Topics
مراقبہ کرنے سے آدمی کے اندر ایسی روشنیاں اور لہروں کا ذخیرہ بڑھنے لگتا
ہے جو کشش ثقل کی نفی کرتی ہیں۔ ان روشنیوں کی بدولت طالب علم ایسی کیفیات سے
گزرتا ہے جن میں ثقل نہیں ہوتا۔ مثلاً مراقبہ کرتے ہوئے یا چلتے پھرتے، بیٹھے لیٹے
وزن کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ کبھی آدمی خود کو روشنیوں کا بنا ہوا دیکھتا ہے۔
مراقبہ کرتے ہوئے بے وزنی کی کیفیت میں جسم معلق ہو جاتا ہے۔ آدمی خود کو خلاء میں
پرواز کرتے دیکھتا ہے۔ کھلی اور بند آنکھوں سے مختلف رنگوں کی روشنیاں نظر آتی
ہیں۔ دماغ کے اندر روشنی کے جھماکے(Spark) محسوس ہوتے ہیں۔ جسم میں سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے۔ اور برقی لہر
دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ روشنی کی تیزی اور ہجوم سے بعض اوقات جسم کو جھٹکے لگتے
ہیں۔ سکون اور اطمینان کا احساس گہرا ہو جاتا ہے۔ غو رو فکر کرنے اور مسائل حل
کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اور اس طرح کی دوسری بیشمار کیفیات و واردات روشنی
کے نظام میں رنگینی اور روحانی توانائی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
* مراقبہ کے لئے آنکھیں بند کرتا ہوں تو آنکھوں کے گوشوں میں
دودھیا رنگ کی روشنی بکھرتی ہے۔ اس وقت یعنی مراقبہ کے دوران خیالات آتے ہیں اور
گزر جاتے ہیں۔ کبھی نیند سی طاری ہو جاتی ہے اور کبھی صرف ’’اللہ‘‘ کا تصور ہوتا
ہے۔ مراقبہ کے دوران اور بھی کئی رنگوں میں روشنی نظر آتی ہے۔ مثلاً نیلی، سرخ،
سبز وغیرہ۔ اگر خیالات کی یلغار زیادہ ہو جائے تو میں دل ہی دل میں یا حیی یا قیوم
کا ورد کرتا ہوں۔ مراقبہ کے بعد کئی حالتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی جسم بھاری، کبھی بہت
ہلکا ہو جاتا ہے۔ کبھی بالکل احساس نہیں ہوتا کہ میرا جسم کہاں ہے۔ کبھی یوں ہوتا
ہے کہ میرا جسم اوپر اٹھ جاتا ہے۔ کبھی دماغ میں سرسراہٹ سی محسوس ہوتی ہے۔ اور
ایسی ہی کچھ اور کیفیات مرتب ہوتی ہیں۔ مراقبہ کے دوران سرور انگیز لہریں دماغ کا
احاطہ کرتی ہیں۔ دماغ پر مدہوشی چھا جاتی ہے اور اسی حالت میں نیند آ جاتی ہے۔
کبھی درمیان میں خواب جیسی کیفیات ہوتی رہتی ہیں۔ ایک بار یوں ہوا کہ میں اڑتا ہوا
اوپر اٹھ گیا۔ گرد و پیش کی کچھ خبر نہ رہی۔ مراقبہ کے دوران یوں گم ہونا چاہتا
ہوں کہ سانس کی آمد و رفت بھی ناگوار گزرتی ہے۔ اس دوران استاد محترم کا تصور بھی
آ جاتا ہے۔ کبھی کبھی مراقبہ کی حالت میں سو جاتا ہوں اور مختلف جگہوں کی سیر کرتا
ہوں۔ یہ مناظر اس قدر حسین ہوتے ہیں کہ احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں۔ بہرحال اس
قسم کی کئی کیفیات ہوتی رہتی ہیں۔ (ہارون حمید۔ لاہور)
* مراقبہ کے شروع میں سبزی مائل پیلی روشنی کا ایک نقطہ نظر آیا۔
پھر چارپائی اور خود کو ہلتا ہوا محسوس کیا۔ ذرا سی دیر کے لئے دائیں آنکھ کی طرف
روشنی کی گول آنکھ نما چیز نظر آئی۔ مراقبہ شروع کرتے ہی سروزنی اور کندھے قدرے
بوجھل محسوس ہوئے۔ جسم کا کھنچاؤ اوپر کی طرف محسوس ہوا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرے
سائے نظر آئے۔ ایک دفعہ ذرا سا سرخ رنگ نظر آیا۔ کمر میں کچھ محسوس ہوتا ہوا سر کے
پچھلے حصہ تک آیا۔ جسم میں خوشگوار تبدیلی محسوس ہوئی۔ جیسے کسی چیز کی کشش میں آ
گیا ہوں۔ (مصباح الدین)
* مراقبہ تقریباً 15منٹ تک کیا۔ تصور فوراً قائم ہو گیا۔ جسم کے تمام
حصوں پر بارش کی بوندیں گرتے محسوس ہونے لگیں۔ سر پر تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے
بارش کی تیزی کے باعث گڑھے پڑ رہے ہوں۔ اس خیال میں اس قدر محو ہو گئی کہ جسم بے
حس و حرکت محسوس ہو رہا تھا۔ دیکھا کہ شمال کی طرف ایک بہت بڑا دروازہ کھلا ہے اور
اس دروازے سے سفید روشنی آ رہی ہے۔ یہ روشنی میرے جسم پر پڑ رہی ہے۔ پھر آسمان سے
روشنیوں کی بارش برسنے لگی اور یہ بارش میرے جسم کے داہنے حصے پر محسوس ہو رہی ہے۔
ایک دم اس بارش کی رفتار بڑھی اور روشنیاں اس شدت سے مجھ پر گریں کہ جسم میں جھٹکا
محسوس ہوا۔
* فجر کی نماز کے بعد مراقبہ کیا۔ دیکھا کہ میں مجسمۂ نور ہوں اور
میرے ارد گرد نور کے ہالے خود بخود بن گئے اور روشنی خارج ہونے لگی۔ چنانچہ یہ
میرے دو جسم ہیں ایک تو میں خود ہوں جو کہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور دوسرا جو کہ
پیکر نور ہے۔اس کے علاوہ میں اپنے آپ میں چند تبدیلیاں محسوس کر رہا ہوں وہ یہ کہ
اگر کوئی شخص مجھے مخاطب کرنا چاہتا ہے تو مجھے اس کا علم پہلے ہو جاتا ہے اور جو
کچھ وہ کہنا چاہتا ہے۔ وہ بھی مجھے معلوم ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر میں چاہوں
کہ فلاں شخص مجھ سے آ ملے یا مجھے اس سے ملنا چاہئے تو وہ بغیر کوشش کے مجھے مل
جاتا ہے یعنی راستہ گزرتے ہوئے اور بعض اوقات کسی کام کے غرض سے مل جاتا ہے۔ تیسرے
یہ کہ اگر کوئی خاص واقعہ ہونا ہو تو مجھے بے چینی محسوس ہونے لگتی ہے۔ (محمد اسلم
گوہر۔ منگلا ڈیم)
مراقبہ
کی مسلسل مشق سے غنود کی کیفیت کم ہونے لگتی ہے۔ غنودگی طاری ہونے کی وجہ یہ ہے کہ
مراقبہ کے دوران وارد ہونے والی روشنیوں کو شعور برداشت نہیں کرتا اور اس پر غفلت
طاری ہو جاتی ہے۔ جب شعور نیند کی کیفیات سے مغلوب نہیں ہوتا اور ذہن یکسو رہتا ہے
تو باطنی اطلاعات موصول ہونے لگتی ہیں۔
طالب علم روحانی واردات و کیفیات کو ادراک کی سطح پر محسوس کرتا ہے۔
