Topics
ماہرینِ فلکیات
کے تخمینہ اور موجودہ اعداد شمار نت نئی ٹیکنا لوجی کے باوجود کائناتی ارتقاء کے
بارے میں بنیادی سوالوں کا واضح جواب دینے سے قاصر ہیں۔
دنیا کتنی قدیم
ہے؟
دنیا کی ابتداء
کیسے ہوئی؟
دنیا میں ارتقا
ء کیے ممکن ہوا؟
تاریخ گواہ ہے
کہ درج بالا ' سوالیہ فکر' دور قدیم سے ہی ماہرینِ فلسفہ ، مذہبی پروہت ، طبیعیات
دان اور ریاضی دانوں کی دلچسپی کا محور ومرکز رہے ہیں۔
بیسویں صدی کے اختتام پر ماہرین کا خیال تھا کہ جلد ہی وہ کائناتی پھیلاؤ اور ساخت کو انتہائی آسان حسابی مساوات کی شکل میں پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مساوات مشہورفارمولے E=mc2 کی طرح لوگ اپنی T-Shirt پر چھپوا کر گھومتے پھریں گے۔ مگر درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔ ٹیکنا لوجی کے عروج نے جہاں مشاہدات میں گہرائی پیدا کی وہیں رائج نظریات میں شکوک و شبہات کو بھی چشم دیا۔ ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی ، برقی رو کے کثرت استعمال نے بھی ماہرین فلکیات کی الجھنوں میں اضافہ کر دیا ۔ جگمگ کرتی روشن گلیاں ، گلیاں ، مکانات اور بلند بالا تعمیرات نے جہاں عام آدمی کی راتوں کو منور کر دیا وہیں یہ روشنی دور دراز ستاروں سے انے والی کمزور روشنیوں کے مشاہدہ میں رکاوٹ بن گئیں۔ روشن راتوں نے آسمان پر موجود ستاروں کی دید کو مبہم کر دیا جیسے دن میں سورج کی تیز روشنی آسمان میں موجود ستاروں اور کہکشاؤں کی کمزور روشنی چھپا لیتی ہیں اور ہم ان مشاہدہ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں مارین فلکیات نے اپنی رصدگاہوں سمیت دور افتادہ پہاڑی علاقوں کو اپنا مستقر بنا لیا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کیمرہ ، تیز رفتار کمپیوٹر اور پیچیدہ عدسوں پر مبنی فلکی دور بینیں واضح مشاہدات میں معاون ہوتی گئیں۔یہاں سے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز ایسے کہکشانی نظام کی طرف ہو گیا جو اپنی وضع میں ان کے نقطہ آغاز کے نظریہ سے مطابقت رکھتا تھا۔ اسے Super Nova کہا جانے لگا۔ جیسا کہ شکل نمبر ۵ میں دکھایا گیا اور مصنوعی ذہانت سے لیس کمپیوٹر Super Nova کی شب و روز ریکارڈنگ کرنے لگے ،
ایک خود کار
کمپیوٹر پروگرام کی مدد سے مظاہرہ کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کیا گیا اور حاصل ہونے
والے نتائج (Data) کو بڑے پیمانے پر سائنسدانوں کی مختلف ٹیموں
میں پھیلایا گیا تاکہ ایک واضح نتیجہ اخذ کیا جا سکے۔ اسی دوران سائنسدانوں کو
اندازہ ہوا کہ وہ جن آسمانی ٹمٹماتی روشنیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ دراصل زمینی
فضا میں داخل ہونے کے بعد اپنی بہت سی خصوصیات کھو بیٹھتی ہیں۔ ہماری زمین کے ارد
