Topics
سوچنے ، سمجھنے
اور معنی پہنانے کی طرزیں ۔۔۔ اندازِ فکر کا ثمر ہیں۔ طرزِ فکر جانب دار ہے تو
چیزیں جیسی ہیں ویسی نظر نہیں آتیں بلکہ نگاہ کا زاویہ بنتا ہے۔۔۔ وہ زاویۂ نگاہ بن
جاتا ہے۔ طرزِ فکر غیر جانب دار ہے۔۔ حقیقت نگاہ بن جاتی ہے۔ طبیب زندگی کا بیش تر
حصہ طبی ماحول میں رہ کر طبی طرزِ فکر حاصل کرنے میں گزارتا ہے۔ یہی قانون ایک
ماہر فلکیات اور دوسرے شعبہ کے ماہرین کی زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ رہن سہن ،
عادات اور دیگر مشاغل درحقیقت طرزِ فکر کا عکس ہیں۔
جن مناظر کو ہم
دیکھتے ہیں اور آوازیں سنتے ہیں۔۔ وہ ہم نہیں دیکھتے ، ہم نہیں سنتے ۔۔ حواس خمسہ
سے حاصل ہونے والا علم لاشمار رنگوں پر مشتمل ہے۔ وہ طبعی مظاہرہ جو تصاویر کی شکل
میں ہمارے سامنے سے گزرتا ہے ان کے خدوخال ، خوشبوؤں کے رنگ لا محدود ہیں اور سب
کے سب فریب نظر ہیں۔
موجودہ سائنسی
نظریات کے مطابق آنکھ کی بصری صلاحیت تین سو نینو میٹر سے سات سونینو میٹر کے
مابین ہے۔ یعنی اگر ایک میٹر کے ایک کروڑ حصے کیے جائیں تو مادی آنکھ ایسے تین
حصوں سے کم لمبائی (ویولینتھ) کی روشنی نہیں دیکھ سکتی۔ بات کو اس طرح سمجھا جا
سکتا ہے کہ روشنی کی جو شعاعیں براہ راست یا بیرونی مظاہرات سے ٹکرا آنکھ میں داخل
ہوتی ہیں ، اگر ان کی مقدار ( ویولینتھ) تین سو نینو میٹر سے سات سو نینو میٹر کے
مابین ہو تو مادی آنکھ ایسی روشنی دیکھنے سے قاصر ہے اور محسوس بھی نہیں کرتی۔
مادی آنکھ اور
جدید خورد بین سے عام پانی کا مشاہدہ کریں تو شکل نمبر 39 کے مطابق دائیں آنکھ کا استعمال اور بائیں جانب
خورد بینی زاویہ نگاہ دکھایا گیا ہے۔ محققین ایسے بصری نظام کو ایکویشن (مساوات)
کی شکل میں اس طرح ظاہر کرتے ہیں۔
حاصل شدہ
مشاہدات =
آنکھ کا
مشاہدہ + خورد بین کا
مشاہدہ + . . . . .