ادراک ایسا خیال ہے جو لطیف ہونے کے باوجود خدوخال رکھتا ہے۔ ذہن کی پرواز ان
خدوخال کو چھو لیتی ہے۔ مثلاً جب کوئی شخص سیب کا نام لیتا ہے تو ذہن میں سیب کی
تصویر ضرور آتی ہے۔ یہ تصویری خدوخال اتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ نگاہ ان کا مشاہدہ
نہیں کرتی لیکن احساسات ان کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات مخفی اطلاعات آواز کی
صورت میں موصول ہوتی ہیں۔ آواز کی شدت زیادہ نہیں ہوتی لیکن آواز کسی حد تک اطلاع یا
منظر کی تشریح کر دیتی ہے۔
مراقبہ شروع کرتے ہی یکسوئی حاصل ہو گئی۔ کانوں میں خیالات کی لہریں داخل
ہوتے محسوس ہوئیں۔ جیسے ہی کوئی صورت ذہن میں آتی ہے۔ اس کی آواز بھی سنائی دیتی
ہے۔ (محمد سلیم)
* مراقبہ کے دوران ایسا شور سنائی دیتا ہے جیسے سمندر کی بپھری ہوئی
موجیں ساحل سے ٹکرا کر شور مچا رہی ہوں۔ کچھ دنوں بعد مراقبہ کے دوران مجھے کسی کی
باتیں کرنے کی آواز سنائی دی۔ یہ باتیں اس طرح سنائی نہیں دیں جس طرح عام طور پر
آوازیں ہم اپنے مادی کانوں سے سنتے ہیں۔ بلکہ ایسا ہوا کہ یہ آوازیں دماغ کے اندر
سنائی دیں۔ ایک روز مراقبہ کے دوران کسی نے مجھے آواز دی میں نے فوراً آنکھیں کھول
دیں۔ لیکن آواز دینے والا کوئی نہیں تھا۔ میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ آواز باہر
سے نہیں، میرے باطن(Inner)
میں گونجی ہے۔
*آج مراقبہ میں اتنا محو تھا کہ ایک دم میرے داہنے کندھے پر کسی نے ہاتھ
رکھا۔ میں یکدم چونکا اور آنکھیں کھول دیں، آس پاس دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔
میں پھر مراقبہ میں چلا گیا۔ اس کے بعد جیسے ہی جسم کا خیال آتا ایسا لگتا تھا
جیسے جسم لرز رہا ہے۔ میں نے ایک عجیب بات محسوس کی وہ یہ کہ جب بھی میں پانی پیتا
ہوں۔ اس کا ذائقہ ہلکا میٹھا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میرے اندر ذائقہ کی
حس میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ کبھی کبھی کانوں میں سیٹیوں کی آواز آتی ہے۔
* مراقبہ کے بعد فجر کی نماز قائم کی، نماز میں بے حد یکسوئی رہی
ایک بار یہ خیال شدت اختیار کر گیا کہ اللہ میاں سامنے موجود ہیں۔ اس احساس سے
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کافی دیر تک یہ احساس غالب رہا۔ مراقبہ کرتے ہوئے ایسا
محسوس ہوا تھا جیسے ’’یا حیی یا قیوم‘‘ کے الفاظ لطیفہ نفسی سے ادا ہو رہے ہیں۔
* مراقبہ میں مکمل طور پر یکسو ہو گیا۔ پھر محسوس ہوا کہ میں خلاء
میں اوپر اٹھتا جا رہا ہوں اور انتہائی بلندی پر پہنچ گیا ہوں۔ ذہن میں اس وقت
’’اللہ اکبر‘‘ کی زبردست گونج تھی اتنی بلند اور تیز کہ بیان نہیں کر سکتا۔ اس
آواز سے طبیعت میں ہیبت طاری ہو گئی، خوف و دہشت کی ملی جلی کیفیت میں بیت المقدس
نظر آیا جہاں لوگ عبادت کر رہے تھے۔ بیت المقدس کے گنبد کو دیکھنے لگا۔ اسی دوران
کسی نادیدہ مخلوق نے میرے کانوں میں سرگوشی کی۔ میں اس سرگوشی سے بے سدھ ہو گیا۔
سرگوشی میں کہا گیا۔ ’’یہ کمال نہیں ہے کہ گنبد پر غور کیا جائے۔ اصل حقیقت یہ ہے
پیغمبروں کی ذات بابرکت پر تفکر کیا جائے کہ ان کے پاس اللہ کے عطا کردہ علوم کے
کون سے خزانے ہیں۔ نوع انسانی کا ہر فرد ان خزانوں سے مستفید ہو سکتا ہے۔‘‘
اس آواز کے ساتھ ہی میں بری طرح بے قرار ہو گیا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی
اور مراقبہ کی کیفیت سے باہر آ گیا۔ اس وقت جسم پسینے سے شرابور تھا۔ (کمال)
ادراک گہرا ہو کر نگاہ بن جاتا ہے اور باطنی اطلاعات تصویری خدوخال میں
نگاہ کے سامنے آ جاتی ہیں۔ اس کیفیت کا نام ورود ہے۔ ورود اس وقت
شروع ہوتا ہے جب ذہنی یکسوئی کے ساتھ ساتھ غنودگی کا غلبہ کم سے کم ہو جائے۔ ذہنی
مرکزیت قائم ہوتے ہی باطنی نگاہ حرکت میں آجاتی ہے۔ یکایک کوئی منظر نگاہ کے سامنے
آ جاتا ہے۔ چونکہ شعور اس طرح دیکھنے کا عادی نہیں ہوتا اس لئے وقفہ وقفہ سے ذہنی
مرکزیت قائم ہوتی ہے اور پھر ٹوٹ جاتی ہے۔ دیکھے ہوئے مناظر میں سے کچھ یاد رہتے
ہیں باقی بھول کے خانے میں جا پڑتے ہیں۔ رفتہ رفتہ آدمی ورود کی کیفیت کا عادی ہو
جاتا ہے اور مراقبہ میں واردات و مشاہدات کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔ کبھی مشاہدات
میں اتنی گہرائی پیدا ہو جاتی ہے کہ آدمی خود کو واردات کا حصہ سمجھتا ہے۔ مشاہدات
میں ترتیب قائم ہونے لگتی ہے اور معانی و مفہوم ذہن پر منکشف ہو جاتے ہیں۔
* پہلے کی نسبت اس ہفتہ مراقبہ کی کیفیات اچھی رہیں۔ تصور گہرا قائم ہوا
اور یکسوئی رہی۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ عبادت میں یکسوئی پیدا ہو گئی ہے۔ آنکھیں
ایک جگہ مرکوز ہوتی ہیں تو نظر جم جاتی ہے تصور اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے اور
باطنی آنکھ دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔ عبادت کرتے وقت مقامات مقدسہ سامنے آجاتے ہیں۔
احساس کمتری سے بہت حد تک نجات مل گئی ہے،خود اعتمادی اور یقین پیدا ہو گیا ہے۔ آج
سارا دن ذہن بالکل یکسو رہا، جس طرف خیال جاتا ہے وہ چیز یا منظر نگاہوں کے سامنے
آ جاتا ہے۔ ذہن نے Spaceکی اس حد تک نفی کر دی ہے کہ ساری زمین اور ہر ملک ہر شہر چند قدم کے فاصلے
پر نظر آتا ہے۔ کراچی، لاہور، وغیرہ سب سامنے نظر آتے ہیں۔ ذہن میں ایک عجیب وسعت
اور تیزی پیدا ہو گئی ہے۔ (احسان اللہ۔ سوات)
