Topics
رنگین ہالہ کی
شکل میں نمودار ہونے والے شمسی طوفان کی یہ لہریں جو شہروں میں جگمگ کرتے نیون
سائن کی مانند ہوتی ہیں بے انتہا توانائی کے ذخیرے ہیں جس کے اثرات انتہائی تباہ
کن ہیں۔ نیون سائن بھی برقی مقناطیسی لہروں کی مدد سے بنائے جاتے ہیں۔ صرف نیون کی
وجہ سے گیسی ہالے سرخ دکھائی دیتے ہیں جب کہاس میں آرگان کی مختلف آمیزش سے رنگ
برنگ سائن بورڈ تیار ہوتے ہیں۔ نیون سائن میں ایک انچ سے پتلی ٹیوب میں برقی
مقناطیسی لہر استعمال ہوتی ہے جب کہ سورج کی سطح پر یہ لاکھوں میل کے رقبہ پر محیط
ہیں۔ مگر سورج کی سطح سے خارج ہونے والے CME کے طوفانی ذرات
جب ہمارے شمالی قطب پر پہنچتے ہیں تو مختلف رنگ بناتے ہیں جیسا کہ زمین کے نزدیک
آکسیجن گیس کے ساتھ مل کر سرخ و سبز رنگ کا ہالہ بناتے ہیں۔ جب کہ نائٹروجن سے
خارج ہونے والی شعاعوں کے ہالے گلابی ،
نیلے یا جامنی دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ کچھ عشروں پہلے تک یہ ہالے صرف قطبین تک
محدود تھے مگر شمسی طوفانوں کی بڑھتی ہوئی
شدت سے اب ان کا رخ شمالی قطب سے گزرتے ہوئے خط استوا کی جانب بھی ہے۔ جو بہرحال
ایک خطرناک رجحان کوا ظہار کر رہا ہے۔ کیونکہ ان رنگ برنگے خوبصورت پر کشش ہالوں
میں انتہائی تباہ کن توانائی چھپی ہوئی ہے جس کا کسی بھی غیر متوقع وقت میں اخراج
کرۂ ارض کو مکمل طور پر ویران کر سکتا ہے۔
1859ء میں ایک ایسا شعلہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے اثرات خط استوا کے نزدیک ملک اٹلی کے شہر روم تک دیکھے گئے۔ طوفان کے ریکارڈ شدہ اعداد و شمار کے مطابق یہ ایک مکمل شمسی طوفان تھا جو اپنی بھر پور طاقت کے ساتھ زمینی دفاعی نظام کو چیرتا ہوا خط استوا تک جا پہنچا تھا اور 9 کروڑ 30 لاکھ میل دوری سے ایک دن سے بھی کم مدت میں زمین کی سطح پر پھیل گیا۔ اس زمانے میں ٹیکنا لوجی اتنی عام نہیں تھی تمام مواصلاتی رابطہ تاروں کے ذریعے پھیلا ہوا تھا CME کے طوفانی ذرات نے جو برقی چارج سے لبریز تھے کئی تاروں کو خاکستر کر دیا۔شہروں اور ممالک کے مابین مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا کاروباری اور کمرشل حلقے ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ گئے یہ ایک ایسی آفت تھی جس کا علم کسی کو نہیں تھا دن میں بچے کچھے دھاتی اسٹرکچر سے وقفہ وقفہ سے شرارے نمودار ہوتے رہے جب کہ رات میں خوبصورت رنگوں کے ہالے گلابی ، نیلے ، جامنی ، سرخ ، سبز شیڈز کے ساتھ توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔۔۔ ایک آسمانی آفت کا انجانا خوف تھا جس کے نہ تو مبدا کا علم اور نہ ہی انجام کا۔
یہ طوفان اپنی
