Topics

غنود:

 

غنود مراقبہ کا ابتدائی درجہ ہے۔ جب کوئی شخص مراقبہ شروع کرتا ہے تو اکثر اس پر غنودگی یا نیند طاری ہو جاتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد ذہن پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسے نہ نیند کا نام دیا جا سکتا ہے نہ بیداری کا، یہ خواب اور بیداری کی درمیانی حالت ہوتی ہے لیکن شعور پوری طرح باخبر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ مراقبہ کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ دیکھا ہے لیکن کیا دیکھا یہ یاد نہیں رہتا۔

1۔ 10بج کر 17منٹ پر مراقبہ کیا۔ جلد ہی یکسوئی قائم ہو گئی۔ میں بار بار غنودگی کے عالم میں چلا جاتا۔ یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں کسی کے پاؤں دھو رہا ہوں۔ پھر غنودگی کے عالم میں دیکھا کہ جیسے میرے جسم سے ایک سیاہ رنگ کا سایہ جو کہ غیر ٹھوس ہے، نکل کر سامنے کی دیوار میں جذب ہوگیا۔ (محمد اکمل۔ لاہور)

2۔ مراقبہ میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ کا تصور کرتا ہوں۔ مراقبہ کے دوران مسلسل ذہنی یکسوئی رہتی ہے۔ تصور کرتے کرتے غنودگی کی کیفیت خود بخود طاری ہو جاتی ہے۔ حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے تصور کا ہلکا سا عکس ذہن میں آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ میں اس پر توجہ مرکوز کرتا ہوں اور خود بخود غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ تقریباً نصف گھنٹہ مراقبہ کرتا ہوں لیکن تصور کی ابتدائی کیفیت کے علاوہ اور کوئی کیفیت ذہن نشین نہیں ہوتی۔ اللہ کے فضل سے اب ذہن میں خوب پاکیزگی پیدا ہو گئی ہے۔(سید طاہر جلیل)

3۔ غنودکی حالت میں نظر آیا کہ استغفار کی تفسیر سمجھائی جا رہی ہے۔ ایک دفعہ مراقبہ میں غنودگی کے عالم میں نظر آیا کہ جنات سے ملاقات ہوئی ہے۔ تھوڑا سا ڈر محسوس ہوا۔ ملاقات کی تفصیل یاد نہیں۔ ہر وقت یا حیی یا قیوم کا ورد کرتی ہوں اس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ میرے سامنے موجود ہیں۔ نماز پڑھتے ہوئے بھی احساس غالب رہتا ہے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے۔ کبھی رقت طاری ہو جاتی ہے جی چاہتا ہے کہ دل کھول کر روؤں۔ ایک دن غنودگی کی کیفیت اس قدر زیادہ ہو گئی کہ یہ احسا س ہوا کہ کائنات کے ذرے ذرے میں خدا موجود ہے، تب محسوس ہوا کہ میرا کوئی وجود نہیں۔ (نسرین)


Muraqba urdu

خواجہ شمس الدین عظیمی