Topics

کانفرنس


اللہ کی مہربانی، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت اور سیدنا قلندر بابا اولیاءؒ کے فیض سے مانچسٹر برطانیہ میں اگست
۱۹۹۲ء میں تیسری بین الاقوامی روحانی کانفرنس منعقد ہوئی۔

کانفرنس کے بعد پہلے اتوار کو مراقبہ ہال مانچسٹر سے میری روانگی گلاسگو ہوئی۔ گلاسگو اسکاٹ لینڈ میں انگلش خواتین و حضرات نے اپنے لئے ایک ہال بک کروایا تھا جس میں میری تقریر تھی، داخلہ ٹکٹ سے تھا۔ دو سو پچاس ٹکٹ جاری ہوئے لیکن جب ہجوم بڑھا تو منتظمین نے مزید لوگوں کو ہال کی دیواروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی اجازت دے دی۔

تقریر کے بعد سلسلہ عالیہ عظیمیہ کے طریقہ کار کے مطابق حاضرین کو سوالات کی دعوت دی گئی اور اس طرح سوال و جواب کی خوبصورت مجلس ہوئی۔ یہ دیکھ کر بہت زیادہ حیرت ہوئی کہ مغرب میں یہ تاثر عام ہے کہ روحانیت صرف ہندوؤں کے پاس ہے۔

مسلمان روحانیت نہیں جانتے اور نہ ہی ان کے پاس روحانی علوم کا کتابی شکل میں کوئی ذخیرہ ہے۔ سوال و جواب کی نشست میں جو کچھ پوچھا گیا وہ سب یوگا، گیان، دھیان اور ہندومت کی معرفت تھا۔ میں نے ہر چند کوشش کی کہ کسی طرح یہ ثابت ہو جائے کہ مسلمانوں کے پاس بھی روحانیت اور تصوف کے علوم کا ذخیرہ ہے۔ مگر جب ڈھیروں انگلش کتابیں، یوگا اور دوسرے مذہب کے اوپر وہاں موجود ہوں تو یہ کہنا کہ ہم بھی تصوف جانتے ہیں مضحکہ خیز بات معلوم ہوئی۔ بہر کیف سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی محنت، کوشش اور وقت کے ایثار و قربانی سے اتنا ضرور ہوا کہ انگلینڈ میں ہم ایک انگلش مراقبہ ہال قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کامیابی کے نتیجہ میں وہاں کی روحانی تنظیمیں، روحانی چرچ اور پیرا سائیکالوجی پر ریسرچ کرنے والے سائنٹسٹ سے ملاقاتیں ہوئیں۔
ایک بڑی
Spiritualلیڈی اور ایک پروفیسر جو 30سال سے ری انکارنیشن پر ریسرچ کر رہے ہیں تشریف لائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو آدمی مر جاتا ہے وہ دوبارہ کسی نہ کسی جسم میں جنم لیتا ہے۔ اس مسئلہ پر تقریباً ایک گھنٹہ سے زیادہ گفتگو ہوتی رہی نتیجہ کیا نکلا یہ اللہ جانتا ہے لیکن پروفیسر صاحب نے رخصت ہوتے وقت یہ کہا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’مجھے ایک نیا علم (Knowledge) ملا ہے اور میں ریسرچ میں اس علم سے استفادہ کروں گا۔‘‘

آیئے! اب ہم وہ گفتگو کرتے ہیں جو Spiritualلیڈی، پروفیسر رائے اور خواجہ شمس الدین عظیمی کے مابین ہوئی۔

اسپریچول لیڈی نے گفتگو کا آغاز کیا۔

ہیلو مسٹر شیمس آپ کیسے ہیں؟

مجھے خوشی ہے کہ میں آپ کے پاس کچھ سیکھنے آئی ہوں۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ پروفیسر رائے ہیں۔ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں اور ایک سائنٹسٹ ہیں۔ تیس سال سے ری انکارنیشن پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ میں نے آپ کو ابھی ایک پھول دیا۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ بتائیں کہ یہ پھول میں نے آپ کو کیوں دیا۔

جواب میں کہا گیا۔۔۔۔۔۔

آپ نے یہ پھول اس لئے دیا ہے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔اسپریچول لیڈی نے شکریہ ادا کیا۔

پروفیسر صاحب بولے۔۔۔۔۔۔

میں ایک طالب علم ہوں۔ آپ سے کچھ معلومات حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ میرا سوال ہے کہ میں جب کالج اور یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا تو مجھے بہت یاد تھا مضامین یاد تھے کتابوں کے نام یاد تھے کتابوں میں ورق اور اوراق کے اوپر پوری پوری سطریں ازبر تھیں اب جب کہ میں پروفیسر ہوں پڑھاتا ہوں مجھے کچھ یاد نہیں۔

