Topics
ماہر علومِ
باطنی ، روحانی سائنسدان حضور قلندر بابا اولیا ءؒ فرماتے ہیں:
”ہم روشنی کے
ذریعے دیکھتے یا سنتے ، سمجھتے اور چھوتے ہیں۔
روشنی ہمیں حواس
دیتی ہے۔
جن حواس کے
ذریعے کسی شے کا علم حاصل ہوتا ہے وہ روشنی کے دیئے ہوئے ہیں۔ اگر روشنیاں درمیان
میں نہ رہیں تو حواس بھی نہیں رہیں گے۔ اس وقت نہ تو ہم خود اپنے مشاہدہ میں باقی
رہیں گے اور نہ کوئی دوسری شے ہم دیکھ
سکیں گے۔“
متذکرہ بالا
اصول کے مطابق نگاہ روشنی دیکھتی ہے۔ مشاہدات اور تجربات سے حاصل ہونے والا علم
سائنس ہے۔ پانچ حواس اور ان کی ذیلی تخلیقات میں خوردبین ، دور بین ، تھرمامیٹر ،
موبائل فون اور ویڈیو کیمرہ جیسی دیگر ان گنت ایجادات شامل ہیں۔ اشیا کے مشاہدے
میں ہماری نگاہ کیا دیکھتی ہے یا بالفاظ دیگر ہم کیا سمجھتے ہیں اس حقیقت کی پردہ
کشائی میں حضور قلندر بابا اولیا ؒ فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کا
علم کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
کائنات کا ہر
ذرہ بصورت ِ خلا اللہ تعالی کے نور میں واقع ہے۔ دیکھنے والوں کو اللہ تعالی کا
نور نظر نہیں آتا صرف کائنات کا خلا نظر آتا ہے جس کو وہ اشیا۔۔۔چاند ، سورج، زمین
، آسمان ، آدمی ، جانور وغیرہ وغیرہ کہتا ہے۔“
نامور برطانوی
فلسفی ، منطق دان ، ریاضی دان اور سو شیالوجی کے ماہر برٹرینڈر رسل ” نظریہ اضافیت
“ کی تشریح کرتے ہوئے کتاب میں لکھتے ہیں۔
” اگر کوئی
انجانی مخلوق کرۂ ارض پر سیر کرتے ہوئے سورج مکھی کے پھول کو پائے اور اس کے رنگ
کے بارے میں کرۂ ارض پر موجود مختلف مخلوقات سے دریافت کرے تو انسان سورج مکھی کا
رنگ پیلا بتائے گا جب کہ بھنورا اپنے مشاہدے کے مطابق اسے جامنی رنگ اور مویشی
بھورے رنگ کا بتائیں گے۔
یہ سب مشاہدات
تمام جانداروں کی اپنی اپنی بصارت کے مطابق ہیں تو انجانی مخلوق لا محالہ یہ سوچنے
پر مجبور ہو جائے گی کہ سورج مکھی کے پھول کا اصل رنگ کیا ہے۔۔۔؟
برٹرینڈ رسل نے
اس مثال کے ذریعے بصری نظام کی نسبت واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ مشاہدے کے پانچ ماخذ
بتائے جاتے ہیں۔ جن میں آنکھ ، کان ، ناک زبان اور جلد شامل ہیں جو کہ خارجی اشیا
کا احساس مختلف کیفیات کی شکل میں منتقل کرتے ہیں۔ جسم میں اطلاعات جس ایجنسی کے
ذریعے Process کی جاتی ہیں وہ دماغ ہے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ خارج میں موجود اشیا کا احساس حواس ِ خمسہ نہیں کر پاتے ، مگر
تجربات اُس شے کی موجودگی کسی نہ کسی شکل یا کیفیت میں محسوس کرتے رہتے ہیں اور
دماغ ان کی کچھ نہ کچھ تفہیم بھی کرتا رہتا ہے۔ مثلاً فضا میں جراثیمی عناصر کی
موجودگی ، دماغ کے اندر سگنل کی آوازیں ، زمین کی گردش کی آواز ۔ جیسے مظاہر کا
احساس حواسِ خمسہ کی حسیاتی حدود سے باہر ہیں ، مگر شواہد ان کی موجودگی کا پتہ
دیتے ہیں۔ یہی ان دیکھے ان سنے ، ان چھوئے محرکات تھے جنہوں نے محققین کی توجہ Tools کی طرف دلائی
اور سائنسی ٹیکنا لوجی کے دور کا آغاز ہوا۔ نوعِ انسانی نے آلات کا استعمال شروع
کیا۔ یہ آلات انسانی حواس مثلاً آنکھ ، ناک ، کان وغیرہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کر
دیتے ہیں۔ مثلاً انتہائی چھوٹی جسامت کی اشیا یا دور دراز فاصلوں پر موجود اجسام
کو دیکھنے کے لئے آنکھ کے ساتھ ساتھ عدسوں پر مشتمل بصری آلات کا استعمال شروع ہو
گیا۔
اسی طرح آواز یا
شکل و شباہت کو دور دراز فاصلوں تک پہنچانے کے لئے زبان کے ساتھ ساتھ مواصلاتی
آلات (موبائل ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن وغیرہ) سے مدد حاصل کی گئی۔
کائناتی نظام پر
غور و فکر اور تصرف کے لئے سائنسدان مشاہدات اور تجربات کرتے ہیں، نظامِ قدرت سے
متعلق تحقیقات اور نظریات بیان کرنے کے لئے متذکرہ بالا آلات یعنی قدرت کے عطا
کردہ آلات اور ذیلی تخلیق شدہ آلات کا سہارا لیتے ہیں۔ تحقیق کی اس Methodology یا طریقۂ ہائے کار کا جائزہ ہم اپنے مضمون میں لیں گے۔ جس کی
ابتدا پانچ حواس کے مشاہداتی نظام یا observation کے تجزیئے سے کریں گے۔
دیکھنے کا نظام انسانی آنکھ سے شروع ہوتا ہے ، ابتدائی سائنس میں پڑھایا جاتا ہے کہ خارج سے کسی شے کی شکل و شباہت روشنی کی شعاعوں کی شکل میں آنکھ میں داخل ہوتی ہے اور اس کا احساس دماغ تک پہنچتا ہے۔ دماغ ایسی ایجنسی ہے جو ان بصری اطلاعات میں شعوری فہم کے مطابق معنی پہناتی ہے۔
انسانی آنکھ میں
شبیہ بنانے میں عدسہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عدسہ ایک مخصوص مادہ (Collagen اور
Glycosaminoglycans) سے بنا ہوتا ہے قدرت نے اس کی جیومیٹری
ایسی رکھی ہے کہ لامحدود فاصلے کے لئے اس کی چوڑائی 3.6mm ہو جاتی ہے جب
کہ شبیہ آنکھ کے اندرونی پردے(Retina) پر 24mm کے فاصلے پر
بنتی ہے۔ حدِ نگاہ کے ساتھ ساتھ ایک خود کار نظام کے تحت آنکھ کے عدسہ کی چوڑائی
میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ مگر شبیہ ہمیشہ عدسہ سے 22mmسے 24mm کے فاصلے پر بنتی ہے۔ طبیعات کے اصولوں کے
مطابق اگر عدسے کی موٹائی میں کمی کی جائے تو نہ صرف شبیہ عدسے سے دور بنے گی بلکہ
اس کی جسامت بھی بڑی دکھائی دے گی۔ یہاں یہ اصول سامنے آتا ہے کہ محدب عدسہ جتنا
موٹا ہوگا خارجی اجسام کی شبیہ اسی قدر چھوٹی جسامت کی بنے گی۔ اس کی وضاحت ہم
مثال سے کرتے ہیں عدسہ کی مدد سے اگر دس فٹ لمبے درخت کو دیکھا جائے تو عدسہ کے
قطر اور موٹائی کے مطابق عدسہ کے پیچھے پردہ پر درخت کی ایک مخصوص جسامت کی شبیہ
تشکیل پائے گی۔ جیسا کہ شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اگر عدسہ کے قطر یا موٹائی
میں تبدیلی کی جائے تو شبیہ کی جسامت میں بھی فرق رونما ہوگا یعنی عدسے کی موٹائی
بڑھانے سے درخت کی یہی شبیہ مزید چھوٹی ہو جائے گی۔ جب کہ موٹائی کم کرنے سے شبیہ
کی جسامت میں اضافہ ہو جائے گا۔
ایک لمحہ کا
توقف کر کے غور کریں کہ۔۔۔
ہم کیا دیکھتے
ہیں۔۔۔؟
ہم آنکھ کے اندر
موجود عدسہ سے بننے والی شبیہ کو دیکھتے ہیں۔ درخت کی مثال کے مصداق اگر آنکھ کے
عدسہ کی موٹائی کسی طرح کم یا زیادہ کر دی جائے تو درخت کی شبیہ کی جسامت بھی
تبدیل ہو جائے گی۔ یہاں قاری کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ
ہمارا دماغ
خارجی درخت کو نہیں دیکھ رہا بلکہ شبیہ کو دیکھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ
وہی شبیہ ہے عدسے سے ہمارے پردے بصارت پر منتقل ہو رہی ہے۔ متذکرہ بالا مثال سے یہ
بات واضح ہے کہ شبیہ کی جسامت کا انحصار عدسے کی موٹائی پر ہوتا ہے ، سوال یہ ہے
کہ درخت کی اصل جسامت کیا ہے۔۔۔؟
نظامِ قدرت کے
تحت ہر نوع کے افراد میں مادی آنکھ کے عدسہ کی بناوٹ یکساں ہوتی ہے تاکہ انتقالِ
خیال یا گفتگو کے رائج طریق میں مظاہرات کے حوالے ایک ہی پیمانے یا Standard سے دیئے جائیں۔ بصارت کی حقیقی تفہیم جاننے کے
لئے ہم درجِ بالا سوال کو انسانی بصری مشاہدہ کی صلاحیت کے علاوہ دوسرے جانداروں
پر بھی پھیلا دیتے ہیں یعنی۔۔۔
