Topics

سافٹ وئیر اور برقی توانائی

برقی روکا کم سے کم استعمال شروع سے ہی ایک چیلنج رہا ہے۔ ٹیکنالوجی میں روز افزوں ترقی کے ساتھ جہاں عام آلات کی چھوٹی جسامت کا رواج بڑھتا گیا وہیں برقی توانائی کی فراہمی کا مسئلہ بھی زیر بحث آتا رہا۔ ایسے آلات میں جدید کمپیوٹر ، دستی کمپیوٹر ، موبائل فون، اور LED ٹی وی وغیرہ شامل ہیں۔ حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق صرف  موبائل فون کی تعداد لگ بھگ سات ارب ہے، ترقی یافتہ ممالک میں اوسطاً ایک آدمی کے پاس پانچ کمپیوٹر موجود ہیں۔ یہ تمام آلات بیٹری سیل سے برقی توانائی حاصل کرتے ہیں۔ ان آلات میں All-In-One کی مانگ بڑھ گئی ہے ، یعنی میوزک ، ویڈیو ، کیمرہ ، فون ، ای میل ، کیلنڈر، ڈائری ، گیم وغیرہ بہت سے پروگرام ایک موبائل یا دستی کمپیوٹر میں ہوں ، جو کہ جسامت میں ہتھیلی سے بڑا نہ ہو اور اس کی بیٹری کئی دن تک برابر کام کرتی رہے یہی وجہ ہے کہ نئے نئے آلات کی ایجاد میں کم سے کم بیٹری کا استعمال اور بہترین کارکردگی کے مابین فاصلہ زیادہ ہوتا رہا ہے۔ اس فاصلے کو کم کرنے کے لئے آلات کی جسامت چھوٹی کی جا رہی ہے مگر یہ کوشش بھی اپنی آخری حدوں پر پہنچ چکی ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی کی بچت کے دیگر ذرائع تلاش کئے جائیں۔

اس تحقیق میں ہم نے برقی توانائی کی بچت اور بھر پور کارکردگی کے مابین توازن قائم رکھنے کا نیا زاویہ پیش کیا ہے۔

دراصل ڈیجیٹل آلات ایک پروگرام ہی اور توانائی کا بڑا حصہ پروگرام کی رفتار ، پروگرام کی ترتیب اور دیگر جزویات پر منحصر ہوتا ہے۔ ہماری تحقیق کا زاویہ دراصل رائج تحقیقی زاویہ سے انتہائی مختلف ہے۔ رائج تحقیق ڈیجیٹل نظام کو سلیکان ( بنیادی تخلیقی مادہ ، جیسا کہ انسانی نظام میں خلیہ بنیادی اکائی) کی اکائی میں دیکھتی ہے جب کہ ہم اس

تحقیق میں اسے ہدایت یا پروگرام کی اکائی میں دیکھ رہے ہیں۔ فی زمانہ موبائل آلات میں ملٹی میڈیا پروسیسر ( کمپیوٹرکا دماغ یا DSP) استعمال کئے جاتے ہیں ایسے DSP میں مختلف کام ایک ساتھ ، ایک رفتار کے ساتھ متوازی کئے جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ساتھ توانائی اوررفتار کیسے بڑھائی جائے؟ اصول یہ ہے کہ کچھ پانے کے لئے بہرحال کچھ کھونا پڑتا ہے، کچھ خرچ ہوتا ہے تو کچھ بچت ہو جاتی ہے۔ مقداریں فنا ہو جاتی ہیں تو مقداریں پیدا ہوتی ہیں، ایسے حقائق کو سامنے رکھ کر کم سے کم خرچ کے ساتھ یہ دونوں ٹارگٹ کیسے حاصل کئے جائیں؟

ہم نے اپنی تحقیق میں ایسی متوازی فعالیت کے دوران بہترین کارکردگی اور توانائی کی بچت کے درمیان توازن کا قانون وضع کیا ہے۔ اس قانون یا فارمولے کو عملی طور پر مختلف جگہ پر آزمایا ، جس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ قانون یا فارمولے کے ذریعے آڈیو ، ویڈیو ، موبائل اور بائیوٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر پروگراموں میں توانائی کی قابلِ قدر بچت ہوئی۔ اسی ضمن میں کارکردگی کی پیمائش کے لئے نئے نئے شماریاتی نظام وضع کئے۔ ان کی مدد سے جہاں سوفٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے میں آسانیاں فراہم ہوئیں ، وہیں برقی توانائی کا کئی گنا ذخیرہ ہوا۔

