدی ذرّہ) کہتے ہیں ، وہ اڑتا ہے اور اڑ کے جناب وہ فی میل درخت کے اندر جذب ہو جاتا ہے ۔۔ نتیجے میں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ نظامِ کائنات ایک ہے۔

اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا،

فلن تجد لسنت اللہ تبدیلا

ولن تجد لسنت اللہ تحویلا

اللہ نے جو نظام بنا دیا ، اس میں نہ تعطل واقع ہوتا ہے یعنی سسپینڈ نہیں ہوتا ، وہ نظام اور اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

کروڑوں اربوں سال سے دنیا بنی ہوئی ہے آدمیوں کے بھی بچے پیدا ہو رہے ہیں ، بکری کے بھی بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے؟ کروڑوں سال میں کیا تبدیلی ہوئی ؟ کچھ بھی نہیں ہوئی۔ ہرن کے یہاں بکری کبھی پیدا نہیں ہوتی ، بکرے کے یہاں دنبہ کبھی پیدا نہیں ہوتا ، دنبے کے یہاں کبھی بکری نہیں پیدا ہوتی ، کبوتر کے یہاں کبھی طوطا نہیں ہوتا، طوطے کے یہاں کبھی چڑیا نہیں ہوتی ، چڑیا کے یہاں کبھی مور نہیں ہوتا ۔ اسی طرح آدمی کے یہاں آدمی ہوتا ہے۔ اربوں کھربوں سال ہو گئے ، کبھی یہ نہیں ہوا کہ آدمی سے کُتّا ، بلّی یا چوہا پوا ہو ۔ آدمی پیدا ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب کیا ہوا؟ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بنا دیا ، ایک نظام بنا دیا اور اس نظام کے تحت یہ ساری کائنات چل رہی ہے۔

ایک یہ بات ہوگئی کہ ہر مخلوق کی پیدائش ایک طرح ہو رہی ہے ۔ اب آپ کہیں گے کہ نہیں جی ، ایک طرح کہاں ہو رہی ہے ؟ مرغی اندوں سے پیدا ہوتی ہے ، کبوتر انڈے سے پیدا ہوتا ہے ، بکری انڈوں سے پیدا نہیں ہوتی یا انسان تو انڈوں سے پیدا نہیں ہوتا؟

فی میل ہے ، اس کے اندر انڈے بنتے ہیں۔ کیوں جی ؟ کیا کہتی ہے تمہاری سائنس ؟ لیکن انسان حیوان جو بھی ہیں ، جب تخلیقی فارمولے پر غور کیا جائے گا تو وہ سب ایک ہیں۔

الذی خلق فسویٰ و الذی قدر فہدیٰ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ معین مقداروں کے ساتھ یہ کائناتی نظام چل رہا ہے تخلیقی ، اور ان معین نظاموں کے تحت آدمی بن جاتا ہے ، درخت بن جاتا ہے ، چڑیا بن جاتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ تخلیقی عوامل ایک سے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ جتنی بھی تخلیق ہے اللہ تعالیٰ کی ، کوئی بھی تخلیق ہو ، و باشعور ہے۔ اگر وہ باشعور ہے تو اس کے اندر حواس ہیں ۔ حواس نہ ہوں تو شعور بے معنی ہے ، شعور نہ ہو تو حواس بے معنی ہیں۔ شعور کا مطلب یہی ہے کہ آدمی کے اندر ایسے حواس کام کر رہے ہیں جن سے وہ خود کو پہچانتا ہے ، اپنے علاوہ اللہ کی دوسری مخلوق کو پہچانتا ہے ، ہوا کو پہچانتا ہے ، بادلوں کو پہچانتا ہے ، پانی کو پہچانتا ہے، بارش کو پہچانتا ہے ، آکسیجن کو ، 60 سے زیادہ گیسز ہیں، ان کو پہچانتا ہے۔ کتنی گیسز ہیں؟ گیسز کی تعداد پتہ ہے؟ ساٹھ سے زیادہ ہیں ۔ ہمیں جو بتایا گیا ہے ، آپ ذرا معلوم کیجئے گا کتنی گیسز ہیں۔

مطلب  یہ ہوا کہ کائنات ایک مکمل اور مربوط نظام ہے۔ ہر چیز ایک طرح ہو رہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اسی نظام کے تحت چیونٹی پیدا ہو رہی ہے ، اسی نظام کے تحت وائرس پیدا ہو رہا ہے ، اسی نظام کے تحت بیکٹیریا پیدا ہو رہا ہے ، اسی نظام کے تحت ہاتھی پیدا ہو رہا ہے۔

