Topics

کائنات نور ہے۔اور نور کائنات کی زندگی ہے

اس عنوان کو سمجھنے کے لئے سورۃ النور کی آیت 35 تا 40 پڑھ کر غور کیجئے۔

بانی قلندر شعور، حضور قلندر بابا اولیاؒ کا ارشاد گرامی ہے:

”پوری کائنات ایک مرکزی نقطہء وحدانی رکھتی ہے۔اس نقطہ وحدانی کی گہرائیوں میں روشنیوں کے سر چشمے مخفی ہیں۔ اس نقطہ وحدانی سےروشنیاں جو ش کھاتی اور ابلتی رہتی ہیں۔“

کائنات کے اندر ہر لمحہ ان ہی روشنیوں سے ستاروں اور سیاروں کے لاشمار نظام تعمیر ہوتے رہتے ہیں اور تقریباً اس ہی تعداد میں مٹتے اور فنا ہوتے رہتے ہیں۔“

کائناتی وسعت میں روشنیوں کے عمل دخل کی وضاحت میں حضور قلندر بابا اولیا ؒ مزید فرماتے ہیں:

” یہ روشنیاں دم بدم کائنات کو وسعت دیتی رہتی ہیں۔ روشنیوں کی حرکات نئی صورتوں اور نئے نئے نقوش کی طرزوں میں کائنات کی تفصیل کرتی رہتی ہیں“

اکیسویں صدی کے ابتدا میں ماہرین فلکیات اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب شہرہ آفاق فلکیاتی دور بین ”ایڈورڈہبل“ سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر سے کائناتی وسعت کا اندازہ لگایا گیا۔ نتائج سے انکشاف ہوا کہ ہماری کائنات اتنی پرانی نہیں جتنی آج تک پیشین گوئی کی گئی۔ خبر کے پھیلتے ہی ماہرین فلکیات نے اپنی جدید ترین دور بینوں کا رخ خلاؤں کے اَن دیکھے گوشوں کی طرف موڑ لیا۔وہ پُر یقین تھے کہ دنیا کئی ارب سالوں سے زیادہ جوان ہے۔ ایک نقطہ پر سب متفق تھے کہ کائنات کا بہت سا حصہ نہ صرف چھپا ہے بلکہ اس کو دیکھنا بھی ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ تحقیقات کے متضاد دعووں نے جہاں عام آدمی کو الجھن میں ڈالا وہیں ریاضی ، طبیعیات اور فلکیات جیسے علوم کے ماہرین بھی ابتدائے کائنات کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے۔ ان گنت سوالات کے جوابات اب پھر سے سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔

کائنات کا پھیلاؤ کتنا ہے؟

کائنات کا کتنا حصہ چھپا ہوا ہے؟

کائنات نظام کی فعالیت میں ہم آہنگی پیدا کرنے والا دل کہاں دھڑک رہا ہے؟

کائنات کا مرکز کہاں ہے؟



روایتی زاویہ نگاہ سے ہٹ کر روحانی مشاہدات و تجربات پر مبنی سائنس کی روشنی میں ماہر علوم باطنی ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاؒ مرکزِ کائنات کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں : تمام کائنات میں کشش اور گریز کے کروڑ ہا حلقے پائے جاتے ہیں ان حلقوں میں ہر حلقہ ایک مرکزیت رکھتا ہے لیکن ان تمام حلقوں کی مرکزیتیں ایک نقطہ کی سمت میں  متحرک رہتی ہیں۔

نقطہ وحدانی سے حلقوں کی ان مرکز یتوں میں نور کی شعاعوں کا ایک سلسلہ ازل سے ابد تک جاری اور قائم ہے۔“

NASA  کے ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ دنیا قدیم ترین ہے مگر حالیہ انکشاف اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دنیا زیادہ قدیم نہیں ہے ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ :

دنیا کب تخلیق ہوئی؟

اس عجیب و غریب اسرار و کمالات سے بھر پور کائنات کے خدوخال اپنے ارتقائی عروج پر کیا اختیار کریں گے؟ایک طرف  سائنس دان اپنے ہی پیش کردہ نظریات کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں تو دوسری طرف فلکیاتی دور بینیں کائنات کی نامعلوم وسعتوں میں اجرام کی موجودگی کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ جو اپنی ساخت میں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔

کہیں مادہ بن رہا ہے تو کہیں مادہ فنا ہو رہاہے۔۔۔

کہیں روشنی دکھائی دے رہی ہے۔۔۔۔ تو کہیں رشنی اندھیروں میں گم!