گرد موجود فضائی غلاف ان روشنی کی شعاعوں میں تغیر پیدا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ
مستقل طور پر روشن تاروں کی روشنیاں ہمیں جھلملاتی اور ٹمٹماتی دکھائی دیتی ہیں۔
اپنے مقام کے اعتبار سے تارے مختلف رنگوں میں نظر آتے ہیں اس تمام مشاہدے میں
زمینی فضا کی کثافت کا اثر و رسوخ کسی بھی طرح سے ختم نہیں کیا جا سکتا ستارے اپنے
اصل مقام سے الگ مقام پر نظر آتے ہیں۔ جس کا حل یہ نکال لیا گیا کہ فضا میں موجود
کسی سوڈیم ایٹم کو لیزر شعاعوں سے روشن کیا جاتا ہے پھر اس شعاع کو دو ر بین کے
ساتھ ساتھ مطلوبہ ستارے سے Align کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح فضائی موسمی تغیرات
کے باوجود دور بین ہمیشہ مطلوبہ ستارے پر ہی مرکوز رہتی ہے۔
فضائی کثافت کے
اثرات کو انتہائی حد تک کم کرنے کے لئے ایڈورڈ ہبل کے نام سے ایک فلکی دور بین
تیار کی گئی جس کا دہانہ دو فٹ تھا۔ اس دور بین کو زمینی فضا سے باہر خلا میں نصب کیا گیا یہ انسانی تاریخ
کا عظیم الشان کارنامہ تھا حتیٰ کہ ایک موقع پر جب اس دور بین کے آئینے گہنا گئے
تو ان کی مرمت بھی ماہرین خلا میں جا کر کی اس خلائی دور بین نے علم فلکیات کو نئی
شاہراہ پر گامزن کیا۔ دو فٹ کے دہانے سے بیک وقت دو ہزار کہکشاؤں کی زمینی فضائی
آلودگی سے پاک تصاویر لی گئیں جو کائنات کی حقیقت جاننے کی طرف اہم پیش قدمی مانی
جاتی ہے۔
وینڈی ودیڈ مین
نامی خاتون ماہر فلکیات نے کارنیگی انسٹیٹوٹ میں ہبل سے موصول شدہ تصاویر کا بغور
مطالعہ کیا اس نے ستاروں کے ایسے جھرمٹ کی نشاندہی کی جو مستقل طور پر ایک ہی مقام
پر واقع ہیں۔ جب کہ ان مستقل ستاروں کے لحاظ سے کئی غیر مستقل ستاروں کے گروہ
دریافت ہوئے۔ جن کی ساخت ، شعاعی خواص اور مقامات میں واضح تغیر تھا۔
وینڈی نے سرخ
شعاعی پھیلاؤ کی ٹیکنیک کی مدد سے کائنات کی عمر کا انداز 8 سے 12 ارب سال لگایا
جو کہ پہلے کی پیشن گوئیوں سے یکسر مختلف نکلا۔۔۔ ستاروں کی دنیا میں زندگی کے
دوری وقفہ ہائیڈروجن گھڑی کے ذریعے معلوم کئے جاتے ہیں ، جن کا بنیادی اصول روایتی
گھڑیوں سے ملتا جلتا ہے۔ ہماری دستی گھڑیوں میں اسپرنگ جتنا کھلا ہوتا ہے وقت کا
دورانیہ اتنا ہی زیادہ مانا جاتا ہے ۔ اسی طرح ہائیڈ روجن کی مقدار ستارے کی زندگی
کے دورانیہ کا تعین کرتی ہے۔ ہائیڈ روجن کی بے پناہ مقدار انتہائی روشن اور
نوزائیدہ ستارہ کو ظاہر کرتی ہے جب کہ جن ستاروں میں ہائیڈ روجن کم ہوتی ہے یا بالکل ختم ہو جاتی ہے وہ فنا ہوجاتے ہیں۔ اس طریقہ
کار سے حاصل ہونے والے نتائج نے گزشتہ سائنس دانوں کے نظریات کو اس وقت مکمل طور
پر مشکوک کر دیا جب ان کے بیان کردہ مستقل ستاروں کی زندگی کا دورانیہ غیر مستقل
ستاروں کی زندگی کے دورانیہ سے کم نکلا۔۔۔ حتیٰ کہ عام آدمی کے ذہن میں بھی
انتہائی سادہ سا سوال ابھرا۔۔۔!