نوعیت کے ان دو طوفانوں کی طرح تھا ۔ جو دوسری دفعہ کینیڈا میں نمودار ہوا جس کی
آمد میں صرف 18 گھنٹے لگے 9 کروڑ 30 لاکھ میل سے ایک دن سے بھی کم وقفہ کرہ ارض سے
ٹکرا جانا حیران کن رفتار کی نشاندہی کرتا ہے ایسا طوفان جس میں روشنی اور تیز
رفتار ذرات شامل ہیں جن کا مبدا سورج کی سطح پر موجود سات میل بلند سونامی لہر بھی
ہو سکتی ہے خوش قسمتی سے جدید دور کو ایسے مکمل شمسی طوفان سے واسطہ نہیں پڑا جب
کہ 1859ء میں کاروبار زندگی اور بزنس میں صرف ٹیلی گراف کاا ستعمال ناگزیر تھا۔ آج
کا دور ٹیکنا لوجی پر مکمل انحصار کا ہے۔ مواصلات ، الیکٹرونکس ، دھاتی مشینیں ،
بڑے بڑے پل ، انفارمیشن ٹیکنا لوجی ، بحری فضائی سفر سب کے سب ناگزیر ہیں۔ کیا اس
انحصاری کے ساتھ ہم ایک اور مکمل طوفان کو برداشت کر سکتے ہیں؟
کیا ایسا طوفان
ممکن ہے؟
اگر شکل نمبر 18
کو دیکھا جائے تو جواب ہاں ہے !!
1859ء کے مقابلے
میں اس کے اثرات سات ارب آبادی کے لئے انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ ہماری زمین اور اس
کے مواصلاتی نظام پر اس کے نتائج کیا برآمد ہوں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے
جیسا کہ ساحلی رہائشی علاقوں پر سمندری طوفان کے اثرات۔۔۔ سونامی طوفان بھی غیر
متوقع تھا اور اس دور میں اس کے ماحولیاتی اثرات اور انسانی زندگی جہاں صدمہ سے دو
چار ہوئی ہیں خوف کی لہر پورے کرۂ ارض پر آبادی میں سرایت کر گئی۔۔۔
ایک ہی سوال
ہے۔۔۔ کیا ہوگا اگر؟؟
تصور کریں اگر
ہم موبائل فون کے رابطے کھو دیں تمام مواصلاتی سیاروں کے رابطے منقطع ہو جائیں۔ ٹی
وی سگنل بند ہو جائیں بینکوں میں رقوم کی ترسیل رک جائے اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی
فراہمی میں گھنٹوں نہیں دنوں کا تعطل آجائے تو حالات میں کیا ابتری آئے گی۔۔۔؟ اگر
ابتری کا بھیانک نقشہ سامنے رکھا جائے تو ہماری دنیا کا وجود باقی رہے گا۔۔؟
قدرتی آفات
مثلاً زلزلہ سے نو تعمیر علاقہ کی مدت ترقی یافتہ ممالک میں تین سے چھ ماہ بتائی
جاتی ہے جب کہ نفسیاتی اثرات سالوں پر محیط ہیں۔ حالیہ سونامی کی تباہ کاریاں دو
سال گزرنے کے بعد بھی نظر آتی ہیں۔ سیاحوں نے سونامی زدہ ملکوں کا رخ ہی چھوڑ دیا
بزنس مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا ٹورسٹ انڈسٹری کو بڑا دھچکا لگا یہ ذکر صرف ایک
سونامی کا ہے اور ایک انڈسٹری کابھی ۔۔۔ بقیہ تباہ کاریوں کا ہمیں معلوم نہیں۔
بتاتے ہیں سورج
ہر گیارہ سال بعد اپنے مقناطیسی میدان کو پلٹ دیتا ہے وقت قریب ہے۔۔۔ کتنا قریب
ہے؟
نہیں معلوم ؟
اگر معلوم ہو
جائے تو اٹھارہ گھنٹوں میں سات ارب آبادی کو کس قدر محفوظ رکھا جا سکتا ہے نہیں
معلوم !!!