ہم نے اپنی تحقیق کے نتائج Philips , INTEL UP  اور ANALOG DSP جیسے مختلف کیٹیگری کے ڈیجیٹل نظام کے لئے پیش کئے ہیں۔

دور جدید نئی نئی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے خود کار داخلی دروازے ہوں ، دستی فون ، دیوار پر نصب ٹی وی اسکرین ، گاڑیوں میں لگے راہ نمائی نظام (نیوی گیشن سسٹم) یا ایک LED پر مشتمل ٹیبل لیمپ ہو برقی توانائی ان کی فعالیت میں زندگی کا کردار ادا کرتی ہے۔ برقی رو الیکٹران کے بہاؤ سے حاصل ہوتی ہے الیکٹران مادے کے انتہائی چھوٹے ذرے کو کہتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد رونما ہونے والے تمام مظاہرات میں کسی نہ کسی طرح الیکٹران کی حرکات کے چار مختلف کردار کار فرما ہیں۔

جب الیکٹران اپنے راستے پر سیدھے چلتے ہیں تو برقی بہاؤ شروع ہو جاتا ہے ، جسے ہم بجلی کہتے ہیں۔

جب الیکٹران ایٹم میں اچھل کود کے نتیجے میں اپنے مرکز سے دور یا نزدیک ہوتا ہے تو روشنی کا اخراج ہوتا ہے جسے ہم سرخ ، سبز ، زرد ، مرکری یا لیزر کی شکل میں بھی دیکھتے ہیں۔

جب الیکٹران مرتعش ہوتا ہے تو ارتعاش کی مقدار کے مطابق ایٹم گرم یا سرد ہوتا ہے جسے ہم مادے کا ٹمریچر بھی کہتے ہیں۔

الیکٹران کے بہاؤ میں کمی و بیشی سے اس کے راستے کے ارد گرد مقنا طیسی میدان بنتا ہے اور تمام مقناطیسی آلات موٹر ، جنریٹر ، گیٹ کنٹرول ، ہارڈ ڈسک وغیرہ سب اسی اصول پر کام کرتے ہیں۔

اسی ضمن میں یہ بات ذہن میں آسکتی ہے کہ بہاؤ ، حرارت ، روشنی اور مقنا طیسی میدان میں کمی بیشی کیسے کنٹرول کی جا سکتی ہے۔ یہ سب علوم موجودہ سائنس کی شاخ الیکٹرانکس میں زیر بحث آتے ہیں۔

دورِ جدید کی ٹیکنا لوجی میں برقی رو کسی نہ کسی طرح الیکٹران مشینوں کی فعالیت کی ذمہ دار ہے۔ برقی رو برقی آلات کی مدد سے توانائی کی ایک شکل کو دوسری شکل میں ہمہ وقت تبدیل کرتی رہتی ہے۔ توانائی چاہے مادی ذرہ ایلکٹران کی شکل میں ہو یا پھر ٹھوس حرکت کی صورت میں رونما ہو۔ بہرحال مادی ہے در حقیقت مادہ ہے جو مادی شکل میں تحلیل ہو رہا ہے آلات کی فعالیت میں درکار توانائی اور حقیقی استعمال شدہ توانائی میں ہم آہنگی ضروری ہے اگر یہ توازن بگڑے گا تو آلۂ استعمال کی فعالیت میں فرق پڑے گا یا پھر برقی توانائی کا غیر ضروری ضیاع ہوگا۔توانائی کا کم سے کم استعمال موجودہ سائنس اور ٹیکنا لوجی کا ایک اہم چیلنج ہے آلات کا ان گنت استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور توانائی کے موجودہ ذرائع میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔ ٹیکنا لوجی کی ترقی میں انتہائی تیزی سے فعالیت ، چھوٹی جسامت اور کم برقی توانائی کا استعمال اہم ستون بن گئے ہیں۔

ہماری تحقیق کا مقصد ان تمام عناصر کے مابین ایسا توازن تلاش کرنا ہے جو کسی برقی آلہ کو ممکنہ حد تک نہ صرف انتہائی رفتار سے فعال رکھے بلکہ برقی توانائی ( جو بیٹری کی شکل میں استعمال کی جاتی ہے) کا استعمال بھی کم سے کم رہے۔