حیران کن بات یہ ہے کہ اخذ کردہ تصورات اور ماڈل جہاں گزشتہ فلکی خاکوں کی نفی کر رہے ہیں وہیں وہ طویل المدت رائج نظریات کی بنیادوں کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ لچھے دار کہکشاؤں کی حرکات ، دھوئیں کی مانند گرد و غبار میں اٹی رنگ رنگ سر گرمیاں ، سب سے بڑھ کر خلا میں بھنبھناتی ، سرگوشیوں کی مانند آوازوں کا ریکارڈ کائنات کی غیر معمولی ماہیت کے نئے نئے دریچے کھول رہا ہے۔ جو تاریکی ہم بچپن میں آسمان پر پھیلے ستاروں کے مابین دیکھتے تھے اب وہاں مزید روشن یا تاریک تر ستاروں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ساکت ستاروں کے پڑوس میں مزید آوارہ افلاک ستارے مشاہدہ کئے گئے۔ حتیٰ کہ ایسے عظیم الحبثہ ستارے بھی معلوم کئے گئے جو کسی شارک مچھلی کی طرح چھوٹے چھوٹے ستاروں کو نگل رہے ہیں جیسا کہ شکل نمبر ۱ میں دکھایا گیا ہے۔ستاروں کے چھوٹے چھوٹے جھرمٹ بڑے ستاروں کے گرد ہجوم بناتے اور بڑے ستارے  نامعلوم ترتیب سے کائناتی نظام میں معین و مزین نظر آرہے ہیں۔۔۔ رنگ رنگ کہکشائیں ہیں کہ تہہ در تہہ لا محدود وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔

اندازہ لگایا گیا ہے کہ وسعتِ کائنات کا فقط 1/1042  حصہ ہی ابھی تک ہمارے علم میں ہے۔1042 کا شمار سمجھنے کے لئے ایک ایسے مکعب یعنی CUBE کا تصور کریں جو ایک ہزار کھرب نقاط لمبا۔۔۔ ایک ہزار کھرب نقاط جتنا چوڑا اور اتنا ہی گہرا ہو۔ ایسے مکعب کا حجم ہماری  کائنات کی وسعت کے برابر مانا جا سکتا ہے، جس کا ایک نقطہ ہمارا نظام شمسی بتایا جاتا ہے۔ ایسے میں آپ  کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کیا واقعی کائنات اتنی وسیع ہے یا یہ شمار بھی محض ایک گمان ہے؟

بیسویں صدی کی ابتداء میں سائنسدانوں کا ایک بڑا گروہ اس بات پر کلی طور پر متفق تھا کہ روشنی سے زیادہ رفتار ناممکن ہے اور نہ ہی روشنی پر کسی قسم کی کشش کا اثر ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی میں ترقی اور مشاہداتی بالیدگی کے ساتھ دو دہائیوں بعد ہی محققین کے مختلف حلقوں میں خبر پھیلی کہ نہ صرف روشنی کی رفتار قابلِ شمار ہے، بلکہ بلیک ہول جیسے اجرام فلکی کی کشش سے روشنی اپنا راستہ بھی بدل دیتی ہے جہاں یہ خبر نئی نسل کے سائنسدانوں کے بہت سے شکوک و شبہات کے حق میں مثبت تھی، وہیں پنڈت سائنس دان و ماہرین فلکیات کے لئے ایک انتہائی پریشان کن صورتحال تھی مشہور طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق ”علم کی سب سے بڑی دشمن جہالت نہیں بلکہ علم میں شکوک و شبہات ہیں۔“