پانچ سال کا
دورانیہ بتایا جاتا ہے جب سورج میں برقی مقناطیسی طوفانوں کا زور بڑھ جاتا ہے جو
کہ اس وقت پہلے کے مقابلے میں اپنی توانائی میں کئی گنا زیادہ نظر آتے ہیں CME کے اخراج کے
پیٹرن اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ موسمیات دان سانس روکے بیٹھے ہیں نظریات در
نظریات پیش ہو رہے ہیں مگر روایتی پیشین گوئیاں اور نئی دریافت میں تضاد نظر آتا
ہے۔۔۔ عام آدمی کو ان سب میں کوئی دلچسپی نہیں مگر ادارہ NOAA کے ماہرین حتمی رائے دینے سے قاصر ہیں ان کی یہ
خواہش ہے کہ ہر وقت اطلاع کا نظام جاری کیا جائے تاکہ ممکنہ تباہی کا تدارک ہو سکے
مگر یہ خواہش اور اس سے متعلق تحقیق نا تمام ہے۔
شمسی طوفان کی آمد کا وقت کچھ بھی ہو ہر دور میں ٹیکنا لوجی کی بنیادیں جن عناصر پر قائم سمجھی جاتی ہیں۔
سب انتہائی نازک
مرحلے میں ہیں اس کے لئے آپ سورج میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے لمحہ لمحہ
آگہی کی اہمیت سمجھ سکتے جس پر پوری دنیا کی معاشرت اور معاشیات کا دارو مدار ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ سورج کے مرکز ہ سے خارج ہونے والا پلازمہ جو سطح سورج سے صرف
پانچ لاکھ میل کے فاصلے پر ہے اپنے اندر کئی لاکھ ڈگری حرارت چھپائے ہوئے ہے
طبیعیات کے تمام اصول یہاں ہونے والے مظاہرات کا تشفی بخش جواب دینے سے قاصر ہیں
لفظ ختم ہو جاتے ہیں مثلاً ہم حرارت کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ انسانی ٹمپریچر 98.4o
ہوتا ہے پانی 220oF پر کھولنا شروع کر دیتا ہے مختلف دھاتیں 2000oC پر پگھل جاتی ہیں مگر
یہاں بات لاکھوں ڈگری کی ہو رہی ہے جہاں نہ ٹھوس ہے ۔۔۔نہ مائع ہے۔۔۔ نہ گیس ہے۔۔
لفظوں کی کمی کی وجہ سے پلازمہ کہا جارہا ہے۔
پلازمہ کے اندر
کیا ہے؟۔۔۔ وہ جو بالائے حرارت گیسوں کا بادل ہے اس کے اندر کون سے ذرات موجود
ہیں۔۔۔نہیں معلوم !
یہ بات نہیں کہ
ہمیں معلوم نہیں ہے۔۔۔ بلکہرائج ٹیکنا لوجی اور آلات سائنس اس قدر انتہائی بالائے
حرارت کو سمجھنے سے ہی قاصر ہیں سورج کی سطح پر چوبیس گھنٹے ساتوں دن دھماکے ہو رہے
ہیں ہائیڈ روجن ہیلیم اور فوٹان پر مشتمل کثیف مواد انتہائیاونچے درجہ حرارت پر
ابل رہا ہے یعنی سطح پر نہ صرف بالائے حرارت عوامل کار فرما ہیں بلکہ ناقابل بیان
حد تک کہ بلند و بالا دھماکوں کی آوازوں کا ماحول بنا ہوا ہے۔
ماہرین ان صوتی
اور بالائے حرارت امواج کے امتزاج کو بھی شمسی طوفانوں کی بڑھتی ہوئی شدت کا سبب
بتاتے ہیں عام آنکھ سے ایسے شمسی طوفان کے ہالہ کو صرف اور صرف گرہن کے وقت دیکھا
جا سکتا ہے جیسا کہ شکل نمبر 19 میں دکھایا گیا ہے۔ جب سورج اور زمین کے درمیان
چاند اس طرح آجاتا ہے کہ وہ سورج کو بالکل چھپا لیتا ہے پھر سورج کا ہالہ دکھائی