ایسا کیسے ہو
سکتا ہے کہ بچہ کی عمر ماں کی موجودگی میں ماں سے زیادہ ہو؟
یعنی منبع
کائنات کی عمر ہر صورت میں ذیلی کائنات سے زیادہ ہونی چاہیئے ، وگرنہ منبع کائنات
کے بارے میں پیش کردہ اندازہ میں غلطی ہے۔ حقیقت کچھ بھی ہو وینڈی فدیڈ مین کے
تخمینہ نے Big Bang نظریہ کے بیان کردہ کائناتی عمر کے تعین کو
اور بھی مشکوک کر دیا۔
کیوں کہ قدیم
ترین مستقل ستاروں کی عمر 8 سے 12 ارب سال معلوم کی گئی۔ جب کہ ان کے ارد گرد
پھیلے ہوئے ان ہی کے تخلیق کردہ ، ستاروں کی عمر تقریباً 15 ارب نکالی گئی۔ ' ایڈورڈ ہبل دور بین ' کی تازہ ترین تصاویر
اور نئے تخمینہ نے ماہرین فلکیات کو تحقیق کے نئے زاویہوں کی تلاش پر مجبور کر
دیا۔
طبیعیات دان اور
ماہرین فلکیات اس بات پر متفق ہیں کہ ہم جس کائناتی وسعت کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ
کل کائنات کا چھوٹا سا جزو ہے۔ ہم صرف ان ہی اجرام کا مشاہدہ کر سکتے ہیں جو ہمارے
زاویہ وسعت میں ہوں اور ساتھ ہی ساتھ روشنی کے مخرج بھی ہوں۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ
ہماری نظری وسعت ( جس میں ' ہبل دور بین' کی نظری وسعت کی اضافیت بھی شامل ہے) میں
تمام فلکی اجرام روشن نظر آئیں، کیوں کہ ہماری نظر روشنی کی صرف مخصوص مقدار ہی
دیکھتی ہے۔ باطنی علوم کے ماہرین کے مطابق روشنیوں کی حرکات نئی صورتوں اور نئے
نئے نقوش کی صورت میں جلوہ افروز ہو رہی ہیں مگر ضروری نہیں کہ ہماری نگاہ ان کا
احاطہ بھی کر رہی ہو۔
روشنی کے اس فرق
کو مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے ہم اپنے چہرہ کے خدوخال عام کیمرہ سے حاصل شدہ فوٹو پر دیکھتے ہیں یہ
وہ خدوخال ہیں جوعام روشنی چہرے سے منعکس ہو کر فوٹو گرافک پلیٹ پر شبیہ کی صورت
میں بناتی ہے۔ واضح رہے کہ شبیہ حاصل کرنے کے بہت سے دوسرے طریقہ ہائے کار بھی وضع
کئے گئے ہیں جن میں x-ray کی
شبیہ ، زیریں سرخ شعاعوں کی شبیہ ، بالائی صوت شبیہ ، ریڈیائی لہروں کی شبیہ اور کیرلین شبیہ عام
ہیں۔بصری روشنیوں سے حاصل ہونے والے فوٹو کے مقابلے میں X-ray کی روشنیاں
انسانی جسم کو قابل نفوذ اور نا قابلِ نفوذ شے یا ان کے مابین دیکھتی ہے X-ray سے حاصل ہونے والی شببیہ عام بصری روشنیوں سے حاصل ہونے والی شبیہہ سے
یکسر مختلف ہوتی ہیں اس کے برعکس زیریں سرخ شعاعیں اشیا یا جسم انسانی کو حراری
منبع کی مانند دیکھتی ہیں۔ اس طریقہ ء کار سے حاصل ہونے والی شبیہہ میں خارج ہونے
والی حرارت کے مختلف shades یا سائے ہوتے ہیں۔
سائنس یہ کہتی
ہے کہ ریڈیائی لہریں کسی بھی جسم کو غیر موصل( جس میں سے برقی رو نہ گزر سکے) شے
کی شکل میں دیکھتی ہیں جسے Dielectric
کہتے ہیں مثلاً ہمارے جسم میں موجود پانی ایک موصل ہے جب کہ چربی اور ٹیومر
وغیرہ نیم موصل یا غیر موصل ہوتے ہیں اس
طرح ریڈیائی لہریں اشیا کو قبولیت کے مختلف شیڈز کی شکل میں دیکھتی ہیں ان سب سے
مختلف کیرلین کیمرہ کی کی شبیہہ ہے۔ اس
قسم کے کیمرہ میں شے کو انتہائی لطیف مقناطیسی میدان میں رکھا جاتا ہے شے سے خارج
ہونے والی برقی مقناطیسی شعاعیں ، کیمرے کی لطیف شعاعوں سے ٹکرا کر شرارہ پیدا
کرتی ہیں جن کو فوٹو گرافک پلیٹ پر ریکارڈ کیا جاتا ہے اس طرح شے کے ارد گرد ہالہ
نظر آتا ہے۔ غور طلب بات تو یہ ہے کہ ان تمام طریقہ کار سے حاصل ہونے والی شبیہہ