اجتماعی ابہام علم شے میں شک اور بے یقینی کے طوفان کو جنم دیتا ہے، یہ خلجان (گومگو کی حالت) اپنے اطمینان کے لئے نئے نئے رجحانات پیدا کرتا ہے ، نئے نئے مفروضوں پر مشتمل نظریات مرتب کرتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد خود ہی انہیں جھٹلا دیتا ہے۔کائناتی وسعت کے ضمن میں 1/1042 کا شمار انسانی ذہن یا سائنسدانوں نے کیسے اخذ کیا؟

اس پر غورو فکر ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔۔۔۔

بقیہ علوم کی مانند ماہرین فلکیات بھی اجرام فلکی کی ضخامت ، ان کے مابین فاصلے اور روشن ساخت کے بارے اعداد و شمار کا سہارا لیتے ہیں مگر کائناتی نظام میں نت نئے مشاہدات اور ان گنت اجرام فلکی کے ریکارڈ کے لئے روایتی پیمائشی نظام نا کافی ہو جاتا ہے مثلاً عام طور پر فاصلے کے لیے کلو میٹر ، مادہ کی مقدار کے لیے کلو گرام اور وقت کے لیے سیکنڈ کی اکائیاں استعمال کی جاتی ہیں ، مگر1042  وسعت پر محیط نظام میں فاصلے ، مادے کی مقدار اور وقت کی پیمائش کے لئے بڑی اکائیاں وضع کرنی پڑتی ہیں۔ مثلاً جب ہم زمین پر چلتے ہیں تو فاصلے کومیٹر یا کلو میٹر میں ناپتے ہیں۔ حد نگاہ کا افقی فاصلہ 450 کلو میٹر بتایا جاتا ہے۔ بحری سفر کے فاصلے ناٹیکل میل میں لکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح آسمانی فاصلے  سورج اور زمین کے مابین فاصلے کی اکائی میں ناپے جاتے ہیں۔  بتایا جاتا ہے کہ سورج زمین سے 9 کروڑ تیس لاکھ میل دور ہے یعنی سورج سے زمین تک کے فاصلے کو ایک فلکی اکائی (AU) مانا جاتا ہے یہ تخمینہ کیسے لگایا گیا؟ یہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔۔۔۔

ہم اپنے نظام شمسی کے پھیلاؤ کی مثال کراچی شہر کے محل وقوع سے واضح کر سکتے ہیں۔ فرض کریں کلفٹن کے ساحل پر 36 فٹ بڑا دائرہ سورج کے مماثل ہے جس کے قریب ترین سیارہ عطارد کلفٹن فن لینڈ یا مچھلی گھر کے قریب واقع ہے تو زمین اس سے چھ گنا فاصلے یعنی تقریباً کینٹ اسٹیشن پر واقع ہے۔ نزدیکی سیارہ مریخ اس سے سات گنا فاصلے یعنی ایمپریس مارکیٹ صدر کے قریب ہے۔ پلوٹو جو کہ سب سے چھوٹا سیارہ ہے ساحل کلفٹن سے 450 میل کی مسافت پر ہے۔ یعنی ہمارے نظامِ شمسی کی وسعت ساحلِ کلفٹن سے 450 میل دوری تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسی مثال کو اگر ہم فلکی اکائی (AU)  کی مدد سے سمجھنا چاہیں تو سورج سے زمین 1AU ، مشتری 5AU اور آخری سیارہ پلوٹو 45AU کے فاصلے پر محوِ گردش ہے۔ ہمارے نظام شمسی میں روشنی کا منبع اکلوتے سورج کو بتایا جاتا ہے۔ روشنی کی رفتار فی سیکنڈ تین لاکھ کلو میٹر بتائی جاتی ہے، اس شمار کے مطابق سورج سے یہ روشنی تقریباً 8 منٹ میں زمین پر پہنچتی ہے۔ بالفرض اگر روشنی کی رفتار سے سفر ممکن ہو تو  فی سیکنڈ تین لاکھ کلو میٹر کی مسافت طے کرتے ہوئے نزدیک ترین سورج پر ہم چار سال میں پہنچ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ہمارا سورج کرہ ارض پر موجود تمام سمندروں کے کناروں میں پھیلی ریت کے کل ذرات میں سے ایک ذرہ کی مانند ہے ہمارا سورج جس کہکشانی نظام کا حصہ ہے اسے ملکی وے یا دودھیا پٹی کہتے ہیں۔یہ دودھیا پٹی مرکزی رنگ کی کیوں ہے؟ آسمان نیلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟ یہ مضمون ان سوالوں کا احاطہ نہیں کرتا۔