کیا بقیہ انواع
میں 10 فٹ کے درخت کی وہی جسامت دکھائی دیتی ہے جو انسانی آنکھ سے نظر آتی
ہے؟طبیعیات دان اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔
فی زمانہ سائنس
اس بات کو جانتی ہے کہ ہر نوع کی آنکھوں میں مختلف خصوصیات کے حامل عدسے ہیں۔
انسان کی دونوں آنکھیں مل کر 130o کی نظری وسعت میں دیکھتی ہیں جب کہ Dragon fly کی نظری وسعت 60oسیدھی
(عمودی) اور360o اس کے برعکس ہے اسی طرح شاہین کی سیدھی
(عمودی) نظری وسعت نہ صرف 120o بلکہ انتہائی مفصل ہوتی ہے۔ جو کہ دوسری
انواع میں نہیں پائی جاتی۔ مفصل ہونے سے مراد یہ ہے کہ شاہین کی آنکھ انتہائی
بلندی سے جس باریک بینی سے دیکھتی ہے وہ عام آنکھ سے ممکن نہیں۔
بصری نظام چاہے
کسی بھی جاندار میں ہو ، اس کا انحصار کم و بیش مندرجہ ذیل عوامل پر ہے۔
۱۔ محدب عدسہ کی جیومیٹری
۲۔ محدب عدسہ کا مادہ یعنی Collagen وغیرہ
۳۔ پردہ بصارت کا مادہ یعنی Rods اور Cones
۴۔ خارج سے آنکھ میں داخل ہونے والی روشنی کی
ماہیت
ان چاروں عوامل
سے حاصل ہونے والی شبیہ فہم کے مطابق مفہوم بناتی ہے۔ اگر ان عوامل میں تغیر واقع
ہو جائے تو شبیہ کا مفہوم بھی بدل جائے گا۔ روز مرہ زندگی میں ایسی کئی مثالیں ہیں
جہاں پردہ بصارت کے مادہ میں کمی بیشی (جسے نقص یا بیماری کہا جاتا ہے) سے آدمی کو
رنگوں میں تمیز نہیں رہتی۔ اسی طرح محدب عدسہ کے مادے میں کمی بیشی سے شبیہہ اپنے
مقررہ مقام سے آگے یا پیچھے بنتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی دوا کے استعمال یا
امراض کی وجہ سے سے عدسے کی جیومیٹری میں تبدیلی ہو جائے جس سے آنکھوں کے زاویہ
وسعت میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے مثلاً درخت کی دو یا زائد شبہیہں دکھائی دینے
لگتی ہیں۔
اشیا کی جسامت
کے اس فرق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ماہر ِ علوم باطنی حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ
فرماتے ہیں:
”رنگ . . . . . . یہ
بالکل اسی طرح بنتے ہیں جیسے ایک منشور (prism) کے سامنے کھڑے رہنے سے کپڑوں کا رنگ مختلف نظر
آتا ہے اگرچہ کپڑے سفید ہوتے ہیں۔
شکل و صورت بھی
چھوٹی بڑی نظر آتی ہے۔ حالانکہ اُس قد کی نہیں ہوتی۔
مگر اس بات کا
ثبوت کیا ہے کہ جو قد ہمیں نظر آتا ہے وہی فرد کا اصل قد ہے ۔“
بصری تفاوت
(فاصلہ) کی اسی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے پتلا سا سانپ موٹے چوہے کو کیسے شکار
کرتا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضور قلندر بابا اولیاؒ فرماتے ہیں:
”سانپ بڑے چوہے
کو نگل جاتا ہے اور ہضم کر جاتا ہے یہ بھی
اسپیس کی وجہ سے ہوتا ہے اگر چوہا اسے بڑا نظر آئے جتنا ہمیں نظر آتا ہے تو وہ اسے
نگلنے کی ہر گز ہمت نہ کرے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ وہ بغیر کسی جھجک کے چوہے کو پکڑتا
ہے اور نگل جاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ چوہا سانپ کو اتنا بڑا نظر نہیں جتنا
بڑا ہمیں نظر آتا ہے۔“
بصری نظام میں
روشنی کا بھی Vital کردار ہے ہماری نگاہ روشنی کی مخصوص مقدار
کو محسوس کر سکتی جس کی لہر کی لمبائی ایک میٹر کے 40 لاکھویں حصہ سے 70 لاکھویں
حصہ کے برابر بتائی جاتی ہے اس Range سے باہر کی طولِ موج کو ہماری آنکھ نہیں
دیکھ سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر لوگ اندھیرے میں نہیں دیکھتے۔ مگر اندھیرا
ہونے کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ سورج کی روشنی (جسے دن کہا جاتا ہے) کی عدم موجودگی
میں روشنی نہیں ہوتی۔۔۔ سائنس بتاتی ہے کہ دن اور رات میں روشنی کی تین اقسام ہمہ
وقت موجود رہتی ہیں جو کہ بالائے بنفشی شعاعیں ، مرئی شعاعیں اور زیریں سرخ شعاعیں
کہلاتی ہیں۔
ہماری بصارت کی
طاقت مرئی شعاعوں تک محدود ہے اس کے برعکس وہ شعاعیں جو نوعِ انسانی کے لئے مرئی
شعاعیں ہیں وہ بعض حیوانات مثلاً چمگاڈر کے لئے غیر مرئی ہوتی ہیں۔ چمگاڈر دن میں
نہیں دیکھ سکتی وہ صرف بالائے بنفشی اور زیریں سرخ شعاعوں کے انعکاس کو دیکھتی اور
محسوس کرتی ہے۔ اس طرح چمگاڈر رات میں ایسے دیکھتی ہے جیسے آدمی دن میں۔
بصری علوم کے
ماہرین اور سائنسدانوں نے ایسے آلات ایجاد کئے ہیں جن سے بالائے بنفشی اور زیریں
سرخ شعاعوں کودیکھا جا سکتا ہے۔ جن میںNight Visionکیمرہ اور نادیدہ
سیاہی سے لکھنے والے قلم بھی شامل ہیں۔ ایسے قلم آپ نے اکثر اسکول میں بچوں کے پاس
دیکھے ہوں گے۔ اسی طرح کے قلم میں ایسی سیاہی سے کاغذ پر لکھا جاتا ہے جو کہ غیر
مرئی ہوتی ہے اور عام نگاہ سے اوجھل ہوتی ہے۔ اس تحریر پر جب ایک مخصوص روشنی والی
ٹارچ سے شعاع ڈالی جاتی ہے تو سیاہی کا مادہ اور روشنی مل کر سیاہی کے حروف سے
مرئی روشنیاں خارج کرتے ہیں۔ اور تحریر انسانی نگاہ کی حدود میں آجاتی ہے اور ہم
اسے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔
بصری مشاہدے میں
روشنی کے عمل دخل کی وضاحت کرتے ہوئے حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:
”جب ہماری نظر
کسی کتاب کے الفاظ پر پڑتی ہے تو گویا روشنی پڑتی ہے ۔ کیونکہ کہ روشنی کے علاوہ
کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتے۔ کتاب پڑھتے ہیں تو روشنی پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔۔۔
روشنی سمجھتے ہیں کیوں کہ جب ہم روشنی پڑھیں گے تو روشنی سمجھیں گے۔“
دیکھنے کے نظام
کی بناوٹ میں متذکرہ بالا عدم توازن کی بنیاد پر حاصل ہونے والی شبیہ اس نقطے کی
وضاحت کرتی ہے کہ ہم جو دیکھ رہے ہیں اور اپنے فہم کے مطابق سمجھ رہے ہیں ان تمام
معلومات میں کوئی حتمی رائے نہیں ہے یعنی تفہیم میں فرق ہے۔۔۔۔ بے یقینی ہے۔۔۔
روحانی سائنسدان اس زاویہ نگاہ اور اس سے حاصل ہونے والی تفہیم کو لایعنی یا فکشن
قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں معروف ماہرِ علومِ باطنی جناب خواجہ شمس الدین عظیمی
فرماتے ہیں:
”سائنس داں جس
مادی نظریے کی تشہیر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب تک کسی چیز کا عملی مظاہرہ نہ ہو اسے
تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
سائنسداں بہت
کچھ جاننے کے باوجود یہ بھول جاتے ہیں وہ مادی خول میں بند ہو کر خود اپنے نظریے
کی نفی کر رہے ہیں۔
وہ یہ بھی کہتے
ہیں ایسا غیب جو آنکھ سے نظر نہ آئے کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب کہ ان کی ساری ترقی
کا دارو مدار نظر نہ آنے والی روشنی پر ہے۔ جوغیب ہے ، نہ صرف یہ بلکہ ان کا وجود
، عدم وجود ، جینا مرنا ، سب غیب کی کرشمہ سازی ہے۔
شعوری مشاہدات
کے فکشن رخ کی مزید وضاحت کے لئے اب ہم درج ذیل حواسِ خمسہ کے اگلے اہم نظام سے
سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انسانی سماعت
کان اور اس سے متصل نظام پر مبنی ہے کان اشیا سے خارج ہونے والی آوازوں کو دباؤ کی
لہروں کی صورت میں محسوس کرتے ہیں دباؤ میں کمی بیشی آواز کی مختلف خصوصیات کے
