Topics

مرکزی مراقبہ ہال

مرکزی مراقبہ ہال کراچی کا محل وقوع اس طرح ہے کہ اس کے چاروں طرف سڑک ہے۔ چاروں سڑکوں پر سڑکیں کراس کر رہی ہیں کہ مین گیٹ کے سامنے ایک سڑک اپنا دامن پھیلائے چاک دامن پریشان حال لوگوں کی منتظر ہے۔

KDAکے پلان کرنے والے انجینئر نے جیسے یہ سڑک مراقبہ ہال کے لئے ہی بنائی ہو۔ مراقبہ ہال کے سامنے کی سڑک کے لئے حوروغلامان کی سیدھی مانگ کا استعارہ خوب ہے۔

مرکزی مراقبہ ہال ایک ایسی جگہ ہے جس کے بارے میں لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں۔ یہاں آنے والے افراد میں مختلف رنگ و روپ اور نقش و نگار کی مناسبت سے کیفیات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ مراقبہ ہال کے حدود اربعہ پر غور کیا جائے تو یہ زمین کا ایک مستطیل ٹکڑا ہے۔ جس کے چاروں طرف درخت ہیں۔ درختوں کے نیچے کیاریاں ہیں۔ ان کیاریوں میں تقریباً ہر رنگ کے پھول ہیں۔ موسمی پھولوں کے علاوہ سدابہار پھولوں سے اس کا حسن دوبالا ہے۔ لگتا ہے زمین کے ماتھے پر ایک بہت خوبصورت جھومر ہے۔
پھولوں کی کون سی ایسی قسم ہے جو یہاں نہیں ہے۔ گلاب کے تختے ہیں، ہزار پنکھڑی گیندہ ہے، موتیا ہے، چنبیلی ہے، رات کی رانی ہے، ہارسنگھار اور زہرہ ہے، دن کا راجہ ہے۔

سلیقے سے بنی ہوئی روشیں ہیں۔ مخملی گھاس قالین کی ضرورت پوری کرتا ہے۔

۲۸ پھلوں کے مختلف درخت ہیں۔ ان میں کھٹے میٹھے کسیلے بہت شیرینی ہر قسم اور ہر ذائقہ کا پھل موجود ہے۔

چھتری نما درخت ہیں۔ اگر درخت کے نیچے تنا پکڑ کر کوئی آدمی کھڑا ہو جائے تو لگتا ہے وہ چھتری کے نیچے ہے۔

یہاں خوش نما پرندے صبح دم اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ایسی ایسی بولیاں بولتے ہیں کہ کانوں میں رس گھل جاتا ہے۔

مراقبہ ہال کے اندر کی دنیا بھی عجیب ہی دنیا ہے۔ دن کی روشنی میں یہاں درختوں، پتوں، پھولوں اور یہاں کے مکینوں کے اجسام سے ہر وقت میٹھی اور ٹھنڈی روشنی پھوٹتی رہتی ہے۔ گلاب، چمپا، چائنہ روز، موتیا، چاندنی چنبیلی رات کی رانی سرخ پیلے ہرے سفید بنفشی ایک پھول میں کئی کئی رنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھولوں پر جسم مثالی خندہ دہن متحرک نظر آتا ہے۔

رات کو اندھیرے (تاریک روشنی) میں کھلی آنکھوں پتہ پتہ بوٹا بوٹا ڈالی ڈالی اودے نیلے نیلے پیرہن میں ملبوس پھول اپنا حال بیان کرنے کے لئے بیتاب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آستانے کے اندر اور باہر روپیلی جھماکے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک کاروں ہے جو آ رہا ہے، جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون جانے یہ اللہ کے برگزیدہ ولیوں کی روحیں ہیں یا ارضی و سماوی فرشتے۔ نصف شب کے بعد آسمان اور زمین کا فاصلہ کم رہ جاتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ جگ مگ کرتے ستارے ستاروں بھری کہکشاں زمین پر اتر آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔چودھویں کا چاند اپنے باطن کے انوار سے یہاں موجود ہر شئے کو غسل دے کر پاکیزگی کا احساس دلاتا ہے جیسے ہی یہ احساس جسم سے ٹکراتا ہے۔ بندہ لطافت کے دریا میں خود کو ڈوبا ہوا دیکھتا ہے۔

