Topics
علوم لدنی کے
امین حضور قلندر بابا اولیاؒ نے فرمایا:
خانے ہیں دماغ کے
وہ خالی ہیں سب
چیزیں جو نظر آتی ہیں جعلی ہیں سب
ہر لمحہ بدلتا ہے جہاں کا منظر
نظارے بھی آنکھوں کے خیالی ہیں
سب
سائنس دان اور ریسرچر اس بات پر متفق ہیں کہ اشیا کی تمام تر حرکات میں جو توانائی کا بہاؤ ہے وہ اشیا میں موجود ان کی مخصوص ہیئت پر مشتمل ایک جال میں متحرک ہے، اس جال کے باہر کوئی توانائی نظر نہیں آتی۔ یعنی اہمیت توانائی اور جال کی ہے، کسی ایک جزو کی غیر موجودگی شے کے مظاہرہ میں تعطل پیدا کر دیتی ہے۔ اس مضمون میں ہم شے ، اس میں رواں توانائی ، شے کے جال اور شے میں تغیر یعنی اس کے گھٹنے اور بڑھنے کے اسباب اور بالآخر شے کی مکمل طور پر مقصود ہونے کے بارے میں ماہرین کی رائے پیش کریں گے، اشیا میں انسانوں ، جانوروں ، زمین و سمندر کی ماہیئت میں تبدیلی اور بالآخر مکمل طور پر غائب ہونے کے عمل کے فارمولوں پر بحث کریں گے۔ ماہر علم روحانی حضور قلندر بابا اولیاؒ کے فرمان کے مطابق دماغ کے بارہ کھرب خلیات کیسے خالی ہیں؟ آنکھوں سے نظر آنے والے مظاہرات کیسے فکشن ہیں؟ ان تمام باتوں کے علاوہ جناب عظیمی صاحب کی ان تشریحات کا مفصل ذکر کریں گے کہ شے میں تغیر کیا ہے؟ اور اس میں کون سے اسباب کار فرما ہیں۔ ڈائنوسار کا غائب ہونا ، رفتہ رفتہ تمام تر تخلیقات کی معین موت کے کیا معنی ہیں؟ حتیٰ کہ زمین اور سمندر بھی اپنی طبعی عمر یعنی دس ہزار سال پورے کر کے مر جاتے ہیں ۔ ان تمام حقائق کی وضاحت ہم جناب عظیمی صاحب کے ارشادات ، گراف اور اشکال کی مدد سے کریں گے۔
شے کی مادیت اور مظاہراتی خدو خال میں روانی کے علاوہ شے کے مختلف اجزا کے مابین ہمیں بہت سی اسپیس یا خالی جگہ نظر آتی ہے ، جو کہ بظاہر خالی ہوتی ہے مگر اس جگہ میں کام وبیش اسی قسم کے کئی جال موجود ہوتے ہیں (یاد رہے یہاں لفظ اسپیس کے معنی عام لغت میں استعمال ہونے والے معنوں سے قطعاً مختلف ہیں ، اس کی تشریح آئندہ صفحات میں کی جائے گی) پہلے یہ جال آنکھ کے عدسہ کی حدود و قیود کی وجہ سے نظر نہیں آتے تھے مگر اب عدسہ کی مشاہداتی طاقت میں اضافہ کر کے یعنی دور بین یا خورد بین کی مدد سے مشاہدہ کئے جا سکتے ہیں، مثلاً پانی سے بھرے گلاس میں پانی کے علاوہ بظاہر کچھ نظر نہیں آتا ، جب کہ خورد بین کے نیچے اس میں ذی روح اشیا کا جم غفیر دکھائی دیتا ہے۔۔۔غرضیکہ۔۔ برقی رو کا تار ہو ، درخت کا تنا ، یا کسی بھی ذی روح کی رگوں میں بہنے والا مادہ ۔۔۔ سب کے سب کسی نہ کسی مائع سے بھرے ہیں جو ہمہ وقت کسی بھی مادی حالت میں اپنے متعین راستے ( تار، تنا ، رگ وغیرہ) میں رواں داواں ہیں۔ شکل نمبر 1 میں پودے کی رگوں میں گزرنے والے سیال مائع یا پانی کو دکھایا گیا ہے۔ یہ روانی ہی وہ زندگی ہے جو ہمیں مادی آنکھ سے دکھائی ، کانوں سے سنائی ، ہاتھوں سے محسوس ہوتی ہے اور زبان پر ذائقہ کا احساس دلاتی ہے۔ ایک لمحہ توقف کریں اور سوچیں۔۔۔کیا یہ سب حقیقت نہیں ہیں۔۔۔ ایک جال موجود ہے، جس کے تانے بانے چاہےمادہ کی کسی بھی
حالت سے تخلیق
کئے گئے ہوں ، ہم انہیں ٹھوس ، مائع ، گیس اور پلازمہ کے نام سے جانتے ہیں مگر مظاہراتی
خدوخال فکشن کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ یعنی رگ میں مائع مثلاً خون ، لعاب ،
لمف وغیرہ نہ رواں ہوں تو مادی زندگی رک جاتی ہے۔ اسی طرح ہوا کا بہاؤ گاڑی کو
رواں رکھتا ہے جو شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ Container اورContent دونوں ہی مسلسل
اپنی ہیئت تبدیل کررہے ہیں۔جناب عظیمی صاحب کے مطابق ، باطنی مشاہدات دکھاتے ہیں
کہ جال اور جال میں بہنے والا سیال دونوں مسلسل بدل رہے ہیں اور یہ تبدیلی آنکھوں
سے نظر آتی ہے۔
مشاہدہ ہے سورج
نکلتا ہے ، جب کہ عمومی منطقی حساب کتاب بتاتا ہے وہ کب نکلے گا اور کب غروب ہوگا؟
کم و بیش 10 سے 12 گھنٹے تاریکی کے بعد جس افق سے نمودار ہوتا ہے اسے ہم نے مشرق
کا نام دیا ہے!!!