ملکی وے سے نزدیک ترین کہکشاں بھی لاکھوں نوری سال کے فاصلے پر بتائی جاتی ہے۔ علم فلکیات میں اکثر لا محدود فاصلوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ درحقیقت سائنسی طریقہ کار میں جب مظاہرات مشاہداتی سکت اور ٹیکنا لوجی کی حدود سے باہر ہو جاتے ہیں تو قیاس کر کے انہیں لامحدود یا infinity  شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مظاہرات وسیع تر کائنات سے لے کر انتہائی چھوٹے نا قابل دید ایٹمی ذرات کے مابین پائے جاتے ہیں۔

وسیع و عریض کائنات میں کل کتنی کہکشائیں ہیں یا کتنی دودھیا پٹیاں موجود ہیں؟ اس کا بالکل صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔ ماہرین اپنا شمار کروڑوں اور اربوں میں بتاتے ہیں ساتھ ہی ساتھ ان کے مابین مسافت کا دورانیہ بھی کروڑوں سال بتایا جاتا ہے جب ہم عام قاری کی حیثیت سے ان تمام انکشافات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہماری حالت اس چیونٹی سے قطعاً مختلف نہیں نظر آتی جو دنیا کے سب سے بڑے تعمیراتی شاہکار ، 830 میٹر بلند و بالا برج العرب ٹاور کی وسعت کا احاطہ کرنے کی سعی کر رہی ہو۔ چیونٹی کی مانند سائنسدان بھی چمکتے دمکتے ستاروں کی وسعت اور مقامات کا تعین اپنی رائج فہم اور وسائل کے مطابق نقشوں میں ڈھالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ستاروں ی مختلف ترتیب گروہ درگروہ دکھائی دیتی ہے۔ جنہیں ماہرین عہد قدیم سے شیر ، بچھو اور شکاری کی شکل میں اپنے فلکی نقشوں میں دکھاتے رہے اسی طرح تاریک راتوں میں ہمارے سر کے عین اوپر پانچ ستاروں کے جھرمٹ کو ”ہل“ سے ظاہر کیا جاتا ہے ایسا ہی ایک نقشہ شکل نمبر ۲ میں دکھایا گیا ہے۔ یاد رہے ہل سے زراعت میں مدد لی جاتی تھی جسے کسان زمین کو نرم کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں آسمانی ستاروں کی تفہیم کے ارضی مخلوقاتی نقوش نہ صرف باقاعدہ سائنسی نصاب کی حیثیت اختیار کرتے گئے بلکہ وہ تہذیب انسانی کی مذہبی اور ثقافتی رسومات کا حصہ بھی بنتے گئے۔ حتیٰ کہ آفات و مصائب کے ذمہ دار بھی آسمانی اجرام ٹھہرائے گئے۔ ستاروں کی ترتیب نعمتوں اور خوشحالی کی علامت بن گئی ۔ قسمت و نحوست ، راحت و سکون اور رنج و غم کے تناظر میں ستاروں کے کردار کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔ جدولیں مرتب ہوئیں حتیٰ کہ نامعلوم تہذیب انسانی نے ستاروں سے align کرہ ارض پر بلند و بالا پتھروں کے مینار تعمیر کئے۔ ایسے آثار انگلینڈ کے جنوب مغرب میں واقع اسٹون ہنچ اور اہرامین کی شکل میں دریافت کئے گئے ہیں یہ اہرامین بڑی تعداد میں مصر کے صحراؤں میں، برازیل اور میکسیکو کے گھنے جنگلات میں اور جاپان کے مشرقی ساحل پر زیر سمندر پائے گئے ہیں۔ جن کی تعمیر میں ایک مخصوص جیومیٹری کے ساتھ ساتھ ، آسمانی روشن ستاروں کے ساتھ پوزیشن کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔ سب سے نمایاں ان کی قطبی تارے سے alignment ہے۔ مایا تہذیب کے اہرام ہمارے سورج کے طلوع و غروب کے سالانہ نہ دورانیہ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ستاروں سے مطابقت قدیم تہذیبوں کی زندگی میں کیا کردار ادا کرتی تھی؟ اس کا بالکل صحیح علم ماہرین ِ آثار قدیمہ اور ماہرین فلکیات کے بقول ان کو نہیں ہے۔

