Topics
کائناتی نظام کے بارے میں تحقیق و جستجو سے حاصل
ہونے والے نظریات میں ” بگ بینگ نظریے“ نے عوام الناس اور ماہرین فلکیات کے حلقوں
میں قبولیتِ عام حاصل کی جیسا کہ حصہ اوّل میں ذکر کیا گیا تھا کہ بگ بینگ کے لفظی
معنی ” عظیم دھماکہ“ لئے جاتے ہیں ماہرین کے نزدیک یہ کائنات کا نقطۂ آغاز ہے جہاں
سے کائنات پھیلنا شروع ہوئی۔
سائنسی علوم میں
ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ اجرام فلکی کا مطالعہ کرنے کے لئےمختلف طریقے
وضع کئے گئے ابتداء میں ماہرین کے ایجاد کردہ آلات کے ذریعے صرف مرئی روشنی کی اور
بھی قسمیں ہیں۔ ہم جس روشنی سے واقف ہیں وہ روشنیوں کی بہت سی قسموں میں سے ایک
قسم ہے۔
مرئی روشنیوں
میں جو رنگ شامل ہیں وہ ہمیں قوسِ قزح میں نظر آتے ہیں۔ جو کہ سرخ رنگ سے شروع ہو
کر بنفشی تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ روشنیاں سفر کے دوران رکاوٹ
آجانے پر غیر شفاف اجسام کے اندر سے نہیں گزر سکتیں جبکہ وہ روشنیاں جو زیریں سرخ
یا بالائے بنفشی ہوتی ہیں غیر شفاف اجسام کے اندر سے بھی گزر جاتی ہیں۔ اس طرح سے
مختلف اجسام کے نادیدہ خواص بھی زیریں سرخ اور بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے
ریکارڈ کئے جانے لگے اس طریقہ پیمائش کو S p e c t r o s c o p y کہا جاتا ہے اس
کی مدد سے ریکارڈ دور دراز ستاروں اور سیاروں سے آنے والی روشنیوں کا بھی تجزیہ
کیا جانے لگا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ جب زمین سے کسی دور دراز سیارے یا ستارے کا
مشاہدہ کیا جاتا ہے تو مشاہداتی زاویے میں ایک غلطی ہوتی ہے جس کو ُار ارالائش
کہتے ہیں۔ یعنی سماوی جسم جس مقام پر دکھائی دیتا ہے در حقیقت وہ اس سے ہٹ کر ہوتا
ہے جس کی وجہ سے زمین کی سورج کے گرد محوری اور طولانی گردش ہے Spectroscopy کی مدد سے زمین اور اس کے قریبی ستارے (Cygnus)Star 61 کا صحیح فاصلہ
تقریباً 11 نوری سال بتایا جاتا ہے۔
طیف پیمائی (شیشے کا مستطیل ٹکراؤ جس میں قوس
قزح کے رنگ نظر آتے ہیں) کے مشاہدے اور تجربے سے نہ صرف ہمارے نظامِ شمسی میں
موجود فلکی اجرام کی ساخت ، ان کی محوری حرکات اور ان میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں
ریکارڈ کی گئیں بلکہ دور دراز ستاروں اور ان کے سیاراتی نظام کی تفصیلات بھی
مشاہدہ میں آئیں۔ اس طرح سے ایک کہکشانی نظام کا نقشہ تیار کیا گیا جو کہ لچھے دار
کہکشاؤں پر مشتمل ہے جیسا کہ شکل 5 اور شکل نمبر 6 میں دکھایا گیا ہے۔ اس لچھے دار
کہکشاؤں کے کناروں پر دو بڑے بازو نظر آتے ہیں اور ہز بازو میں سے مزید شاخیں
نکلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں سے ایک شاخ کے اندرہماری زمین موجود ہے جیسا
کہ شکل 6 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ تمام
چھوٹی شاخیں ستاروں اور ان کے سیاراتی نظام پر مشتمل بتائی جاتی ہیں جبکہ اُن کے
مابین موجود خلاء میں گیسیں اور ذرّات کا دھواں موجود ہے۔ کہکشانی نظام کے نقشے کے
بالکل درمیان میں ایک روشنی کا خلا ء سیاہ رنگ کے نقطے کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔
یہ ایک ایسا سوراخ یا Hole بتایا جاتا ہے جہاں سے کسی بھی قسم کی مرئی
یا غیر مرئی شعاعوں کا اخراج جدید ترین طیف پیمائی دور بینوں سے بھی ریکارڈ نہیں
ہو سکا اس کو بلیک ہول Black Hole کا
نام دیا جاتا ہے۔ اس کے ارد گرد زیادہ تر وہ تمام ستارے موجود ہیں جو ضخامت میں
عام ستاروں کے مقابلے میں زیادہ بڑے اورروشن ہیں۔ Black Hole کے کردار کا
صحیح تعین ابھی تک نہیں ہو سکا مگر قیاس یہی ہے کہ ستاروں کی پیدائش کے ساتھ اس کا
کوئی نہ کوئی تعلق ہے کیوں کہ بڑے ستارے صرف اور صرف بلیک ہول ہی کے ارد گرد نظر
آتے ہیں۔ شکل نمبر 6 میں غور و فکر کرنے سے پتہ چلتاہے کہ لچھے دار کہکشائیں اور
ان سے متصل شاخیں مسلسل گردش میں ہیں ہمہ وقت اپنی جگہ تبدیل کر رہی ہیں بتایا
جاتا ہے کہ ہماری زمین ہماری کہکشاں میں 80,000 سال میں اپنا ایک چکر مکمل کرتی
ہے۔ بالکل اسی طرح ماہرین ِ فلکیات نے
دوسرے نظام ہائے شمسی کی حرکات کو بھی ریکارڈ کیا۔ ان کے مطابق جہاں مادہ ہوگا
وہاں تجاذبی کشش ضرور ہوگی اسی طرح تجاذبی کشش ہوگی تو کہکشانی نظام کے نقشے کے
مطابق نظام کے استحکام کے لئے گردش ضرور ہوگی۔
حیرت انگیز طور
پر کہکشانی نظام کی گردش کے دوران ایسے کئی مقامات کی نشاندہی ہوئی جو سائنسی
نظریات کے برخلاف اپنے مقامات سے نہیں ہٹتے اور مستقل ایک جگہ پر ٹھہرے ہوئے ہیں
ان مقامات کو سوئس ماہر فلکیات Fritz نے نادیدہ مادہ کا نام دیا ہے جسے Dark Matter کہا جاتا ہے۔
یعنی مادہ کی ایسی نادیدہ مقدار جو وجود رکھتی ہے مگر جدید سائنسی آلات اس کا تعین
کرنے سے فی الوقت قاصر ہیں ان میں مادے کا ارتکاز بالکل اسی طرح سے ہے جیسے دریا
کو کوزہ میں بند کرنا یعنی اس کی انتہائی مقدار بھی پھیل کر ایک بڑی جسامت کی شکل
اختیار کر لیتی ہے۔۔۔ قیاس ہے اس کا مقصد کہکشانی شاخ کو استحکام دینے کے لئے
مقررہ مادے کی مقدار مہیا کرنا ہے۔
مادہ اور توانائی کی شکست و ریخت کے حوالے سے
حامل علوم لدنی حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:
”ایک حضیرے پر
ایک کھرب سے زیادہ آباد نظام واقع ہیں۔ ایک
آباد نظام کوقائم رکھنے کے لئے غیر مستقل نظام اسٹور کی حیثیت رکھتے ہیں۔
غیر مستقل نظام سے مراد یہ ہے کہ پورے پورے نظام بنتے اور ٹوٹ جاتے ہیں اور اس ٹوٹ
پھوٹ سے مستقل نظام فیڈ (Feed) ہوتے رہتے ہیں۔ ہر نظام میں الگ الگ سماوات
، ارض ، جبال ، حیوانات ، جمادات، نباتات وغیرہ اس طرح موجود ہیں جس طرح ہم اپنے
نظام میں دیکھتے ہیں۔“
سائنسدانوں کی
معلومات کے مطابق کائناتDark Matter 96 % اور Dark Energy پر مشتمل ہے جبکہ بقیہ پھیلاؤ میں 3.5 فیصد گیسوں اور 0.5 فیصد ستاروں اور کہکشانی
نظام پر مشتمل ہے حیرت انگیز طور پر ان اعداد و شمار کا بڑا حصہ جو کہ لچھے دار
کہکشانی نظام میں Dark Matter اور Dark Energy پر مشتمل ہے
اگرچہ ان کے فعل اور ماہیت کا بالکل صحیح علم بیان نہیں کیا جا سکا مگر جدید فلکی
آلات سے حاصل ہونے والے شعاعی مشاہدے سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان پر تجاذبی
قوت کشش کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ مستقل طور پر اپنے مقام پر رہتے ہیں جبکہ