مطابق ہوتی ہے۔ انسانی کان کے اندرونی حصے میں (Cochlea) کوائل موجود ہوتی ہے۔ جو جھلی پر مشتمل ہوتی
ہے۔ اس جھلی کے دونوںرخوں پر تقریباً پندرہ ہزار بال (خلیات) ہوتے ہیں۔ آواز کی
لہریں مخرج سے انسانی کان میں داخل ہو کر اندرونی پردے سے ٹکراتی ہیں جس سے ارتعاش
(Vibration) پیدا ہوتا ہے۔ یہ ارتعاش جھلی میں موجود بال
نما خلیات کو منتقل ہو جاتا ہے جو مختلف موٹائی کے حامل ہوتے ہین۔ ہر موٹائی مختلف
کوالٹی کی آوازوں کو محسوس کرتی ہے اور آواز کا احساس دماغی حسیاتی نظام میں کرنٹ
پیدا کرتا ہے۔ جھلی کے ابتدائی سِرے پر پائے جانے والے بال باریک آوازوں کے لئے
حساس ہوتے ہیں جبکہ آخری سرے کے بال صرف بھاری آوازوں کو ہی سن سکتے ہیں اور فہم
کے مطابق تفہیم کر سکتے ہیں۔۔۔۔جھلی اور اس کے مختلف حصوں کی حساسیت شکل نمبر ۲
میں دکھائی گئی ہے۔
ان آوازوں کی
مقداریں فی سیکنڈ 20 سے 20 ہزار لہروں کے مابین بتائی جاتی ہیں۔ موجودہ سائنس کے
مطابق نوع انسانی کے کان اس سے زیادہ یا کم مقدار کی لہریں کو نہیں سن سکتے۔ مگر
یہ یاد رہے کہ سائنسدان جن لہروں کو صوتی ـآواز کی) لہریں بتاتے ہیں اُن کی حد
متذکرہ بالا حدود سے بہت زیادہ ہے ، جیسے دماغ سے نکلنے والی لہریں۔ جن کی مقدار فی سیکنڈ
12 لہروں سے فی سیکنڈ 1 لہر کے مابین ہوتی ہیں۔ آدمی کے کان ان لہروں کے ارتعاش کو
محسوس نہیں کر سکے۔
کان کی عضلاتی ساخت سمجھنے کے بعد اب ہم کان پر آواز کی لہروں کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب ایک صحت مند کان میں سریلی آواز داخل ہوتی ہے تو کان کی جھلی کے ابتدائی سرے پر موجود بال نما خلیات متاثر ہو کر کرنٹ کی زیادہ مقدار پیدا کرتے ہیں جسے ہماری فہم باریک یا سریلی آواز میں سنتی ہے۔ اسی طرح جب موٹی اور بھاری
آوازیں جھلی کے
آخری سرے پر موجود بال نما خلیات کو متاثر کرتی ہیں ان سے پیدا ہونے والا کرنٹ فہم
میں بھاری آواز کی تفہیم پیدا کرتا ہے ۔ روز مرہ کا مشاہدہ ہے نو مولود بچے کے
سامنے اخبار کے صفحات تیزی سے پلٹے جائیں تو وہ آواز سے سہم جاتا ہے۔ بچے کے کان
میں بالوں کی حساسیت کا لیول بالغ آدمی کی حساسیت سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ جو
آواز بالغ آدمی کو نارمل سنائی دیتی ہے وہی بچہ کا صوتی نظام انتہائی بلند آواز کی
صورت میں سنتا ہے۔ مثلاً صفحہ پلٹنے میں کاغذ کی آواز بچہ کے کان دھماکہ سنتے ہیں
یہی وجہ ہےکہ وہ ڈر جاتا ہے اسی طرح اگر بال نما خلیات کی ساخت میں فرق آجائے تو
بال موٹے ہونے کی صورت میں ہمیں آواز کم یا بالکل نہیں سنائی دے گی۔ اس کے برعکس
اگر بالوں کی لچک بڑھ جائے تو کانوں میں سیٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔
آپ اس بات پر
غور کریں کہ اگر چہ آواز کا مخرج ایک مخصوص لہر خارج کر رہا ہے۔ مگر کان کے مختلف
پہلو اس میں الگ الگ معنی کیوں پہنا رہے ہیں؟
سانپ مدہم آواز
کو بلند سنتا ہے جسے آدمی کے کان محسوس نہیں کرتے جیسے زلزلہ کی آمد سے پہلے
ارتعاش اسی طرح چمگارڈر ایک سیکنڈ میں 20 ہزار لہر سے کہیں زیادہ سننے اور مخرج کے
فاصلے کو ناپنے کی صوتی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ آدمی کے کان ان لہروں کی طرف کوئی
توجہ نہیں دیتے۔ یہاں قاری یہ بات سوچنے میں حق بجانب ہے کہ چاہے انسان ہو یا کوئی
اور جاندار ، سب اپنے سمعی نظام کے مطابق آواز کی کیفیت کو سنتے اور سمجھتے ہیں۔
بصری نظام کے مترادف یہاں بھی ہماری تفہیم تذبذب کا شکار نظر اتی ہے ، ہم آپ سے یہ
پوچھتے ہیں کہ موصول ہونے والی آواز کی اصل کیفیت کیا ہے اور اصل کیفیت کو کیسے
سنا اور سمجھا جا سکتا ہے؟
بصری اور سمعی
نظام سے حاصل ہونے والے مشاہداتی نقص کو ہم حواس خمسہ کے ایک اور نظام سے بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شامہ یا سونگھنے
کے عمل میں ناک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ بصری اور سمعی نظام کی طرح اس نظام کے
بھی مختلف اجزاء ہوتے ہیں ناک کے ذریعے اشیا کی بو کا احساس باریک حسیاتی جال کے
ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے جہاں دماغ بو کو شعوری فہم کے مطابق شناخت کرتا ہے مثلاً
پھول کی خوشبو ، خون کی بو اور گلے سڑے پھلوں کی بساند وغیرہ۔ انسان اور دیگر
حیوانات میں شامہ کا حسیاتی نظام اپنی ترکیب میں مختلف ہے خارج سے ناک میں داخل
ہونے والی بو کا کیمیائی احساس جن طرزوں میں لومڑی ، شیر اور کتے کو ہوتا ہےوہ
انسان ، شارک مچھلی اور دیگر حیوانات میں قطعاً مختلف ہیں۔ انسان خون کی سڑاند کو
بد بو جانتا ہے شارک مچھلی اسے نہ صرف بہترین خوشبو محسوس کرتی ہے بلکہ بہت زیادہ
فاصلے سے اسے بالکل واضح شناخت کر لیتی ہے ۔ اسی طرح کتے کی قوتِ شامہ بقیہ
حیوانات کے مقابلے میں انتہائی حساس ہے یعنی کتا بو کو انتہائی باریکی سے محسوس
کرتا ہے ۔ یہی وجہ کہ کتوں کی یہ صلاحیت جرائم کے سراغ او مضر مادہ کی شناخت میں
معاون ہوتی ہیں جبکہ انسان میں سونگھنے کے نظام کی بناوٹ اشیا کی بو کی وسیع تر مقداروں کا نہ صرف احاطہ کرنے سے قاصر ہے
بلکہ ان کے احساس سے بھی محروم ہے۔ اس کی اہم وجہ شامہ کے حسیاتی جال کا پھیلاؤ ہے
انسان میں یہ جال 50 لاکھ حسوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ لومڑی میں اس کی حساسیت اور
پھیلاؤ 150 گنا اور کتے میں 10 ہزار گنا بتائی جاتی ہے۔ حسیاتی جال کی حساسیت اور
پھیلاؤ ایک خاص نظام ِ قدرت کے تحت تمام حیوانات کو جہاں اپنی زندگی کوقائم رکھنے
مدد دیتی ہے
وہیں ہماری توجہ بحیثیت انسان اس نقطہ کی طرف بھی مبذول کرتی ہے کہ حواس کی حساسیت
میں تنوع اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ ایک ہی شے کو ہر مخلوق اپنی اپنی عطا کردہ
صلاحیت کے مطابق Observe کر رہی
ہے۔
برٹرینڈرسل پیش
کردہ مثال کے مطابق مختلف جاندار ایک ہی سورج مکھی کو ان گنت خدوخال اور رنگوں میں
دیکھتے ہیں ، جانداروں کے حواس میں حساسیت کا فرق ، احساس میں مسلسل تفریق پیدا کر رہا ہے۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا
سکتا ہے کہ شے کے متفرق اور مشترک خدوخال مل کر شے کے مکمل خدوخال کی تفصیل بیان
کرتے ہیں۔
آپ کے ذہن میں
یہ سوال آ سکتا ہے کہ کیا کوئی ایسا ذریعہ ممکن ہے جو تمام خدوخال کا مفصل احاطہ
کرنے میں معاون ہو؟
مادی زاویہ نگاہ
سے گزر کر نظریہ رنگ و نور کے شارح جناب عظیمی صاحب فرماتے ہیں:
” شعور مادیت
میں رہ کر دیکھتا ہے مادہ محدود ہے اور مادیت میں رہ کر شعور کبھی بھی اصل سے واقف
نہیں ہو سکتا۔“
مندرجہ بالا
بیان پر تفکر کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ نظامِ قدرت نے اشیا کی تخلیق کے
لئے پرت در پرت فارمولے بنائے ہیں۔ اس لئے اس بات سے قطع نظر کہ مشاہداتی آنکھ کا
حامل کون ہے؟ یعنی انسان ہو یا دیگر جاندار! آنکھ مادہ سے بنی ہے ، اور مادہ اپنی
مخصوص اور محدود صلاحیت میں رہ کر ہی دیکھ سکتا ہے اسی لئے شعوری مشاہدہ محدود یا
ناقص رہتا ہے۔
عظیمی صاحب اس
علم کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