یہ بھی ہے کہ مخلوق کا مطلب ہے ، وہ دیکھتی ہو ۔ مخلوق کا مطلب ہے ، وہ سنتی ہو۔ مخلوق کا مطلب ہے ، وہ بولتی ہو۔ مخلوق کا مطلب ہے ، وہ کھاتی ہو ، مخلوق کا مطلب ہے ، اسے جان کی حفاظت آتی ہو۔ اب چھوٹی سے چھوٹی چیونٹی ، ایک پھونک مارو تو بیس پچیس اڑ جائیں گی ، وہ پانی سے بچتی ہے۔ کون بچاتا ہے اسے ؟ کیوں بچتی ہے وہ؟ اسے شعور ہے کہ اگر میں پانی میں چلی گئی تو مر جاؤں گی۔

شعور کی بات ۔۔ ایک شیر ہے ۔ اسے اس بات کا شعور ہے کہ مجھے گھاس نہیں کھانا۔ شیر گھاس نہیں کھاتا۔ بکری کو اس بات کا شعور ہے ، وہ گوشت نہیں کھاتی۔اسی طرح پرندے ہیں ، ان کو اس بات کا شعور ہے ، وہ دانہ چگتے ہیں ۔ کبھی کسی پرندے کو آپ نے نہیں دیکھا ہو گا کہ وہ گوشت کھا رہا ہو۔ کبھی شیر کو نہیں دیکھا ہوگا کہ وہ گھاس کھا رہا ہو۔ بکری ، بھیڑ ان کو یہ نہیں دیکھا ہو گا آپ نے کہ گوشت کھا رہے ہوں ۔ مطلب یہ ہے کہ مقداریں ہیں۔

سبح اسم ربک الاعلی

الذی خلق فسویٰ و الذی قدر فہدیٰ

معین مقداروں کے ساتھ ساری تخلیق ہوئی ہے ۔ ایک طرف معین مقداروں کے ساتھ تخلیق ہوئی ہے اور دوسری طرف اس میں ایک ہی فارمولا کام کر رہا ہے۔ اللہ کے تخلیقی معاملات میں ، اللہ کے شعار میں نہ ردّو بدل ہوتا اور نہ وہ سسپینڈ ہوتے ہیں۔

سارا نظام ایک ہے ۔ کائنات میں تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار مخلوق ہیں ۔ نوعی مخلوق ۔ ان کی جو اقسام ہیں ، وہ الگ ہیں۔ ساڑھے گیارہ ہزار مخلوق شعور رکھتی ہیں کہ ہم ہیں۔ انہیں شعور ہے کہ میں چیونٹی ہوں ۔ بلی جانتی ہے میں بلّی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بلّی کتّوں میں نہیں بیٹھتی ، کتّا بلیوں میں نہیں بیٹھتا۔ کوّے جا کر کبوتروں میں نہیں بیٹھتے۔ کبوتر کوّوں میں نہیں بیٹھتے یعنی یہ بھی شعور ہے ۔ ہر مخلوق کو اپنے مخلوق ہونے کا شعور ہے ۔ آدمی ہے ، اس کا اپنا شعور ہے۔

کائنات جو اللہ تعالیٰ نے کُن فرما کر تخلیق کی ، کُن میں اللہ تعالیٰ  کے ذہن میں پوری مبادیات ، پوری جزویات ، پورے فارمولے ہیں ہر مخلوق کے لیے ۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں اور کائنات میں ، کائنات سے مراد دنیا میں آسمانو ں میں، زمین میں جہاں بھی۔۔ مخلوق باشعور اور باحواس ہے۔ آدمی بھی باشعور اور باحواس ہے ۔ آدمی اور حیوان میں کوئی فرق نہیں ۔ چیونٹی میں بھی شعور ہے ، آدمی میں بھی شعور ہے۔ کیا فرق ہوا؟

اب ایک نئی جو بات سننے اور سمجھنے کی ہے کہ ہر مخلوق باشعور اور باحواس ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر شعور کی قسمیں رکھی ہیں یعنی ہر مخلوق میں ایک خدا داد صلاحیت مخصوص ہے۔ جیسے شیر ، اس کی ایک سلحیت ہے۔ چڑیا ہے ، اس کی اپنی ایک صلاحیت ہے۔ ہدہد ہے، اس کی اپنی ایک صلاحیت ہے ، چیونٹی ہے ، اس کی اپنی ایک صلاحیت ہے۔

