Topics

ہاتفِ غیبی

 

 

کائنات ایک اجتماعی فہم رکھتی ہے۔ ہر ذرے، ستارے، سیارے، چرند پرند، حیوان، انسان، جنات اور فرشتے، سب کو زندگی کی تحریکات ایک ایسے شعور سے ملتی ہیں جو اپنے اندر کائنات کی معلومات کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔ دور جدید کی زبان میں اس کی مثال ایک ایسے کمپیوٹر کی ہے جس میں کائنات کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

مراقبہ کے ذریعے اس شعور سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس شعور سے رابطے کا ایک ذریعہ آواز ہے۔ اس آواز کو اصطلاحاً ہاتف غیبی کہتے ہیں۔ جس کے معنی ’’غیب کا پکارنے والا‘‘ ہیں۔ یہ آواز کائنات میں ہر وقت دور کرتی رہتی ہے اور کوئی شخص جس کا ذہن مرکزیت قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آلائش سے پاک ہے، متوجہ ہو کر اسے سن سکتا ہے۔ سوال کرے تو جواب پا سکتا ہے۔

کائنات میں سب سے پہلے آواز کا ظہور ہوتا ہے۔ انسانی حواس میں سب سے پہلے سماعت کا مظاہرہ ہوتا ہے، سماعت حرکت میں آتی ہے تو سماعت کے ساتھ ہی بصارت کا ایک نقطہ ٹھہراؤ قرار پاتا ہے اور کوئی شخص آواز میں موجود علم کو دیکھتا ہے۔ اس کے بعد شامہ اور لامسہ کی حسین ترتیب پاتی ہیں۔ اس مرحلہ پر دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔ گویا انسان جو کچھ دیکھتا اور محسوس کرتا ہے وہ آواز کی توسیعی شکلیں اور اضافی تشریحات ہیں۔قرآن پاک کے مصداق سب سے پہلے ’’کن‘‘ کی صدا بلند ہوئی اور کائنات پوری تفصیلات کے ساتھ ظہور میں آ گئی۔ لیکن مخلوق کو اس وقت تک حواس حاصل نہیں ہوئے تھے۔ خالق نے مخلوق کو مخاطب کیا اور کہا۔

’’کیا نہیں ہوں میں رب تمہارا؟‘‘

اس آواز نے مخلوق کو نگاہ عطا کی اور بصارت کی قوت عمل میں آ گئی۔ بصارت کے ساتھ ہی دوسرے حواس متحرک ہو گئے اور مخلوق نے دیکھ اور سمجھ کر اقرار کیا کہ بے شک آپ ہی ہمارے پیدا کرنے والے ہیں۔تمام مذاہب آواز کو اولیت دیتے ہیں۔ انجیل میں درج ہے کہ:

’’خدا نے کہا، روشنی ہو جائے اور روشنی ہو گئی۔‘‘

ہندو مذہب میں ’’اوم‘‘ کی آواز کو سب سے مقدس خیال کیا جاتا ہے۔ ہندو فقراء کہتے ہیں کہ آکاش اور دھرتی اور اس کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب اوم کی بازگشت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کائنات میں ایک آواز مسلسل دور کر رہی ہے۔ اس آواز کا نام وہ ’’آکاش وانی‘‘ یعنی آسمانی صدا رکھتے ہیں۔ صوفیاء بھی ایک غیبی آواز کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جو ’’صوت سرمدی‘‘ یعنی خدائی آواز کہلاتی ہے۔ اسی آواز سے اولیاء اللہ پر الہام ہوتا ہے۔ہاتف غیبی سننے کا طریقہ یہ ہے:

* مراقبہ کی نشست میں بیٹھ کر دونوں کانوں کے سوراخ کو روئی کے پھوئے سے بند کر دیا جائے۔

* اب اپنے باطن کی طرف متوجہ ہو کر ایک ایسی آواز کا تصور کیا جائے جو مندرجہ ذیل کسی آواز سے مشابہت رکھتی ہو۔