کائنات نورہے۔ ۔روشنی ہمیں حواس دیتی ہے

دور بین میں بنیادی ساخت عدسوں پر مبنی ہوتی ہے۔ ٹیکنا لوجی میں ترقی نے مشاہداتی آلات میں جدت پیدا کی۔ بیسویں صدی کی دوسری دھائی میں 8 فٹ لمبی فلکیاتی دور بین تیار کی گئی۔ جو کہ انتہائی شفاف آئینوں اور عدسوں پر مشتمل تھی اس کا مقصد دور دراز ستاروں سے آنے والی روشنیوں کے ارتکاز میں اضافہ تھا جس سے قسم قسم کے ستاروں کا ادراک ہوا۔۔۔مشاہداتی گہرائی سے نسبتاً درست نتائج اخذ کرنے میں مدد ملی اور اجرامِ فلکی کے خدو خال نکھرتے گئے۔ یاد رہے کہ سائنسی نظر ئیے کے مطابق ہماری آنکھ اشیاء کے خدوخال اس وقت محسوس کرتی ہے جب خارج سے روشنی ان اشیاء سے منعکس ہو کر آنکھ میں داخل ہوتی ہے روشنی کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی شے کی تفصیلات اسی مناسبت سے ہماری آنکھوں میں شبیہ بناتی ہیں۔ روشنی کی کمی شبیہ کو واضح اور مبہم کرتی ہے فلکی دور بین میں دور دراز اجرامِ فلکی کے عکس کو فوٹو گرافک پلیٹ ( جیسے کیمرہ کی سلیولا ئیڈ فلم ہوتی ہے) پر لیا جاتا ہے یہاں یہ بات دُہرانا ضروری ہے کہ ہماری آنکھ روشنی کی لہروں کی مخصوص مقدار دیکھ سکتی ہے۔جب کہ فوٹو گرافک پلیٹ اور کیمرہ لہروں کی کچھ زیادہ مقدار ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کی موجودہ مشاہداتی و تجرباتی سکت مظاہرات میں روشنی کے صرف انعکاسی کردار کو ہی جانتی ہے۔ جب کہ باطنی علوم کے ماہرین کے نزدیک روشنی کا کردار کثیر الجہت ہے علم الاشیاء کے حصول میں روشنی کے کردار کی تشریح کرتے ہوئے روحانی سائنسدان حضور قلندر بابا اولیاؒ فرماتے ہیں:

”ہم روشنی کے ذریعے دیکھتے یا سنتے ، سمجھتے اور چھوتے ہیں۔

روشنی ہمیں حواس دیتی ہے۔

جن حواس کے ذریعے ہمیں کسی شے کا علم حاصل ہوتا ہے وہ روشنی کے دیئے ہوئے ہیں۔ اگر روشنی درمیان سے حذف کر دی جائے تو ہمارے حواس بھی حذف ہو جائیں گے ۔ اس وقت نہ تو ہم خود اپنے مشاہدہ میں باقی رہیں گےاور نہ کوئی دوسری شے ہمارے مشاہدے میں باقی رہے گی۔“


متذکرہ بالا اصول کے مطابق ہماری نگاہ روشنی دیکھتی ہے اجرام فلکی کے مشاہدے میں ہماری نگاہ کیا دیکھتی ہے یا بالفاظ دیگر فلکی دور بین سے کیا نظر آرہا ہے اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے قلندر بابا صاحب ؒ مزید فرماتے ہیں:

” اللہ تعالی کا علم کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

کائنات کا ہر ذرہ بصورت ِ خلا اللہ تعالیٰ کے نور میں واقع ہے۔

دیکھنے والوں کو اللہ تعالی ٰ کا نور نظر نہیں آتا صرف کائنات کا خلاء نظر آتا ہے جس کو وہ اشیاء۔۔۔ چاند ، سورج، زمین ، آسمان آدمی جانور وغیرہ وغیرہ کہتا ہے۔“