سوال یہ ہے کہ اضافی آلات کے خواص شے کے
مشاہدہ میں کیوں شامل ہو جاتے ہیں۔۔؟ شے بذات خود مادہ ہے اور آلات۔ مادہ کو دیکھا
جائے گا تو حاصل ہونے والے نتائج مادیت یا مادیت کے خواص کے علاوہ کیا ہو سکتے
ہیں۔ اس قسم کے سلسلہ وار مشاہدات یعنی Cascading Devices سے حاصل شدہ مشاہدات میں نقص بڑھ جاتا
ہے۔سائنسی زبان میں اسے Entropy کہتے ہیں۔
آپ غور
کریں تو اس طرز کے مشاہدات میں جہاں نقص میں اضافہ کا سبب مادی آلات کا استعمال
ہے۔۔ وہاں شے کو منور کرنے والی روشنی کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ روشنی
کی مختلف اقسام کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے۔ روشنیاں جب صعود کرتی ہیں تو لطافت
بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ سب سے نیچے وہ روشنی ہے جسے ماحولیاتی روشنی یا سورج /بلب /
ٹیوب لائٹ کی روشنی کہتے ہیں۔ کتاب ”لوح و قلم“ میں قلندر بابا اولیاؒ نور اور
روشنی سے متعلق فرماتے ہیں:
”نسمہ وہ مخفی
روشنی ہے جس کو نور کی روشنیوں میں دیکھا جا سکتا ہے اور نور وہ مخفی روشنی ہے جو
خود کو بھی دکھاتی ہے اور دوسری مخفی روشنیوں کو بھی دکھاتی ہے۔“
شکل نمبر 38 میں
فہم یا نگاہ کا قانون بیان کیا گیا ہے۔ ہم یہاں ”ماحول کو منور کرنے والی روشنی“
کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔ یاد رہے نگاہ سے مراد فقط بصارت نہیں۔۔۔ حواس کی
اجتماعیت ہے۔ شکل کے تین حصوں میں نگاہ کے
حصول کے لئے تین
مختلف روشنیوں سے منور شدہ اطلاعات حاصل کی گئی ہیں۔ ایک مثلت کے کونوں پر نظر
(شہود) ، منظور (مشہود) اور ناظر (شاہد) دکھائے گئے ہیں جب کہ نظر جس طرز کی روشنی
استعمال کرتے ہوئے اطلاعات وصول کرتی ہے اسے نظارہ (مشاہدہ) کہا گیا ہے۔ با لفاظ دیگر اگر ہم تیر(Arrow) کے نشانات کے مطابق شکل کی تشریح کریں تو معلو م ہوگا کہ ناظر
(شاہد) جب منظور (مشہود) کا نظارہ (مشاہدہ) کرنا چاہے تو وہ نظر ( شہود) کی کس طرز
کو استعمال کرے گا۔
”اور یہ جو بہت
سی رنگ برنگی چیزیں اس نے تمارے لئے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں ، ان میں نشانی ہے
ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں۔“ (النحل
:۱۳)
ایک اور مقام پر
بیان ہے:
”اس کے پیٹ سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لئے۔ اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں۔“ (النحل ۶۹)
رنگ اور تحقیقات
سے متعلق قرآن میں بہت سی آیات ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ مضمون میں آیات کو تین دفعہ پڑھ
کر، بند آنکھوں سے تفکر کریں۔ جو کچھ سمجھ میں آتا ہے یا نہیں آتا، ادارہ کو لکھ
کر بھیج دیں۔
اشیا کا مظاہرہ کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟ اس کا تعلق
نظام قدرت میں کار فرما اطلاعاتی نظام سے ہے۔ ایک لمحہ میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو
اگلے لمحہ کا وجود رونما ہوتا ہے۔ تمام اسکرینوں پر ظاہر ہونے والی اشیا مثلاً
پہاڑ ، کرسی ، میز ، کیل ، قلم دان ، کمپیوٹر وغیرہ سب اسی قانون کی پابند ہیں۔
محوری و طولانی حرکات کے اثرات اشیا کے مظہر کا سبب بنتے ہیں۔ ارتقا ہوتا ہے، مظہر
یا شے (مثلاً بلی ، پہاڑ ، سمندر ، انسان ، درخت) انتہا تک پہنچتی ہے اور پھر تغیر
بتدریج گھٹ کر غائب ہو جاتا ہے۔
فطرت کے قوانین
میں تعطل اور تبدیلی نہیں ہے۔عام آدمی کی نگاہ سے فطرت کا مشاہدہ کیا جائے تو