1۔ میٹھی اور سریلی گھنٹیوں کی آواز

2۔ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ

3۔ پانی کے جھرنے کی آواز یعنی وہ آواز جو پانی کی سطح پر پانی کے گرنے یا پتھروں پر پانی کے گرنے سے پیدا ہوتی  ہے۔

4۔ بانسری کی آواز : صاحب مراقبہ جب مسلسل اس آواز پر دھیان مرکوز رکھتا ہے تو کان میں آواز آنے لگتی ہے۔ آواز مختلف انداز اور طرزوں میں سنائی دیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ آواز میں الفاظ اور جملے بھی سنائی دیتے ہیں۔ آواز کے ذریعے صاحب مراقبہ پر اسرار و رموز منکشف ہوتے ہیں۔

غیبی واقعات کا کشف اور عالم بالا سے رابطہ قائم ہو جاتا ہے۔ جب صاحب مراقبہ مشق میں مہارت حاصل کر لیتا ہے تو غیبی آواز سے گفتگو کی نوبت آ جاتی ہے اور وہ آواز سے سوال جواب بھی کرتا ہے۔ ہاتف غیبی سے سوال کا طریقہ یہ ہے:

جب کوئی شخص اس قابل ہو جاتا ہے کہ ہاتف غیبی کو سن سکے تو از خود سوال کرنے اور جواب حاصل کرنے کی صلاحیت بھی اس کے اندربیدار ہو جاتی ہے۔ تاہم عملی طور پر اس کا طریقہ یہ ہے:

* جو بات پوچھنی ہو اس کو ذہن میں ایک دو بار دہرائیں۔

* پھر مراقبہ کی حالت میں بیٹھ کر ہاتف غیبی کی طرف توجہ کریں اور مسلسل دھیان قائم رکھیں۔

* اس وقت سوال کو ذہن میں نہ لائیں صرف توجہ ہاتف غیبی کی طرف مرکوز رکھیں۔

* ذہنی یکسوئی اور دماغی طاقت کی مناسبت سے جلد ہی آواز کے ذریعہ جواب ذہن میں آ جاتا ہے۔

تفہیم:

اللہ تعالیٰ کے اسم علیم کو ایک خصوصیت حاصل ہے۔ علیم کے معنی ہیں علم رکھنے والا۔ علیم کی نسبت سے انسان کو تمام علوم منتقل ہوتے ہیں۔ علوم کی بساط اسمائے الٰہیہ کا علم ہے۔ کسی اسم کا سب سے پہلا مظاہرہ تجلی کہلاتا ہے۔ تجلی ایک نقش ہے۔ جو اپنے اندر مکمل معنویت کے ساتھ ساتھ خدوخال اور حرکت رکھتی ہے۔ تمام اسماء یا صفات کی تجلیاں انسان کی روح کے اندر نقش ہیں۔ یہ نقوش ایک طرح کا ریکارڈ ہے۔ کسی مائیکروفلم کی مانند انسان کی روح میں اسماء کے تمام نقوش موجود ہیں۔

اگر انسان اسم علیم کی نسبت کو بیدار کر لے تو وہ تمام اسماء کی تجلیات کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ یہ نسبت ایک یادداشت ہے۔ اگر کوئی شخص مراقبہ کے ذریعے اس یادداشت کو پڑھنے کی کوشش کرے تو ادراک، درود یا شہود میں پڑھ سکتا ہے۔

انبیاء اور اولیاء نے اس یادداشت کو جس طرز میں پڑھا ہے۔ اس کو ’’طرز تفہیم‘‘ کہتے ہیں۔ طرز تفہیم کو سیر اور فتح بھی کہا جاتا ہے۔ تفہیم کے معانی ہیں کسی چیز کی فہم بیدار کرنا یا فہم حاصل کرنا۔ چنانچہ تفہیم کے مراقبے سے اسمائے صفات کا علم اور وہ فارمولے منکشف ہوتے ہیں۔ جن سے کائنات وجود میں آئی ہے۔

تفہیم کا مراقبہ نصف شب گزرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ انسان خالی الذہن ہو کر اسم علیم کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اسے اللہ کے اسم علیم کی نسبت حاصل ہے۔