” حقیقت ایک
ہوتی ہے اس میں تغیر نہیں ہوتا۔“
یعنی Observation اور اس سے اخذ کردہ تفہیم صرف اور صرف ایک ہوتی
ہے یاد رہے Observation کل
حواس سے حاصل ہونے والے علم کا نام ہے ، جس کے حصول میں حواسِ خمسہ یا ان کی ذیلی
تخلیقات معاون ہوتی ہیں۔ اس علم کے اخذ کردہ نتائج میں اگر ہمیں کوئی تفریق نظر
آئے گی تو وہ Observation میں کمی کی غماز ہے یا پھر ادھوری تفہیم ہے۔
فی زمانہ
سائنسدان اپنے تمام تر نظریات میں Unification کو
بہت اہمیت دیتے ہیں۔ مثلاً کائناتی پھیلاؤ اور پیدائش سے متعلق نظریات میں کلاسیکل نظریہ کوانٹم نظریہ
اور سٹرنگ نظریہ مشہور ہیں۔ یہ سب نظریات کائنات کی یکسر مختلف تشریح بیان کرتے
ہیں جس میں اہم کردار مشاہداتی زاویہ کا برابر نہ ہونا ہے۔ حالیہ دور میں
سائنسدانوں کے نزدیک ایک گھمبیر مسئلہ یہی ہے کہ ، ” کس طرح ان تینوں نظریات کو
ایک کر دیا جائے۔“
خالق کائنات کا
ارشاد ہے :
”اللہ تعالی کی
سنت میں تغیر اور تبدل نہیں ہوتا ۔“
قوانینِ فطرت یا
نیچر کے تخلیقی عوامل یا ان کے باہمی ربط میں کار فرما فارمولے یا ان کی ترکیب کسی
نہ کسی قانون کے تابع ہے۔ جو کہ ہمیں رائج سائنسی علوم کی ایجادات و اختراعات میں
بھی نظر آتی ہے۔
ان کی ترکیب یا
فارمولوں میں رتی برابر فرق ایجاد کی شکل بدل دیتا ہے۔ رتی برابر مادے میں تبدیلی
اور اس کے اثرات کا مطالعہ موجودہ سائنس کی ایک شاخ N a n o s c i e n c e میں کیا جاتا ہے Nanoscience میں اشیا کا مطالعہ ذراتی سطح پر ہوتا ہے، جہاں فاصلے ایک میٹر کے دس لاکھویں حصے میں
ناپے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ فاصلے کا تخمینہ بصری مشاہدہ کی ذیلی تخلیق خصوصی
خوردبینوں سے کیا جاتا ہے یعنی انسانی دماغ آنکھ کے عدسے کے دیکھنے کو دیکھتا ہے ،
جبکہ آنکھ کا عدسہ ، خورد بینوں کے عدسوں کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہے۔ اس طرح مشاہدہ
میں مادی میڈیم کا عمل دخل پرت در پرت بڑھ گیا اور یہ بات سمجھنا قطعاً مشکل نہیں
کہ ہر پرت کا ایک زاویہ نگاہ ہے ہر پرت مادہ ہے ، مادہ محدود ہے تو مشاہدہ بھی
محدود ہو گیا۔ ہر محدود مشاہدہ کی اگلی پرت بھی مادہ ہے اور محدود ہے۔ آپ غور
فرمائیں محدودیت جب محدودیت کا مشاہدہ کرے گی، تو پرت در پرت مشاہدہ کی درستگی کس
قدر متاثر ہوگی اور اخذ کردہ نتائج اصل سے کتنا دور ہوں گے۔
مشاہدہ یہ ہے کہ
رائج سائنس میں مادے کا مطالعہ مادے سے کیا جاتا ہے یعنی کسی مادی شے کے خدوخال ،
شکل و شباہت ، رنگ و بو اور دیگر اوصاف کا مطالعہ کر نے کے لیے مادی آلات استعمال
کئے جاتے ہیں۔ یعنی ایسے آلات جن کی تیاری میں کسی نہ کسی طرح ٹھوس ، مائع اور گیس
اشیا کا استعمال ہوتا ہے۔
مثال : حرارت ( مادی مالیکولوں کی اوسط حرکت) کی
مقدار ناپنے کے لیے ہم مادی آلات Thermometer استعمال کرتے ہیں جو کہ شیشے (ٹھوس) اور
پارہ (مائع) پر مشتمل ہے۔ اس بات سے اس طریقہ کار کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ مادی
اوصاف کا مطالعہ کرنے کے لیے مادی آلات استعمال ہوتے ہیں اس کی واضح خامی یہ ہے کہ
بسا اوقات مادہ مادے میں نفوذ نہیں کرتا۔ جس کی وجہ سے شے کے اوصاف کے کئی مخفی رخ
عیاں نہیں ہوتے ایسے طریقہ ہائے کار میں ایک مخفی Deception بھی ہے جس سے
موجودہ سائنسی نظریات کے مابین خلا نظر آتا ہے اور اسی خلا کی وجہ سے سائنسدانوں
کے مشاہدات اور نظر یات آپس میں ٹکراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے
کہ مادے سے مادے کا مطالعہ کرتے ہوئے سائنسدان اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ
وہ دراصل مادے کی Observation کو Observe کر رہے ہیں
یعنی مادہ میڈیم بنا ہوا ہے جب مادہ بدل جاتا تو مشاہدہ بھی بدل جاتا ہے۔ عظیمی
صاحب فرماتے ہیں:
” وہ سمجھ جو
آنکھ ، ناک، کان اور زبان وغیرہ کے تابع تھی…. مزید ذیلی
تخلیقات کے تابع ہوگئی۔“
بالفاظ دیگر
شعوری طور پر شاہد اور مشہود کے درمیان پہلے ایک میدیم یا واسطہ تھا اب اس واسطہ
یا میڈیم میں خورد بین ، دور بین ، موبائل ، تھرما میٹر وغیرہ کا بھی اضافہ ہوگیا
یعنی شعوری Observation اب ذیلی تخلیق کے تابع ہوگئی۔
******************
شعوریObservation کے اس ابہام
میں روشنی بھی ایک جزوی یا کلی کردار کر رہی ہے ، جیسا کہ مضمون کی ابتدا میں حضور
قلندر بابا اولیاءؒ کے ارشاد کے مطابق ہم روشنی ہی دیکھتے ، سنتے ، پڑھتے اور
سمجھتے ہیں۔ روشنی بدلنے سے مشاہدہ بھی بدل جاتا ہے۔ اس بات کو ہم ایک مثال سے
سمجھتے ہیں۔
مثال : ہم اپنے چہرےکے خدوخال عام کیمرہ سے حاصل شدہ
فوٹو پر دیکھتے ہیں۔یہ وہ خدوخال ہیں جو عام روشنی چہرے سے منعکس ہو کر فوٹو گرافک
پلیٹ پر شبیہ کی صورت میں بناتی ہے۔ واضح رہے کہ شبیہ حاصل کرنے کے بہت سے دوسرے
طریقہ ہائے کار بھی وضع کئے گئے ہیں جن میں X-Ray کی شبیہ ،
زیریں سرخ شعاعوں کی شبیہ ، بالائی صوت
شبیہ ، ریدیائی لہروں کی شبیہ اور کیرلین شبیہ عام ہیں۔ بصری روشنیوں سے حاصل ہونے
والے فوٹو کے مقابلے میںX-Ray کی روشنیاں انسانی جسم کو قابلِ نفوذ اور نا
قابل ِ نفوذ شے یا ان کے مابین دیکھتی ہےX-Ray سے حاصل ہونے
والی شبیہ عام بصری روشنیوں سے حاصل ہونے والی شبیہ سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔
اس کے برعکس
زیریں سرخ شعاعیں اشیا یا جسمِ انسانی کو حراری منبع کی مانند دیکھتی ہیں۔ اس
طریقہ کار سے حاصل ہونے والی شبیہ میں خارج ہونے والی حرارت کے مختلف Shades یا سائے ہوتے
ہیں۔
ریڈیائی لہریں
کسی بھی جسم کو غیر موصل شے کی شکل میں دیکھتی ہیں جسے Dielectricکہتے
ہیں مثلاً ہمارے جسم میں موجود پانی ایک موصل ہے جبکہ چربی اور ٹیومر وغیرہ نیم
موصل یا غیر موصل ہوتے ہیں اس طرح ریدیائی لہریں اشیا ء کو مو صلیت کے مختلف شیڈز
کی شکل میں دیکھتی ہیں بالائے بنفشی شعاعیں بھی زیریں سرخ شعاعوں کی مانند اشیا کوقابلِ نفوذ ، ناقابلِ نفوذ یا ان کے مابین
دیکھتی ہیں ان سب سے مختلف کر لین کیمرہ کی شبیہ ہے۔ اس قسم کے کیمرہ میں شے کو
انتہائی لطیف مقناطیسی میدان میں رکھا جاتا ہے شے سے خارج ہونے والی برقی مقناطیسی
شعاعیں ، کیمرے کی لطیف شعاعوں سے ٹکرا کر شرارہ پیدا کرتی ہیں جن کو فوٹو گرافک
پلیٹ پر ریکارڈ کیا جاتا ہے اس طرح شے کے ارد گرد ہالہ نظر آتا ہے۔ غور طلب بات تو
یہ ہے کہ ان تمام طریقہ ہائے کار سے حاصل ہونے والی شبیہ ایک ہی شے کے مختلف زاویے
ہیں جو کم و بیش ایک دوسرے سے مکمل یا جزوی طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ سب شبیہیں ایک
ہی شے کے مختلف اوصاف کو ظاہر کرتی ہیں۔ شے کے جن زاویوں کو ہم عام فوٹو گرافی سے
دیکھنے سے قاصر ہیں وہ متذکرہ بالا دیگر طریقہ ہائے کار اجاگر کر دیتے ہیں اس طرح
شے کے ان دیکھے گوشے بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ
مندرجہ بالا آٹھ ذیلی بصری مشاہدات میں ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ اور حقیقت سے کتنے
دور ہیں یا بالکل نا واقف ہیں!