شاخ کے دوسرے شمسی نظام اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں جیسا کہ شکل نمبر 6 میں دکھایا
گیا۔
اٹھارویں صدی کی
ابتداء سے ہی ماہرین فلکیات اس بت پر متفق تھے کہ ہماری ملکی وے (Milky Way) ستاروں کے ایک
بہت بڑے نظام پر مشتمل ہے جو کہ جگہ جگہ بے قاعدہ ستاروں کے جھرمٹ کی شکل میں
پھیلے ہوئے ہیں اور جنہیں تجاذبی کشش باہم جوڑے ہوئے ہے۔ یہ بظاہر بے وعدہ روشن
ٹکڑے نیبولا (Nebula) کہلاتے ہیں۔ ٹیکنا لوجی میں ترقی کے ساتھ
دور بین کی مشاہداتی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا رہا ایسے ہی حال میں ماؤنٹ ولسن
سیارہ گاہ ، کیلی فورنیا میں تیار کی گئی 100 انچ کے عدسے کی دور بین سے ایک ماہر
فلکیات H u b b l e نے
نشاندہی کی کہ Nebula ملکی وے کا حصہ نہیں ہے بلکہ اپنے طور پر
موجود ایک اور کہکشانی نظام کا حصہ ہے ۔ اس انکشاف نے گزشتہ صدیوں سے رائج نظریات
کی مکمل نفی کر دی۔
ماہرین کو یک
سطح کے بجائے کثیر السطحی نظریات پیش کرنے پڑے جس سے وہ یہ ثابت کر سکیں کہ نیبولا
ایک سطح پر نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے فاصلے پر موجود ہیں جیسا کہ ہمارے شمسی
نظام سیارے دائرہ در دائرہ کی شکل میں محو گردش ہیں۔ اگر ہم سلنڈر کے اندر موجود
ستاروں کی شکل کو دیکھیں تو وہ ستارے ایک ہی سطح پر نظر آتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں
وہ ستارے ایک دوسرے سے کئی نوری سال آگے
یا پیچھے ہوں گے لیکن دور سے دیکھنے کی وجہ سے ہمیں وہ ایک سطح پر نظر آتے
ہیں۔ اگر ایک ارب سال کی دو متوازی لائنوں کا مشاہدہ سلنڈر کے سامنے سے کیا جائے
تو اس ایک ارب نوری سال کے تمام ستارے ایک سطح پر نظر آئیں گے جبکہ ان کے درمیان
ایک ارب نوری سال کا فاصلہ ہے۔ انیسویں صدی کی آخری دہائی میں ایک نیبولا Virgo کا جب تفصیلی
مطالعہ کیا گیا تو یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ ایک کہکشاؤں کا سلسلہ ہے جو کہ ہماری
ملکی وے سے باہر ہے۔ مزید اسی طرح کی کئی کہکشائیں شکل نمبر 7 میں دکھائی گئی ہیں۔
ان تمام کہکشاؤں کا آپس میں کیا تعلق ہے اور محلِ وقوع کے لحاظ سے ایک دوسرے سے کیسے
جڑی ہیں اس کا بالکل صحیح پتہ ابھی تک نہیں ہے۔
قلندر شعور کتاب کے مصنف خواجہ شمس الدین عظیمی
فرماتے ہیں:
” کائنات اور اس
کے اندر مظاہرات ہر لمحہ اور ہر آن ایک سرکل میں سفر کر رہے ہیں اور کائنات میں ہر
مظہر ایک دوسرے سے آشنا اور متعارف ہے۔ تعارف کا یہ سلسلہ خیالات پر مبنی ہے۔
سائنس نے آپس میں اس تنادلہ خیال اور رشتہ کو توانائی کا نام دیا ہے۔“
ماہرین فلکیات
کے نزدیک کہکشائیں ٹکڑوں کی شکل میں ایک اسپرنگ کی طرح ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی ہوئی ہیں۔
اسپرنگ کے ٹکڑوں کے درمیان میں اگرچہ خلا ء موجود ہے مگر وہ سب ٹکڑے تجاذبی کشش کی
وجہ سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس ہی طرح کے ایک بڑے ٹکڑے کو Sloan Great Wall کہا جاتا ہے ۔ ان ٹکڑوں کے درمیان میں فاصلہ Red Shift کے ذریعہ معلوم