تفہیم کے پروگرام میں مراقبہ کے ساتھ ساتھ بیداری کا وقفہ بڑھانا لازمی ہے۔ طرز تفہیم میں دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں ایک گھنٹہ، دو گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ ڈھائی گھنٹے سونے کی اجازت ہے۔ مسلسل بیدار رہنے سے اسم علیم اپنی پوری توانائی سے متحرک ہو جاتا ہے۔ مراقبے میں اول اول آنکھیں بند کر کے مشاہدہ ہوتا ہے اور پھر آنکھیں کھول کر بھی نگاہ کام کرتی ہے۔ جب بند آنکھوں کے سامنے نقش و نگار آتے ہیں تو اس حالت کو ورود کہا جاتا ہے اور جب کھلی آنکھوں سے مشاہدہ ہوتا ہے تو اس کو شہود کہتے ہیں۔

روحانی سیر:

مسلسل مراقبہ اور استاد کی توجہ و نگرانی کے نتیجے میں شاگرد کے اندر روشنی کا ذخیرہ ہو جاتا ہے اور شعور کا آئینہ صاف ہو جاتا ہے۔ اس وقت شاگرد کی روحانی سیر شروع ہو جاتی ہے۔ اس سیر کے دو مراتب و مدارج ہیں۔ پہلے مرتبے میں آدمی تمام مشاہدات و انکشافات کو اس شعور کے ساتھ دیکھتا ہے کہ وہ بعد (دوری) میں واقع ہیں۔ یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے اور عرش پر تجلی صفات کی نعمت سے سرفراز ہوتا ہے۔  اس طرز مشاہدہ کو سیر آفاق کہتے ہیں۔

جب سیر آفاقی پوری ہو جاتی ہے اور طالب علم پر اللہ کا فضل و کرم ہوتا ہے۔ تو سیر انفس شروع ہوتی ہے۔ اس درجے میں واردات و مشاہدات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں کوئی شخص تمام عالم کو اپنے نقطہ ذات کا حصہ دیکھتا ہے اور موجودات ذات کے اندر نظر آتی ہیں۔ اہل اللہ اس طرز ادراک کو سیر انفس کہتے ہیں۔ سیر انفس کی انتہا پر عارف باللہ، اللہ کو تجلی کی صورت میں ورائے عرش دیکھتا ہے۔ قرآن پاک کی ان دو آیات میں سیر انفس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

1۔ ’’وہ تمہارے نفسوں میں ہے، کیا تم دیکھتے نہیں۔‘‘

2۔ ’’ہم بہت جلد دکھائیں گے اپنی نشانیاں آفاق اور انفس میں ، یہاں تک کہ کھل جائے گا ان پر حق۔‘‘

(پارہ 25آیت نمبر 1)

جب کوئی شخص اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کی باطنی نظر متحرک ہو جائے تو اس سے یہ مراقبہ کرایا جاتا ہے کہ تمام عالم ایک آئینہ ہے جس پر انوار الٰہی کا عکس پڑ رہا ہے۔ اس تصور کے ذریعے سیر آفاقی شروع ہو جاتی ہے۔ اگلے مرحلے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ صاحب مراقبہ خود ایک آئینہ ہے۔ جس میں انوار و صفات الٰہی کا عکس پڑ رہا ہے۔ یہ تصور سیر انفس کی ابتداء کرتا ہے۔ اس سیر کی انتہا پر اپنے اندر موجود آئینے کی بھی نفی کر دی جاتی ہے۔ تا کہ ذات باری تعالیٰ کا ادراک کمال کو پہنچ جائے۔

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ طالب علم پہلے یہ تصور کرتا ہے کہ اس کا قلب عرش سے ایک نسبت و تعلق رکھتا ہے چنانچہ صاحب مراقبہ عروج کرتا ہوا عرش تک پہنچ جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں وہ مراقبہ میں اور چلتے پھرتے ان آیات قرآنی کا تصور اپنے اوپر محیط کر دیتا ہے کہ:

1۔ ’’وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔‘‘

2۔ ’’وہ تمہاری رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔‘‘

3۔ وہ تمہارے نفسوں کے اندر ہے، کیا تم نہیں دیکھتے۔‘‘ (قرآن)

مراقبہ قلب:

روحانیت کے مطابق کائنات ایک جہت میں نقطے کی حیثیت رکھتی ہے، یعنی کائنات کی تمام موجودات ایک نقطے کے اندر بند ہیں۔ نقطے کے اندر کائنات کی موجودگی مائیکرو فلم کی طرح ہے۔ مائیکرو فلم میں تصاویر شکلیں ایک مختصر سی اسپیس میں مقید کر دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کائناتی نقطے میں بھی مظاہر نقش ہیں۔ جب یہ نقطہ حرکت میں آتا ہے تو پھیل کر کائنات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کی دوسری مثال کسی درخت کے بیج کی ہے۔ ننھے منے بیج میں جس کی حیثیت ایک نقطے سے زیادہ نہیں ہے، درخت کی پوری زندگی، پتے، پھول پھل، شاخیں اور آنے والی نسل کے تمام درخت محفوظ ہوتے ہیں۔ یہی بیج نشوونما(حرکت) پا کر درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ روحانی علوم میں اس نقطے کو جس میں ساری کائنات یکجا صورت میں موجود ہے قلب، فواد اور نفس واحدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

مراقبہ قلب کے ذریعے اس نقطے کی گہرائی میں اترنے کا طریقہ یہ ہے:

مرشد کریم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آنکھیں بند کر کے اپنے دل کے اند رجھانکیں اور نگاہ تصور سے یہ دیکھیں کہ دل میں ایک سیاہ نقطہ ہے۔ کچھ عرصہ بعد نقطے کا تصور قائم ہو جاتا ہے۔ اس وقت ذہن کو نقطے کی گہرائی میں داخل کیا جائے۔ آہستہ آہستہ ذہن نقطے کی گہرائی میں داخل ہوتا ہے اور جس مناسبت سے گہرائی واقع ہوتی ہے نقطے کے اندر کی دنیا نظر آنے لگتی ہے۔

مراقبہ وحدت:

کائنات کی کسی حرکت کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں ایک نظم و ضبط ملتا ہے۔ اس نظم و ضبط کی وجہ سے تمام افعال میں ترتیب و تناسب موجود ہے۔ مثلاً بچہ ایک معین شکل و صورت میں پیدا ہوتا ہے اور ایک مخصوص رفتار کے ساتھ نشوونما پا کر لڑکپن، جوانی اور پھر بڑھاپے میں داخل ہو جاتا ہے۔ جمادات اور نباتات بھی معین فارمولوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ ستاروں اور سیاروں کی ہر حرکت کشش کے ایک خاص نظام کی پابند ہے۔ جتنے سیارے فنا ہوئے ہیں کم و بیش اتنے ہی تخلیق ہو جاتے ہیں۔ پیدا ہونے سے پہلے اور پیدائش کے بعد قدرت تمام مخلوقات کے لئے وسائل کے انتظامات کر دیتی ہے۔ پانی بخارات کی شکل میں تبدیل ہو کر بادل بنتا ہے اور بادل خشکی پر پانی بن کر برس جاتے ہیں۔ یہ پانی زندگی کی نمو میں کام آتا ہے اور باقی زمین کے نیچے جمع ہو جاتا ہے یاندی نالے اور دریابن کر واپس سمندر سے مل جاتا ہے۔

یہ مثالیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ کائنات کے نظام میں ایک کنٹرول ہے۔ اس کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ نظام عالم کے پیچھے ایک ذہن یا ایک اکائی کا م کر رہی ہے۔ اسی ذہن کی ڈور ہلنے سے کائنات کے تمام پرزے حرکت کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو توحید افعالی کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام افعال میں ایک وحدت موجود ہے۔