* مراقبہ میں مختلف قسم کی اشیاء نظر آتی ہیں اور اس کے ساتھ گرمی
کا احساس بڑھ جاتا ہے اور پھر یہ سب ناقابل برداشت ہو جاتا ہے اس وجہ سے مراقبہ کا
وقت کم کرنا پڑتا ہے۔ مراقبہ میں دیکھا کہ اپنے جسم سے کچھ دور ایک چمکدار روشنیوں
سے بنا ہوا جسم ہے۔ جوں جوں تصور میں گہرائی پیدا ہوتی گئی روشنیوں کے جسم کی چمک
میں اضافہ ہوتا گیا۔ دل بھی روشنیوں سے چمکتا ہوا نظر آیا۔ میں محسوس کرتا رہا کہ
میرے ماتھے پر کوئی خوبصورت آنکھ ہے۔ دوران مراقبہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری
پیشانی کی آنکھ روشن ہو گئی ہے اور میں اس آنکھ سے دیکھ رہا ہوں۔ میں جس طرف بھی
نظر دوڑاتا ہوں ہر چیز مختلف رنگوں کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ (وقار احمد)
* مراقبہ کے دوران ذہنی یکسوئی بڑھنے سے مادی جسم کا احساس نہ رہا
اور جسم مثالی واضح ہونے لگا۔ ایسا محسوس ہوا کہ جسم کے اندر کائنات موجود ہے۔ اور
کمر کی جڑ سے برقی رو مسلسل خارج ہو کر جسم میں گردش کر رہی ہے یکایک ایک جھٹکا
لگا اور جسم مثالی مادی جسم سے الگ ہو گیا۔ دیکھا کہ سامنے بہت بڑا خلاء ہے اور
جسم لطیف لہروں کے دوش پر ہوا میں اڑ رہا ہے۔ جسم مثالی سے ایک لہر شعاع کی طرح
نکل رہی ہے جس کی روشنی سے خلاء میں ہر چیز واضح نظر آتی ہے۔(محمد اسلم)
بعض لوگوں کی باطنی سماعت باطنی نگاہ سے پہلے کام کرنے لگتی ہے۔ سماعت کے
حرکت میں آ جانے سے آدمی کو ورائے صوت آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ پہلے پہل خیالات
آواز کی صورت میں آتے ہیں۔ پھر فضا میں ریکارڈ شدہ مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
بالآخر آدمی کے شعور میں اتنی طاقت آ جاتی ہے کہ جدھر اس کی توجہ جاتی ہے اس سمت
کے مخفی معاملات اور مستقبل کے حالات آواز کے ذریعے سماعت میں داخل ہو جاتے ہیں۔
جب بار بار یہ عمل ہوتا ہے تو آواز کے ساتھ ساتھ نگاہ بھی کام کرنے لگتی ہے اور
تصویری خدوخال نگاہ کے سامنے آ جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو کشف کہتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں کشف ارادے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ یکایک خیال کے ذریعے
آواز کے وسیلے سے یا تصویری منظر کی معرفت کوئی بات ذہن میں آ جاتی ہے اور پھر اس
کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
مثال:
آپ گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اچانک ذہن میں کسی
دوست کا خیال آنے لگتا ہے اور کچھ دیر بعد وہ دوست آ جاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ
آواز کے ذریعے یہ اطلاع ذہن میں وارد ہوتی ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ دوست کی آمد کا
منظر نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے۔
کشفی صلاحیت جب ترقی کے مراحل طے کر کے شہود
بنتی ہے تو ارادے کے ساتھ عمل ہونے لگتا ہے اور آدمی کسی بات یا کسی واقعے کو
ارادے کے ساتھ معلوم کر سکتا ہے۔
کشف کی کیفیت میں ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ ظاہری اور باطنی حواس ایک
ساتھ متحرک رہتے ہیں۔ طالب علم کے ذہن میں اتنی سکت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بیک وقت
مادی اور روحانی دنیا کو دیکھ سکتا ہے۔ اس کیفیت کے وارد ہونے کے لئے ضروری نہیں
ہے کہ صاحب مراقبہ کسی جگہ بیٹھ کر آنکھیں بند کرے۔ البتہ یہ کیفیت اختیاری نہیں
ہوتی۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اچانک طاری ہو جاتی ہے اور از خود ختم ہو جاتی
ہے۔ یہ حالت دن میں کئی بار بھی وارد ہو سکتی ہے اور بسااوقات ہفتوں میں ایک مرتبہ
بھی طاری نہیں ہوتی۔ اس کیفیت کا نام ’’الہام‘‘ ہے۔
سورہ آل عمران نمبر 44 :
ترجمہ:’’یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے ہیں۔ ہم
وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب پھینک رہے تھے وہ
(مجاور) اپنی قلمیں۔ کون سرپرستی کرے گا ان میں سے مریم کی۔ اور نہ تھے آپ ان کے
پاس جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔‘‘
مذکورہ بالا آیت کی رو سے وحی کی تعریف یہ ہوئی کہ وحی منجانب اللہ ہوتی
ہے۔ وحی وہ نور ہے جس کے اندر غیب کی خبریں ہوتی ہیں۔ یہ خبریں گذشتہ واقعات کی
بھی ہو سکتی ہیں۔ اور آئندہ آنے والے واقعات کے خاکے بھی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ
پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ نے گزرے ہوئے واقعات اور آنے والے حالات دونوں ہی سے
باخبر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ وحی کے اندر کسی بندے کا شعور و ارادہ کام نہیں کرتا۔
بلکہ وحی کے اندر صرف اللہ تعالیٰ کا تفکر کام کرتا ہے۔
سورۃ اعراف نمبر 203
ترجمہ:’’اور جب آپ نہیں لاتے ان کے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں۔ کیوں نہ
بنا لیا، تم نے خود اسے۔ فرمایئے۔ میں تو اس کی پیروی کرتا ہوں۔ جو وحی کی جاتی ہے
میری طرف میرے رب سے۔ یہ روشن دلیلیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت
ہیں اس قوم کے لئے جو ایمان لاتی ہیں۔‘‘
وحی کی مزید وضاحت اس آیت میں کی گئی ہے۔
سورہ الشوریٰ نمبر 51۔52
ترجمہ:’’اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ کلام کرے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ
(براہ راست) مگر وحی کے طور پر یا پس پردہ یا بھیجے کوئی پیغمبر اور وہ وحی کرے اس
کے حکم سے جو اللہ تعالیٰ چاہے۔ بلاشبہ وہ اونچی شان والا بہت دانا ہے۔ اور اسی
طرح ہم نے بذریعہ وحی بھیجا آپ کی طرف ایک جانفزا کلام اپنے حکم سے۔ نہ آپ یہ
جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے۔ اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔ لیکن ہم نے بنا دیا اس کتاب
کو نور، ہم ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں سے۔‘‘
اس آیت میں وحی کی تمام طرزوں کا بیان ہے۔ وحی کو اللہ تعالیٰ نے اپنا
کلام کہا ہے۔ اللہ کا کلام اپنی مخلوق پر مختلف ذرائع سے نازل ہوتا ہے۔ وحی کے طور
پر یا پس پردہ۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تجلی کا نزول ہوا۔ کوہ طور پر اللہ
تعالیٰ نے اپنی تجلی نازل فرمائی۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے
کلام کیا۔ یہ طریقہ وحی وہ ہے جس کو پس پردہ یعنی حجاب میں کہا گیا ہے۔ ذات باری
تعالیٰ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان یہ تجلی حجاب بن گئی کہ ذات باری
تعالیٰ کو وہ نہ دیکھ سکے۔ بلکہ صرف حجاب کو دیکھا اور حجاب کے ذریعے کلام الٰہی
سنا۔ پیغمبر کے ذریعے یعنی حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے سے وحی پیغمبروں تک
پہنچائی گئی۔ پیغمبروں کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ مگر وحی کی ذیلی
طرزیں کشف، الہام اور القاء کی صورت میں باقی ہیں۔ اسی کی طرف آیت بالا میں اشارہ
ہے کہ کسی بشر کی یہ شان نہیں ہے۔ یہاں بشر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ رسول یا
پیغمبر کا لفظ نہیں استعمال کیا گیا۔ یعنی ایک عام بشر بھی وحی کی ذیلی طرزوں کے
ذریعے اللہ تعالیٰ کے کلام کو حاصل کر سکتا ہے۔ انہیں ذیلی طرزوں میں کشف، الہام
اور القاء کے ساتھ ساتھ سچے خواب بھی شامل ہیں۔ سورہ نحل میں اللہ تعالیٰ نے مکھی
پر وحی کرنے کا بیان کیا ہے۔ مکھی پر وحی بھی وحی کی ذیلی طرزوں میں سے ہے۔ جو
پیغمبران علیہ السلام کے طریقہ نزول وحی سے مختلف ہے۔ نزول وحی کا وہ مخصوص طریقہ
جس طریقے سے پیغمبران علیہ السلام پر وحی نازل کی جاتی تھی۔ پیغمبروں کے ساتھ ہی
منقطع ہو چکا ہے۔ مگر پیغمبروں کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کا کلام اس کا حکم اور اس
کا تفکر اس کی مخلوق میں ضرور نازل ہوتا رہتا ہے اور ہوتا رہے گا۔ یہی وحی کی ذیلی
طرزیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ نور ہے۔ اس کا کلام بھی نور ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری رگِ جاں
سے قریب ہونے کے باوجود بھی ہم اس کا ادراک اپنے شعوری حواس سے نہیں کر سکتے۔ اس
کا مطلب یہ ہے کہ وحی جو کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا نور ہے۔ اس نور کو جذب کرنے کے
لئے پہلے شعور میں سکت ہونا ضروری ہے۔ شعوری سکت کی بناء پر ہی وحی کی مختلف طرزیں
وجود میں آئی ہیں۔ پیغمبران علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے براہ راست تربیت یافتہ
ہیں۔ لہٰذا ان کے شعور میں اس قدر سکت تھی کہ وہ وحی کے انوار کو براہ راست اپنے
لطیفہ قلبی کے اندر منتقل کرنے کی قوت رکھتے تھے۔ روح کے تمام لطائف وہ مرکزیتیں
ہیں جن مراکز میں روشنیاں ذخیرہ ہوتی ہیں۔ لطیفہ قلبی اور نفسی کا دائرہ وہ ہے، جس
مرکز کے اندر دنیاوی روشنیاں ذخیرہ رہتی ہیں۔ یعنی نارمل حالت میں یہ مرکز مادی
روشنیوں کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ مگر خاص حالتوں میں یہ مراکز نور اور تجلی کو جذب کرنے
کی سکت بھی رکھتے ہیں۔ ان کی سکت کو ارادے کے ساتھ بڑھایا جا سکتا ہے۔ جب تک نور
جذب کرنے کی سکت پیدا نہیں ہوتی۔ انوار منتقل نہیں ہوتے۔ ایک بھرے ہوئے گلاس میں
مزید پانی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ شعور میں جو روشنیاں منتقل ہوتی ہیں۔ وہ لاشعور سے
آتی ہیں۔ لاشعور روح کا ادراک ہے۔ یہ ادراک نور اور تجلی میں کام کرتا ہے۔ گویا
روح انسانی کے پاس نظر کے تین لینس(Lens) ہیں۔ ایک نظر مادی دنیا میں کام کرتی ہے دوسری نظر نور میں کام
کرتی ہے۔ تیسری نظر تجلی میں کام کرتی ہے ۔
کائنات کے ان تینوں مقامات(Zones)
میں عالمین آباد ہیں۔ ہر زون میں اسمائے الٰہیہ کے نظام جاری و ساری ہیں۔ اسمائے
الٰہیہ کی تجلیوں کی معین مقداریں کائنات کے تمام نظام کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ ہر
زون میں تجلیوں کی مختلف مقداریں کام کر رہی ہیں۔ ان ہی مقداروں کے تعین سے
کائناتی سسٹم قائم ہے اور کائناتی سسٹم فارمولوں سے مرکب ہے۔ یہ فارمولے تجلی کے
لینس سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ نور کے لینس سے ان فارمولوں سے بنی ہوئی اشیاء کی
باطنی اشکال دیکھی جا سکتی ہیں اور مادی لینس سے شئے کا ظاہری جسم سامنے آ جاتا
ہے۔ اس طرح ایک شئے کا وجود تجلی، نور اور مادی تینوں عالمین میں پایا جاتا ہے۔
یعنی کائنات تین زون پر مشتمل ہے۔ ایک زون ہر وقت ہماری نظر کے سامنے رہتا ہے۔
جبکہ باقی دو زون نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔
جو زون نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ وہ ہمارا لاشعور ہے۔ لاشعور میں روح کی جو
نظر کام کر رہی ہے اور روح کے پرتوں کے جو ادراک کام کر رہے ہیں۔ وہ ادراک مستقل