یاد رکھئیے ! ایجاد کا مقصد کسی مسئلے کا بہترین حل تلاش کرنا نہیں بلکہ مسئلہ کا درکار حل مہیا کرنا ہے کیوں کہ ہو سکتا ہے بہترین حل انتہائی مہنگا ہو جب کہ اس کی ضرورت بھی نہ ہو۔

کمپیوٹر کی دنیا ، الیکٹرانکس کی دنیا ہے جہاں نیم موصل اشیا موجود ہوتی ہیں یعنی ایسی اشیا یا مادہ جن میں برقی رو کے بہاؤ کی مقدار کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اس کے برعکس الیکٹریسٹی کی دنیا موصل کی دنیا ہے جہاں برقی رو کسی رکاوٹ کے بغیر گزرتی ہے مثلاً سونا ، چاندی ، تانبا ، لوہا وغیرہ۔

سلیکان ، جر مینیم ایسی مادی اشکال ہیں جن میں برقی رو کے بہاؤ کو ہم اپنی ضرورت کے مطابق کنٹرول کر سکتے ہیں اور یہی دورِ حاضر کے ڈیجیٹل آلات کی بنیاد ہے۔ مادہ مادی شکل میں تحلیل ہوتا ہے تحلیل کے معیار کا انحصار اس میڈیم پر ہوتا ہے جو کہ تحلیل میں سرگرم ہے اگر واسطہ اور مادی  Input میں ہم آہنگی ہو تو مادہ مکمل طور پر تحلیل ہو جاتا ہے اور نئی مادی حالت تشکیل پاتی ہے یہ بات بالکل درست ہے کہ واسطہ ( جو کوئی بھی Device یا مشین ہو سکتی ہے) کی کار کردگی میں بہترین فعالیت ضروری ہے مثلاً جب ہم کمپیوٹر پر پراگرام کو چلاتے ہیں تو پروگرام کے اپنے خدوخال ہوتے ہیں جن کی ہم مختلف طریقے  سے پیمائش کرتے ہیں بالکل اسی طرح کمپیوٹر کے ہارڈ وئیر کے بھی اپنے خدوخال اور اوصاف ہیں۔ پروگرام اور ہارڈ وئیر کے وصف کی آپس میں ہم آہنگی لازم ہے مکمل ہم آہنگی کی صورت میں دونوں یک جان ہوں گے اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ ہوگا۔ جب کہ دونوں یا دونوں میں سے کسی ایک کی بھی کمی بیشی کی شکل میں یا تو پروگرام اپنی بھر پور کارکردگی سے قاصر ہوگا یا پھر ہارڈ وئیر کی کارکردگی معیار سے گر جائے گی۔ اس کار کردگی کے فرق کو ہم فعالی نا کارگی کہتے ہیں یعنی ایسی ناکارگی جو کسی بھی چیز(پروگرام ، شے) کو اس کے اصل نتائج سے کم معیار پر استعمال کرتی ہے اسے Underutilization  بھی کہتے ہیں ؛ یہاں بہت سے سوال اٹھتے ہیں۔

۱۔       آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو فعالی ناکارگی کو جنم دیتے ہیں۔

۲۔       پروگرام اورکمپیوٹر ہارڈوئیر میں کون سے اوصاف ہیں جو بھر پور کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