کیا جاتا ہے جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دور دراز مقامات سے آنے والی شعاعیں
مقابلتاً نزدیکی مقامات سے انے والی شعاعوں کے مقابلے میں دیر سے پہنچنے کی وجہ سے
اپنی لطافت یا فریکوئنسی میں مختلف ہوتی ہیں لطافت کے اسی فرق کو سرخ رنگ میں چمک
کی کمی یا زیادتی سے ظاہر کرتے ہیں گہرا سرخ رنگ زیادہ لطافت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ
ہلکا رنگ تبدیلی کے محدود رجحان کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے
اجسام سے خارج ہونے والی شعاعوں کی مدد سے ان اجسام کے خدو خال کا 3D ماڈل بنایا
جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات نے Red
Shift ٹیکنالوجی سے
کائناتی نظام کے 93 ارب نوری سال کا 3D ماڈل تیار کیا۔ کائنات کے مسلسل پھیلاؤ کی
وجہ سے کائنات میں رونما ہونے والے کہکشانی نظاموں کی فنائیت اور پیدائش کی
اطلاعات ہم تک دیر سے پہنچتی ہے۔ شکل نمبر 1 کے مطابق کائنات کی تخلیق کو 13 ارب
70 کروڑ سال ہو چجے ہیں اور اس کا مشاہدہ کردہ پھیلاؤ 93 ارب نوری سال ہے۔ تا حال
کائنات کا صحیح پھیلاؤ نامعلوم ہے جس کی بڑی وجہ کائنات کا مسلسل پیدا ہونا اور
فنا ہونا ہے۔ شکست وریخت کے اس عمل کے دوران نئے اجرام فلکی اپنا توازن برقرار
رکھنے کے لیے دوسرے اجرام فلکی کو پرے دکھیل دیتے ہیں جس سے وہ اجرام کے درمیان
خالی جگہ یا خلاء واقع ہو جاتا ہے جہاں صرف نادیدہ تجاذبی کشش یا گریز کی قوتیں ہی
محسوس کی جا سکتی ہیں۔ تجاذبی قمقوں کی وجہ سے اجرامِ فلکی ایک دوسرے سے فاصلے پر
گردش کرتے ہیں تاکہ نظام کے پھیلاؤ اور گردشی فعالیت میں توازن برقرار رہے مگر ان
فاصلوں کے بڑھنے سے کل کائناتی نظام کا پھیلاؤ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پھیلاؤ کی
یہ اسپیس اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ روشن ستاروں سے آنے والی روشنی ہم تک کروڑ ہایا
اربوں سالوں کے وقفہ سے پہنچتی ہے یا بالکل
نہیں پہنچ پاتی۔
ٹائم اور اسپیس
کے مابین تعلق کو بانی قلندر شعور امام سلسلہ عظیمیہ ” حضور قلندر بابا اولیاءؒ”
نے واضح کرتے ہوئے فرمایا:
”ماہرین فلکیات
کہتے ہیں کہ ہمارے نظام شمسی سے الگ کوئی نظام ایسا نہیں جس کی روشنی ہم تک چار
برس سے کم عرصہ میں پہنچتی ہو۔ وہ ایسے ستارے بھی بتاتے ہیں جن کی روشنی ہم تک ایک
کروڑ سال میں پہنچتی ہے۔ تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم اس سیکنڈ میں جس ستارے کو دیکھ
رہے ہیں وہ ایک کروڑ سال پہلے کی ہیت ہے۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ موجودہ لمحہ ایک
کروڑ سال پہلے کا لمحہ ہے۔ یہ غور طلب ہے کہ ان دونوں لمحوں کے درمیان جو ایک اور
بالکل ایک ہیں ، ایک کروڑ سال کا وقفہ ہے۔ یہ ایک کروڑ سال کہاں گئے؟ معلوم ہوا کہ
یہ ایک کروڑ سال فقط طرز ادراک ہیں۔ طرز ادراک نے صرف ایک لمحہ کو ایک کروڑ سال پر
تقسیم کر دیا ہے جس طرح طرز اور ادراک گزشتہ ایک
کروڑ سال کو
موجودہ لمحہ کے اندر دیکھتی ہے ، اس ہی طرح طرز ادراک آئندہ ایک کروڑ سال کو
موجودہ لمحہ کے اندر دیکھ سکتی ہے۔ اس طرح