رات دو بجے رحمت کی بھرن پڑتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔شبنم سے بنے ہوئے موتی پھورا بن کے جب سالک کے سراپا کو چھوتے ہیں تو اس کے من مندر میں اللہ کی مورتی جلوہ گر نظر آتی ہے۔

یہاں جو لوگ رہتے ہیں ان کے چہروں سے سکون اور طمانیت کا قلب جھلکتا ہے۔ یہاں کا باسی ہر شخص اپنے اندر گم کائنات کے کھوج میں مصروف ہے۔ اس ماورائی خطے میں کچھ لوگ جب داخل ہوتے ہیں تو کہتے ہیں اف! کس قدر سناتا ہے۔ کچھ لوگ جن کے اندر روشنی مدہم نہیں ہوئی ہے مست و بے خود اللہ کی صفات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں خدایا یہ کیسا سکون ہے کہ اس خطہ زمین پر آنے کے بعد ہر غم ہر پریشانی خوشی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ وسوسوں کا سیل رواں رک جاتا ہے۔ ہر طرف سبز روشنی ہے۔ پھول ہنستے مسکراتے ہیں۔ آسمان سے رحمت کی بارش برستی ہے۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ پھول یہاں آنے والوں سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔

ایک رات جب کہ گھپ اندھیرا تھا اور تاریک رات سے مراقبہ ہال روشن تھا مجھے خیال آیا کہ اندھیرے میں روشنی کا کیا مطلب ہے؟

رات کی دبیز سیاہ چادر میں چمک کیسی ہے؟

میرے اندر کے آدمی نے مجھے بتایا کہ اندھیرا ابھی روشنی ہے اور جو بندہ تاریکی سے باخبر ہو جاتا ہے اس کے اوپر ایک نئی دنیا کا انکشاف ہوتاہے۔
میرے لئے یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اندھیرا روشنی ہے اور اس روشنی میں کائناتی رموز ظاہر ہوتے ہیں اور تو کچھ نہیں کر سکا، میں نے اٹھ کر مراقبہ ہال میں گھومنا شروع کر دیا۔ تیسرے چکر میں یہاں بنے ہوئے ایک غار میں جا بیٹھا۔ اس غار کے اوپر
PYRAMIDہے۔ پیرامڈ کے بارے میں بہت ساری باتیں سنی ہوئی، دماغ کی اسکرین پر فلم بن گئی۔ پیرامڈ میں رکھے ہوئے کھانے خراب نہیں ہوتے، پیرامڈ میں ریزر کی دھار خراب نہیں ہوتی۔ پیرامڈ میں رکھی ہوئی چیزوں کو چھیڑنے سے روحیں ناراض ہو جاتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی میں اندر داخل ہوا آنکھیں خمار آلود ہو گئیں، پپوٹے بھاری ہو گئے اور پلک کے جھپکنے کا عمل ساکت ہو گیا۔ حواس کی رفتار اتنی تیز ہو گئی کہ حواس ساکت محسوس ہونے لگے۔ آنکھوں کے سامنے بجلی سی کوندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بجلی کا اوپری رنگ نیلا تھا لیکن اس نیلے رنگ کے اندر سچے موتیوں کی چمک تھی۔ سچے موتیوں کی چمک کے پیچھے یاقوتی رنگ کا ایک Shadowتھا۔
میں نہیں جانتا کہ روشنی کہاں سے آتی تھی۔ میں نے صرف اتنا دیکھا کہ روشنی کی ایک لاٹ آنکھوں میں داخل ہوئی۔ دماغ کے اندر جھماکا ہوا یکایک روشنی بکھر گئی۔ بکھرنے کے عمل میں روشنی کی ہزار ہا قسمیں بن گئیں اور یہ ہزار ہا قسمیں دراصل ہزاروں رنگ تھے اور ان رنگوں میں سے ایک رنگ جس کو میں نے گہرا نارنجی رنگ محسوس کیا میرے دل میں اتر گیا۔ دل میں اترنے کے بعد اس رنگ جس کو میں نے گہرا نارنجی رنگ محسوس کیا میرے دل میں اتر گیا۔ دل میں اترنے کے بعد اس رنگ میں مزید کئی رنگ شامل ہو گئے جس میں سرخ کلیجی رنگ نمایاں تھے، یکایک ایک نقرئی ہاتھ نمودار ہوا اور اس نے میری ناک پر ایک چشمہ رکھ دیا اور چشمے کے اندر شیشے قرمزی رنگ کے تھے۔ جیسے ہی آنکھوں پر چشمہ رکھا گیا مراقبہ ہال میں موجود ہر شئے اپنے اصل رنگ و روپ میں نمایاں ہو گئی۔ سب سے پہلے میری نظر انجیر کے درخت پر پری اور پھر زیتون کے درخت پر آ کر رک گئی۔ انجیر اور زیتون کا ذکر میں نے بار بار قرآن پاک میں پڑھا ہے۔