شعور کو اطلاع دیتے رہتے ہیں۔ روح کا ہر پرت اللہ تعالیٰ کے حکم پر حرکت میں ہے ۔
چنانچہ اس حرکت کی اطلاع لاشعور سے شعور میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اسی کو غیب کی
خبریں کہا گیا ہے۔ تجلی کے پرت سے جو خبریں شعور میں منتقل ہوتی ہیں۔ وہ وحی ہے۔
تجلی کے دائرے میں براہ راست تفکر سے کائنات کی نزولی حیثیت کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ روح
کو اللہ تعالیٰنے تخلیقی علوم عطا فرمائے ہیں۔ تجلی جب روح کے لطائف سے گزرتی ہے۔ تو روح کی فکر اسے
تخلیقی شکل میں ڈھال دیتی ہے۔ یہ صور ت نور اور روشنیوں میں ہوتی ہے اور پھر مادی
جسم اختیار کر کے نظر کے سامنے آ جاتی ہے۔ جب لاشعور اور شعور دونوں کی رفتار ایک
ہو جاتی ہے۔ یعنی روح کے تینوں دائرے بیک وقت حرکت میں آ جاتے ہیں۔ تو ان کا
درمیانی فاصلہ ختم ہو جاتا ہے۔ تجلیوں کا نزول براہ راست شعور میں ہونے لگتا
ہے۔ ایسی صورت میں تجلی کا شعور غالب آ جاتا ہے۔ اللہ کا تفکر غالب اور بندے کا
شعور مغلوب ہو جاتا ہے۔ پیغمبروں کے اندر تجلی کا انتہائی لطیف ترین ادراک کام
کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے تفکر کو اپنی روح کے ادراک کے ذریعے جان لیتے ہیں۔ ان
کے اوپر روح کے لطیف حواس غالب آ جاتے ہیں اور مادی دنیا میں بھی وہ روح کے حواس
کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ تجلی درحقیقت اللہ نہیں ہے بلکہ اللہ کی ذات کا عکس ہے۔
تجلی اللہ کا حجاب ہے۔ اس حجاب کے بغیر کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ نہ ہی
کسی بشر کی رسائی ممکن ہے۔ کائنات اللہ کی تخلیق ہے۔ روح کی نظر ہر شئے کو تخلیقی
صورت میں دیکھتی اور پہچانتی ہیں کیونکہ
جب تک کوئی شے تخلیقی صورت نہیں اختیار کرتی اس کا نام اور اس کی
شناخت نہیں ہو سکتی۔ روح امر ربی ہے۔ انسان کی روح اللہ کے امر کو سارے عالمین میں
پھیلانے والی ہے۔ پہلے روح خود امر کی تجلیوں کی ماہیت حاصل کرتی ہے۔ جیسے کمپیوٹر میں پروگرام فیڈ کیا جائے تو مشین
اس پروگرام کو تخلیقی صورت دے کر اسکرین پر نشر کردیتی ہے۔ پروگرام جو کمپیوٹر میں
فیڈ کیا جاتا ہے۔ وہ محض نمبر اور الفاظ یعنی فارمولے کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس
فارمولے کو کمپیوٹر کی اندرونی مشین تخلیقی صورت بخشتی ہے۔ اور پھر یہ صورت اسکرین
پر ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک پوری شئے اپنی مکمل شکل و صورت کے ساتھ پہچانی
جاتی ہے۔ اللہ کی جانب سے جو تجلیاں روح پر نازل ہوتی ہیں اسے روح میں تجلی کا
دائرہ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ یہ تجلیاں اللہ کے تفکر کی متعین مقداریں ہیں۔
مقدار کائنات کا کوئی نہ کوئی فارمولا ہے۔ روح میں اس فارمولے کی ماہیت ظاہر
ہوجاتی ہے۔ یعنی تخلیق کا باطن سامنے آ جاتا ہے۔ اس میں اسمائے الٰہیہ کی روشنیوں اور ان کی حرکات و نظام کی مکمل تفصیل ہے اور پھر روشنیوں کے
دائرے میں شئے کا جسم تخلیق ہوتا ہے۔ یہ جسم اپنے اندر فیڈ کئے ہوئے پروگرام کے
مطابق اپنی حرکات و افعال انجام دیتا ہے۔
وحی کی حقیقت یہ ہے کہ شعور میں براہ راست وہ تجلیاں نزول کرتی ہیں۔ جو
تجلیاں اللہ کی جانب سے روح میں نازل ہوتی ہیں۔ روح ان تجلیوں کو اسی طرح شعور میں
منتقل کر دیتی ہے۔ اور شعور ان تجلیات کے اندر تفکر کے ذریعہ معانی پہناتا ہے۔ وحی
کے نزول کے وقت شعور کی رفتار لاشعور کے برابر ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وحی کے
کلام میں دنیاوی خیال کی روشنی شامل نہیں ہوتی۔ پیغمبران علیہ السلام کے بعد اگرچہ
وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ مگر علوم نبوت کے انوار دنیا میں موجود ہیں۔ اللہ کا کلام آسمانی کتابیں ہمارے
درمیان موجود ہیں۔ جب بھی کوئی بندہ پیغمبروں کی سنت پر چل کر ان کے اسوہ حسنہ پر
عمل کرتا ہے۔ ان علوم کے انوار اس کی روح میں ذخیرہ ہو جاتے ہیں۔ اللہ نے پیغمبروں پر وحی
نازل کر کے ان کے شعور کو اس حد تک بیدار کر دیا کہ وہ اپنی روح کی حرکات کو پہچان
گئے۔ اور اپنی ذات کے ذریعے سے اللہ کی ذات و صفات کا عرفان حاصل کر لیا۔ پیغمبروں
کی سنت پر جو کوئی بھی عمل کرتا ہے۔ اس کے اندر پیغمبروں کا تفکر پیدا ہو جاتا ہے۔
اور پیغمبروں کے وسیلے سے انہیں اللہ کے علوم حاصل ہو جاتے ہیں۔ اور وہ کائناتی
سسٹم کی حقیقت سے واقف ہو جاتے ہیں۔
v
مراقبہ کی نشست میں آنکھیں بند کیں تو روشنی کے جھماکے ہونے لگے اور
مختلف چیزیں نظر آنے لگیں۔ میں نے کئی قریبی رشتہ داروں کی آوازیں سنیں۔ آوازیں
اتنی واضح تھیں کہ ایک دفعہ بات کا جواب زبان سے ادا ہو گیا۔ مراقبہ کے آخر میں
خود کو اپنے اندر سے نکلتے اور چھت کی طرف اٹھتے دیکھا گھبرا کر آنکھیں کھول دیں
اور چھت کی طرف دیکھنے لگا۔ میں نے ایک ہیولےٰ کو چند سیکنڈ کے لئے چھت کی طرف
بڑھتے دیکھا۔
v
مراقبہ میں روضہ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا پھر ایک پہاڑی سلسلہ
نظر آیا۔ پہاڑ کے دامن میں خوبصورت باغ تھا۔ دور دور تک ہریالی تھی بہت ہی خوبصورت
منظر تھا۔ مراقبہ میں اتنا محو ہو گیا کہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گیا۔ ایک
دفعہ ذہن بھٹکا تو سینے کو آہستہ آہستہ سانس کی وجہ سے ہونے والی جنبش بھی ناگوار گزری۔
مراقبہ میں ایک دوست کا خیال آیا تو یوں لگا جیسے وہ میرے سامنے کھڑا ہے۔ میں اس