۳۔      ان اوصاف کے مابین کیا تعلق ہے۔

۴۔      کیا اس تعلق کے بنیادی اوصاف کی درجہ بندی اور گروہ بندی کی جا سکتی ہے۔

ان تمام سوالوں کا جواب ہماری اس تحقیقی کاوش کی بنیاد ہیں۔

ہم ٹیکنا لوجی کے دور میں رہ رہے ہیں چاہے وہ گھروں کی چھت پر موجود پانی کی ٹنکی ہو یا ایک کمپیوٹر۔۔۔ سب کے سب دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہیں ایک حصہ سوفٹ وئیر کہلاتا ہے اور دوسرا ہارڈ وئیر ۔ سوفٹ وئیر میں ہر وہ شے شامل ہے جس میں بہاؤ کی صلاحیت ہے مثلاً پانی کی ٹنکی میں پانی سوفٹ وئیر ہے جب کہ ٹنکی ، نلکے اور پائپ وغیرہ سب ہارڈ وئیر میں شامل ہیں۔ سوفٹ وئیر کے اپنے خواص ہیں مثلاً پانی کا ارتکاز ، رنگ ، مقدار پھیلاؤ ، اونچائی وغیرہ۔ یہ سب خواص پانی کے ٹینک میں بہاؤ اور رفتار کو کسی نہ کسی طرح سے کنٹرول کرتے ہیں۔ مزید براں ٹینک اور اس سے متصل پائپ نلکے وغیرہ پانی(سوفٹ وئیر) کی تنظیم ، تقسیم اور فراہمی قائم رکھتے ہیں۔ کمپیوٹر میں بھی سوفٹ وئیر ہوتا ہے جو کہ بجلی کے بہاؤ کی مختلف حالتوں کو ظاہر کرتا ہے ان حالتوں کو سمجھنے کے لئے ہم صفر اور 1 ہندسہ استعمال کرتے ہیں۔ صفر کا مطلب یہ ہے کہ بجلی یا الیکٹران کا بہاؤ نہیں ہے جب کہ 1 کا مطلب ہے الیکٹران کا بہاؤ جاری ہے اگر ہمارے پاس سافٹ وئیر میں 1101 کی شکل میں کوئی ہدایت لکھی ہے اور ہر نمبر پر ایک سیکنڈ لگ رہا ہو تو دائیں سے بائیں جانب پڑھتے ہوئے ہم کہیں گے کہ یہ نمبر ( سوفٹ وئیر) بجلی یا الیکٹران کے بہاؤ کو پہلے سیکنڈ میں جاری رکھتا ہے پھر دوسرے میں روک دیتا ہے جب کہ تیسرے اور چوتھے سیکنڈ میں بہاؤ جاری رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بہاؤ کہاں ہوتا ہے؟۔۔۔ جواب آسان ہے کمپیوٹر میں موجود پرزوں میں یہ بہاؤ جاری رہتا ہے یا جنٹرول رہتا ہے یہی برقی رو کے بہاؤ جاری رہتا ہے یا کنٹرول رہتا ہے یہی برقی رو کے بہاؤ یا الیکٹران کے بہاؤ سے متعلق سائنس کی شاخ ” الیکٹرانکس“ میں زیر بحث ہوتا ہے۔

سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کن صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں اس بات کو واضح کرنے کے لئے ہمیں سوفٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کو الگ الگ سمجھنا ہوگا۔ ہم کمپیوٹر کے جس جزو کو سوفٹ وئیر یا ہارڈ وئیر کے نام سے جانتے یا سمجھتے ہیں وہ اس کا مظاہراتی تشخص ہے جب کہ وہ صفات جو مجتمع ہو کر مظاہرہ کی تشکیل کر رہی ہیں پس پردہ کار فرما ہوتی ہیں۔ ہم ان صفات کا ذکر کریں گے۔


سوفٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کے مابین ہم آہنگی کیوں نہیں پیدا کی جا سکتی اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں خیال اور مظاہرہ کے قانون پر غور کرنا پڑے گا۔ شکل نمبر 1 اس قانون کا خاکہ پیش کر رہی ہے اس کے مطابق خیال دماغ پر وارد ہوتا ہے۔ یہ خیال کہاں سے وارد ہوتا ہے ، یہ تحقیق ایسے سوالوں کا احاطہ نہیں کرتی ، خیال بہر حال ایک زندہ شخص کو آتا ہے ۔ مثلا ً آواز کی ریکارڈنگ کا خیال ایا تو بندہ اس خیال کو اپنی علمی قابلیت یا شعوری نشونما کے لحاظ سے معنی پہناتا ہے اس طرح خیال ایک انفرادی سوچ میں ڈھل جاتا ہے انفرادی سوچ اس خیال کو مادی شکل دینے کے لئے رائج ٹیکنا لوجی کا سہارا لیتی ہے اور با لآخر خیال کو مادی شکل دے جاتی ہے متذکرہ بالا مثال کے مطابق اگر آواز کی ریکاردنگ کا خیال ایا تو اٹھارویں صدی میں رائج ٹیکنا لوجی یعنی میکانیکی پرزہ جات کی مدد سے گرامو فون کی شکل میں مادی مظاہرہ کیا گیا جب کہ اکسویں صدی میں اسی آواز کی ریکارڈنگ میکانیکی کل پرزوں کے بغیر ناخن سے بھی چھوٹے چھوٹے برقی آلات میں کی جاتی ہے۔ یہاں یہ نقطہ غور طلب ہے دونوں صورتوں میں یکساں خیال کی مختلف ایجادتی اشکال ظہور پذیر ہوئیں جو اپنی کارکردگی میں بالکل ایک ہیں ، مگر خدوخال الگ الگ ہیں کوالٹی بھی مختلف ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ خیال کو مظاہرہ (ایجاد) تک لے جانے کا طریقہ کار ہے طریقہ کار مختلف درجات پر مبنی ہوتا ہے اور ہر درجہ میں خیال کے معنی اصل خیال سے دور ہو جاتے ہیں ہر درجہ میں تنزل ہوتا ہے۔ تنزل کیوں ہوتا ہے، اس کا ذکر ہم یہاں کریں گے۔ مثلاً جب بندہ طرز فکر کے مطابق خیال کو معنی پہناتا ہے تو خیال کو اپنی طرز فکر سے آلودہ کر لیتا ہے، اس عمل کو درج ذیل پہلی مساوات میں ہم یوں پڑھ سکتے ہیں، یعنی اصل خیال کو ہمارے اندر جس ایجنسی نے قبول کیا، اس نے اپنے فہم کے مطابق اصل خیال میں معنی پہنا دئیے اور نتیجہ میں معنی کے مطابق کردارکاا ظہار ہوا۔

خیال +  خیال میں معنی پہنانا  = اچھائی/ برائی

اچھائی/ برائی + بساط = سوچ /تفکر/روایات

سوچ (ٹیکنالوجی ) + آلودگی = نتیجہ آلودگی

آلودہ ٹیکنا لوجی = آلودگی

آلودگی کی مقدار ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم مثبت خیال سے دور ہو گئے ہیں ۔ یہ الودگی خیالات میں اچھائی برائی کا امتیاز ہے برائی الودگی ہے صفائی پاکیزگی ہے۔

خیالBlank ہوتا ہے۔ خیال میں معنی پہنانا آدمی کا اختیاری عمل ہے۔

حلال کمائی = آسودگی ، سکون ، راحت اور اطمینان قلب

قانون قدرت کے منافی زندگی ، معیشت ، معاشرت = برائی+خوف+مایوسی+مستقبل کے اندیشہ + بے چینی +Sleeping Pills کی محتاجی +غذا کی کمی + خوف اطمینان قلب کے برعکس انتشار اور خوف ہے۔

شکل نمبر 1 کے مطابق خیال کی ہارڈ وئیر + سوفٹ وئیر کی شکل میں اطلاع تک نزول میں کئی درجات ہیں ہر درجہ میں ان گنت عوامل کا عمل دخل ہے ، ان گنت عوامل ، لاشمار ممکنہ صورتحال کو جنم دیتی ہیں۔

کمپیوٹر کا پروگرام یا ہدایات کا نظام جسے عام طور پر سوفٹ وئیر کہا جاتا ہے سلسلہ وار پروگرامنگ پر مشتمل ہوتا ہے۔ کمپیوٹر سے جو بھی کام لینا ہو اس مقصد کے لئے پروگرامنگ مرتب کی جاتی ہیں۔ ہمیشہ کسی نہ کسی اطلاع یا ڈیٹا کے مطابق Execute ہوتی ہیں ۔ ملٹی میڈیا پروسیس میں ہر ہدایت یا  Operation  کے اندر کئی ذیلی ہدایات یا  Instructions  ہوتی ہیں یہ تمام ذیلی ہدایات متوازی طور پر بیس سے پچیس Instructions  کو موصو ل کر کے Execute  کر دیتی ہیں۔ اس طریقہ کار سے کمپیوٹر کی رفتار عام کمپیوٹر سے 20 گنا سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یعنی اگر عام کمپیوٹر 1 GHz سے چل رہا ہو تو ملٹی میڈیا کمپیوٹر کی رفتار 20 GHz تک ہوتی ہے یعنی تمام تر ہدایات ایک سلسلہ وار ترتیب سے کمپیوٹر کے ایک لازمی جز و یعنی میموری میں رکھی جاتی ہیں ، پرو سیسر یکے بعد دیگرے ان ہدایات(Operations) کو پڑھتا ہے۔ ایک Operation  پروسیسر میں داخل ہو کر بیس بچیس ذیلی ہدایات (Instructions) میں ٹوٹ جاتا ہے ہر ذیلی ہدات پروسیسر کے اپنے اپنے متعلقہ مقام پر E x e c u t e  ہوتی ہے حتیٰ کہ ایک Operation مکمل ہو جاتا ہے۔