اللہ کہتا ہے:

’’قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔‘‘

’’اللہ روشنی ہے آسمانوں اور زمین کی۔ روشنی کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ اور وہ چراغ ایک شیشے میں ہو۔ شیشہ ایک چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہے۔ اس میں تیل جلتا ہے۔ مبارک درخت زیتون کا۔ یہ درخت نہ مشرق میں ہے نہ مغرب میں ہے۔ لگتا ہے کہ روشن ہو جائے اگرچہ نہ لگی ہو اس میں آگ، نور اعلیٰ نور، اللہ دکھلا دیتا ہے اپنے کو جس کو چاہے اور اللہ لوگوں کو مثالوں سے سمجھاتا ہے۔ اور فی الواقع سب کچھ اللہ ہی جانتا ہے۔‘‘

(القرآن)

اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے زیتون کے درخت کا تذکرہ فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ جس کو چاہے اس نور کی ہدایت بخشتا ہے اور اللہ لوگوں کو مثالیں دے کر سمجھاتا ہے۔ فی الواقع پورا علم اللہ ہی جانتا ہے۔ بندے صرف اتنا جانتے ہیں جتنا علم اللہ نے بندوں کو سکھایا ہے۔

میری جان جب زیتون کے درخت کی جان سے گلے ملی تو زیتون کے اندر کی روشنیاں میرے اندر کی روشنیوں میں گڈ مڈ ہو گئیں۔

آدمی کی روشنیاں اور زیتون کے درخت کی روشنیاں جب ہم آغوش ہوئیں تو نور کی تنی ہوئی ایک چادر نظر آئی اور اسی نورانی چادر میں مراقبہ ہال میں موجود ہر شئے کے نقش و نگار آنکھوں کے سامنے آ گئے۔

دیکھا کہ میری جان اور مراقبہ ہال کی زمین پر بنے ہوئے تمام نقش و نگار کی جان تو ایک ہے خدوخال مختلف ہیں۔ ہر مختلف خدوخال مختلف کیفیات کا مظہر ہے۔ یہ کیفیت ہی تو ہے جو انسان کو درخت کو چرند کو پرندے کو ایک دوسرے سے الگ الگ ہونے کی اطلاع فراہم کرتی ہے۔

انجیر اور زیتون کی جان نے مجھے بتایا:

یہ زمین آسمان ان کے اندر ہر مخلوق کے جسمانی خدوخال الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن ان سب میں جان ایک ہے اور جب کوئی جان دوسری جان سے گلے مل جاتی ہے تو آنکھ ہر جان کا نظارہ کرتی ہے۔

مراقبہ ہال میں آنے والے لوگوں پر بے خودی اس لئے غالب آ جاتی ہے کہ یہاں ایک جان ایسی ہے جو سب کو جانتی ہے اور سب اس کو جانتے ہیں اور اس سے گلے ملتے ہیں۔ جو لوگ مراقبہ ہال میں اکتاہٹ، بے زاری اور سناٹا محسوس کرتے ہیں، دراصل وہ اپنی جان سے واقف نہیں ہونا چاہتے۔

