Topics
قرآن پاک کے ارشادات اور دین کی تعلیمات میں ذکر کو بہت بڑا مقام حاصل
ہے۔ قرآن و حدیث میں تواتر کے ساتھ ذکر کرنے کی تلقین موجود ہے۔ صلوٰۃ کو بھی ذکر
کہا گیا ہے اور صلوٰۃ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ اسے ذکر الٰہی کے لئے قائم کیا
جائے۔ذکر کے لغوی معنی یاد کرنے کے ہیں۔ تذکرہ کرنے کو بھی ذکر کہتے ہیں۔ اس لیے
کہ تذکرہ کرنا کسی کو یاد کرنے کا اظہار ہے۔ آدمی جب کسی کا نام لیتا ہے، اس کی
صفت بیان کرتا ہے تو یہ عمل اس کا ذہنی تعلق مذکور کے ساتھ قائم کرتا ہے۔ یاد کرنا
اور زبان سے تذکرہ کرنا ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ عام زندگی میں اس کی مثالیں مل
سکتی ہیں۔ اگر ایک شخص کسی سے قلبی لگاؤ رکھتا ہے تو اس کا اظہار اس طرح ہوتا ہے
کہ وہ نہ صرف زبان سے تذکرہ کرتا ہے بلکہ دل پر بھی اسی کا خیال غالب رہتا ہے۔
دین کی تعلیمات کا مدار اللہ کی ذات ہے۔ اور دین کا مدعا یہ ہے کہ آدمی
کا قلبی رشتہ اللہ کی ذات اقدس سے قائم ہو جائے اور یہ رشتہ اتنا مستحکم ہو جائے
کہ قلب اللہ کی تجلی کا دیدار کر لے۔ چنانچہ اس بات کے لئے تمام اعمال و افعال
چاہے وہ جسمانی ہوں یا فکری ، اللہ کی ذات سے منسلک کیا گیا ہے تا کہ شعوری اور
غیر شعوری طور پر اللہ کا خیال ذہن کا احاطہ کر لے۔اس کیفیت کو حاصل کرنے میں ذکر
کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ذکر کا مقصد یہی ہے کہ بار بار اللہ کے نام کو دہرانے سے
ذہن پر اللہ نقش ہو جائے۔ذکر کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ اللہ کے کسی اسم یا صفت کو
زبان سے بار بار دہرایا جائے۔ جب تک کوئی شخص اس عمل میں مشغول رہتا ہے اس کا ذہن
بھی کم و بیش اسی خیال پر قائم رہتا ہے۔ اگرچہ وقتی طور پر ذہن ذکر سے ہٹ بھی جاتا
ہے لیکن ذکر کی میکانکی حرکت غیر شعوری ارادے کو ذکر سے ہٹنے نہیں دیتی۔ اس مرتبے
کو اہل روحانیت نے ذکر لسانی کہا ہے یعنی اللہ کے کسی اسم کو زبان سے دہراتے ہوئے
خیال کو ذکر پر قائم رکھنا۔کسی اسم کو مسلسل دہرانے سے ایک ہی خیال ذہن پر نقش ہو
جاتا ہے۔ شعوری ارتکاز بڑھنے لگتا ہے اور ذہن کو ایک خیال پر قائم رہنے کی مشق ہو
جاتی ہے جب ایسا ہوتا ہے تو ذاکر زبان سے الفاظ ادا کرنے میں بار محسوس کرتا ہے
اور عالم خیال میں الفاظ ادا کرنے میں اسے سرور حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ ذکر لسانی
سے ہٹ کر ذکر خفی کرنے لگتا ہے۔ اس درجے کو ذکر قلبی کہا جاتا ہے۔
پھر ایک موقع ایسا آتا ہے کہ آدمی خفی طور پر اسم کو دہرانے میں بھی ثقل
محسوس کرتا ہے بلکہ اسم کا خیال اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ عالم تصور میں پوری
وجدانی کیفیت کے ساتھ اسم کے خیال میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کیفیت کو ذکر روحی کہتے ہیں
اور ذکر روحی کا دوسرا نام مراقبہ ہے۔ مراقبہ یہ ہے کہ اللہ کا خیال اس طرح قائم
ہو جائے کہ توجہ اللہ کی طرف سے نہ ہٹے۔مزید وضاحت کے لئے ایک بار پھر اجمالاً ذکر
کو بیان کیا جاتا ہے اگر ایک شخص اسم قدیر کا ذکر کرتا ہے تو پہلے مرحلے میں زبان
سے اسم قدیر پڑھتا ہے۔ دوسرے درجے میں اسم قدیر کو عالم خیال میں خفی طور پر ادا
کرتا ہے لیکن زبان سے لفظ ادا نہیں کرتا۔ تیسرے مرتبے میں اسے ذہنی طور پر بھی اسم
کو دہرانے کی حاجت محسوس نہیں ہوتی بلکہ اسم قدیر بصور ت خیال و تصور اس کے ذہن پر
محیط ہو جاتا ہے۔ ذکر کا یہ مرتبہ یا طریقہ جس میں کوئی شخص اسم کے معانی کا تصور