جس شخص پر توحید افعالی منکشف ہوتی ہے وہ یہ مشاہدہ کر لیتا ہے کہ نورانی دنیا کے پس پردہ غیب میں ایک تحقیق موجود ہے۔ اس تحقیق کے اشارے پر عالم مخفی کی دنیا کام کر رہی ہے۔ اور عالم مخفی کے اعمال و حرکات کا سایہ کائنات ہے۔ ایسا شخص اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ایک حرکت کو دوسری حرکت سے مربوط کر سکے یعنی دو مختلف حرکات کا باہمی رشتہ اس پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ وہ کسی بھی حرکت کا تعلق اس ذہن سے ملا سکتا ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔

توحید افعالی کے مراقبے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ نظام عالم کے اندر ایک وحدت ہے اور اس وحدت کا تشخص ایک نور ہے جو تمام عالم کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

’’لا‘‘ کا مراقبہ:

’’لا‘‘ کے معنی نہیں یا نفی کے ہیں۔ ’’لا‘‘ اللہ کی ایک صفت کے انوار کا نام ہے۔ ایسی صفت جس کا تجزیہ ہم ذات انسانی میں کر سکتے ہیں۔ یہی صفت انسان کا لاشعور ہے۔ عمومی طرزوں میں لا شعور اعمال کی ایسی بنیادوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ جن کا علم عقل انسانی کو نہیں ہوتا۔ اگر ہم کسی ایسی بنیاد کی طرف پورے غورو فکر سے مائل ہو جائیں جس کو ہم یا تو نہیں سمجھتے یا سمجھتے ہیں تو اس کی معنویت اور مفہوم ہمارے ذہن میں صرف’’لا‘‘ کی ہوتی ہے۔ یعنی ہم اس کو صرف نفی تصور کرتے ہیں۔

ہر ابتداء کا قانون ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جب ابتداء کی معنویت سے بحث کرتے ہیں یا اپنے ذہنی مفہوم میں کسی چیز کی ابتداء کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس وقت ہمارے تصور کی گہرائیوں میں صرف ’’لا‘‘ کا مفہوم ہوتا ہے یعنی ہم ابتداء کے پہلے مرحلے میں صرف نفی سے متعارف ہوتے ہیں۔

جب ہمیں ایک چیز کی معرفت حاصل ہو گئی خواہ وہ لاعلمی ہی کی معرفت ہو بہرصور ت معرفت ہے اور ہر معرفت ایک حقیقت ہوا کرتی ہے۔ پھر بغیر اس کے چارہ نہیں کہ ہم لا علمی کی معرفت کا نام بھی علم ہی رکھیں۔ اہل تصوف لاعلمی کی معرفت کو علم ’’لا‘‘ اور علم کی معرفت کو علم ’’لا‘‘ کہتے ہیں۔

’’لا‘‘ کے انوار اللہ تعالیٰ کی ایسی صفات ہیں جو وحدانیت کا تعارف کراتی ہیں۔ لا کے انور سے واقف ہونے کے بعد سالک کا ذہن پوری طرح وحدانیت کے تصور کو سمجھ لیتا ہے۔ یہی وہ نقطہ اول ہے جس سے ایک صوفی یا سالک اللہ تعالیٰ کی معرفت میں پہلا قدم رکھتا ہے۔

اس قدم کے حدود اور دائرے میں پہلے پہل اسے اپنی ذات سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یعنی وہ تلاش کرنے کے باوجود خود کو کہیں نہیں پاتا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا صحیح احساس اور معرفت کا صحیح مفہوم اس کے احساس میں کروٹیں بدلنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کو فنائیت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

’’لا‘‘ کے مراقبہ سے ذہن میں خضر علیہ السلام، اولیاء تکوین اور ملائکہ پر نظر پڑنے لگتی ہے اور ان سے گفتگو کا اتفاق ہونے لگتا ہے۔ لا کی ایک صلاحیت خضر ؑ ، اولیاء تکوین اور ملائکہ کے اشارات و کنایات کا ترجمہ سالک کی زبان میں اس کی سماعت تک پہنچاتی ہے۔ رفتہ رفتہ سوال و جواب کی نوبت آ جاتی ہے اور ملائکہ کے ذریعے غیبی انتظامات کے کتنے ہی انکشافات ہونے لگتے ہیں۔