جو خود سے واقف نہ ہو ایسے خود فراموش آدمی کو زمین و آسمان سب بھول جاتے ہیں۔

میں ایک رات مراقبہ ہال کے ماورائی ماحول میں چاندنی کے حسن سے سرشار، آسمان کو تک رہا تھا، آنکھیں پلکیں جھپکنے کا عمل بھول چکی تھیں، دیدے ساکت تھے، دماغ پر خمار چھایا ہوا تھا، قلب کی حرکت تیز تھی نہ کم، دل سبک خرام تھا، اس سمے باہر کی نظر اندر اترتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔نظر آیا کہ باہر دیکھنے والی آنکھ اندر جھانک رہی ہے۔

دیکھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندر ایک نقطہ ہے۔ سیاہ نقطہ، نقطے کے اطراف روشنی کا ہالا ہے۔ روشنی کے اس ہالے پر نور کا غلاف ہے۔

ور کے ہالے پر ایک اور ہالا ہے جو رنگین بھی ہے، بے رنگ بھی ہے اور ورائے بے رنگ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
نقطہ کی سطح سے نظر جو نقطہ کے اندر گئی تو دیکھا کہ یہ نقطہ، میری ذات کا آئینہ ہے۔ آئینہ میں خود کو دیکھا تو وہاں ایک اور ’’میں‘‘ نظر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس ایک اور میں کے باطن میں پھول جھڑیاں چھوٹتی ہوئی نظر آئیں۔

پھول جھڑی کا ہر پھول جب میں کے باطن سے الگ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے اندر خدوخال(Dimension) بن گئے۔ اور ہر خدوخال نے نیا روپ دھار لیا۔

’’میں‘‘ کے اندر چکا چوند کے نت نئے روپ میں۔۔۔۔۔۔میں نے خود کی تلاش کی تو وہاں نقطہ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلک جھپکی نقطہ تھا اور نہ روپ بہروپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

کھلی آنکھوں میں۔۔۔۔۔۔خود میں گم۔۔۔۔۔۔نہیں معلوم کس نا پیدو کنار دریا میں ڈوبتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔ڈوبتا چلا گیا، سر میں سیدھی طرف ایک لہر اٹھی۔۔۔۔۔۔جیسے آسمان پر بجلی کی کڑک اور بادل کی گرج۔۔۔۔۔۔بجلی کی کڑک اور بادل کی گرج سے الٹے دماغ میں دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے سے سیدھے دماغ میں موجود کھربوں خلیے (Cells) آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے اور الٹے دماغ میں اس آتش فشاں کے پھٹنے سے خلیے (Cells) چارج ہو گئے۔

دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
جسمانی گوشت پوست کے بنے ہوئے بے اختیار انسان کے اندر کھربوں بااختیار صلاحیتیں اس بات کی منتظر ہیں کہ ان کا کھوج لگایا جائے اور ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔

نظر آیا!

آسمانوں سے بھی اس پار روشن اور منور انسان نورانی لہر میں لٹکا ہوا خلا میں معلق ہے اور یہ روشن انسان کھربوں سینکڑوں دائروں میں بند ہے۔ ہر دائرہ کائنات میں موجود ایک نوع اور ایک مخلوق ہے۔ ہر نوع اور ہر مخلوق اس روشن انسان کے دائرے سے وابستہ ہے اور یہ روشن انسان ہر نوع کے دائرے سے بندھا ہوا ہے۔

چاہتا ہوں کہ لکھتا چلا جاؤں مگر اندر کا عظیمی کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاموش ہو جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بس کر!

میری مان

نوع انسان میں سے اسی ملک میں کسی قوم کسی برادری اور کسی کنبے کے ایک فردنے زمین خریدی۔ زمین پر مکان بنانے کے لئے دماغ میں ایک نقشہ ابھرا۔ نقشہ میں شعوری حد بندیوں کے ساتھ ایک Planبنا۔ پلان میں یہ بات سامنے آئی کہ اس پلاٹ کی تقسیم ایسی کی جائے کہ خاندان کے افراد آسائش و آرام پائیں۔ پلان کے مطابق کمرے بنے کمروں میں Attach Bathroomبنے، Kitchenبنا، Gallery، Corridorاور دروازوں سے مکان کو آراستہ کیا گیا۔

دھرتی پر ایک مکان بنانے کے لئے آدمی کو پلان کے کئی مراحل سے گزرنا پڑا تب خوبصورت مکان کی تعمیر ہوئی۔