دیتا ہے جسے X ray شیٹ یا مخصوص چشموں کی مدد سےدیکھا جا سکتا
ہے۔ چاند کی شبیہ سورج سے چار سو گنا زیادہ چھوٹی ہے مگر وہ ہم سے سورج کے مقابلے
میں 400 گنا زیادہ نزدیک ہے چونکہ چاند پانچ ڈگری ٹیڑھا گھومتا ہے اس لئے ہمیں ہر
ماہ گرہن نظر نہیں آتا بلکہ اکثر اوقات وہ سورج کے اوپری یا نچلے حصہ کو ڈھانپے
ہوئے نظر آتا ہے جسے جزوی گرہن کہتے ہیں اسی لئے سال ڈیڑھ سال میں زمین کے چند
مقامات پر مکمل گرہن نظر آتا ہے۔ جیسے ہی چاند سورج کے سامنے آتا ہے زمین پر سایہ
آجاتا ہے۔ زمین کا ہر خطہ اسی صورتحال سے قریباً 300 سال بعد گزرتا ہے۔
رنگ برنگے ہالے
، انتہائی دھماکہ دار سطح کا حامل سورج کب ماند پڑ جائے گا ماہرین بتاتے ہیں اس کی
جسامت کے حساب سے اگر عمل ایتلاف کا اندازہ لگایا جائے تو سورج پر موجود فیول
تقریباً پانچ ارب سال تک چلے مگر اس کے بعد کوئی سپر نو وا طرز کا دھماکہ نہیں
ہوگا کیونکہ سورج اس کے لئے بہت چھوٹا ہے جیسا کہ ہم نے مضمون کے شروع میں بتایا
سورج ستاروں کی دنیا میں ”زرد بونا“ کہلاتا ہے سورج سے حرارت کے اخراج کے بعد اتنی
حرارت نہیں بچے گی جو اس میں عمل ایتلاف کو جاری رکھ سکے نتیجتاً سورج کے انتہائی
دباؤ کی حالت میں موجودہ مرکزہ آہستہ آہستہ پھیلنے لگے گا ایک سرخ قوی الجثہ فلکی
اجرام کی مانند اس کا گیسی پھیلاؤ عطارد ، زہرہ زمین سے گزر کر مریخ تک پھیلے
گا۔۔۔
کیا ہماری زمین
ایسی حالت میں بے پناہ حرارت کی لپیٹ میں آجائے گی۔۔۔ ایسا نہیں ہوگا کیو ں کہ
سیارے ستاروں کے پھیلاؤ سے اپنے مدار سمیت پیچھے ہٹتے ہیں۔ آخر میں سورج زمین کی
مانند ایک گولے کی طرح رہ جائے گا۔ جس کا قطر قریباً 600 میل بتایا جاتا ہے۔۔
سوچنا یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔۔؟
نوع انسانی کی
بقا کے بارے میں کیا اندازے لگائے گئے ہیں کرۂ ارض کا انجام کیا ہوگا؟۔۔۔ اس بارے
میں سائنسدانوں کی کوئی حتمی رائے سامنے نہیں آئی۔
جنوری 2009ء میں
مطبوعہ کتاب محمد رسول اللہ (جلد سوئم) میں مصنف جناب عظیمی صاحب نے فرمایا ہے کہ
”عظیم روحانی سائنسدان قلندر بابا اولیاء نے اپنے شاگرد کو بتایا کہ کم و بیش دس ہزار
سال کے بعد زمین تہہ آب آجاتی ہے۔ دس ہزار برس لگ بھگ 2006ء میں پورے ہو رہے ہیں۔
سمندر میں مدو
جزر سورج اور چاند کی کشش سے پیدا ہوتے ہیں ، بلیک ہولز اتنی زیادہ کشش رکھتے ہیں
کہ وہ روشنی کو بھی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں خیال ہے کہ اگر کوئی بلیک ہول ہماری
زمین کے نزدیک سے گزرے تو انتہائی کشش کی وجہ سے زمین میںموجود لاوے (Magma) میں ایک کشش پیدا کرے گا جس کی وجہ سے زمین کے بلیک ہول کے سامنے
والے حصے میں ابھار پیدا ہوگا۔ ایک کڑے کی شکل میں جو حصے سمندر میں ہیں وہاں خشکی