کو واضح طور پر دیکھ رہا تھا۔ ذہن میں رشتہ داروں کا خیال آیا اور ان کی آوازیں
صاف سنائی دینے لگیں۔ اگلے روز میں نے ان رشتہ داروں سے معلوم کیا تو انہوں نے
تصدیق کی کہ وہ گذشتہ شب یہی باتیں کر رہے تھے۔
v
عشاء کی نماز کے لئے کھڑی ہوئی تو محسوس ہوا کہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ
والسلام امامت کر رہے ہیں۔ میں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بالکل پیچھے صف میں
کھڑی ہوں۔ میرے دائیں جانب حضور قلندر بابا اولیاءؒ اور بائیں جانب بابا جی(حضرت
خواجہ شمس الدین عظیمی) ہیں۔ دوسرے مذاہب کے برگذیدہ لوگ بھی صفوں میں موجود ہیں۔
سارا وقت یہی دیکھتی اور محسوس کرتی رہی کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جسم اطہر
سے نور کی شعائیں نکل کر میرے اندر جذب ہو رہی ہیں۔ آپ کے نور کی روشنی میں مجھے
سارا وقت آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا چہرہ مبارک بہت صاف نظر آتا رہا۔ حالانکہ آپ
کی پیٹھ میری جانب تھی۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام عربی لباس میں ملبوس تھے۔ آپ علیہ
الصلوٰۃ والسلام کا رخ انور نہایت ہی روشن اور تابناک دکھائی دیا اور آپ علیہ
الصلوٰۃ والسلام کی روشنیوں سے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اطراف میں نور کا ایک
ہالہ دکھائی دیا۔ میں بالکل آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیچھے تھی اس لئے آپ علیہ
الصلوٰۃ والسلام کی روشنی براہ راست میرے اوپر پڑ رہی تھی۔ میری تمام تر توجہ آپ
علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانب تھی۔ اس وجہ سے میں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے
اطراف میں کھڑے ہوئے باقی حضرات کی شکل و صورت نہ دیکھ سکی۔
میں نے دیکھا کہ میں تجلیوں سے بنی ہوئی ہوں۔ میرا جسم بہت روشن ہے اور
میں ایک ایسی فضا میں بیٹھی ہوں جہاں چاروں طرف روشنی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اس نورانی فضا میں بالکل مراقبہ کی سی کیفیت میں بیٹھی
ہوں۔ میں بالکل ساکت تھی اور میری کھلی ہوئی نظریں سامنے فضا میں جمی ہوئی تھیں۔
ذہن بالکل کورے کاغذ کی طرح خالی اور ساکت تھا۔ اب ایسا دکھائی دیا جیسے نظر کے
سامنے سے ایک انتہائی تیز روشنی آئی اور میری پیشانی میں داخل ہو گئی۔ (سعیدہ
خاتون)
v
رات کے سوا آٹھ بجے میں اپنے فرنٹ روم میں بیٹھی تھی کہ اچانک میرے سامنے
والی دیوار پر ایک دودھیا روشنی کا تقریباً ڈیڑھ فٹ قطر کا دائرہ نمودار ہوا۔ جو
ایک طرف سے شروع ہو کر چلتا ہوا دوسرے سرے پر پہنچ کر واپس آ جاتا اور پھر نئے سرے
سے اس ہی جگہ سے نمودار ہوتا جہاں سے کہ پہلے شروع ہوا تھا۔ کمرے میں ٹیوب لائٹ
روشن تھی مگر اس ہالہ کی روشنی ٹیوب لائٹ کی روشنی سے بھی زیادہ نمایاں تھی۔ یہ
سلسلہ کوئی 10منٹ تک جاری رہا۔ اچانک اس روشنی کے فوراً بعد ایک شکل نمودار ہوئی۔
یہ شکل سابقہ لائٹ سے زیادہ روشن تھی۔ یہ شکل تقریباً 5یا 6منٹ تک سامنے رہی۔ میں
ٹکٹکی باندھے بالکل ساکت اور مبہوت سی ہو کر اس نورانی شکل کو دیکھتی رہی۔
مجھے دنیا و مافیہا کا کوئی ہوش نہیں تھا۔ جب یہ نورانی شکل نظروں سے اوجھل ہو گئی
تو میرے دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اور ذہن میں آیا کہ یہ تو حضور قلندر بابا
اولیاءؒ تھے۔ نورانی صورت کا پوز بالکل وہی تھا جو کہ حضور سرکار قلندر بابا
اولیاءؒ کا ہے۔ فوراً ہی میرے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اور میری طبیعت کچھ اس
طرح کی ہو گئی کہ میں وہ کیفیت بیان نہیں کر سکتی۔ دل کی دھڑکن اس قدر تیز ہو گئی
کہ بس یوں لگتا تھا کہ اب باہر نکل آئے گا۔ (ریحانہ)
v
اچانک مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے جسم کے اندر سے ایک جسم نکل رہا ہے پھر
وہ جسم کھڑکی سے ہوتا ہوا آسمان کی بلندیوں پر جانے لگا۔ جسم کے اوپر سفید نوری
لباس تھا۔ پوری فضا بھی سفید دھویں سے بھری ہوئی نظر آ رہی تھی۔ اس نورانی جسم نے
سات راستوں کو عبور کیا جیسے جیسے وہ جسم اوپر جاتا رہا۔ منظر نہایت دل کش،
ہر طرف سفید روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ جسم کچھ پریشان سا ہے۔ اتنے میں اس روشن جسم
نے منہ اوپر اٹھایا تو آواز آئی ’’اللہ تمہاری مدد کرے گا۔‘‘ جب یہ آواز میرے
روحانی جسم نے سنی تو میرے مادی وجود پر لرزہ طاری ہو گیا۔ دل دھڑکنے لگا۔ پھر
اللہ اکبر کی آواز آئی اور میں جھک گیا۔ پھر سجدہ کیا۔ دل چاہا کہ زندگی بھر سجدہ
میں پڑا رہوں۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے فرشتے ہاتھ باندھے بڑے ادب سے دو قطاروں میں
کھڑے ہوئے ہیں۔ جن کا منہ ایک دوسرے کی طرف ہے۔ ان کے درمیان 5یا 6فٹ کا فاصلہ ہے۔
میرا روحانی جسم اس درمیانی جگہ آ گیا۔ سامنے جیسے ہی نگاہ اٹھی میرے اوپر کپکپی
طاری ہو گئی۔
v
مراقبہ میں آنکھیں بند کر کےبیٹھا تو چند لمحے بعد محسوس
ہوا کہ میں اپنے گوشت پوست کے جسم سے باہر آ گیا ہوں۔ اور
سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضۂ اطہر پر حاضر ہوں۔ جیسے ہی یہ کیفیت ہوئی
دل ہی دل میں درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ جسم و جاں کو محسوس ہوا کہ جالی مبارک
کے اندر سے ٹھنڈی روشنی نکل کر مجھ پر پڑ رہی ہے۔ پھر دیکھا کہ میں خانہ کعبہ میں
ہوں۔ خانہ کعبہ سے چند ہی لمحوں میں آسمان کی طرف پرواز شروع کر دی۔ راستے میں