بچپن کی بات ہے کہ میرے دادا کی حویلی کے سامنے غیر آباد زمین پر انار کا ایک درخت تھا۔ درخت میں گلنار سرخ رنگ پھول لگے تھے۔ بھری شاخوں اور ہرے بھرے پتوں سے درخت کا جوبن نکھر آیا تھا۔۔۔۔۔۔میں انار کے اسی درخت پر پھولوں کو دیکھتا تھا۔۔۔۔۔۔خوش ہوتا تھا۔ انار کلی میری توجہ کا بہت زیادہ مرکز بنتی تھی یاد نہیں۔۔۔۔۔۔کتنے سال بیت گئے کہ میں وطن سے دور آوارہ خاک و گرد کہاں کہاں گھومتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی میں کسی ساحل پر ہوتا اور کبھی ریگستان میں۔۔۔۔۔۔کبھی بیابانوں میں اور کبھی مرغزاروں میں۔۔۔۔۔۔میں نے مسجدوں میں اذانیں دیں۔۔۔۔۔۔مندر میں آرتی پوجا دیکھی۔۔۔۔۔۔گر جاؤں میں مقدس پانی سے بپتسمہ دیتے دیکھا۔۔۔۔۔۔مزاروں پر جبیں سائی کی۔۔۔۔۔۔شاہی مقبروں میں چمگادڑوں کا بسیرا دیکھا۔۔۔۔۔۔پرانے قبرستانوں میں قبروں پر جانے والوں یا قبرستان میں مستقل سکونت کے لئے آنے والوں کے نام کندہ دیکھے۔۔۔۔۔۔وہاں امیر، غریب، فقیر، بادشاہ سب کو مٹی ہوتے دیکھا اور اس مٹی پر لوگوں اور چرندوں کو چلتے پھرتے دیکھا۔ لیکن کہیں بھی مجھے وطن کی مٹی کی خوشبو نہیں آئی۔ وطن کی یاد آئی تو پھر خود کو دادا کی حویلی کے سامنے پایا۔

اب اس زمین پر انار کا درخت نہیں تھا۔ انار کلی تھی اور نہ سرخ رنگ گلنار تھا۔۔۔۔۔۔مجھے جھٹکا لگا۔ انار کے درخت نے اپنے وجود کا احساس دلایا۔۔۔۔۔۔میرے اندر انار کا جو سراپا تھا وہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔

میں نے سوچا کہ اس زمین پر انار کا درخت تھا۔ ظاہر ہے کسی نے لگایا ہو گا۔ بیج ڈالا ہو گا۔ بیج کسی نے نہ بھی بویا ہو تو ہوا میں اڑ کر زمین کی کوکھ میں سما گیا ہو گا۔ بہرحال یہ مسلمہ ہے کہ انار کا درخت بیج سے اگتا ہے۔ بیج کے بغیر انار کے درخت کا وجود زیر بحث نہیں آیا۔ جب انار کا وجود بیج کے اوپر قائم ہے تو کہا جائے گا کہ بیج میں انار کا پودا درخت ہوتا ہے۔ چھوٹے سے بیج کے اندر کتنی شاخیں ہوں گی، کتنے پھل لگیں گے، کیا رنگ ہو گا، سرخ گہرا سرخ یا سفید۔ کھٹا یا میٹھا ذائقہ یہ بھی بیج کے اندر کی Planningہے۔ بالکل اسی طرح جیسے Architect Engineerچھوٹے کاغذ پر بڑی بڑی عمارتوں کا نقشہ بنا دیتا ہے۔

کل زمین پر انار کا درخت تھا۔ آس پاس خوشنما گھاس تھی، کیاریوں میں پھول تھے۔ آج یہ زمین خالی، اجاڑ اور کانٹوں بھری سیج کیوں بن گئی ہے۔ جواب ملا کہ کسی نے بیج بویا تھا تعمیر مکمل کی تھی۔ کسی نے اس بیج کی Planningسے بنی ہوئی بلڈنگ (درخت) کو گرا دیا۔۔۔۔۔۔