Ph.D مقالہ کی تلخیص

Multimedia Processors میں ہدایات کی 5 اقسام ہیں۔

۱۔       بنیادی ہدایات  :  جن کا کام ڈیٹا کو موصول اور محفوظ کرنا ہے۔

۲۔       تقابلی ہدایات  :  ان کا کام ڈیٹا کی نوعیت دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے کہ کسی مخصوص حالت میں کیا حکمتِ عملی (Strategy)  استعمال کی جائے۔

۳۔      حسابی ہدایات : ایسی ہدایت صرف اور صرف حسابی عمل مثلاً جمع تفریق ضرب تقسیم ٹرگنو منٹری ، لاگ اور دوسرے فارمولے ظاہر کرتی ہیں۔

۴۔      مانیٹرنگ ہدایات : بقیہ ہدایات کے برعکس یہ ہدایات ماضی اور حالیہ ہدایات کی تکمیل کا مکمل ریکارڈ رکھتی ہیں اس مقصد کے لئے یہ مخصوص Flag استعمال کرتی ہیں جیسے کہ ریلوے سگنل متوقع ٹرین کی آمد کو مختلف رنگوں سے ظاہر کرتا ہے۔

۵۔       کنٹرول فلو ہدایات :  یہ ہدایات سلسلہ وار ہدایت کی Execution کو وقتی یا کلی طور پر روک کر ہدایات کے کسی اور سلسلے کو Execute کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ عام طور پر موخر الذکر ہدایات ایک بڑے پروگرام کا حصہ ہوتی ہیں جو کہ کمپیوٹر کی میموری میں جگہ جگہ پھیلا ہوا ہوتا ہے۔

ہماری اس تحقیق کا مقصد چونکہ مختلف خصوصیات کے حامل ڈیجیٹل نظام پر چلنے والے سافٹ وئیر کی کارکردگی بہتر بنانا تھا اس لیے ہم نے مختلف کیٹگری کے سافٹ وئیر آزمائے  جن میں :

 آڈیو سافٹ وئیر مثلاً VLC , WINAMP , JETAUDIO  اور دیگر MP3 یا WAV کے Players ۔اس طرح کے سافٹ وئیر میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ ان میں ڈیٹا ایک تسلسل کے ساتھ پراسس ہوتا ہے۔ ایسے سافٹ وئیر میں وصول و محفوظ ہدایات اور حسابی ہدایات زیادہ ہوتی ہیں۔

ویڈیو سافٹ وئیر مثلاً M P E G , WINDOWS MEDIA PLAYER , VLC PLAYERوغیرہ۔ یہ سافٹ وئیر بھی آڈیو سافٹ وئیر کی طرح ہوتے ہیں مگر ان کی پروسیسنگ کی رفتار آڈیو کے مقابلے میں تقریباً لاکھ گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح سے ہمیں متوازی Execution  کی رفتار کو چیک کرنے کا موقع ملتا ہے۔

GSM کوڈک :  مثلاً  G.721 , G.728  وغیرہ۔ اس طرح کے سافٹ وئیر آڈیو اور ویڈیو سافٹ وئیر مختلف ہوتے ہیں۔ ان کو چلاتے ہوئے کمپیوٹر کے پروسیسر کو بار بار رکنا پڑتا ہے اور دوسرے ضروری جزوی پروگرام کو بار بار چلانا پڑتا ہے۔ اس طرح عمل درآمد سست ہو جاتا ہے۔

بائیو ٹیکنا لوجی سافٹ وئیر :  مثلاً Gene Glimmer , Genie , Splicer وغیرہ۔ اس طرز کے سافٹ وئیر میں جہاں ڈیٹا کا تسلسل ہوتا ہے وہیں ڈیٹا کی بڑی مقدار سے موازنہ کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ ایسے سافٹ وئیر میں حسابی ہدایت (CI) اور مانیٹرنگ ہدایات کا تناسب متذکرہ بالا تینوں کیٹگری سے کہیں زیادہ ہوتا ہے