ظاہر ہو جائے گی اور کڑے کے آس پاس کے حصوں کی زمین دھنس جائے گی اور خشکی کی جگہ
سمندر آجائے گا اور سمندر میں مدوجزر کی کیفیت ایسی ہوگی جیسے پانی کے پہاڑ ادھر
سے ادھر ہو رہے ہوں ، زمین میں سیلاب کی وجہ سے شدید تباہی آجائے گی۔ آبادی غرق آب
ہو جائے گی ، دیو ہیکل مشینوں کا نام و نشان تک نہیں رہے گا ۔“
ہر خاص و عام
بندہ یہ جانتا ہے کہ علم کے دو رخ ہیں۔ اگر ہم علم کو سمندر تسلیم کر لیتے ہیں تو
سمندر کے دو رخ شعور دیکھتا ہے۔ پانی کا ایک رخ سفید ہے اور دوسرا رخ سیاہ ہے۔ یہ
بالکل الگ علم ہے کہ سمندر کا پانی نیلا اور نیلگوں نظر آتا ہے۔ ایویئیشن کے علوم
کے ماہرین یہ دیکھتے ہیں کہ سمندر میں کالا اور سفید پانی ایک ساتھ چلتے ہیں لیکن
دونوں پانی ایک دوسرے سے مزاحم نہیں ہوتے ۔ سفید پانی کی لہر کا وہ کتنی ہی بلند
کیوں نہ ہو ایک قطرہ کا لے پانی میں نہیں گرتا اور کالے پانی کی 50 ، 60فٹ اونچی
لہر اٹھتی ہے لگتا ہے کہ آسمان کو چھو لے گی۔ لیکن جب وہ صعود سے نزول کرتی ہے تو
سیاہ رنگ پانی کا ایک قطرہ سفید پانی میں نہیں جاتا۔ کنارے پر آ کر وہ ایسے پلٹ
جاتا ہے کہ جیسے سفید اور کالے پانی کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہوئی ہے۔ کالا پانی
اپنے زون میں گرتا ہے ، سفید پانی اپنے زون میں۔ یہ اتنا واضح عمل ہے کہ بحری
جہزاوں میں سفر کرنے والے لوگ بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔
آسمانی کتابیں
تورات ، انجیل اور غیر تحریف شدہ دیدار اور آخری کتاب قرآن کریم میں اس کا تذکرہ
وضاحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے کالے اور سفید پانی کے درمیان جودیوار
کھڑی کی ہے اسے برزخ کا نام دیا ہے۔
قابلِ قدر جینئس
خواتین و مرد اور سائنسدانوں کی تحقیق و تلاش سے جو بھی نتائج مرتب ہوئے وہ تخریبی
ہوں یا تعمیری یہ شعور کی عظیم الشان استعداد ہے۔ لیکن شب و روز کا عمل عارضی ہے۔
اس لئے کہ جب کوئی مفکر غیب حاضر۔۔۔ حاضر غیب کی زنجیر سے گزر کر غیب کی دنیا میں
جا بستا ہے تو اس کی شعوری کیفیات بھی غیب کے پردے میں چھپ جاتی ہیں۔ آسمانی
کتابوں کے مطابق گوشت پوست (مادیت) کا جسم تو غائب ہو جاتا ہے لیکن صلاحیتیں جو
لشعور سے منتقل ہوتی ہیں موجود رہتی ہیں اس لئے کہ لاشعور زندہ ہے۔
عظیم روحانی مفکر اور لاشعوری دنیا سے پوری طرح واقف پیغمبروں کی تعلیمات کے امین ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاؒ نے 1960ء میں فرمایا ہے جو کتابوں میں موجود ہے کہ 2006ء کے بعد بتدریج دنیازلزلوں طوفانوں اور آگ اگلتے آتش فشاں میں گھر جائے گی اور یہ حادثہ اتنا عظیم ہوگا کہ لوگ غاروں اور درختوں رہنے مجبور ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ آمین۔