یہ تحقیق ہو جاتا ہے کہ ازل سے ابد تک تمام وقفہ فقط ایک لمحہ ہے جس کو طرز ادراک
نے ازل سے ابد تک کے مرا حل پر تقسیم کر دیا ہے ۔ ہم اس ہی تقسیم کو مکان (Space) کہتے ہیں۔“
خانوادہ سلسلہ
عظیمیہ محترم عظیمی صاحب نے اپنی کتاب ” نظریہ رنگ و نور “ میں لکھا ہے کہ ”کائنات
دو رخوں پر سفر کر رہی ہے ۔“
۱۔ وقت
۲۔ خلاء
اسپیس سے مراد
پھیلاؤ ہے۔ پھیلاؤ کا مطلب مسلسل حرکت ہے۔ ہر تخلیق مسلسل حرکت میں ہے۔ حرکت یعنی
اسپیس وقت (Time) کے تابع ہے۔ جبکہ صوفی کسی میڈیم کے بغیر
آنکھوں سے یہ سب دیکھتا ہے ( کسی شئے یا دھات کو میڈیم بنائے بغیر جیسے خلاء میں
قائم Hubble Telescope میں 100 انچ شیشے کی معرفت دیکھا جاتا ہے
اسی طرح نہیں اس لئے کہ Matter کے ذریعے جو کچھ دیکھا گیا وہ براہ راست
آنکھوں سے نظر نہیں آیا بلکہ میڈیم نے جو دیکھا یا وہ دیکھا۔) اور ہم نے میڈیم کے
دیکھنے کو دیکھا۔)
کافی حد تک یہ
معمہ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ہم جب آئینے میں اپنی صورت دیکھتے ہیں تو یہ
دیکھنا
براہ راست نہیں
بلکہ ہم اس کے دیکھنے کو دیکھتے ہیں۔
فلکی آلات کی
ٹیکنا لوجی کے ارتقاء سے حاصل ہونے والا ڈیٹا کہکشانی نظام کے مرئی اور غیر مرئی
روشنیوں کے رخ سے نئے نئی نظریات سامنے اتے رہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ
اسپیس اور ٹائم کے تعین کے مختلف زواۓ بیان کئے گئے ،
اعداد و شمار اتنے بڑھ گئے کہ ان کا آپس میں تعلق قائم کرنا ضروری ہوگیا جدید
کمپیوٹر ائزڈ تمثیلی سہولت سہولت نے ان اعداد و شمار کمپیوٹرائز 3D ماڈل وضع کرنے
میں اہم کردار ادا کیا جس نے فکر کے نئے نئے دریچے کھول دیئے ۔
*****************
ابتدائے کائنات کے بارے میں موجودہ
تصورات انسانی عقل کے مسلسل ارتقائی عمل کا نتیجہ ہیں۔ یہ نتائج ابتدا میں صرف
مرئی روشنی میں کیے گئے تجرباتی مشاہدات سے حاصل ہوئے، بعد ازاں مظاہرات کے پوشیدہ
رخ کے غیر مرئی شعاعی مشاہدات اور تجربات سامنے آئے جن کا ذکر گزشتہ حصوں میں
تفصیلاً کیا گیا۔
کائنات ایک آواز
کے مسلسل پھیلاؤ سے وجود میں آرہی ہے جو کہ جاری و ساری ہے یہاں یہ سوال ذہن میں آ
سکتا ہے کہ آواز کی لہروں کی رفتار تو فی سیکنڈ330 میٹر ہوتی ہے جبکہ ماہرین
فلکیات لاکھوں کلو میٹر فی سیکنڈ کی باتیں کرتے ہیں۔ اس نکتہ کو سمجھنا بہت آسان
ہے کیونکہ ہمارے اردگرد بہت سی آوازیں ایسی ہیں جنہیں ہم نہیں سن سکتے اور نہ ہی
ان کی رفتار کو محسوس کر سکتے ہیں جیسے ہمارے
اپنے جسم میں متحرک دل ، پھیپھڑے، گردے اور دماغی نظام کی آوازیں یہ سب
اعضاء اور ان سے متصل نظام ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر اپنی کارکردگی برقرار رکھتے
ہیں ہم جانتے ہیں کہ موجودہ سائنسی نظریات کے مطابق مادی اشیاء لہروں سے مرکب ہیں
اور لہریں ہیں مثلاً بلب چھوٹے چھوٹے ذرّات کی ایک خاص ترتیب سے تشکیل ہوا ہے جو
اپنے اندر ایک مکمل ایٹمی ساخت رکھتا ہے بلب روشن کرنے کے لیے جب ہم سوئچ دباتے
ہیں اور اس میں بجلی لہروں کی شکل میں داخل ہو کر اسے روشن کر دیتی ہے اور وہ
روشنی ہر طرف پھیل جاتی ہے بجلی کی لہروں کا تجربہ بجلی کو چھونے سے بھی ہوتا ہے جو