مخلوق مخصوص نظام کے تحت دنیا میں نمودار ہوتی ہے، وسائل پہلے سے موجود ہیں۔۔
مخلوق وسائل استعمال کرتی ہے یا بالفاظ ِ دیگر وسائل مخلوق کو استعمال کر کے آہستہ
آہستہ غائب کر دیتے ہیں۔
گردش میں کمی
بیشی سے دائروں میں رونما ہونے والے ردو بدل کے مابین تعلق معلوم کیا جا سکتا
ہے۔غور کریں کہ گردش میں کمی بیشی کے عوامل کیا ہیں؟ سطح زمین اور زیر سمندر ہونے
والے والے ایٹمی دھماکے ، یا پھر شمالی و جنوبی انٹارکٹیکا میں سو کلو میٹر گھنٹہ
کی رفتار سے پگھلتی ہوئی برف وغیرہ۔۔ غرض ایسے کئی سائنسی حقائق ہیں جب کے بارے
میں تو جیہات مبہم ہیں۔ کن فارمولوں پر قائم ہیں؟ پرت در پرت زمین ، زمین کی حرکت
کو متوازن رکھنے کے لئے کیلوں (پہاڑ) کا ستعمال ، خلا میں لاشمار زمینوں کا وجود
کن فارمولوں پر قائم ہے؟
”اس نے زمین میں
پہاڑ جمادیا دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔“ (لقمٰن : ۱۰)
اس قسم کے
سوالات کے جوابات آسمانی کتابوں میں موجود ہیں۔
”کوئی ذرہ برابر
چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے نہ چھوٹی نہ بڑی جو تیرے رب کی نظر سے مخفی
ہو اور
ایک کھلی کتاب
میں درج نہ ہو۔“ (یونس : ۶۱)
غور کیا جائے تو
پہلے محوری اور پھر طولانی حرکت کا سراغ ملتا ہے۔ یہاں بہت سے نکات مخفی ہیں۔
مثلاً اشیا کا اسکرین پر نمودار ہونا ۔ نزول ہونے والی روشنیاں جو بہرحال نور ہیں،
پازیٹو اور نیگٹیو کے ساتھ محوری حرکت کے تحت ایک ہوئیں۔
”اللہ آسمانوں
اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہو،
چراغ ایک فانوس میں ہو ، فانوس کا حال یہ ہو جیسے موتی کی طرح چکمتا ہوا تارا اور
وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو
نہ غربی ہو ، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑک پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے ، روشنی پر
روشنی۔ اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہے راہ نمائی فرماتی ہے ، وہ لوگوں کو مثالوں
سے بات سمجھاتا ہے۔ وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔“ (النور
: ۳۵)
بعد ازاں طولانی
حرکت کے تحت محوری حرکت سے تخلیق شدہ نقطہ آگے بڑھا۔ اس طرح زمین (اسکرین) پر وقت
کے لمحوں میں شے مظہر بنی۔
گردش ٹائم اور
اپیس کے تحت ہورہی ہے۔ محوری اور طولانی حرکت سے تسلسل کے ساتھ وسائل ( جسم ، رزق
، آبو ہوا اور گر دو پیش) کی فلم چل رہی ہے۔ ڈسپلے میں تاخیر ہے نہ تعطل اور نہ
کبھی مظاہرہ میں کسی قسم کی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ دنیا میں کردار نمودار ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ وہی دنیا ہے جسے الہامی کتابوں نے ارض ، دھرتی یا ارتھ کے نام سے
بیان کیا ہے۔ شکل نمبر 22 کے مطابق ایک طولانی فلم جو زمین کی محوری و طولانی گردش
کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، فلم کے مختلف کردار واضح طور دکھائی دے رہے ہیں۔
روحانی سائنس
دانوں کے نزدیک ہر دس ہزار سال کے بعد زمین میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں کہ
جہاں سمندر ہے وہاں زمین ظاہر ہو جاتی ہے اور جہاں زمین ہے وہاں سمندر آجاتا ہے۔
موجودہ سائنسی
نظریات کے مطابق زمین سورج کے گرد تقریباً تئیس ڈگری کے زاویہ سے Tilt ہے۔ جیسا
کہ شکل نمبر 13
میں دکھایا گیا ہے۔ اس وجہ سے زمین سورج کے گرد طولانی گردش پیش کرتی ہے۔
محوری اور