مکینیکل انجینئرنگ کی ترقی کے ساتھ ساتھ فلکی آلات میں پیمائش کے طریقہ ہائے کار میں درستگی بھی بڑھتی گئی۔ایڈورڈھبل نےنیبولایا گردو غبار کے بادلوں کا تفصیلی مطالعہ کیا جس کے نتائج انگشت بدنداں تھے۔ ملکی وے پر موجود ایک ستاروں کا انتہائی روشن جھرمٹ خود مکمل کہکشاں نظر آیا۔ یہ انکشاف ہوا کہ یہ کہکشانی نظام جسے ” اینڈ رومڈا“ کا نام دیا گیا ہے ملکی وے ایک پٹی کی مانند دکھائی دے رہی ہے جب کہ بیضوی لچھے دار کہکشاں ” اینڈ رو مڈا“ ہے۔ ہماری پڑوسی کہکشاں ہم سے بیس لاکھ نوری سال کے فاصلے پر بتائی جاتی ہے اس طرح نت نئے مشاہدات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ساتھ ہی ساتھ ان کی حرکات و سکنات کا بھی تخمینہ لگایا گیا یہی وہ دور تھا  جب ڈاپلر نامی ایک سائنسدان نے متحرک اجسام سے خارج ہونے والی لہروں کے احساس کے ساتھ متعلق انوکھا نظریہ پیش کیا اس نے مشاہدہ کیا جب کوئی گاڑی ہارن بجاتے ہوئے ہمارے قریب اتی ہے تو اس کے ہارن کی آواز کی پچ یا سریلا پن بڑھ جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب گاڑی ہماری طرف بڑھ رہی ہوتی ہے تو اس سے خارج ہونے والی لہروں کا ہمارے کانوں میں احساس بڑھ جاتا ہے یعنی ہمارے کانوں میں فی سیکنڈ موصول ہونے والی لہروں کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور سریلا پن گہرا ہوتا جاتا ہے اسی طرح جب گاڑی سامع سے دور ہو جاتی ہے تو فی سیکنڈ موصول ہونے والی لہروں کی مقدار کم ہونے سے سریلا پن کم ہو جاتا ہے اور دھمک بڑھ جاتی ہے جسے عام الفاظ میں آواز کے موٹے پن سے موسوم کیا جاتا ہے۔ سریلی آواز کو خواتین کی آواز اور موٹی یا بھاری آواز کو مردوں کی آواز سے مماثلت دی جا سکتی ہے اسی طور دور دراز کہکشاؤں سے آنے والی روشنی جب ہماری طرف بڑھ رہی ہوتی ہے تو اس کی رنگت ہلکے نیلے سائے سے گہرے نیلے رنگ میں بدل جاتی ہے اس کے برعکس رنگت کا تغیر دور جانے والی روشنی میں ہلکے سرخ رنگ سے گہرے سرخ کی شکل میں دکھائی دیتا ہے جو کہ روشنی کی شدت میں کمی کو ظاہر کرتا ہے واضح رہے کہ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی اشیاء کی فضا ہمیں نیلے رنگ کے مختلف سایوں کی شکل میں نظر آتی ہے۔ اس کی تفصیل احاطہ تحریر سے باہر ہے۔

کہکشانی نظام کے سرخ شعاعی پھیلاؤ کے نئے مشاہداتی زاویہ نے فلکیاتی علوم میں نئے باب کا اضافہ کر دیا یا ماہرین فلکیات یک زبان گویا ہوئے کہ:

”کہکشانی نظام کسی نامعلوم سمت میں رواں دواں ہے۔“

اس سے بڑھ کر یہ کہ تمام کائنات ہمہ وقت پھیل رہی ہے۔ آئن اسٹائن اور ہم عصر طبیعیات دانوں کا خیال تھا کہ ،