بجلی کی لہروں کا ارتعاش انسانی جسم میں سرایت کرتا ہے اور جسم میں وہی ارتعاش
پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو بجلی کا اپنا وصف ہے چونکہ انسانی جسم اس ارتعاش کا
متحمل نہیں ہوتا اس لیے جھٹکا لگتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ لہروں کا پھیلاؤ مظاہرے
کی بنیاد بنتا ہے۔ جدید کائناتی پھیلاؤ کا شہرہ آفاق نظریہ امریکی طبیعات دانAlan Goth نے ۱۹۸۰ء میں دیا۔ شکل نمبر ۱ کے مطابق تیرہ ارب ستر
کروڑ نوری سال پہلے اگر ہم موجودہ کائنات کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اس کی شکل ایک
نقطے کی ہوگی جسے سائنسدان مبدا ء(Origin)
کہتے ہیں۔ یعنی وہ نقطہ جس کے کھلنے پر کائناتی پھیلاؤ کاآغاز ہوتا ہے جسے
ماہر فلکیات Fred Hoyle نے ایک Buzz Word ”دی بگ بینگ“ کے نام سے متعارف کروایا۔
اجرام فلکی سے
آنے والی شعاعوں کی فریکوئنسی کا Red
Shift کی مدد سے
مطالعہ کیا گیا جس سے کائناتی پھیلاؤ کا اندازہ لگایا گیا جیسا کہ اوپر ذکر کیا
گیا ہے جو شعاعیں زمین کی طرف آرہی ہیں ان کی فریکوئنسی زیادہ ہوتی ہے یعنی لطافت
زیادہ ہوتی ہے اور دور جانے والی شعاعوں کی لطافت زیادہ ہوتی ہے۔ لطافت کی اس کمی
اور زیادتی کی وجہ سےشعاع میں کشش یا گریز پیدا ہوتا ہے یا شعاع مکمل طور پر نیوٹرل
ہوتی ہے۔ Red Shift کے ذریعے معلوم ہونے والے فاصلے اور اس کے
موازنہ کے قانون کو Hubble کا قانون کہتے ہیں۔
Hubble کے نظریہ کے بعد کائنات کی پیدائش یا نقطۂ
آغاز کا سوال پھر سے اٹھایا گیا، سائنسدانوں نے کائنات کو ریڈیو دور بین سے گہرائی
میں تلاش کیا تو حیرت انگیز طور پر انہوں نے انتہائی مبہم مگر نہایت لطیف مائیکرو
ویو شعاعوں کامنبع دریافت کیا۔ اس ماورائی زون کی لطافت سے متعلق ماہرین کے نزدیک
ناقابل یقین مشاہدہ یہ تھا کہ ان شعاعوں
کا پھیلاؤ اور لطافت ہر سمت میں یکساں تھی جو دوسرے سائنسی نظریات کے برعکس تھا
رائج نظریات مختلف لطافت اور درجہ حرارت کے زون کے وجود کی پیشن گوئی کر رہے تھے۔
اس الجھے ہوئے مسئلے کا حل ایلن گوتھ نے 1980ء میں یہ دیا کہ بگ بینگ کے فوراً بعد
وقت کے انتہائی چھوٹے لمحے میں کائنات سرعت سے پھیل گئی یہ پھیلاؤ بگ بینگ کے حجم
کے مقابلے میں
سلسلہ عظیمیہ کے
خانوادہ عظیمی صاحب روشنی سے بھی تیز لہروں کی موجودگی کی وضاحت میں فرماتے ہیں:
” سائنسدان روشنی کو زیادہ سے زیادہ تیز رفتار قرار دیتے ہیں لیکن وہ اتنی تیز رفتار نہیں ہے کہ زمانی اور مکانی فاصلوں کو منقطع کر دے۔ البتہ انا کی لہریں لاتناہیت میں بیک وقت ہر جگہ موجود ہیں زمانی مکانی فاصلے ان کی گرفت میں رہتے ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان لہروں کے لئے زمانی مکانی فاصلے موجود ہی نہیں ہیں روشنی کی لہریں جن فاصلوں کو کم کرتی ہیں انا کی لہریں ان ہی فاصلوں کو بجائے خود موجود نہیں جانتے۔“
یہ بات اپنی جگہ
قابل ِ غور ہے کہ ہماری زمین تک پہنچنے
والی شعاعوں کی مقدار اپنے منبع سے خارج ہو نے والی شعاعوں کی مقدار کا ایک
انتہائی فریکشن یا چھوٹا حصہ ہے یعنی صرف وہ حصہ ہے جس کا رخ ہماری زمین کی جانب