’’لا‘‘ کے مراقبے میں آنکھوں کے زیادہ سے زیادہ بند رکھنے کا اہتمام ضروری ہے۔ اس کے لئے کوئی روئیں دار رومال یا کپڑا آنکھوں کے اوپر اس طرح باندھا جاتا ہے کہ پپوٹوں پر ہلکا سا دباؤ پڑتا رہے۔ مراقبے میں سالک تمام خیالات اور تصورات سے ذہن ہٹا کر اپنی ذات کی گہرائیوں میں مرکوز کر دیتا ہے۔ تا کہ اس کے اوپر ایک طرح کی بے خیالی طاری ہو جائے۔ وہ اپنے خیال میں لا علمی کی حالت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مراقبہ عدم:

عدم کا مراقبہ، لا کے مراقبے کی ایک شکل ہے۔ اس مراقبے میں طالب علم آنکھیں بند کر کے ایسی کیفیت کا تصور کرتا ہے جو نفی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کا انہماک ایسے عالم میں ہوتا ہے جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ انسان ہیں، نہ جنات ہیں، نہ شجر و حجر ہیں، نہ کوئی آواز ہے۔ حتیٰ کہ وہ زماں و مکاں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی لاموجود تصور کرتا ہے۔ابتدائی درجے میں یہ تصور کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ عام حالات میں کوئی شخص ایسی کیفیت سے دوچار نہیں ہوتا جس میں مکمل نفی موجود ہو۔ اس بات کے پیش نظر عدم کا مراقبہ مرحلہ وار کرایا جاتا ہے۔ یعنی ایسی مراقبہ جات کرائے جاتے ہیں جن میں مکمل نفی کے بجائے نفی کا عکس پایا جاتا ہے۔ مثلاً:

1۔ طالب علم صحرا یا بیابان کا تصور کرتا ہے۔ جہاں مکمل خاموشی کا راج ہے اور ہر چیز بے حرکت ہے۔ یعنی چاروں طرف ہُو کا  عالم طاری ہے۔ اس مراقبے کا دوسرانام مراقبہ بری ہے۔

2۔ ایک وسیع و عریض سمندر ہے جس کا پانی بالکل ساکت ہے اور صاحب مراقبہ اس سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کو مراقبہ بحر  کہتے ہیں۔

3۔ طالب یہ تصور کرتا ہے کہ میں موجود نہیں ہوں، صرف ذات حق موجود ہے۔اس طرح کے تصورات قائم کرنے میں بہت زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔ جب یہ مراحل عبور ہو جاتے ہیں تو مراقبہ عدم کا اصل تصور تلقین کیا جاتا ہے۔مراقبہ عدم کے ذریعے طالب علم پر وہ کیفیات طاری ہونے لگتی ہیں جو شعوری واردات کے برعکس ہیں۔ جب شعوری واردات کی نفی ہو جاتی ہے تو لاشعوری کیفیات میں سفر شروع ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ عدم سے مراد ایسی دنیا نہیں ہے جس میں کسی چیز کا وجود نہیں بلکہ عدم سے مراد وہ دنیا ہے جس میں لاشعور کے ذریعے سفر ہوتا ہے۔

فنا کا مراقبہ:

جب کوئی شخص مضمون لکھنے بیٹھتا ہے تو اس کے ذہن میں پہلے پہل ایک عنوان ہوتا ہے۔ لیکن اس عنوان کی ترتیب و تفصیل اس کے ذہن میں نہیں ہوتی۔ جب وہ کاغذ قلم سنبھال کر ذہن کو حرکت دیتا ہے تو مضمون کی تفصیل مرتب ہونے لگتی ہے۔ جو کچھ وہ لکھتا ہے وہ مفہوم اور معنویت کے اعتبار سے اس کے لاشعور میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ اسی ذخیرے سے یہ مفہوم تفصیلی خدوخال اختیار کر کے الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے۔ مضمون میں کوئی بات ایسی نہیں ہوتی جو مفہوم اور معانی میں صاحب مضمون کے لاشعور میں موجود نہ ہو۔ اگر یہ موجودگی نہ ہو تو مضمون الفاظ کی شکل و صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ اس طرح مضمون کے تین تعینات قائم ہوتے ہیں۔ ایک وہ تعین جس میں مضمون مفہوم کی شکل میں وجود پذیر ہے۔ دوسرا وہ تعین جہاں الفاظ کی صورت میں متشکل ہوتا ہے اور تیسرا وہ تعین جہاں قلم الفاظ کو کاغذ پر لکھ کر مادی خدوخال بخشتا ہے۔جس طرح مضمون کی تین حیثیتیں ہیں اور مضمون مادی شکل وصورت اختیار کرنے میں تین مراحل سے گزرتا ہے اسی طرح تمام مظاہرات تین جگہ موجود ہیں۔ کوئی بھی وجود یا کوئی بھی حرکت چاہے اس کا تعلق ماضی سے ہو، حال سے ہو یا اس کا رشتہ مستقبل سے ہو، وہ ان تین تعینات سے باہر نہیں ہے۔

اس بات کی مزید وضاحت کے لئے مصور کی مثال دی جاتی ہے ۔ ایک مصور کاغذ پر کبوتر کی تصویر بناتا ہے۔ وہ دوسری تصویر بنانا چاہے تو پھر بنا سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تصویر کا علم اس کے ذہن میں محفوظ ہے۔ کاغذ پر صرف تصویر کا عکس منتقل ہوتا ہے۔ اصل تصویر منتقل نہیں ہوتی۔ اس طرح وہ جتنی چاہے تصویریں بنا سکتا ہے۔ لیکن تصویر کا علم پھر بھی اس کے ذہن سے جدا نہیں ہوتا۔کوئی بھی علم کوئی بھی حرکت، کوئی بھی مظہر جس جگہ مفہوم اور معنوی خدوخال میں موجود ہے اسے عالم تمثال کہتے ہیں۔ عالم تمثال میں بھی ہر مظہر نقوش اور خدوخال رکھتا ہے۔ ان خدوخال کو روح کی آنکھ دیکھتی ہے۔ اگر انسان مراقبہ کے ذریعے ان خدوخال یا ان نقوش کو سمجھنے کی کوشش کرے تو اس کا شعور ان انطباعیہ نقوش کو معلوم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ان نقوش میں وہ واقعات بھی شامل ہیں جو مستقبل کے احکامات ہیں اور جن کی تعمیل من و عن اپنے وقت پر ظہور میں آتی ہے۔ عالم تمثال کا مطالعہ کرنے کا طریقہ فنا کا مراقبہ ہے:

صاحب مراقبہ آنکھیں بند کر کے یہ تصور کرتا ہے کہ اس کی زندگی کے تمام آثار فنا ہو چکے ہیں اور وہ ایک نقطہ روشنی کی صورت میں موجود ہے۔ وہ یہ خیال اپنے ذہن میں مستحکم کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات کی دنیاسے بالکل آزاد ہے اور اس کا تعلق صرف اس دنیاسے باقی ہے جس کے احاطے میں ازل سے ابد تک کی سرگرمیاں موجود ہیں۔چنانچہ کوئی شخص جتنی مشق کرتا ہے اتنی ہی عالم تمثال کی انطباعیت اس کے ذہن پر منکشف ہو جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ ان نقوش کا مفہوم اس کے شعور میں منتقل ہونے لگتا ہے۔

مراقبہ، اللہ کے نام:

جب ہم کسی چیز کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کی صفات بیان کرتے ہیں۔ صفات کا تذکرہ کئے بغیر کسی وجود کی تشریح ممکن نہیں ہے۔ مخصوص صفات کے مجموعے کا نام شئے قرار پاتا ہے۔ جب ہم مادی خدوخال کا تذکرہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ فلاں چیز ٹھوس ہے، مائع ہے، گیس ہے، اس میں فلاں رنگ غالب ہے، فلاں فلاں کیمیاوی اجزاء کام کرتے ہیں، چیز گول ہے، چوکور ہے یا کوئی اور خاص شکل رکھتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ہر شئے کا کوئی نہ کوئی نام رکھا جاتا ہے اور نام ایک علامت ہے جو مخصوص صفات کی ترجمانی کرتا ہے۔ مثلاً جب ہم لفظ پانی کہتے ہیں تو اس سے مراد وہ سیال شئے ہے جو پیاس بجھانے کے کام آتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم پانی کی کتنی صفات سے واقف ہیں۔