مختلف لوگ نظر آئے۔ بعض لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ رفتہ رفتہ ایسی جگہ پہنچ جاتا ہوں
جہاں سے آگے جانے کی سمت راستہ نہیں ہے۔ یہاں فرشتوں کی قطاریں نظر آتی ہیں۔ اس
کیفیت کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکا۔ پھر دیکھا کہ میں اپنے کمرہ میں ہوں۔
محسوس ہوا کہ میرا وجود سارے کمرے پر محیط ہے اور مراقبہ ختم کر دیتا ہوں۔ مغرب سے
جنوب کی طرف روشنیوں کا یہ وجود سفر کر رہا ہے۔ میں گھر کے سامنے آ کر رک جاتا
ہوں۔ تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ میں خود ہی ہوں۔ زیادہ توجہ سے دیکھتا ہوں تو پیدائش
کے وقت سے لے کر آج تک کے حالات ویڈیو فلم کی طرح نظر آتے ہیں۔ جن میں تلخ یادیں،
خوشی، اچھائیاں، برائیاں سب موجود ہیں۔ زیادہ توجہ کرتا ہوں تو مستقبل کی باتیں
بھی نظر آتی ہیں کچھ باتیں صاف سمجھ لیتا ہوں۔ کچھ زیادہ واضح نہیں ہوتیں۔ اس
مثالی وجود کو دیکھتا ہوں کہ نور کے تاروں سے آسمان کے بہت اوپر کسی چیز کے ساتھ
بندھا ہوا ہے۔ لیکن اس چیز کو زیادہ دیر تک دیکھ نہیں سکتا۔ پھر مراقبہ ختم کر
دیتا ہوں۔ (علی اصغر)
v
دیکھتی ہوں کہ مرشد کریم حضور بابا جی میرے ساتھ ہیں۔ فرماتے ہیں کہ آؤ
تمہیں آسمانوں کی سیر کراتے ہیں۔ ہم اوپر اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ ہمارا جسم بہت ہی
ہلکا پرندے کی مانند ہے۔ ہم اڑتے ہوئے آسمانوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ آسمانوں کے
اندر ہم تیز روشنی کے بادل کے اندر سے گزرتے ہیں۔ پھر ایک شفاف فضا آ جاتی ہے۔ جس
میں نیچے بہت ہی صاف دکھائی دیتا ہے۔ نیچے زمین پر شہر آباد ہیں۔ لوگ زیادہ تر
کھیتی باڑی کرتے دکھائی دیئے۔ یہ علاقہ بہت ہی سرسبز ہے۔ بہت بڑے بڑے شفاف دریا
بہہ رہے تھے۔ دریاؤں کے کنارے کنارے لوگوں نے کاشتکاری کی ہوئی تھی اور پھل اور
سبزیاں اگائی ہوئی تھیں۔ ایک نظر میں یہ سب کچھ دیکھ کر ہم پھر اوپر کی جانب اڑنے
لگے۔ پھر روشنیوں کے بادل کے اندر سے ہمارا گزا ہوا۔ اور ہم ایک شفاف فضا میں آ
گئے۔ جس کے اندر دور دور تک نظر پہنچتی تھی اور بہت صاف دکھائی دیتا تھا۔ جگہ جگہ
بستیاں اور وادیاں نظر آتی تھیں۔ ہم اسی روشنیوں اور نور کے بادل میں سے گزر کر
ایک شفاف فضا میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ہر روشنی اور نور کے بادل میں سے گزرتے ہوئے
یہ احساس ہوتا تھا کہ یہ آسمان کی سرحد ہے۔ میں نے مرشد کریم سے کہا کہ بابا جی
میں تو سمجھی تھی کہ د و آسمانوں کے درمیان ایسا پردہ ہو گا جو لوہے یا اسٹیل کا
ہو گا جس کے اندر بغیر اجازت ہر کوئی داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی کوئی چوری سے
اس کو پار کر سکے گا۔ مگر یہاں تو صرف روشنیاں ہیں اور روشنی کے اندر سے تو بڑی آسانی
سے گزرا جا سکتا ہے۔ یہ تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ مرشد کریم بابا جی نے فرمایا۔
’’آسمان انسان کی حد نظر ہے جب شعور لاشعور کی فضاؤں میں داخل ہوتا
ہے تو شعور کی بینائی آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور انسان کی باطنی
نظر لاشعور یا غیب کے عالمین میں دیکھتی ہے۔ غیب کے عالمین کو دیکھنے کے لئے اللہ
کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ مگر ہر آسمان کی حدود میں جو عالمین آباد ہیں وہاں
اللہ کی مختلف صفات کی روشنیاں کام کر رہی ہیں۔ شعور کی نظر اس لئے آسمان کی حدود
کو پار نہیں کر سکتی کیونکہ شعور اسمائے الٰہیہ کی روشنیوں کے قانون سے ناواقف رہتا ہے۔مگر جو بندہ اسمائے الٰہیہ کے علوم اور
ان کے قوانین سے واقف ہو جاتا ہے وہ اپنے ارادے اور شعور کے ساتھ لاشعور کے اندر
داخل ہو جاتا ہے وہ بغیر کسی رکاوٹ کے غیب کی دنیا کا مشاہدہ اپنی باطنی نظر کے
ساتھ کر لیتا ہے۔ ہر آسمان کی سطح اسمائے الٰہیہ کی ان روشنیوں سے بنی ہے جن کی
روشنی یا شعاعیں اس عالمین میں داخل ہو کر عالمین کی تخلیق کرتی ہیں۔ آسمان کی سطح
پر اسمائے الٰہیہ کی روشنیاں جمع ہونے کی وجہ سے نظر ان روشنیوں کے پار دیکھنے سے
معذور رہتی ہے۔ مگر جب بندہ اللہ کی ذات اور صفات میں تفکر کرتا ہے تو اسمائے
الٰہیہ کی یہ روشنیاں اس کے اندر جذب ہونے لگتی ہیں۔ اور یہ روشنیاں خود اپنا
تعارف بندے سے کراتی ہیں۔ اس طرح شعور ان روشنیوں سے واقف ہو جاتا ہے اور شعور کا
واقف ہونا ہی شعو ر کا دیکھنا ہے۔ اس دنیا میں بندہ جس حد تک اسمائے الٰہیہ کے
علوم سیکھتا جاتا ہے اور اس میں یہ روشنیاں جذب ہوتی جاتی ہیں۔ مرنے کے بعد بندے
کا اعراف انہی حدود کے اندر قائم ہوتا ہے۔ یعنی مرنے کے بعد بندہ اپنے ظاہری حواس
کے ساتھ اور ظاہری نظر کے ساتھ ان عالمین میں رہتا ہے۔‘‘ مرشد کریم بابا جی کی
زبانی یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے کہا:
’’بابا جی ان عالمین میں داخل ہونے اور ان کو دیکھنے اور ان کی سیر
کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان دنیا میں ہی ان کے متعلق علوم حاصل کرے۔‘‘
بابا جی نے فرمایا کہ:
’’صرف علم حاصل کرنا یا صرف جاننا ہی ضروری نہیں، اسمائے الٰہیہ کی
صفات جب تک بندے کے اندر پیدا نہ ہو جائیں تب تک بندہ ان عالمین میں داخل نہیں ہو
سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے سات آسمان بنائے ہیں تا کہ بندہ ایک ایک آسمان پر کام