مشاہدہ بدلنے سے
شہود کے بارے میں نظریات بھی بدلنے لگتے ہیں۔ چاہے نظریے میں یہ اختلاف ہم عصروں
میں ہو یا زمانہ در زمانہ طے کئے جانے والے Acclaimed ارتقائی منازل
میں ہو۔
نیوٹرل مشاہداتی
نگاہ کے مخزن قرآن اور دیگر قرآن اور دیگر آسمانی صحائف بتاتے ہیں۔
”اللہ کی سنت
میں تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔“
یعنی فطری قوانین میں تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ
کرتے ہیں کہ مظاہرات مثلاً روشنی ، پانی ، بادلوں کا اڑنا ، بخارات کا بننا ، ہوا
کا چلنا ، چرند ، پرند ، درند اور دوسری انواع کا پیدا ہونا …. وہ معلوم
ابتدائی انسانی تاریخ سے لے کر آج تک یکساں ہونے چاہیئں۔ اس کے مابین اختلاف نظر
آتا ہے۔ حتیٰ کہ جب ہم ایک دور کی فہم کے مطابق دوسرے دور کی فہم کو سمجھنے کوشش
کرتے ہیں تو عقل مخمصہ کا شکار ہو جاتی ہے۔
مصر میں پائے
جانے والے اہرام ، ایران میں تختِ جمشید کے بلند بالا ستون ،England میں پائے جانے
والے عظیم الجثہ پتھروں کی مخصوص جیو میٹری(Stonehenge) ، برازیل کے جنگلات میں بلند و بالا پہاڑیوں پر
واقع تعمیراتی شاہکار اور انٹار کٹیکا کی پگھلتی ہوئی برف کے نیچے ظاہر ہونے والے
سرخ پتھروں کے عظیم محلات میں بسنے والی تہذیبوں کی ترقی کا راز آج بھی پوشیدہ ہے
کیوں کہ سائنسدان ، آثار قدیمہ کے ماہرین اور انسانی ارتقا سے متعلق محققین کوئی
ایک حتمی رائے دینے سے قاصر ہیں سائنسدانوں کے مختلف گروہ طرح طرح کے نظریات کو Unify (باہمی
اختلافات کو مٹا کر متحد کر دینا) کرنے میں کوشاں ہیں۔ روحانی سائنسدان Unification کے لئے الہامی علوم کا سہارا لیتے ہیں۔ الہامی
علوم ایک مخصوص زاویہ فکر رکھتے ہیں۔ جس کا ماخذ بہرحال انسانی شعور نہیں ہوتا۔
اگر کوئی شخص ایسے طریقہ ہائے کار کا تجسس رکھتا ہو جن سے کائناتی مظاہرات کا
حقیقی مشاہدہ اور تجربہ ممکن ہو سکے یعنی ایسا مشاہدہ اور تجربہ جن سے حاصل ہونے
والے قوانین میں کبھی بھی فرق نظر نہ آئے۔۔۔ تو اسے اپنی فطرت کے مطابق غور و فکر
کرنا پڑے گا۔
شعوری فہم اور
غور و فکر کے نتیجے میں ہمیں صدیوں پر محیط مختلف تہذیبوں اور Dynasties کے شب و روز میں کارفرما ٹیکنا لوجی کے آثار ملتے ہیں۔ کہیں ان کے
تذکرے قدیم زبانوں میں تصنیف شدہ کتب کی شکل میں ملتے ہیں تو کہیں پتھروں درختوں
کی چھالوں اور چمڑے پر کنندہ نظر آتے ہیں۔ ان ہی میں سے کچھ آثار آج بھی موجود ہیں
جبکہ دیگر معلومات صرف تاریخی کتب میں ہی ملتی ہیں۔ ان تمام قدیم علوم میں سائنس و
ٹیکنا لوجی کے ماخذ مختلف ہیں۔
سائنسی علوم کے
ارتقائی منازل میں ایسے موڑ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے رائج زمانہ اور رائج سوچ کے
زاویے بدل دیئے۔ جن میں کوپر نیکس ، گلیلو ، سقراط ، آئن ا سٹائن ، اسٹیفن ہاکنگ
اور وینڈی فریڈ مین جیسے سائنسدان نظر آتے ہیں ان سب کے نظریات عصری نظریات سے
بالکل مختلف تھے۔ ان نظریات کے پیش ہوتے ہی رائج نظریات کے حامی سائنسدان اور
محققین میں تہلکہ مچ گیا۔ حتیٰ کہ ان کے ہم عصروں کی بڑی تعداد ان کے خلاف ہوگئی
مگر وقت کے ساتھ تفہیم بدلی اور نئے نظریات ، نئے زاویہ فکر کی قبولیت عام ہوتی
چلی گئی ہم خیال سائنسدانوں کاا گروہ بڑا ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ نظریہ کا عملی
تجربہ کر لیا گیا اس حقیقت کی طرف اشارہ
کرتے ہوئے حضور قلندر بابا اولیاء ؒ فرماتے ہیں:
” ایک مصنف یا
مفکر صدیوں پہلے کوئی تخیل کرتا ہے۔“
یہ تخیل اس کے
دماغ میں دفعتاً آتا ہے۔ جب یہ اپنا خیال دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تو لوگ اس پر
ہنستے ہیں اور کچھ لوگ اس کو پاگل کی اختراع سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔
صدیوں بعد جب
کوئی سائنسدان اس تخیل کو مادی شکل دیتا ہے تو دنیا تعجب میں پڑ جاتی ہے ۔ صرف
اتنا ہی نہیں بلکہ وہ تخیل پیش کرنے والے کی تعریف کرنے لگتی ہے۔
ایسا کیوں؟ جس
کو خیال آتا ہے وہی اس کو مادی شکل کیوں نہیں دے سکتا؟
اصل خیال صدیوں
پہلے دنیا کے ایک کونے میں بسنے والے آدمی کو آتا ہے اور اس کو عملی شکل صدیوں بعد
دنیا کے دوسرے کونے میں بسنے والا آدمی دینے کے قابل ہوتا ہے۔
جگہ اور وقت۔
اسپیس اور ٹائم۔
ہزاروں میل اور
سینکڑوں برس کا یہ فاصلہ کیا حقیقت ہے؟ یا صرف ایک مایا ہے۔“
تاریخ کے انہی
اوراق میں ہمیں ایک ایسے زاویہ فکر ، مشاہداتی طرز اور ٹیکنالوجی کا بھی تذکرہ
ملتا ہے جو ایک ہی سلسلہ سے نکلتی ہے۔ نامور برطانوی مصنفہ ، سابقہ رومن کیتھولک
سسٹر کیرن آرم سٹرانگ اپنی TED ایوارڈ کی تقریب میں کہتی ہیں۔
” تمام مذاہب
میں علوم کا ماخذ ایک ہی سورس بتایا جاتا ہے جو کہ بہترین زندگی بسر کرنے کا طریقہ
بتاتا ہے ان سب میں ایک قدر جو ہمیں مشترک نظر آئی ہے وہ یہ ہے کہ سب ایک ہی Axial Line (سلسلہ) سے جڑے ہوئے ہیں۔“
یہ منفرد طرزِ
فکر ہمیں رائج شعور کے برعکس ایسی مشاہداتی نگاہ مہیا کرتا ہے جس میں کہیں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ صدیاں گزر جانے کے
باوجود اس طرزِ فکر یا شعور سے حاصل ہونے والے علوم ، نظریات اور تجربات میں کوئی
فرق نہیں آتا اس شعور کو قلندر شعور کہا جاتا ہے۔ اطلاعات کے اسی رخ کی طرف توجہ
دلاتے ہوئے ماہر علوم باطنی جناب خواجہ شمس الدین عطیمی صاحب فرماتے ہیں :
اللہ نے فرمایا ۔” ہم نے داؤدؑ اور سلیمان
ؑ کو ایک علم دیا جو اللہ کی طرف سے
انسپائر ہوا ہے۔“
انسپائر ہونا
خواہ سن کر ہو یا کوئی منظر دیکھ کر ہو ، بہرحال وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے چونکہ
اللہ کے پیغمبروں پر وحی کے ذریعے علم کا نزول ہوتا ہے اس لئے اللہ کی طرف سے ذہن
کو کوئی خیال آتا ہے تو وہ اللہ ہی کا علم ہوتا ہے۔“
ایجادات کے
قوانین کی وضاحت کرتے ہوئے عظیمی صاحب فرماتے ہیں:
”مختلف سائنسی
ایجادات مثلاً ہوائی جہاز ، کمپیوٹر ، ٹیلی ویژن ، ٹیلی فون وغیرہ کی ایجاد بھی اس
وقت ہوئی جب لوگوں کو اللہ کی طرف سے نئی
نئی ایجادات و اختراعات کا علم انسپائر کیا گیا اس لئے کہ بغیر علم کے کسی چیز کا
وجود زیر ِ بحث نہیں آتا انسان کو وہ چیز مل جاتی ہے جس کی اسے تلاش ہوتی ہے۔ اللہ
کے یہاں اس بات کی خصوصیت نہیں کہ وہ اللہ کو مانتا ہے یا نہیں۔“
رائج سائنس میں
اشیا کے مطالعے کے لئے محققین ماضی کے سائنس دانوں ، ان کی کتب اور مسودات کا بھی
سہارا لیتے ہیں نئے نئے نظریات اور تحقیقات کے مختلف زاویے ریسرچ جرنلز ، رسائل
اور ڈائجسٹ میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مضامین پیش کرتے وقت مصنف اور مضمون کے Reviewer اس بات کا خیال
رکھتے ہیں کہ پیش کردہ نظریے سے متعلق
حتیٰ الامکان گزشتہ مشاہدات اور تحقیقات کا غیر جانبدارنہ تفصیلی جائزہ بھی لیا
گیا ہو اس جائزے میں ہم عصر جدید ، ازمنہ وسطیٰ اور دور قدیم کے پیش کردہ نظریات ،
تصورات اور نقشہ جات کا حوالہ دیتے ہیں۔
عظیمی صاحب فرماتے ہیں :
” نوع انسانی کا
شعور اجتماعی شعور ہے۔“