مجھے فوراً اپنی دادی اماں یاد آ گئیں، سرخ و سفید، بٹوہ ساپوپلا منہ، غلاف جھکی آنکھیں، گلاب پنکھڑی لب۔ دماغ کی Screenپر ایسے نظر آئے کہ میں فلم دیکھ رہا ہوں۔ اس فلم میں، میں نے دیکھا کہ دادی اماں سفید براق کپڑے پہنے، سفید دھلے لٹھے کی چادر پر لیٹی ہوئی ہیں، منہ سے جھاگ اڑ رہے ہیں۔

میری ماں، ہائے! میری وہ ماں جس نے میرے اندر اپنا خون انڈیل کر مجھے پالا پوسا۔ دادی اماں کے سرہانے بیٹھی کلمہ کا ورد کر رہی ہیں۔ میں نے پوچھا ماں!۔۔۔۔۔۔ماں!۔۔۔۔۔۔دادی اماں بولتی کیوں نہیں، تم رو کیوں رہی ہو۔ ماں نے ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھا۔ میرے سر پر ہاتھ رکھا اور دادی اماں کے جھریوں سے مزین خوبصورت چہرے کو سفید ململ کے دوپٹے سے ڈھانک دیا۔

مجھے انار درخت پھر یاد آ گیا۔ کسی نے اسے بھی اس طرح ڈھانپ دیا ہو گا اس لئے تو وہ زمین کے اوپر نہیں ہے۔

انار کے دانے کے بغیر درخت نہیں اگتا، اور آدمی کے بغیر آدمی نہیں اگتا۔ انار بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور آدمی بھی۔

میرے اندر کے آدمی نے کہا۔ جس نے درخت لگایا تھا وہ خوش ذوق، حسن سلیقہ سے آراستہ تعمیر پسند تھا۔ اور جس نے درخت کی حفاظت نہیں کی، درخت کو اس کے مادی وجود سے محروم کر دیا وہ تخریب پسند تھا۔ یہ بات ہرگز قابل تسلیم نہیں کہ درخت خودبخود لگ گیا اور خود بخود غائب ہو گیا۔

انار کے بیج میں پورا Planاور نقشہ موجود ہے رنگ اور ذائقہ بھی موجود ہے۔ مگر بیج کے اندر یہ صلاحیت کہ وہ خودبخود درخت بن جائے ذاتی وصف نہیں ہے کوئی غیر مرئی طاقت ہے جس نے ایک بہترین معمار کی طرح انار کے اندر شاخوں، پتوں اور پھلوں کی ترتیب قائم کی۔ خود انار کے اندر اتنی قدرت نہیں کہ وہ خوشبو بن جائے اور اپنے وجود کو مختلف ذائقوں مختلف رنگوں میں تقسیم کر دے، یہ Planکائنات کے خالق احسن الخالقین اللہ نے تیار کیا جو جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ کائناتی تخلیق میں ایک تخلیق انسان کو اپنے کائناتی پلان کی تعمیر کے لئے معمار مقرر کیا یہ وہی معمار ہے جس کو قرآن نے فی الارض خلیفہ کہا ہے۔


Mehboob Baghal Mein

خواجہ شمس الدین عظیمی



’’ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو نہایت احسن طریقہ پر پیدا فرمایا اور پھر اس کو بد سے بھی بدترین مقام پر پھینک دیا۔

زمین کو اللہ تعالیٰ نے بد سے بھی بدترین مقام کہا ہے۔ اس لئے آدم کو سخت اضطرب لاحق ہو اور وہاں آپ کو ایسی چیزوں سے واسطہ پڑا جن کو کہ اس سے قبل آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ یعنی بھوک پیاس وغیرہ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو آپ کے پاس بھیجا۔ جنہوں نے اس منزل اور ضرورت گاہ کے تمام عقیدے آپ پر کھول دیئے۔ یوں استاد شاگرد کا رشتہ ازل تا ابد قائم ہو گیا۔ غرض ہر صاحب علم کا کوئی نہ کوئی استاد اور کوئی نہ کوئی شاگرد ہو گا جس سے بندہ تربیت حاصل کر کے اللہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ علم کی بنیاد دراصل کسی چیز کی خبر یا کسی چیز کی شکل و صورت کو یا کسی چیز کے وصف کو جاننا ہے۔ علم کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی کے اندر جاننے اور کسی چیز سے واقف ہو جانے کا عمل پیدا ہو جائے۔