ہے کائنات میں بقیہ اطراف میں ان شعاعوں کا پھیلاؤ کیسے ہے اور کیا کردار ادا کر
رہا ہے اس حقیقت کا ہمیں ابھی پتہ نہیں چل سکا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اسی دوران
ان بنیادی اجزا کی ترکیب عمل میں آئی جنہیں کوارک گلوآن پلازمہ کہتے ہیں ۔ اس
پلازمہ کے دونوں رخ تخلیق ہوئے جنہیں مادہ اور ضد مادہ کہتے ہیں بگ بینگ کے ہزاروں
سیکنڈ کے بعد دونوں رخ آپس میں ایک دوسرے میں جذب ہوتے ہوئے اور مادہ(Matter) کی نوزائیدہ شکل میں تبدیل
ہو گئے۔ تین منٹ کے اندر ارتعاش کی مقدار میں مزید کمی آئی۔ حرارت کم ہو گئی اور
بنیادی عناصر ہائیڈروجن اور ہیلیم کی تخلیق عمل میں آئی۔ کوارک گلو آن پلازمہ کو
ابھی تک نہ بنایا جا سکا ہے اور نہ ہی اس کے آثار کے شواہد ابھی تک تجرباتی طور پر
ثابت کئے گئے ہیں۔
سائنسدان اس بات
پر بھی نظریاتی طور پر متفق ہیں کہ ایٹم کے ذرات پروٹان اور نیوٹران کی اساس کوارک
ہے۔ کوارک کو پیدا کرنے کے لئے سائنسدان سرعتی زری آلات مثلاً (Particle Accelerator) چیمبر کی مدد
سے ایٹمی ذرات کو انتہائی اتنی زیادہ رفتار سے حرکت دیتے ہیں کہ ان میں شکست و
ریخت کے عمل سے بنیادی ذرہ حاصل ہو جائے مگر ابھی تک نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔
3 منٹ سے لے کر تقریباً چالیس لاکھ سالوں تک
کائنات گرم اور کثیف رہی۔ اس وقفہ کے بعد کائنات کا درجہ حرارت اتنا گر گیا کہ اس
میں سے مادہ اور توانائی یا روشنی الگ الگ ہو گئے۔ شکل نمبر 9 میں دکھائی گئی
تصویر میں کہکشاں UDFY-38135539
اسی ابتدائی دور کی ہے جو کہ شکل نمبر 1 کے مطابق مبداء یا صفر وقت سے 48
کروڑ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔
اسی ضمن میں
بانی قلندر بابا اولیاء ؒ فرماتے ہیں:-
” حضرت عیسیٰ
علیہ السلام “ نے فرمایا
“Light God Said Light and There Was”
” اللہ تعالی نے
فرمایا روشنی اور روشنی ہو گئی۔“
قرآن پاک کے
الفاظ میں۔۔۔ کُنْ فَیَکُوْن ” ہو جا “
اور ”ہو گیا“۔
جب ہماری نظر
کسی کتاب کے الفاظ پر پڑتی ہے تو گویا روشنی پڑتی ہے۔ کیونکہ ہم روشنی کے علاوہ
کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتے۔ جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو روشنی پڑھتے ہیں اور جو کچھ
سمجھتے ہیں روشنی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب ہم روشنی پڑھیں گے تو روشنی سمجھیں گے۔
اور جو کچھ ہم سمجھ رہے ہیں وہ محض اطلاع ہے۔ اب کہنا پڑے گا کہ روشنی اور اطلاع
ایک ہی چیز ہے۔“
روشنی اور مادہ
کے مابنین تعلق کی نشاندہی کرتے ہوئے کتاب قلندر شعور کے مصنف عظیمی صاحب فرماتے
ہیں:
” ہمیں یہ علم
ہے کہ ہمارے کہکشانی نظام میں بہت سے اسٹار یعنی سورج ہیں وہ کہیں نہ کہیں سے روشنی لاتے ہیں ان کا درمیانی فاصلہ کم از
کم پانچ نوری سال بتایا جاتا ہے جہاں ان کی روشنیاں آپس میں ٹکراتی ہیں ، وہ
روشنیاں حلقے بناتی ہیں۔ جیسے ہماری زمین یا اور سیارے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا سورج
سے یا کسی اور اسٹار سے جن کی تعداد ہمارے کہکشانی نظام میں دو کھرب بتائی جاتی ہے