کسی بھی ڈیجیٹل نظام کا سافٹ وئیر ایک ایسا جزو ہوتا ہے جس میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے مثلاً 2 کو 4 سے ضرب دینے کے لیے ہم تین طریقے ( یعنی Algorithm) استعمال کر سکتے ہیں۔

طریقہ نمبر ۱:   2 کو چار دفعہ جمع کرلیں

طریقہ نمبر ۲ :  2 کو 4 سے ضرب دے دیں

طریقہ نمبر ۳:   2 کو 2 دفعہ الٹے ہاتھ کی جانب شفٹ کر دیں ( اس عمل کی وضاحت آپ Internetپر موجود Thesis کے مسودہ میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں)

مندرجہ بالا تینوں طریق کا ایک ہی جواب آتا مگر کمپیوٹر کے لحاظ سے تیسرا طریقہ انتہائی تیز رفتار ہے۔ جب کہ طریقہ نمبر ۲ سب سے سست ہے۔ ہماری تحقیق کا مطمحِ ِ نظر جہاں کمپیوٹر کے آپریشن کے لیے برقی توانائی بچانا ہے وہاں یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ ہر حال میں تجویز  شدہ Algorithmکمپیوٹر کی حسابی رفتار کسی طور پر مطلوبہ مقدار سے کم نہ کرے۔

کمپیوٹر میں ہر ہدایت کے لئے 0 اور 1 پر مشتمل عددی نظام کی مدد لی جاتی ہے جس کی اکائی Bit کہلاتی ہے ۔ چار Bit کا مطلب یہ ہے کہ چار نمبر ایک ساتھ لکھے گئے ہیں مثلاً 110 ۔ ہر Bit برقی توانائی استعمال کرتی ہے۔ برقی توانائی کو ہم جول میں ناپتے ہیں۔ جتنے جول زیادہ ہوں گے اتنا ہی توانائی کا خرچ زیادہ ہوگا۔ اسی طرح پروگرام کی Execution کا دورانیہ جتنا زیادہ ہوگا کمپیوٹراتنی دیر کام کرتا رہے گا اور برقی توانائی خرچ ہوتی رہے گی۔

برقی توانائی کی بچت کے لیے ہمارے مندرجہ ذیل دو ہدف ہیں۔

۱۔       پروگرام کی Execution کا دورانیہ کم کیا جائے

۲۔       ہر Bit کی توانائی کم سے کم کی جائے۔

ہدف کے حصول کے لئے کمپیوٹر پروگرام کی توانائی ، پروگرام کے مختلف حصوں کی رفتار ، کمپیوٹر کے مختلف اجزا کا دورانیہ استعمال پیمائش کرنا ضروری تھا۔ اس قسم کے مقاصد کے حصول کے لئے کس بھی قسم کے پیمائشی آلات ہمارے پاس مہیا نہیں تھے ، چنا چہ ہم نے ہدایات ، جزوی ہدایات اور پروگرام کے کپیوٹر کے مختلف اجزاء پر اثرات کی پیمائش کے لئے اپنا Testbench تیار کیا ۔ Testbench کو ہم نے  ECACF کے نام سے متعارف کر وایا ہے۔ ECACF متذکرہ بالا سافٹ وئیر کی تمام کیٹگری کے مختلف سافٹ وئیر اور ان کے ترمیم شدہ Version کی ایک جول کے ہزارویں حصہ تک درست پیمائش کرتی ہے۔


سافٹ وئیر کی توانائی بچانے کے لیے ہم نے چار طریقے وضع کئے ہیں جن کی تفصیل Thesis میں دی گئی ہے۔ ہر طریقہ کار سافٹ وئیر کی مختلف خصوصیات یعنی بنیادی ، تقابلی ، حسابی اور کنٹرول فلو کو یکے بعد دیگرے جانچتا ہے۔ چونکہ سافٹ وئیر میں لاکھوں ہدایات ہوتی ہیں تو ہم نے نئی اکائیاں وضع کیں جن میں سے ایک جول فی ملین آپریشن (JPMO) بھی ہے۔ JPMO جتنا کم ہوگا اتنی ہی توانائی کی بچت ہوگی۔ ہمارے ECACF کی مکمل Algorithm بھی Thesis میں واضح کی گئی ہے ۔ درکار ہدف کو حاصل کرنے کے لئے جن عوامل کو کنٹرول کیا جاتا ہے اس کی کمی بیشی کے طریقہ کار کو سائنسی اصطلاح میں Optimization کہتے ہیں۔

