Topics
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایک وقت ایسا آیا جب تلاش حق میں ان پر گہرے
تفکر کا غلبہ ہو گیا۔ خالق حقیقی کی معرفت حاصل کرنے میں ان کا ذہن مظاہر کی طرف
منتقل ہوا اور یہ بات مسلسل نقطہ فکر بنی رہی کہ رب کون ہے اور کہاں ہے۔۔
پیہم فکر نے بالآخر آپ پر عرفان کی راہیں کھول دیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی
طرف سے نور ہدایت حاصل ہو گیا۔ قرآن پاک نے حضرت ابراہیم ؑ کے تفکر کو اس طرح بیان
کیا ہے۔
’’اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کا
مشاہدہ کرایا تا کہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔ پھر جب رات کی
تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا۔ آپ نے فرمایا یہ میرا رب ہے۔
سو جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں
رکھتا۔ پھر جب چاند کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا۔یہ میرا رب ہے۔ سو جب وہ بھی
غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ
لوگوں میں شامل ہو جاؤں۔ پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا یہ میرا رب
ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔ سو جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا۔’’اے قوم! بے شک
تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں۔ جس نے آسمانوں اور زمین
کو پیدا کیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں نہیں ہوں۔‘‘ (سورۃ انعام)