” دنیا ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گی “

اس کے برعکس نیا نظریہ کہ کائنات پھیل رہی ہے ایک ارتقائی عمل کی نشاندہی کر رہا تھا جو آئن اسٹائن اور اس کے ہم عصروں کے نظریات سے کلی طور پر متصادم تھا۔ دور بینوں کی نئی مشاہداتی تصاویر اور فلکیاتی دور بین کے ازخود مشاہدات نے نامور سائنسدانوں پر سکتہ طاری کر دیا ، اُن کے گزشتہ پیش کردہ نظریات ، نئے اَن گنت سوالوں کا جواب دینے سے قاصر تھے جو کائناتی ارتقاء کے بارے میں ماہرین کے ذہنوں میں اٹھ رہے تھے۔

غرضیکہ طبیعیات دان ، ماہرین ِ فلکیات اور ریاضی دان اس پہیلی کو سلجھانے میں لگ گئے کہ اگر کائنات پھیل رہی ہے تو اس پھیلاؤ میں کون کون سے عوامل کار فرما ہیں؟

پھیلاؤ کا یہ عمل کس نظام کے تحت جاری و ساری ہے؟

ممکنات کی گرد ایک بار پھر اٹھنا شروع ہوگئی ابہام گہرے ہوتے گئے سب کے ذہنوں میں ایک جیسے سوال تھے۔

٭       کائنات کا کوئی نہ کوئی نقطہ آغاز ہے؟

٭       اتنی وسیع مادی کائنات کہاں سے ظاہر ہو رہی ہے؟

٭       نقطہ آغاز میں Big Bang  کا محلِ وقوع کیا ہے؟

طبیعیات دانوں کی رائے میں کائنات کا آغاز انتہائی چمکدار اور بدرجہ اتم حرارت سے ہوا جس نے بنیادی ایٹمی ذرہ ہائیڈ روجن کو جنم دیا یہ ہائیڈ روجن ایٹم سرعت سے پھیلتے گئے اور ٹھنڈے ہوتے گئے آپس میں مدغم ہوگئے گرد و غبار کے دھوئیں بنتے گئے بالآخر کہکشاؤں اور ستاروں کی جھرمٹ کی شکل میں بکھر گئے۔ ماہرین فلکیات بتاتے ہیں ہائیڈروجن کا جلنا ہی روشنی کے اخراج کا سبب ہے اس طرح ہائیڈ روجن کی مقدار ، کہکشانی نظام کی عمر کا تعین کرنے میں مدد دیتی ہے ڈاپلر کے شعاعی شفٹ کی مدد سے کائنات کی عمر کا تخمینہ لگانے کی کوششیں شروع ہوگئیں ۔ اس طریقہ کار کو یو ں سمجھا جا سکتا ہے اگر آپ کی گاڑی 30 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 60 کلو میٹر کا سفر طے کرتی ہے تو سادہ سے حساب سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ گاڑی اپنے نقطہ آغاز سے دو گھنٹے کی مسافت پہنچتی ہے اسی طرح کہکشانی نظام کے موجودہ مقام کا شمار کیا گیا کائناتی پھیلاؤ کا آغاز 15 سے 20 ارب سال پہلے بتایا جاتا ہے جب کہ اس کی وسعت کے بارے میں حتمی رائے موجود نہیں ہے۔

  سوال یہ ہے ۔۔۔۔ یہ کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ کائنات کا آغاز 20 ارب سال پہلے ہوا جب کہ تاریخ کے حوالے سے ہماری شعوری ذہنی وسعت 5 ہزار سال پہلے سے زیادہ نہیں بتائی جاتی ۔ ہمیں قبل مسیح کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ماہرین فلکیات سے دوسرا سوال یہ ہے ہم نصف زندگی شعوری حالت میں گزارتے ہیں اور آدھی زندگی لاشعوری کیفیات میں بسر ہوتی ہے۔

لاشعوری زندگی میں ٹائم اسپیس کی حیثیت وہ نہیں رہتی جو شعوری حواس میں رہتی ہے۔ موت اور زندگی حیات کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ شعور جس کو تمام مذاہب دن کہتے ہیں حذف کر دیا جائے یعنی دن کا وجود نہ رہے کیا رات کا تذکرہ کسی بھی طرح ممکن ہے؟

رات کے حواس میں دن کے حواس کی حد بندی اس طرح ٹوٹ جاتی ہے یا غائب ہو جاتی ہے کہ ہم  کسی بھی طرح اس کی پیمائش نہیں کر سکتے۔