ان کی روشنیاں سنکھوں کی تعداد پر مشتمل ہیں اور جہاں ان کا ٹکراؤ ہوتا ہے وہیں
ایک حلقہ بن جاتا ہے جسے سیارہ کہتے ہیں۔“
ریڈیو دور بین
کی مدد سے اربوں نوری سالوں کے فاصلے پر ایک ایسے شعاعی منبع کا بھی سراغ ملا ہے
جسے ”کواسار“ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ فلکیات کے ماہرین کی رائے میں کواسار کے مرکز
میں بلیک ہول ہوتا ہے۔ بلیک ہول مادہ اور
حرارت کی آمیزش کرتا ہے اور انتہائی سرعت سے حرکت جاری رکھتا ہے بلند رفتار کی وجہ
سے مادہ اور روشنی الگ ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ مادہ میں شفاف پن آجاتا ہے اور مادی
کائنات بنانے کے لیے بنیادی مادہ فراہم ہو جاتا ہے۔ شکل نمبر 9 میں تخلیق کا طریقہ
دکھایا گیا ہے۔ روشنی اور مادہ کے الگ ہونے کے بعد دھواں نظر آرہا ہے۔ یہ بات واضح
رہے کہ موجودہ سائنسی نظریات کے مطابق نامیاتی کیمیا میں کاربن کا بنیادی کردار ہے
اور یہی مختلف اشیاء کی تخلیق میں اساس کا کام کرتا ہے۔
ابتدائے
کائنات 3
کھرب سال پہلے ہوئی۔ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بننے والے ابتدائی ستارے حجم
میں ضخیم مگر مختصر طبعی زندگی کے حامل ہوتے تھے جس کی بنیادی وجہ دھاتی مقدار میں
کمی یا بالکل نہ ہونا تھا یہ ستارے ٹوٹنے کے بعد آپس میں مدغم ہو کر ہمارے آج کے
سورج کی ابتدائی شکل میں ڈھلتے گئے۔ ماہرین فلکیات سورج پر پائے جانے والے عناصر
میں دھاتوں کی بڑی مقدار بتاتے ہیں جو اس کے موجودہ استحکام میں بنیادی کردار ادا
کر رہی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ سورج کی شکل اختیار کرنے میں ایک
طویل ارتقائی عمل جاری رہا۔ جس کا دورانیہ اربوں سال پر پھیلا ہوا ہے سورج سے اتنی
بڑی مقدار میں حرارت کیسے خارج ہورہی ہے اس کا جواب آئن اسٹائن کی مشہور زمانہ
مادہ و توانائی کی مساوات سے دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق سورج میں نیوکلیائی
توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے جس سے ہائیڈروجن تبدیل ہو کر ہیلیم بن جاتا ہے۔ سورج سے
آنے والی روشنیوں کی طیف روشنیوں کے مختلف رنگوں کا پیمائشی نظام اس بات کی
تجرباتی طور پر تصدیق کی ہے کہ نیو کلیائی جوڑ سے ہائیڈروجن کو ہیلیم میں بدلا جا
سکتا ہے۔ اس عمل کی نظریاتی اور تجرباتی تصدیق نے ثابت کیا ہے کہ سورج میں اس قسم
کی ہائیڈروجن اور ہیلیم موجود ہے جیسی ہماری زمین پر پائی جاتی ہے۔
کائنات کیا
واقعی پھیل رہی ہے؟ اس پھیلاؤ کا کیا مقصد ہے؟ کائنات کا پھیلاؤ کیسا ہے؟ کائناتی
اجسام کے خدوخال اور ان کے مابین کیا کردار
ہے؟
اس حقیقت سے
پردہ اٹھانے کے لیے موجودہ سائنس عرصے سے مصروف ہے کہ کائنات کا نقطۂ آغاز کہاں ہے
اور وہ کہاں جا رہی ہے؟ اس رخ پر حتمی نتائج بالکل نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہیں۔
قلندر شعور میں عظیمی صاحب تخلیق کائنات کت مخفی
فارمولوں میں آسمانی کتابوں کے حوالے سے بتاتے ہیں:-
” آسمانی کتابوں
میں ہے کہ آسمان اور زمین جس بساط پر قائم ہے وہ ایک روشنی ہے جو ہر لمحہ ہر آن
کائنات کی ہر چیز کو اللہ کے ساتھ وابستہ کئے ہوئے ہے۔“۔