طولانی گردش کو اگر ہم بیک وقت ایک ہی شکل میں یک جا کریں تو شکل نمبر 15 سے واضح
ہوتا ہے کہ کیوں زمین کی حرکت کلی طور پر محوری نہیں ، وگرنہ زمین ایک ہی دائرہ
میں گردش کرتی رہتی۔
ہر دس ہزار سال
بعد زمین کی بیلٹ اپنی پوزیشن بدل لیتی ہے۔ زمان و مکان کے قانون کے مطابق دائیں
جانب کا اُٹھا ہوا حصہ نیچے کی جانب رخ کرے گا جب کہ بائیں جانب دبا ہوا حصہ اوپر
کی جانب بڑھتا چلا جائے گا ، اسی وجہ سے موجودہ سمندر اور زمین دونوں یک جان دو
قالب ہو جائیں گے۔
نیا سمندر اور
نئی زمین پیدا ہوگی۔ اس طرح کی حالت تمام نظام ہائے شمسی
میں تقریباً دس ہزار سال بعد پیش آتی ہے۔ در حقیقت یہ عمل
تمام نظام کو از سرِ نو ترتیب میں لے آتا ہے۔۔ اللہ کے نظام میں پیدا کردہ بگاڑ کی
تجدید ہوتی ہے۔
طوفان نوحؑ کے
زمانہ میں موجودہ زمانہ کی طرح محققین نے قدرت کے رازوں میں دخل شروع کر دیا تھا
اور خود غرضی عام ہوگئی۔ اخلاص و خلوص کا یہ مطلب لیا جاتا تھا کہ ہم کسی کے کام
آئیں یا نہ آئیں ، دوسرا آدمی ہمارے کام آئے۔ دہشت گردی عام ہوئی، بستیاں اجاڑنا
اور لوگوں کو زر خرید غلام بنانا عام روش تھی۔ چالاک اور فطین لوگوں نے عام زرو
جواہرات اکٹھا کرنے کے لئے آلۂ کار بنایا ، زمین کے اوپر امن کے نام پر فساد پھیلا
اور بیماریاں عام ہوگئیں۔
جناب عظیمی صاحب
فرماتے ہیں :
”روحانی سائنس
دانوں کے نزدیک ہر دس ہزار سال کے بعد زمین میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں کہ
جہاں سمندر ہے وہاں زمین ظاہر ہو جاتی ہے اور جہاں زمین ہے وہاں سمندر آجاتا ہے۔
یہ سائکل ہر دس ہزار سال بعد دہرایا جاتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنا لوجی نے آدمی کو عدم
تحفظ کے گہرے غار میں سھکیل دیا ہے۔ ترقی کے پر فریب پردوں
میں سسکتی ہوئی
، تڑپتی اور روتی ہوئی قوم نے عافیت اس میں سمجھی کہ عدم تحفظ کے خوفناک عفریت سے
فرار اختیار کیا جائے ، لیکن اس فرار میں بھی انہیں لالچی اور خود غرض جینئنس ذہن
نے شکار کی طرح دبوچ لیا ہے۔“
سمندر اور آتش
فشاں پہاڑوں کے علاوہ ریگستان بھی ایک ایسی ہی ایجنسی کا کردار ادا کرتے ہوئے نظام
فطرت کے تحت مملکتوں کو ویرانوں میں بدلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثلاً ریگستان کے
بلند و بالا طوفان جنہوں نے دریائے نیل کے کنارے انتہائی ترقی یافتہ اور عظیم
الشان فراعنۂ مصر کی اڑھائی ہزار سالہ تہذیب کے آثار کو اسکندریہ لکسر سے لے کر
غزہ ، قاہرہ تک مکمل طور پر ریگزار میں بدل۔ طویل القامت عمارتی شاہ کار مثلاً
پیرامڈز میں کار فرما ٹیکنا لوجی کا قطعاً کوئی سراغ نہیں ملتا۔۔ ریت کے انگنت ٹیلوں
کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آتش فشاں ، ریگستان کے علاوہ سمندر کے ہیر پھیرنے بھی لشامر
تہذیوبوں کو تہہ و بالا کر دیا۔
تاریخ ایسے
سمندری طوفانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے شاہانہ تمکنت کو وحشت اور بربادی میں بدل
دیا۔۔ کچھ کے نشانات سطح زمین پر موجود ہیں اور کہیں زیادہ آثار سمندر کی گہرائیوں
میں دفن ہیں۔
اس طرح کے مختلف
حادثات کی نشان دہی گزشتہ شماروں میں کی جا چکی ہے۔ علمائے باطن بتاتے ہیں کہ
موجودہ صورت حال میں زمین کی فضا کو بدلنے ، اس کی مایوسی و حرماں نصیبی کی حالت
تبدیل کرنے کے لئے زمان و مکان کے قانون کے مطابق بقیہ عوامل کے علاوہ سمندری
طوفان بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔ (قسط
نمبر ۱۳)۔