کرنے والی روشنیوں کے علوم آہستہ آہستہ سیکھتا جائے اور دھیرے دھیرے اس کا شعور ان
روشنیوں کو بتدریج جذب کرتا جائے۔ ہر آسمان شعور کی نشوونما کے مدارج ہیں۔ ہر
آسمان شعور کی مختلف اسپیڈ کو ظاہر کرتا ہے یعنی شعور کے اندر موجود حواس جب اس
رفتار سے حرکت کرنے لگتے ہیں۔ جو رفتار آسمانوں کے اندر بسنے والے عالمین میں کام
کر رہی ہے اور ان آسمانوں کے عالمین میں جو مخلوق آباد ہے بندے کے حواس کی رفتار
جب اس مخلوق کے اندر کام کرنے والے حواس کے برابر ہو جاتی ہے تب بندہ اس آسمان میں
داخل ہو کر وہاں کے عالمین کی سیر کرتا ہے۔ اور وہاں کے علوم حاصل کرتا ہے۔‘‘
v
مرنے کے بعد جس عالم میں روحیں منتقل کی جاتی ہیں وہ عالم اعراف ہے۔
مراقبہ میں دیکھتی ہوں کہ مرشد کریم بابا جی کا ہاتھ میرے سر پر چھتری کی طرح رکھا
ہے۔ اور آپ کی انگلیوں سے نور کی دھاریں نکل کر میرے ذہن کے اندر جذب ہوتی جا رہی
ہیں۔ جس سے سارا دماغ اندر باہر سے بہت روشن ہو گیا ۔ اور میں فضا میں پرندے کی
طرح اڑنے لگی مگر اس اڑان کے دوران بھی بابا جی کاہاتھ چھتری کی طرح اپنے سر پر
دیکھتی رہی۔ اڑتے ہوئے سارا وقت میں دل ہی دل میں اللہ کی حمد و ثنا اور شکر و ذکر
کرتی رہی۔ ساتھ ساتھ نیچے بھی دیکھتی رہی کہ کن کن مقامات سے گزر رہی ہوں۔ نیچے
نظر گئی تو اعراف کی زمین دکھائی دی۔ میں نے سوچا چلو اس کی سیر کرتے ہیں۔ میں اس
زمین پر نیچے اتر آئی۔ نیچے اترتے ہی میں گھومنے پھرنے کی نیت سے سڑکوں پر چلنے
لگی۔ بڑا خوبصورت شہر تھا۔ جگہ جگہ باغات تھے۔ نہریں تھیں اور موسم بے حد حسین
تھا۔ میرا دل برابر اللہ کا ذکر و شکر کر رہا تھا۔ اس دوران ایک ایسی بستی سے گزر
ہوا جہاں چھوٹے چھوٹے گھر تھے اور اتنے خوبصورت موسم اور قدرت کی اتنی رنگینیوں کے
باوجود بھی لوگ اپنے اپنے گھروں میں محبوس تھے۔ اندر نظر گئی تو دیکھا کہ سارے لوگ
الگ الگ کمروں میں گردن جھکائے غم سے نڈھال بیٹھے ہیں۔ جیسے ان کے اندر اتنی سکت
بھی نہیں ہے کہ وہ کم سے کم گردن ہی اٹھا کر خوبصورت ماحول کا نظارہ کر سکیں، تا
کہ ان کے دل خوش ہوں۔ مجھے محسوس ہوا یہ سب لوگ دنیا کی یاد میں بے حال ہیں۔ ذہن
میں آیا، اللہ نے تو انہیں نہیں روکا کہ تم فطرت کے ان حسین مناظر سے لطف اندوز نہ
ہو۔ ان لوگوں نے خود ہی اپنے آپ کو ان کوٹھریوں میں بند کر لیا ہے۔ اگر یہ لوگ دو
قدم باہر آ جائیں تو کھلی فضا ان کے سارے غم دھو دے اور ان کے اندر صحتمند خوشیاں
بھر دے۔ کچھ لوگ جانے پہچانے دکھائی دیئے۔ میں نے انہیں سمجھایا اور باہر آنے پر
آمادہ کیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد میں وہاں سے آگے چلی تو دیکھتی ہوں کہ بہت ماڈرن
بستی ہے۔ بڑی ہی خوبصورت محل نما کوٹھیاں ہیں۔ ان کوٹھیوں کے ڈیزائن جیومیٹری کے
ڈیزائن پر تھے اور بہت ہلکے ہلکے رنگوں کے پینٹ مکانوں پر تھے اور بہت ہی بھلے
لگتے تھے۔ اتنے میں ایک جانا پہچانا آدمی نظر آیا۔ اس کا انتقال چند دن پہلے ہوا
تھا۔ وہ مجھ سے مل کر بے حد خوش ہوا اور بولا۔
آنٹی! آپ یہاں کہاں؟ اس نے بہت خوبصورت سوٹ پہنا ہوا تھا۔ مجھے بھی اس سے
مل کر بے حد خوشی ہوئی۔ میں نے کہا۔ میں تو اعراف کے ایسے کونے میں جا نکلی تھی کہ
جس کو دیکھ کر خوشی کے بجائے رنج و ملال ہو اہے۔ اچھا ہوا تم مل گئے۔ کہنے لگا۔
آئیے آنٹی میں آپ کو سیر کراتا ہوں۔ پہلے میں آپ کو اپنے گھر لے چلتا ہوں۔ اس نے
مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا۔ مجھے اس نے بتایا کہ گاڑی ہم نے ڈیزائن کی ہے۔ یہ فلائنگ
ساسر کی طرح گاڑی تھی۔ بڑی ہی خوبصورت اس میں بیٹھے تو نہ اسٹئرنگ وھیل نہ گیئر،
کچھ بھی نہ تھا۔ صرف لفٹ کی طرف اوپر نیچے جانے آنے کے لئے چند بٹن لگے ہوئے تھے۔
میں نے کہا یہ چلے گی کیسے؟
آنٹی بس آپ کو جہاں جانا ہے اس کا خیال دل میں لے آیئے۔ اس بٹن نما جگہ
پر لائٹ جل جائے گی پھر یہ گاڑی خود بخود اس جگہ پہنچا دے گی اور ایسا ہی ہوا۔ اس
نے خیال کیا۔ لائٹ جلی اور گاڑی تیز رفتار چل پڑی۔ بہت خوبصورت سفید محل کے سامنے
رکی۔ اس کا ڈیزائن بھی جیومیٹری کے مثلث، چوکور وغیرہ قسم کے زاویوں پر بنا ہو
اتھا۔ مگر دیکھنے میں بہت ہی خوبصورت لگتا تھا۔ اس نے مجھے گھر کی سیر کرائی، وہاں
کی گاڑیاں دکھائیں۔ بہت ماڈرن چیزیں تھیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہاں کے لوگوں کے
دماغ بہت تیز ہیں ، دنیا والے یہاں سے بہت پیچھے ہیں۔ مگر یہاں بھی کچھ بستیاں
ایسی تھیں جہاں پر لوگ ابتدائی حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ
لوگ جو دنیا میں اپنے اوپر اللہ کے علوم کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ وہ یہاں آکر
اور بھی زیادہ مفلوک الحال زندگی بسر کرتے ہیں۔ کیوں کہ یہاں کی نارمل رفتار ہماری
دنیا سے کم از کم 10ہزار گنا تک ہے۔ ذہن کی رفتار سوائے علم کے اور کسی شئے سے
نہیں بڑھ سکتی اور ذہن کی رفتار جتنی تیز ہو گی عمل کی رفتار بھی اسی مناسبت سے
ہوتی ہے۔ پھر ایسی تیزرفتار زندگی میں معاشرے کے اندررہنے کے لئے ذہن کا اسی تناسب
کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ ورنہ انسان اپنی تنہائی کی کوٹھری میں بند ہو جاتا ہے اور
اپنے حال پر خود اس کی ذات کے سوا ترس کھانے والا کوئی نہیں ملتا۔ یہ سب دیکھ کر
میں نے اللہ کا بے حد شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے ایسے علوم سیکھنے کی توفیق عطا
فرمائی۔ (بیگم عبدالحفیظ بٹ)