Optimization کے لئے ہم نے روایتی Genetic Algorithm کی بجائے اپنی ترمیم شدہ مگر زیادہ فائدہ مند Algorithm  پیش کی ہے جو کہ نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ بہت سے پیرا میٹرز کو ایک ساتھ متعلقہ ہدف تک پہنچانے کی خود کار صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس Algorithm کا ماخذ انسانی جینیاتی کروموسوم کے نظام سے ملتا جلتا ہے۔ اس جینیاتی عمل میں عوامل کی وہ مقداریں جو درکار نتائج مہیا نہیں کرتیں۔۔۔۔چھوڑ دی جاتی ہیں۔ ( نظام قدرت میں اس عمل کو فنا ہونا کہتے ہیں) ۔ جب کہ مددگار اور نافع اکائیاں (عوامل کی مقداریں) آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہیں ( اس عمل کو جینیاتی سائنس میں ارتقا کہتے ہیں) ۔ اس طرح Optimized اکائیوں کا اجتماع متعلقہ نتائج فراہم کرتا ہے۔

جیسا کہ شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے

ہماری تحقیق کی بنیادی اکائیاں مندرجہ ذیل ہیں :

سافٹ وئیر کا دورانیہ

برقی توانائی کی بچت

ہارڈوئیر کا بھر پور استعمال

ہارڈ وئیر کے غیر استعمال شدہ حصے

میموری کا ضروری وغیرہ ضروری استعمال۔

اس طرح ہمارے تحقیق شدہ نظام (ECACF) کے برقی توانائی اور Execution کے دورانیہ میں توازن قائم کرنے کے طریقہ کار نے یہ عملی طور پر ثابت کر دیا کہ کار کردگی اور بچت میں90% تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تجویز کردہ (ECACF) کا نظام مکمل طور پر عمومی ہے اور رائج سوفٹ وئیر کی مختلف اقسام مثلاً ملٹی میڈیا ، موبائل اور بائیو ٹیکنا لوجی جیسی انڈسٹیز میں انتہائی آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جس کی تفصیلات مسودہ میں موجود ہیں۔

مصنف ڈاکٹر نعیم ظفر عظیمی نے برقی توانائی اور فعالی دورانیہ میں توازن قائم کرنے کی یہ ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر مارکس روپ کی زیر نگرانی ( ویانا یونی ورسٹی آف ٹیکنالوجی ، آسٹریا) میں کی ریسرچ کا متعلقہ ہدف موبائل کمیونیکیشن کی تیسری جنریشن (3G) کے موبائل Devices کے Reference یا مثالی آرکیٹیچر کی تیاری تھا ، اس ضمن میں کی گئی Simulation  کے کامیاب ابتدائی نتائج کے بعد مصنف نے اپنی ریسرچ ٹیم کے ہمراہ Infineon Technologies Germany  اور  Christian Doppler Laboratory سے تقریباً 5 لاکھ یورو ریسرچ گرانٹ کی مدد سے Low Power Architecture Design Lab تیار کی گئی۔ Interdisciplinary تحقیق ہونے کی وجہ سے Thesis کو ٹیلی کمیونی کیشن ، ملٹی میڈیا اور جینیاتی سائنس میں منفرد مقام حاصل ہے۔ اس تحقیق سے مصنف کے حوالے سے 23 ریسرچ پیپر شائع کئے گئے جب کہ کل پیپرز کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے، یہ تمام پیپر انٹر نیٹ پر موجود ہیں جب کہ Thesis کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کو یونان میں واقع دنیا کی قدیم ترین لائبریری میں بھی رکھا گیا ہے۔ جو لائبریری کی Website پر لفظ Azeemiکو Searchکر کے حاصل کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ مکمل Thesis مندرجہ ذیل ویب لنک پر بھی موجود ہے۔

Public.tuwien.ac.at/files/pub-et_13000.pdf۔