یوں کہیں گے کہ دو صلاحیتیں نوعی اعتبار سے ہیں ۔ نوع الگ الگ۔ اور ایک صلاحیت اجتماعی نوعی صلاحیت ہے۔ مثلاً چڑیا کو بھی پیاس لگتی ہے ، مرغی کو بھی پیاس لگتی ہے ، بکری کو بھی پیاس لگتی ہے ، اونٹ کو بھی پیاس لگتی ، ہاتھی کو بھی پیاس لگتی ہے ، ہر چیز کو پانی پینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بھوک سب کو لگتی ہے۔ گرمی سردی کا احساس سب کو ہوتا ہے ۔ بچے پالنے کی صلاحیت سب کے اندر ہے ۔ یہ ایک مشترک صلاحیت ہوئی۔ پوری نوعِ انسانی اور ساری کائنات میں جتنی مخلوق ہیں ، سب کی ایک مشترک صلاحیت ہوئی۔ یہی وہ مشترک جس کی بنیاد پر ہر مخلوق دوسری مخلوق کو پہچانتی ہے اور اجنبی پن محسوس نہیں ہوتا ۔ مثلاً ہم کبوتر کو دیکھتے ہیں تو کبوتر ہمیں کبھی اجنبی محسوس نہیں ہوتا۔ ہاتھی کو دیکھتے ہیں ، ہم سے بہت بڑا ہوتا ہے ، اجنبیت محسوس نہیں ہوتی ۔ کیوں اجنبیت محسوس نہیں ہوتی؟ مشترک صلاحیت ہے ۔ تخلیقی فارمولا ایک ہے سب کا۔ تخلیقی فارمولوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہے ۔ طریقِ کار تھوڑا مختلف لیکن تخلیقی صلاحیت اپنی جگہ ہے۔ وہ قائم ہے۔

ہر آدمی اور زمین پر موجود ہر مخلوق اس میں دو پیروں سے چلنے والا ، کبوتر دو پیروں سے چلتا ہے لیکن اس کے دو پَر ہوتے ہیں۔ پرندے کا مطلب ہے اڑنے والا۔ آدمی کا مطلب ہے کہ آدمی چلنے والا ۔ چلنے والے کا آدم کے اگر ہاتھ نہ ہوں تو وہ گر جائے گا۔

طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی آدمی کے ہاتھ باندھ دیں یوں ، اور اسے چلائیں ، گر جائے گا ، نہیں چلے گا ۔ ہاتھ اس کے کھلے ہوں تو ہاتھ چلتا ہے ۔ ایک ہاتھ چلتا ہے ، ایک ٹانگ چلتی ہے۔

اسی طرح جب پرندے اڑتے ، ان کے پنجے چپّو کی طرح۔۔ آپ کبھی دیکھئے گا پرندے کو اڑتے ہوئے ، وہ مڑتے ہیں تو باقاعدہ پنجے یوں ہوتے ہیں۔ اب ہم یہ کہیں گے کپ پرندوں کا پَ جو ہے ، وہ ہاتھوں کے قائم مقام ہے۔

نظامِ کائنات میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہے۔ اللہ  نے جو تخلیقی نظام قائم کر دیا ، وہ کر دیا، اس میں نہ تبدیلی ہے اور نہ اس میں تعطل۔ اب ہاتھی ہے ، کروڑوں سال دنیا کو ہو گئے ، ہاتھی کی اولاد ہاتھی ہوتی ہے۔ کبوتر ہے ، کبوتر کی اولاد کبوتر ہوگی ۔ کیوں بھئی؟ یا کبوتر کے کبھی مرغی ہوئی ہو یا مرغی کے کبھی مور ہوا ہو یا مور کے اندر کبھی فاختہ پیدا ہوئی ہو؟ اسی آدمی کے اندر کبھی گدھا پیدا ہوا ہو؟

نہیں ہوتا ایسے۔

یہ ساری چیزیں معین مقداریں ہیں اور معین مقداروں کے ساتھ یہ ساری کائنات قائم ہے۔

کیوں قائم ہے؟ کس طرح قائم ہے؟

صلاحیتیں مختلف ہیں ۔ وہ بھی صلاحیتیں مختلف ہمیں نظر آتی ہیں۔ ہیں نہیں۔

آدمی کھانا کھا کے زندہ رہتا ہے ، پانی پی کے زندہ رہتا ہے ۔ بکری بھی کھانا کھا کے ، پانی پی کے زندہ رہتی ہے ۔ آدمی کو گرمی سردی لگتی ہے ، بکری کو بھی گرمی سردی لگتی ہے۔ آدمی بھی اپنے بچے پالتا ہے ، دودھ پلاتا ہے ، بکری بھی اپنے بچے پالتی ہے ، دودھ پلاتی ہے ۔ معین مقداریں الگ الگ ہیں لیکن طریقِ کار سب کا مشترک ہے۔۔


More in Nazariya Rango Noor