ایک ہی شے کے مختلف زاویہ ہیں جو کہ کم و بیش ایک دوسرے سے مکمل یا جزوی طور پر
مختلف ہوتی ہیں۔ سب شبیہیں ایک ہی شے کے مختلف اوصاف کو ظاہر کرتی ہیں۔ شے کے جن
زاویوں کو ہم عام فوٹو گرافی سے دیکھنے سے قاصر ہیں وہ متذکرہ بالا دیگر طریقہ
ہائے کار اجاگر کر دیتےہیں اس طرح شے کے ان دیکھے گوشے بھی نظر آنے لگتے ہیں۔
مثلاً عام آنکھ
سے نظر آنے والا سورج ایک خاموش روشن گولے کی مانند ہے مگر X-Ray شعاعوں سے حاصل
ہونے والی شبیہ ہمیں سورج کی سطح پر بے پناہ مصروفیت دکھائی دیتی ہے۔ ان گنت
نیوکلیائی تعاملات جاری و ساری ہیں حدت اتنی زیادہ ہے کہ ان کی لپک سورج کی سطح سے
میلوں دور فضا میں بکھری دکھائی دیتی ہے۔ روشن ستاروں کے درمیان خلا میں جو دور
دور تک تاریکی دکھائی دیتی ہے ، ان تاریک خلاؤں میں زیریں سرخ شعاعوں کے ذریعے
حاصل ہونے والی تصاویر ستاروں کی موجودگی کا پتہ دیتی ہیں۔ جن کی حراری شعاعیں
اپنی توانائی فاصلے کے ساتھ ساتھ کھو دیتی ہیں ہبل سے زیریں سرخ شعاعی کیمروں
سےحاصل ہونے والی تصاویر میں کہکشانی نظام کے تاریک حصوں میں کئی ستاروں کے
جھرمٹوں کی نشاندہی کی جس میں سب سے زیادہ دلچسپ گھوڑے کی شکل کا Super Nova ہے جس کی مخصوص
ساخت ہمارے کہکشانی نظام سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہے۔
کائناتی نظام کا
مطالعہ جب ریڈیائی لہروں اور مائیکرو ویو کے ذریعے کیا گیا تو حیرت انگیز طور پر
ایک مسلسل Hiss سنائی دی گئی اصل واقعہ یہ ہے کہ 1968ء میں
مصنوعی سیاروں سے سگنل موصول کرنے کے لئے جب امریکہ میں بڑی بڑی تکونی شکل کی
سیٹلائٹ ڈش نصب کی گئیں تو ایک مستقل Hiss نے سب کو چونکا
دیا۔۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ فضا میں لہریں سفر کر رہی ہیں ان لہروں میں کیا پوشیدہ
ہے اس کا تا حال پتہ نہیں چل سکا۔مگر گمان یہی ہے کہ ان کی موجودگی کسی نہ کسی
نظام کی نشاندہی کر رہی ہے۔ الجھن یہ ہے کہ لہروں میں اطلاعات کو کہاں ڈھونڈا جائے
اس کا تا حال کوئی باقاعدہ حل نہیں نکالا جا سکا۔ مثلاً جب ٹی وی کی نشریات موصول
ہوں اور ٹی وی متعلقہ چینل پر ٹیون نہ ہو تو صرف شائیں شائیں اور نقطہ دار اسکرین
کے علاوہ کچھ نہیں نظر آتا۔ یہی وہ بظاہر بے ترتیب لہریں ہیں جن کے اندر مختلف ٹی
وی چینل چھپے ہوئے ہیں جب ٹی وی کو باقاعدہ ٹیون کیا جاتا ہے تو چینل میں چھپی
اطلاعات سنی اور دیکھی جا سکتی ہیں۔
Hiss کے بارے میں سائنس دان یہی گمان کرتے ہیں کہ
اس کا تعلق تخلیقِ کائنات سے کچھ نہ کچھ
ضرور ہے مگر دوسری طرف ماہرین خود سے یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کائنات میں ستاروں
کی جسامت و ضخامت اور شعاعی اوصاف بالکل یکساں نہیں ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ Big Bang کی Hiss یکساں طور پر چار سو پھیلی ہو۔
روشنی کی مختلف
اقسام سے حاصل ہونے والی معلومات سے اخذ کردہ نتائج میں اتنا اختلاف کیوں ہے؟
مرئی شعاعیں ، X-Ray شعاعیں ، زیریں سرخ شعاعیں ، بالا بنفشی شعاعیں
، ریڈیائی لہریں اور مقناظیسی لہروں سے حاصل ہونے والے کائناتی خدوخال میں کیا
باہم ربط ہے؟
۔۔۔۔ان میں کون
سے اوصاف چھپے ہیں؟
یہ سوالات ابھی
بھی وضاحت طلب ہیں۔
روشنی کی ماہیت
میں تبدیلی سے مشاہداتی خدوخال میں کیا فرق رونما ہوتا ہے ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے
ماہر علوم باطنی حضور قلندر بابااولیاء ؒ فرماتے ہیں۔