قلندر شعور کے
ماہرین بتاتے ہیں زمین اپنی حرکت کے دوران طولانی اور محوری گردش سے گزرتی ہے جو
اس سے متصل ذریت یا انواع کی زندگی کی بقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آپ اگر
اس گردش کے قانون پر غور کریں گے تو یہ بات بالکل واضح ہے مشاہداتی دنیا چاہے وہ
کہیں بھی ہو اور کسی بھی تانے بانے میں بنی ہوئی ہو، ساری کی ساری طولانی اور
محوری گردش سے گزرتی ہے اور یہی لائف اسٹریم ہے۔
ہم اپنی توجہ کا
مرکز یہاں پھر سے پیمائش کی اکائیوں کی جانب مبذول کرتے ہیں۔ کچھ ہے جس کے گزرنے
کا احساس ہے، ایسا احساس جو ہر ذرے کو ہوتا ہے۔ اس کی پیمائش کس طرح کی جائے غور
کیا جائے تو اس ہیولا کا کیا نام ہ
ہوگا۔
ہیولا کی لغت
کیا ہوگی؟
ہیولا کے حروف
تہجی کیا ہوں گے؟
ہیولا کے بول ، لب و لہجہ کیا ہوگا؟
وقت پر بحث
ہمارا موضوع نہیں مگر آپ شکل نمبر 4a میں مکینیکل
گھڑی ، شکل نمبر 4b میں لیبارٹری کی گھڑی ، شکل نمبر 5 میں
سٹینڈ یا ریت گھڑی ، شکل نمبر 6 میں ثقلی گھڑی اور شکل نمبر 7 میں آبی گھڑی
پر غور کریں اور متذکرہ بالا ”ہیولا“ کے بارے
میں معلوم کرنے کی کوشش کریں اور ہمیں ضرور مطلع فرمائیں۔
بتایا جاتا ہے
کہ ساڑھے چار بلین سال پہلے کرۂ ارض کی تخلیق ہوئی الہامی کتابوں کے مطابق سب کچھ
ایک تھا۔۔ الگ ہوا۔
سفیدی تاریکی سے
الگ ہوئی ۔۔۔ سمندر بنا۔۔
بڑے جانوروں کی
تخلیق عمل میں آئی جنہیں فی زمانہ ڈائنو سار کہتے ہیں۔
ڈائنو سار کے
فضلہ سے چھوٹے جاندار ہاتھی ، شیر ، زرافہ اور گیڈر کی تخلیق عمل میں آئی تھی۔۔
بات منطقی ہے شکل نمبر 8 کے مطابق انسانی فضلہ کے بیکٹریا سے مختلف اقسام کے کیڑے
نمو پاتے ہیں۔۔ انسانی آنت میں بھی کیڑے پائے جاتے ہیں۔
علمائے باطن فی
زمانہ رائج لغت کے تحت شاگردوں کو اور دیگر عوام کو ”ہیولا“ کو وقت سے متعارف
کرواتے ہیں۔
آخر حقیقت کیا
ہے یہ سوال ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔ اس سلسلے میں شکل نمبر 9 میں
گہرا تفکر کریں اس کے اندر دیے جانے والے دائرہ کی گہرائی میں بہت سے نقاط پوشیدہ
ہیں جس کا تعلق زمین کی محوری اور طولانی گردش سے ہے۔۔۔ مگر بات گہری ہے۔۔۔ لیکن
تفکر اس کو روشن کر دیتا ہے۔ زندگی ، زندگی سے تخلیق ہوتی ہے اور یہ عمل مسلسل
جاری ہے ، کیسے؟
”اور ہر چیز کو
ہم نے جوڑا جوڑا بنا دیا تاکہ تم نصیحت پکڑو۔“ (۵۱ : ۴۹)
*******************