یعنی آج کی
شعوری سوچ کا لیول ایک دن ، ایک ماہ ، ایک سال یا ایک صدی کا حاصل نہیں بلکہ دنیا
کے پہلے انسان سے لے کر آج تک کے انسانوں کا اجتماعی شعور ہے تحقیقی مقالا جات میں
پیش کردہ نظریات کے Back Ground میں ہم جہاں درج بالا تین علمی ذرائع کا
سہارا لیتے ہیں وہیں Inspiration کے
مخصوص نظام پر مشتمل الہامی تصورات ، نظریات اور کتب کو نظر انداز نہیں کر سکتے جس
طرح سے رائج علوم میں نظریات کی تفصیل کے لیے ٹیکنا لوجی پر مبنی مثالیں دی جاتی
ہیں اسی طرح شعور کے اس منفرد زاویے میں بھی قوانین اور فارمولوں کو مثالیں دے کر
سمجھایا جاتا ہے۔ جن کی Technological
Implementation ہمیں اُس زمانے میں نظر آتی ہیں۔
علومِ لدنی کے
شارح جناب خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے
ہیں:
” قرآن اور دیگر
آسمانی صحائف میں اللہ نے حضرت سلیمان ؑ
کے واقعے میں صرف کہانی بیان نہیں کی کہ کہانیاں سنا کر ہمیں مرعوب کرے۔
اللہ ہمیں کیا مرعوب کرے گا ، ہماری حیثیت اور حقیقت ہی کیا ہے ؟ اللہ کے علوم لامتناہی ہیں۔ اللہ کا
منشا یہ ہے کہ ہم بھی ہدایت کی راہ اختیار کریں اور لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر
خود بھی قدم بڑھائیں۔
فی زمانہ سائنسی
ٹیکنالوجی کے تمام محرکات میں ایک ہی خواہش نظر آتی ہے۔
”کیسے کم سے کم
وقت میں زیادہ سے زیادہ سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔“
جیسا کہ وضاحت
کی گئی ہے کہ سائنسدان اطلاعات کے مخزن(Source) کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ایسا منبع یا سورس
جو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ
اطلاعات وصول کرے۔۔۔ان کی Processing کرے اور پھر ایجاد یا اختراع کی شکل میں
مظاہرہ کریں۔درج بالا مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی دماغ شعور کے علاوہ لاشعور
سے اطلاعاتReceive کرتا ہے۔ جن کی ابتدا خیال یا Inspiration سے ہوتی ہے
مثلاً ،
خیال آیا۔۔۔
دروازے پر گھنٹی بجی۔۔۔ اور دوست آگیا یہ لاشعوری اطلاع ہے۔
خیال آیا
۔۔۔آسمان پر کبوتر ہے۔۔۔ اور آسمان پر نگاہ اٹھی تو کبوتر نظر آگیا۔
خیال آیا۔۔۔
لڑکھڑائیں گے ۔۔۔ گریں گے۔۔ اور اگلے ہی لمحے لڑکھڑائے اور گر گئے۔
خیال
آیا۔۔۔آئسکریم کھانی ہے ۔۔۔ اور کسی نے آئسکریم پیش کر دی۔
یہ سب لاشعور کی
اطلاعات ہیں جنہیں ہم اپنے دماغ میں براہ راست Receiveکرتے
ہیں اسے چھٹی حس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
” دماغ کی Observation کی دو طرزیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ میٹریل کے تابع ہو کر دیکھتا ہے۔
دوسری یہ کہ وہ بغیر میٹریل کے دیکھتا ہے“
نیند ہو یا
بیداری دونوں صورتوں میں Observation کی ایجنسی دماغ ہے۔ بیداری میں انسان کھاتا
پیتا ۔ محبت و نفرت ، بھوک پیاس، ذہنی تناؤ ، جسمانی حرکت کو جیسے محسوس کرتا ہے
یا ان پر عمل ، ردِ عمل کا اظہار کرتا ہے۔ نیند میں بھی وہ کھاتا ہے ، پیار و محبت
کے احساسات سے گزرتا ہے ، بھوک پیاس کو محسوس کرتا ہے اس دوران وہ جسم سے بھی Connected رہتا ہے۔ جو کہ
نیند کی حالت میں رونما ہونے والی کیفیات پر ردِ عمل کا اظہار بھی کرتا ہے۔حتیٰ کہ
جنسی تلذذ کے تجربے سے گزرنے کی کیفیت کے بعد کپڑے خراب ہونے کے عمل کو بھی محسوس
کرتا ہے جس کے بعد وہ بالکل اسی طرح غسل کی ضرورت محسوس کرتا ہے جیسے بیداری میں۔
یہ بات واضح ہے
کہ دماغ بیداری اور نیند دونوں میں Active رہتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ نیند میں جب ہم اڑتے
ہیں ایک لمحہ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی مسافت طے کرتے ہیں تو جسم
بیداری میں کیوں نہیں اڑتا ، ہمارا دماغ وقت کی اس نفی کو کیوں نہیں محسوس کرتا جو
نیند میں طے کردہ فاصلہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم زمین کی space میں بند ہے۔
رائج نظریات کے
برعکس اسپیس کی تشریح کرتے ہوئے ماہر ِ علوم ِ باطنی حضور قلندر بابا اولیاء ؒ
فرماتے ہیں،
”سائنس دان
اسپیس ایسی خلا کو کہتے ہیں جہاں زمین کی کشش ثقل (Gravity) موجود نہ ہو ۔“
Gravity کس کس جگہ موجود نہیں ؟ یہ ایک الگ بات ہے۔
زمین کی کشش کی
وجہ سے انسان سانس لیتا ہے یعنی ایک ایسی زندگی ہے جو کشش چاہتی ہے اور اس کے بغیر
اس کا قیام ممکن، مگر زمین پر بسنے والے انسان ، حیوانات ، جمادات اور نباتات میں
کچھ ایسا موجود ہے جو زمین کی کشش کا اثر نہیں لیتا۔
مثلاً وہم ،
خیال ، افسوس اس کے علاوہ سوچ ، تفکر وغیرہ بھی زمین کی کشش سے لاتعلق ہیں۔ اس کے
بہت سے ثبوت موجود ہیں۔
انسان سو جاتا
ہے۔ کشش اس کو سانس پہنچاتی رہتی ہے مگر ذہن کشش سے آزاد ہوتا ہے۔ دیکھتا ہے،
کھاتا ہے ، پیتا ہے ، چلتا ہے ، ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں کہاں سے کہاں پہنچ
جاتا ہے۔ اس حالت میں جو کیفیتیں اس پر گزرتی ہیں ، یادداشت پر تحریر ہو جاتی ہیں
بالکل اسی طرح جیسے جاگنے کی حالت میں ہوتا ہے۔
(سوئے ہوئے
انسان کا ذہن جو کچھ دیکھتا ہے، سنتا ہے، سمجھتا ہے وہ زمین کی کشش سے آزاد ہے۔
سیدھے سادے معنی یہ ہوئے کہ سائنس کی یہ تعریف تحقیق کے خلاف ہے کہ ” اسپیس(Space) صرف خلا کو کہتے ہیں۔“)
نوع انسانی کی
عادت یہ بن چکی ہے کہ وہ بیداری کی حالت میں کی جانے والی سرگرمیوں کا نام Conscious Living یا شعوری حرکات رکھتا ہے اور نیند کی تمام سر گرمیوں کو Dream کا نام دے دیتا
ہے۔
چونکہ ہمارے ارد
گرد نسل در نسل وہی لوگ موجود ہیں جن کی سرگرمیوں کا مرکز و محور صرف اور صرف مادی
میڈیم رہا ہے یعنی کھانے سے پیٹ بھرنا ، ٹانگوں کی مدد سے دوڑنا یا چلنا ، آنکھوں
سے دیکھنا ، کانوں سے سننا ، ہاتھ سے چھونا حتیٰ کہ تقاضوں کی تسکین کے لئے مادی
میڈیم کی نوع انسانی نے مزید اختراعات کیں۔
جو وزن ہاتھ سے
نہیں اٹھ سکتا تھا وہ بھاری بھر کم کرین سے اٹھا لیا۔ جو آواز پاکستان سے چل کر
امریکہ نہیں پہنچ سکتی وہ موبائل یا سیل فون سے پہنچا دی۔
جن انتہائی
فاصلوں کو آنکھ دیکھنے سے قاصر تھی اس کے لئے آنکھ کی ذیلی تخلیق دور بین ، خورد
بین وغیرہ بنا لی گئیں
غور کرنے سے پتا
چلتا ہے آنکھیں ، کان ، ہاتھ ، کرین ، دور بین ، موبائل فون سب Material Medium ہیں جن کے ارد
گرد ہماری دلچسپیاں ہیں اور یہ یقین ہمارے اندر اتنی شدت سے پیوست ہے ہم کسی طور
پر اس سے چھٹکارا نہیں حاصل کر سکتے….. کیوں نہیں کر سکتے؟
آخر کیوں دائیں
ہاتھ سے لکھنے والا بچہ بائیں ہاتھ سے اس روانی سے نہیں لکھ سکتا جس طرح مکمل ذہنی
یکسوئی اور دماغی ربط کے ساتھ وہ دائیں ہاتھ سے لکھتا ہے۔ ظاہر ہے اس طریقہ کار کو
اس کے ماحول میں موجود ماں باپ، اساتذہ ، بھائی بہن نے منتقل کیا اور اتنی پریکٹس
کروائی کہ دائیں ہاتھ سے لکھنے کا طریقہ کار جہاں اس کی عادت کا Vital حصہ بن گیا
وہیں بائیں ہاتھ سے لکھنے کا خیال بھی معدوم ہوتا چلا گیا۔ یہ ہی مثال بائیں ہاتھ
سے لکھنے کی ہے۔
فی زمانہ سائنسی