” فرض کیجئے ہم
کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں اگر وہ روشنی جو اس چیز اور ہمارے درمیان موجود ہے نکال
دی جائے تو وہ چیز ہماری شعور کی حدوں سے نکل جائے گی۔
اس مثال سے ہم
فقط ایک ہی نتیجہ پر پہنچتے ہیں یعنی روشنی شعور ہے یا شعور روشنی ہے۔
اگر کسی وجہ سے
روشنی کے خدوخال میں تبدیلی واقع ہو جائے تو شعور کے خدوخال میں بھی تبدیلی ہو
جائے گی۔“
علمائے باطن
اشیا میں براہ راست اثر کے لیے علم شے تصرف کرتے ہیں جب کہ موجودہ سائنس اس تصرف
کے لئے اضافی آلات استعمال کرتی ہے جس سے مشاہدہ مبہم اور اخذ کردہ نتائج بسا
اوقات مہمل ہو جاتے ہیں۔
روحانی سائنس
دان جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نظریہ رنگ و نور کی تشریح میں فرماتے ہیں:
”کائنات کو دو
طرزوں سے دیکھا جاتا ہے۔
ایک صرف دیکھنا
اور دوسرے مرحلے میں یہ بات معلوم کرنا کہ کائنات کن فارمولوں سے مرکب ہے۔
کائنات کو
دیکھنا یا مظاہرہ کو دیکھنا شعوری دائرے میں آتا ہے۔
کائنات کے باطن
میں دیکھنا لاشعور میں دیکھنا ہے۔
انسان کا لاشعور
اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کائنات کے ذرے کی شکل و صورت حرکات اور باطنی
حسیات کیا ہیں۔ شعور میں یہ علم اس لئے نہیں آتا کہ انسان کو اپنے لاشعور کا
مطالعہ کرنا نہیں آتا۔
اگر ہمارے اندر
لاشعور کو مطلاعہ کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہو جائیں تو کائنات کے ہر ذرہ کی شکل و
صورت حرکات اور باطنی حسیات کا مطالعہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔” حضور قلندر بابا
اولیاؒ سے فیض یافتہ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کہتے ہیں:
آدمی دو پرت کا
مجموعہ ہے۔ ایک پرت مادی وجود ہے دوسرا پرت مادی وجود کے پس پردہ نورانی وجود ہے۔
نورانی
وجود سے مادی وجود کو انفارمیشن ملتی ہے
یہ انفارمیشن یا اطلاع مادی وجود محدود دائرہ میں قبول کرتا ہے لیکن وجود کیا ہے؟
جب اس پر تفکر کیا جاتا ہے تو مادی وجود مٹی کے ذرات کے علاوہ کچھ نہیں۔ مٹی سے
بنتا ہے اور مٹی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مٹی کیا ہے۔۔۔؟ مٹی (ارض) کے
بارے میں آسمانی کتابوں توریت ، انجیل اورآخری کتاب قرآن پاک میں اس کی پوری وضاحت
موجود ہے ۔ اور اس وضاحت کا حاصل یہ ہے کہ زمین ، سات آسمان ، زمین کے اندر موجود
ہر شے ، اور آسمان میں موجود تمام مخلوقات نور یعنی روشنی سے بنے ہوئے ہیں۔ اور یہ
روشنی ہر مخلوق میں مقداروں میں تقسیم ہو رہی ہے یا پھیل رہی ہے۔ چیونٹی بہت چھوٹی
مخلوق ہے لیکن اس میں بھی شعور موجود ہے۔ اس زمانے میں ہاتھی کو بڑی مخلوق سمجھا
جاتا ہے اس کا وجود بھی روشن ہے روشنی کی معین مقداریں جیسے جیسے نشونما پاتی ہیں
بچہ بڑا ہوتا ہے وہ کسی بھی مخلوق کا ہو اور جب مخلوق روشنی کی مقداریں بڑھنے کے
بجائے کمی کی طرف مائل ہوتی ہیں تو جوانی سے دور ہو جاتی ہیں اور بالآخر مٹی کے
ذرات میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔ مٹی کے ذرات نور (روشنی) کے علاوہ کچھ نہیں۔ اب ہم
یوں کہیں گے کہ اگر لکڑی اورربڑ میں بجلی ارتھ نہ ہو اور جھٹکا نہ لگے تو لکڑی اور
ربڑ کے اندر جو الیکٹرک سٹی کام کررہی ہے اس میں انجذاب کی قوت زیادہ ہے۔ یہ کہنا
کہ کوئی شے غیر موصل ہے آسمانی تعلیمات کے منافی ہے۔