جب ہم پانی کہتے ہیں تو سننے والے کے ذہن میں پانی کی صفات یا پانی کے معانی آتے ہیں۔ اسی طرح لکھنے والی چیز کو قلم کا نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص قلم کہتا ہے تو اس سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جو لکھنے کے کام آتی ہے۔

مفہوم یہ ہے کہ صفات کے مجموعے کو کسی علامت سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ علامت ایک اشارہ ہوتی ہے۔ علامت کو اسم بھی کہہ سکتے ہیں۔ روحانی علوم کے مطابق کائنات صفات کا مجموعہ ہے۔ صفات کی باہمی ترکیب سے تخلیق عمل میں آتی ہے۔ روحانی سائنس دانوں نے تخلیق کی گہرائی میں صفات کا مشاہدہ کیا ہے اور ان کو مختلف نام دیئے ہیں۔

انبیاء کو وحی کی روشنی میں صفات کا علم حاصل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ کائنات میں کام کرنے والی صفات اللہ کی صفات ہیں۔ فرق یہ ہے کہ صفات اللہ کی ذات میں کل کی حیثیت میں موجود ہیں اور مخلوق کو ان کا جزو عطا ہوا ہے۔ مثلاً اللہ بصیر ہیں یعنی دیکھنے کی صفت اللہ کی صفت ہے اور مخلوق میں بھی دیکھنے کی قوت کام کرتی ہے۔ اللہ سماعت کی صفت ہے اور مخلوق میں بھی سماعت عمل کرتی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین تخلیق کرنے والا ہوں۔ یا اللہ رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ گویا اللہ میں کوئی صفت درجہ کمال میں موجود اور لامحدود ہے لیکن مخلوق میں یہ محدود ہے۔

اسم ذات:

اسم ذات یعنی ا سم اللہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس لئے اہل روحانیت اسم ذات سے ربط و نسبت پیدا کرنے اور اسم ذات کے انوار کا مشاہدہ حاصل کرنے کے لئے مراقبہ اسم ذات تعلیم کرتے ہیں۔

پوری کائنات اس حقیقت پر قائم ہے کہ وہ ایک ہستی کی ملکیت ہے یعنی تمام موجودات کا مالک ایک ہی ہے۔ اسی حقیقت کی وجہ سے تمام مخلوقات ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو فیضان پہنچانے پر مجبو رہیں۔ اگر کائنات ایک ہستی کی ملکیت نہ ہوتی تو ایک دوسرے سے ربط ممکن نہ ہوتا۔ اسی قادر مطلق مالک ہستی کو اللہ کہتے ہیں اور اسمائے الٰہی میں یہی لفظ اللہ اسم ذات ہے۔ دیگر اسماء صفات الٰہی کو ظاہر کرتے ہیں۔ لفظ اللہ میں ایسی تجلی مستور ہے جو حاکمیت اور خالقیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس تجلی کی معرفت آدمی تمام عالم کی بنیاد مشاہدہ کر لیتا ہے کیونکہ خالقیت اور مالکیت تمام مخلوقات پر محیط ہے۔

مراقبہ میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ قلب پر اسم ذات ’’اللہ‘‘ نورانی حرف سے لکھا ہوا ہے اور اس کی شعاعیں صاحب مراقبہ کے وجود پر محیط ہیں۔

چنانچہ جس قدر جذب و استغراق حاصل ہوتا ہے راہ سلوک کا مسافر تمام عالم کو اسم ذات کے انوار کے آئینے میں دیکھتا ہے۔ موجودات کی انتہا پر اللہ کی صفت خالقیت اور صفت مالکیت اس کے قلب پر ظاہر ہو جاتی ہے۔


Muraqba urdu

خواجہ شمس الدین عظیمی