ترقی میں میڈیم کا کردار نظر آتا ہے جبکہ اس میڈیم کی سمجھ بوجھ صرف اور صرف شعور
یا ظاہری تعلیم کا مانا جاتا ہے حالانکہ شعور بساط پر قائم ہےاس کی طرف ہماری توجہ
نہیں جاتی۔ ہماری شعوری سرگرمیوں کا مرکز بیداری کا جسم ہے۔
پیغمبران کرام
ان سرگرمیوں کا منبع لاشعور کو قرار دیتے ہیں جس کا سراغ ہمیں نیند میں ملتا ہے۔
رائج سائنس میں بھی ہم مظاہرات کے پیچھے کار فرما عوامل کو تلاش کرتے ہیں مثلاً
ابتدائی جماعتوں میں یہ بتایا جاتا ہے بارش کا پانی فضا میں موجود بادلوں سے آتا
ہے۔ گہرائی میں مطالعہ سے طالب علم یہ سوال کرتا ہے کہ بادلوں میں پانی کہاں سے
آتا ہے تو مزید مشاہدہ ، تجربہ بتاتا ہے کہ سمندر ، دریا ، جھیلوں میں موجود پانی
میں تبخیری عمل سے۔۔۔اس طرح قدم بہ قدم ہم علم کی کنہ تک پہنچ جاتتے ہیں اور کسی
مظاہرےمثلاً بارش سے حاصل ہونے والے پانی سے متعلق ادھوری اطلاعات مشاہدہ اور
تجربے کے مختلف زاویوں کے استعمال سے مکمل ہونے لگتی ہیں۔
سطحی درجہ کے
مشاہدہ و تجربہ سے مرتب علم میں جو خلا پیدا ہوتا رہاا وہ کنہ یا Root Level کے مشاہدے اور
تجربے سے بھر گیا۔
علم میں خلا علم کے اندی ابہام پیدا کرتا ہے جیسا کہ مشہور سائنسدان اسٹیفن
ہاکنگ نے کہا :
” علم میں ابہام
، علم نہ ہونے سے زیادہ مضر ہے ۔“
کیونکہ ابہام شکوک
کو جنم دیتا ہے ۔ اور ہر مشکوک Idea غیر حتمی علوم
کے کئی دروازے کھول دیتا ہے۔ اور سائنسدان فرضی دائروں اور لا یعنی گتھیوں کو
سلجھانے میں زمانے گزار دیتے ہیں۔ یہ بات واضح ہو گئی کہ ہم تمام تر کیفیات کا
محور مرکز جس ایجنسی کو ٹھہراتے ہیں اسے دماغ کہا جاتا ہے یہی دماغ بیداری میں
یعنی شعوری حالت میں مادیت میں محدود ہو کر سرگرم رہتا ہے ۔ مادے کی محدودیت کی
وجہ سے شعور ٹائم اوراسپیس کی پابندیوں میں رہ کر سرگرمیاں جاری رکھتا ہے جبکہ
نیند میں مادی وسائل شامل نہیں ہوتے اور دماغ ٹائم اور اسپیس کی نفی کے ساتھ سرگرم
عمل رہتا ہے۔
روحانی سائنسدان
بتاتے ہیں ہمارا جسم اسپیس میں بند ہے جو کہ زمینی کشش ثقل کا پابند ہے۔ اس کا
مطلب یہ ہے کہ سائنسی ترقی یعنی جسم سے متعلق عام مشاہدات، تمام تجربات اور رونما
ہونے والی تمام ایجادات بھی اسپیس میں بند ہیں اور زمین کی ارضی کشش کی پابند ہیں۔
علوم لدنی کے
حامل حضور قلندر بابا اولیا ءؒ اسپیس کی اقسام اور کردار کو واضح کرتے ہوئے فرماتے
ہیں:
” میں آپ کو یہ
کہنا چاہتا ہوں اسپیس کی تین اقسام ہیں۔
ایک قسم وہ ہے
جسے اللہ تعالی ٰ نے نور ارضی کہا ہے۔
دوسری قسم جب
نور ارضی کو روشنی کے طور پر دیکھا جائے ، یہ نور جسے میں نے روشنی کہا ہے، ایک
برقی جسم ہوتا ہے جو انسان کے چاروں طرف غلاف کی طرح قائم ہوتا ہے۔ یہ غلاف
تقریباً ایک فٹ موٹا ہوتا ہے۔
تیسری قسم وہ ہے
جسے اللہ تعالیٰ نے روح کہا ہے۔ اسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔“
اشیا کے مشاہدہ
میں فریب نظر کی وضاحت کرتے ہوئے قلندر بابا اولیاء ؒ مزید فرماتے ہیں۔
” اب سوچنے کے
قابل بات یہ ہے کہ برقی روجو ہمارے چاروں طرف غلاف کا کام کرتی ہے ، وہی نظر کے
لئے منشور (Prism) بن جاتی ہے اور ہم سے وہ حقیقت چھپا لیتی
ہے جو ہمارے اوپر ظاہر ہونی چاہیئے۔“
متذکرہ بالا
پرزم سے پیدا ہونے والے مشاہداتی نقص کی مثال دیتے ہوئے قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے
ہیں۔
” اللہ تعالیٰ
نے فرمایا :
”آپ پہاڑ کو
دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ قائم ہے ( حالانکہ وہ قائم نہیں) ۔ (۲۷ : ۸۸)
یہ بھی پرزم کی
تفصیل ہے۔
روحانی سائنسدان
بہت سے ایسے مظاہرات کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں اسپیس کی پابندی ، ارضی کشش کی حد
بندیاں نہیں ہیں اور یہ تمام مظاہرہ ہی جسم ، اسی دماغ یا ہماری دنیا کی حدود میں
رونما ہوتے ہیں اسے ہم مختلف مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔
ہر زندہ شخص کو
کہیں نہ کہیں سے خیال آتے ہیں خیالات کا یہ سلسلہ پیدائش سے موت تک جاری رہتا ہے ۔
خیال جب تک مختلف دماغی طبقات سے گزر کر ڈسپلے نہ ہو جائے اسپیس اور ارضی کشش کی
پابندیاں خیال پر صادق نہیں آتیں جب مظاہرہ ہو جاتا ہے یا ہورہا ہوتا ہے تو مادی
میدیم حائل ہونا شروع ہو جاتا ہے خیال کی درجہ بندی ہوتی ہے اور مظاہرہ اپنے خدوخال
کے ساتھ ساتھ کشش ثقل کی حد بندیاں محسوس کرتا ہے یہ سب پابندیاں شعوری کیفیات
ہیں۔ غور کرنے پر پتا چلتا ہے شعوری کیفیات پابندی میں جکڑی ہوئی ہیں پابندی میں
جکڑا جانا بذاتِ خود محدودیت ہے۔
مثال : بچہ پیدا
ہو کر ایک دن کا ہوا تو ایک دن کا شعور غالب ہو گیا۔ بچہ ایک سال کا ہوا تو ایک
سال کے شعور کے زیر اثر آگیا یہاں دو باتیں سامنے آتی ہیں۔
۱۔ شعور میں تغیر ہو رہا ہے اس میں کمی بیشی ہو
رہی ہے ۔
۲۔ جب بچہ دوسرے
سال میں داخل ہوا تو پچھلا ایک سال غائب ہو گیا یعنی وہ بیک وقت شعوری پابندی کے
احساس کو محسوس بھی کر رہا ہے اور نہیں بھی۔ پہلا سال غائب ہو گیا وہ کہیں نہ کہیں
جہاں بھی ہے اسپیس اور ارضی کشش کے زیرِ اثرنہیں ہے مگر اس کا احساس ، اس کی کیفیت
ہمہ وقت دماغ پر موجود ہے۔
جبکہ دوسرے سال
میں وہ جو لمحات بسر کر رہا ہے ۔۔۔۔ ہر ہر لمحہ وہ اسپیس اور ارضی کشش کے تابع ہے۔
اگر ہم اسی نقطہ
پر مزید گہرائی میں غور کریں تو واضح ہوتا ہے ہماری زندگی کا ہر لمحہ ، ہر منٹ ،
ہر سیکنڈ جو گزر رہا ہے اسپیس اور ارضی کشش کی پابندی میں گزرتا ہے اور جو گزر
گیا۔۔۔ جو غائب ہو گیا وہ اسپیس اور ارضی کشش کی پابندی سے آزاد ہے کہیں نہ کہیں موجود
رہتا ہے کیونکہ دماغ اس کا احساس رکھتا ہے۔
بانی قلندر شعور
حضور بابا اولیاءؒ علوم کی اس جہت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔:
” نیند میں ،
خواب میں ، انسان چلتا ہے ، بیٹھتا ہے ، کھاتا ہے ، کام کرتا ہے اور جاگنے کی حالت
میں بھی وہی کام کرتا ہے ۔ ان میں کیا فرق ہے؟ ماحول میں ایسا کچھ بھی موجود نہ ہو
پھر بھی یکایک کوئی غیر متعلق بات یا فرد کیوں یاد آجاتا ہے؟ جبکہ اس بات یا فرد
پر سینکڑوں برس کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
یہ سب باتیں
قدرت کے ایسے نظام کے تحت ہوتی ہیں جس کا مطالعہ ہونا ابھی باقی ہے۔“
***********
انسانی جسم اپنی
نشوونما میں تقاضوں کے تحت مختلف ذرائع سے تسکین حاصل کرتا ہے مثلاً بھوک ، پیاس ،
غم، خوشی ، تعلیم ، کاروبار ، خاندان وغیرہ وغیرہ ان تمام تقاضوں کا محرک عام طور
پر شعور کو سمجھا جاتا ہے ۔ یعنی شعور ہمیں بھوک لگاتا ہے۔
شعور ہمارے اندر
تعلیم کا تقاضہ ابھارتا ہے۔
شعور کاروبار کی
رغبت دلاتا ہے۔
یہ بات بھی واضح
ہے اگر ہم شعور کو منبع و محرک مان لیں تو
بھی سب تقاضے کسی نہ کسی خیال کے تحت ہی پیدا ہوتے ہیں۔ بھوک کا خیال آتا ہے بھوک
لگتی ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی کام میں دلچسپی یا ارتکاز اتنا بڑھ جاتا ہے کہ
بھوک و پیاس کا خیال نہیں آتا۔ جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس میں بھی تقاضوں کا