قائم رکھتا ہے، مراقبہ کہلاتا ہے۔ ذکر کے تمام طریقوں کا مقصد ذاکر کے اندر اتنی
صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ اس کی توجہ کسی اسم کے اندر جذب ہو جائے۔پہلے پہل ذاکر
مراقبہ میں خیال کو قائم کرتا ہے لیکن مسلسل توجہ سے یہ خیال اس کے تمام ذہنی و
جسمانی افعال کے ساتھ اس کے شعور پر غالب آ جاتا ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ مسلسل ربط
حاصل کر لیتا ہے اور کوئی وقت ایسا نہیں گزرتا جب مراقبہ کی کیفیت اس پر طاری نہ ہو۔
جب مراقبہ کی یہ کیفیت شعور کا حصہ بن جاتی ہے تو ذاکر کی روح عالم ملکوت کی طرف
صعود کرتی ہے اور وہ کشف و الہام سے سرفراز ہوتا ہے۔
دنیا میں رائج وسیع مذاہب چار ہیں۔ عیسائیت، بدھ مت، اسلام اور ہندو مت۔
ان تمام مذاہب کی تعلیمات یا ان کے بانیوں کی زندگیوں میں مراقبہ کو نمایاں مقام
حاصل ہے۔ عیسائیت کے ضمن میں حضرت عیسیٰ ؑ کے مراقبے کا تذکرہ کیا جا چکا ہے۔ حضرت
عیسیٰ ؑ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ:
’’خدا کی بادشاہت تمہارے اندر ہے، اسے اپنے اندر تلاش کرو۔‘‘
حضرت موسیٰ ؑ نے چالیس رات کوہ طور پر غور و فکر (مراقبہ) کیا۔
اسلام اور حضرت محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات طیبہ میں
غار حرا کے مراقبہ کو ہم بیان کر چکے ہیں۔
بھگوت گیتا اہل ہند کی مقدس کتاب ہے۔ گیتا میں شری کرشن جی اور راجہ ارجن
کے وہ مکالمات درج ہیں جو مہا بھارت کی جنگ سے قبل ارجن نے کرشن جی سے کئے۔ اور شری
کرشن جی نے بھگوت گیتا کے مطابق ان کے جوابات دیئے۔
راجہ ارجن نے کرشن جی سے پوچھا۔’’آپ ذہن پر قابو(مراقبہ) حاصل کرنے کی
بات کرتے ہیں، آپ خود کو پہچاننے کی بات کرتے ہیں، لیکن میں اپنے ذہن کو بے حد
منتشر پاتا ہوں۔‘‘
سری کرشن جی نے فرمایا۔۔۔
’’جو تم کہہ رہے ہو، صحیح ہے۔ لیکن مناسب ذرائع اختیار کر کے، استغناء کا
عمل اپنا کر اور مسلسل مراقبہ کے ذریعے منتشر ذہن یکسو کیا جا سکتا ہے۔‘‘
یوگا ہندومت سے ماخوذ ہے۔ دو ہزار تین سو سال پہلے ’’پتا نجلی مہارشی‘‘
نے اپنی کتاب ’’یوگاسوترا‘‘ میں یوگا کا فلسفہ پیش کیا تھا۔ یوگا کی مشقوں میں
جسمانی صحت کیلئے ورزشیں اور روحانی صلاحیتوں کو متحرک کرنے کے لئے ’’مراقبہ‘‘ کے
بارے میں تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔
یوگا سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ’’ملنا‘‘ یا ’’ملاپ‘‘ ہے۔
آسن کے معنی ’’بیٹھنا‘‘ ہیں۔
یوگا سوترا سے مراد ورزش ہے۔
یوگا کے آسنوں کی تعداد 84ہے۔ یوگا کے اکثر آسن جانوروں کی حرکات کو دیکھ
کر متعین کئے گئے ہیں۔
یوگا ورزشیں جسم میں جسمانی بیماریوں کے خلاف دفاغ کی قوت میں اضافہ کرتی
ہیں اور روح میں بالیدگی کا سبب بنتی ہیں۔
مہاتما بدھ کی زندگی میں بھی مراقبہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ مہاتما بدھ
جب اپنی سلطنت کو خیر باد کہہ کر معرفت اور حقیقت کی تلاش میں نکلے تو آپ نے چھ
سال تک سخت ریاضتیں کیں اور بالآخر ’’گیا‘‘ کے مقام پر ایک گھنے درخت کے نیچے
مراقبے میں بیٹھ گئے۔ بدھا صاحب مسلسل چالیس دن تلاش حق میں مراقب رہے۔ شیطانی قوتوں
نے طرح طرح کے روپ میں ظاہر ہو کر خلل اندازی کی لیکن آپ ثابت قدم رہے۔ روایت کے
مطابق انتالیسیویں رات آپ کو گیان مل گیا۔ اور معرفت کی روشنی ظاہر ہو گئی۔ مہاتما
بدھ کی تعلیمات میں جو آٹھ بنیادی نکات بیان کئے جاتے ہیں ان میں آٹھواں نکتہ فکر
کی پاکیزگی اور مراقبہ ہے۔