احساس نہیں ہوتا۔ دراصل احساس بھی خیال کی درجہ بندی ہے جو حواس کے ذریعے تشکیل
پاتی ہے…. سوال یہ ہے کہ آخر جسمانی طور پر (Physically) مکمل صحت مند ہونے کے باوجود مردہ جسم کو بھوک کیوں نہیں لگ رہی
یا وہ اپنے جذبات کا اظہار کیوں نہیں کر رہا۔ کیا اس کا شعور موجود نہیں ہے؟
” شعور کومتحرک
کرنے والی ایجنسی لاشعور ہے جب لاشعور اپنا تعلق شعور سے توڑ لیتا ہے تو شعور مر
جاتا ہے ۔ جسم انسانی شعور سے زندہ فعال نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مردہ جسم نہ
صرف فعال ہوتا بلکہ Grow کرتا۔ روز مرہ کا مشاہدہ ہے مردہ جسم جب مٹی
میں دفنا دیا جائے تو آہستہ آہستہ جسم کے آثار غائب ہو جاتے ہیں یہاں یہ بات ذہن
میں آ سکتی ہے کہ مردہ جسم کو کیڑے کھا جاتے ہیں۔ سوال پھر یہی ہے کہ آخر زندہ جسم
کو کیڑے کیوں نہیں کھاتے؟“
حضور قلندر بابا
اولیاء ؒ نے شعور اور لاشعور کے مابین تعلق کی وضاحت درج ذیل الفاظ میں کی ہے :
” شعور ہمیشہ
لاشعور سے آتا ہے۔ جو لاشعور کی کیفیتیں ہیں وہ شعور میں چلی جاتی ہیں مگر بہت ہی
کم۔ لیکن جو کیفیتیں شعور سے لاشعور میں واپس چلی جاتی ہیں وہ یادداشت میں تحریر
ہو جاتی ہیں اس کو تحت الشعور کہتے ہیں۔ تحت شعور ، لاشعور کا ہی حصہ مانا جاتا
ہے۔
لاشعور کو انسان
محسوس نہیں کرتا۔
لاشعور میں ساری
تحریر موجود ہوتی ہے یعنی انفرادی اور اجتماعی دونوں تحریریں لاشعور میں موجود
ہیں۔
لاشعور میں پوری
کائنات ہے ماضی ، حال اور مستقبل تینوں زمانے موجود ہیں۔ درمیانی پردے کو آدمی
کوشش اور ریاضت کے بغیر نہیں ہٹا سکتا۔“
بات واضح ہے کہ
زندہ جسم کو جس ایجنسی نے فعال رکھا تھا وہ منقطع ہوگئی ہے یعنی لاشعور…. لاشعور کو جب جسم کی ضرورت نہیں رہتی جسم کی حیثیت برقرار نہیں
رہتی اس کے تمام حواس ، اس کے تمام نظام ہائے دل ، گردہ ، ہاضمہ ، تنفس وغیرہ
وغیرہ فنا ہو جاتے ہیں۔
سائنسی علوم کی
شاخ بائیولوجی ایسی تمام اشیا کو جاندار گردانتی ہے جو درجِ ذیل اوصاف کے حامل ہو۔
۱۔ تخلیقی اکائی
خلیہ (Cell) ہو۔
۲۔ نظام انہضام ، نظام ِ تنفس ، نظامِ خون ،
نظامِ اعصاب ، نظامِ اخراج ، نظام تولید ، نظامِ نمو۔
۳۔ اپنی فعالیت میں خودکار ہوں۔
مندرجہ بالا
خصوصیات کے حامل زندہ آدمی پر جب موت وارد ہو جاتی ہے تو اس میں مندرجہ بالا نظام Perfect ہوتے ہیں مگر
فعال نہیں ہوتے۔ مرنے کے بعد جسمانی اعضا مثلاً گردہ کام نہیں کرتا۔ مخصوص وقت کے
اندر مردہ جسم مشین سے گردہ نکال کر اگر زندہ آدمی کے ناکارہ گردے سے بدل جائے تو
وہی گردہ کام کرنا شروع کر
دیتا ہے۔ آخر
مردہ جسم میں ایسی کون سی توانائی کم ہو گئی جس کی وجہ سے اس کے Perfect گردے آنکھیں
وغیرہ کام کی نہیں کریں۔
روحانی سائنسدان
بتاتے ہیں جب لاشعور جسم سے رابطہ منقطع کرتا ہے جسم سے متعلق تمام اشیا کی فعالیت
ختم ہو جاتی ہے۔
لاشعور نے شعور
کو استعمال کیا اور جسم کے ذریعے مظاہرہ ہوا….. لاشعور کا
رابطہ ٹوٹا…. تو اس سے متصل پورا نظام بند ہو گیا یعنی
جسمانی نظام کے تحت رونما ہونے والے تمام تر زندگی کے اعمال مثلاً پڑھنا ، لکھنا ،
بولنا ایجادات کرنا ، سوچنا سب کا سب لاشعور کے تابع ہے۔ اگر ہم نے اطلاعات کی اصل
کی طرف رجوع کرنا ہے تو ہمیں لاشعور کی طرف توجہ دینی پڑے گی۔ لاشعوری علم کی
کلاسیں پڑھنا ہونگی۔
1955 ء میں
مشہور طبیعات دان آئن سٹائن کا دماغ اس کی موت کے ساڑھے سات گھنٹے بعد نکال لیا
گیا تھا مقصد آئن سٹائن کے دماغ کا مطالعہ کرنا تھا کہ اس کے دماغ میں ایسی کون سی
خصوصیات تھیں جنہوں نے اسے محیرالعقل نظریات پیش کرنے میں مدد دی اس دماغ پر کئی
دہائیوں سے کام جاری ہے جن میں درج ذیل قابلِ ذکر ہیں۔
1955ء میں تھامس
شالٹز ہاروے کی تحقیقات ، 1980ء میں پروفیسر میری این ڈائمنڈ کے انکشاف اور 2012
میں جرنل “Brain” میں شائع ڈین فاک کے مضامین۔
بد قسمتی سے آئن
سٹائن کے خیالات کا مخزن جاننے کے لئے تا حال دورِ حاضر کے سائنسدان اور ارتقائی
علم کے ماہرین حتمی رائے قائم نہیں کر سکے۔ متعدد نظریات ایک دوسرے سے نہ صرف
متصادم ہوئے بلکہ بعض مطبوعہ Published ریسرچ کو
انتہائی درجہ مشہور ہونے کے بعد غلط ثابت ہونے پر مسترد بھی کر دیا گیا۔ ان تمام
تحقیقات کے باوجود جدید ترین مادی ٹیکنا لوجی بھی آئن اسٹائن کے دماغ میں سے کسی
بھی قسم کا سگنل ابھارنے سے قاصر ہے جیسا کہ زندہ آدمی میں الفا ، بیٹا ، ڈیلٹا ،
تھیٹا اور دوسری لہروں کی تحقیق ہے۔ یاد رہے کہ آئن اسٹائن کے علاوہ پچھلے سو سال
کے دوران کئی ہمہ جہت اور جینئس لوگوں کے دماغ بھی محفوظ کئے گئے ہیں۔ جن میں ریاضی
دان Friedrick
Gauss Carl، روسی انقلابی
سیاست دانVladimir Lenin اور بدنام زمانہ شاطر Edward H.Rudolf شامل ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے
کہ Dead Body ہونے کے لئے جو سیکنڈ متعین ہیں ان کے برخلاف ریسرچ کی جا رہی ہے۔
اس وقفے کے بعد Dead Body میں مقداریں
ٹوٹ جاتی ہیں اور متعین وقت کے بعد گوشت پوست مٹی کے ذرّات میں تبدیل ہو جاتا ہے
اور ہڈیاں راکھ بن جاتی ہیں راکھ بھی دراصل مٹی ہے۔
روحانی سائنسدان
(Spiritual
Scientists) بتاتے ہیں انسانی دماغ ایک ریسیور جو اطلاعات
کو موصول کر کے مختلف اجزا میں تقسیم کر دیتا ہے۔
اس بات کو اب ہم
عام ریڈیو ریسیور سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ قاری کے لئے ہم تمام عمل کو آسان زبان
میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ریڈیو اسٹیشن
خبریں ، میوزک ، اشتہارات یا ڈراموں سے متعلق جو بھی اطلاعات دور دراز ریڈیو ریسیور تک پہنچانا چاہتا ہے ان اطلاعات کو
اکٹھا کر کے ایک انتہائی لہر میں داخل کر دیتا ہے اس لہر کو Carrier کہتے ہیں۔ یہ
لہر بہت سی چھوٹی چھوٹی لہروں کو لے کر فضا میں پھیل جاتی ہے۔ اس عمل کو اطلاعات
کا Transmit ہونا کہتے ہیں۔ یہ لہریں جب دور دراز علاقے میں موجود کسی ریڈیو
ریسیور پر موصول ہوتی ہیں ریڈیو اسی خاص لہر کو وصول کرتا ہے۔پھر اس کے اندر موجود
چھوٹی چھوٹی لہروں کو الگ الگ کر کے ریڈیو کے مختلف حصوں کو مہیا کر دیتا ہے۔
بالکل اسی طرح دماغ لاشعور کی اطلاعات کو لہروں کی شکل میں موصول کرتا ہے پھر ان
لہروں میں موجود اطلاعات کو الگ الگ کر کے جسم کے مختلف حصوں میں پھیلا دیتا ہے ان
لہروں کی موصولی کے عمل میں جب تعطل واقع ہو جائے تو زندگی موت میں تبدیل ہو جاتی
ہے۔
انسانی جسم پر
وارد ہونے والی موت اور زندگی کی کیفیات … لاشعوری اور
شعوری تعلق سے بنتی ہیں لاشعور انسان کا باطن یا مخفی رخ ہے۔ اس رخ کے حصول کے لئے
موجودہ سائنسدانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے صوفی ازم نشاندہی کرتا ہے کہ :
”سائنس صرف ایسی
چیزوں کے بارے میں بات کرتی ہے جن کو چھوا جا سکے اور جن کا تجربہ ہو سکے۔ روحانیت
کا مضمون باطنی تجربوں کے ساتھ منسلک ہے مگر ان دونوں کے مابین گہرا رشتہ ہے اور
ان دونوں کا ارتقا ایک دوسرے کے تعاون سے ہوتا ہے۔