جواب میں عرض کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طالب علمی کے زمانے میں اگر یاد نہ رکھا جائے تو طلبہ یا طالبات اگلی کلاسوں میں نہیں جا سکتے۔ لیکن جب علم کے کسی شعبہ میں تکمیل ہو جاتی ہے اس تکمیل کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دماغ کے اندر وہ خلیے جو علم سے بھرئے ہوئے ہیں کھل جاتے ہیں۔ اب الفاظ سطروں یا اوراق کو یاد رکھنا ضروری نہیں ہوتا اس لئے کہ علم کے متعلق خلیہ کھل چکے ہیں۔ خلیے کھل جانے سے ایک ایسا پیٹرن بن جاتا ہے جس پیٹرن میں مفہوم کے ذخیرے ہوتے ہیں اور مفہوم کا ذخیرہ اگر کسی طالب علم کے ہاتھ لگ جائے تو پھر اس ذخیرہ کی بنیاد پر نئے علوم سامنے آتے ہیں اور ان علوم کی بنیاد پر نئے نئے فلسفے بنتے ہیں۔ فلسفوں کی بنیاد پر نئے نظریات وجود میں آ جاتے ہیں کیونکہ آپ بہت بڑے اسکالر ہیں، سائیکالوجی کے استاد ہیں اور آپ کے دماغ کے اندر سیلز نہ صرف چارج ہوئے ہیں بلکہ ان کی روشنی کا انعکاس براہ راست آپ کے ذہن میں منتقل ہوتا رہتا ہے اس لئے آپ کو کتاب یا مضمون یاد رہنا ضروری ہے اور اس طرح گفتگو کا سلسلہ طویل ہوتا چلا گیا۔

ری انکارنیشن کے بارے میں پروفیسر کا اصرار اس بات پر تھا کہ میری اور میرے ساتھی پروفیسروں کی ریسرچ سے ڈھائی ہزار اکیس سامنے آئے ہیں جنہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ پہلے پیدا ہو چکے ہیں اور یہ اعداد و شمار یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کے ہیں جہاں بچوں کی باتوں کو سنا جاتا ہے اور اہمیت دی جاتی ہے اس کے برعکس ایشیاء اور ترقی پذیر ممالک میں بچے اگر اپنی عمر سے زیادہ کوئی بات کرتے ہیں تو ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اگر ایشیائی ممالک میں بچوں کی ذہنی افتاد طبیعت کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو ری انکارنیشن کی ریسرچ کا حاصل کافی زیادہ ہو جائے گا۔

جواب: ری انکارنیشن ایک آدمی کا پیدا ہو کر دوبارہ اسی طرح پیدا ہونا یونیورسل لاء(Universal Law) کے خلاف ہے۔

کائنات قانون ہم نہیں جانتے ہماری ریسرچ ہمارے سامنے ہے۔ ڈھائی ہزار کیس ہمارے سامنے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم دوبارہ پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارا نام یہ ہے، ہم فلاں گھر میں رہتے تھے، بیوی کا نام یہ ہے، بچوں کے نام یہ ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ اگر پچاس سال پہلے مرے ہوئے آدمی کے ہاتھ پر کٹ کا نشان تھا اس بچے کے ہاتھ پر بھی کٹ کا نشان موجود ہوتا ہے۔

جواب: آپ کی ریسرچ میں جو لوگ سامنے آئے ہیں وہ کس عمر میں یہ سب بیان کرتے ہیں۔

پروفیسر صاحب: یہ باتیں 8سال کی عمر کے بچے کرتے ہیں اور 8سال کے بعد بھول جاتے ہیں۔

جواب: پروفیسر صاحب کیا آپ اس بات پر روشنی ڈال سکتے ہیں کہ آٹھ سال کے بعد یہ بچے کیوں بھول جاتے ہیں۔

پروفیسر صاحب: اس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے البتہ ہم اس نقطہ پر غور و فکر کر رہے ہیں۔

ہم نے پروفیسر صاحب سے کہا۔۔۔۔۔۔

ہر آدمی جو اس وقت موجود ہے آئندہ سو سال، ہزار سال، ایک لاکھ سال کے بعد پیدا ہو گا یا گزرے ہوئے کروڑوں سال پہلے پیدا ہوا تھا وہ دراصل آدم کی اولاد ہے، آدم و حوا کی اولاد موجود دور میں ہو کر کھربوں سال پہلے ہو یا کروڑوں سال بعد میں آنے والی ہو آدم و حوا کے نقوش پر پیدا ہوتی ہے۔

آدم کا ہر بچہ اس لئے آدم ہے کہ اس کا باپ آدم تھا آدم کی اولاد کا تاریخی ورثہ یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔

ایک زمانہ تھا آدم پتھر کے دور میں تھا۔ دوسرا زمانہ دھات کا آیا یعنی آدم لوہے کے دور میں داخل ہوا۔ آدم نے آگ کا استعمال سیکھ لیا آدم ترقی کر کے الیکٹرونک دور میں داخل ہو گیا اور موجودہ صدی میں اس نے بالغ شعور حاصل کر لیا لیکن اگر آدم کی اولاد میں تسلسل کے ساتھ آدم کا ورثہ منتقل نہ ہوتا تو آج آدم ترقی نہیں کر سکتا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ لاکھوں کروڑوں سال کے بعد بھی آدم زاد برادری باوا آدم کا ریکارڈ ہے یعنی لاکھوں سال پہلے سے آدم اپنے پورے ریکارڈ کے ساتھ چھپ رہا ہے۔ چھپائی میں جب کسی وجہ سے انفرادی ریکارڈ کے اوپر اجتماعی ریکارڈ کی روشنائی زیادہ ہو جاتی ہے تو آدم ڈبل چھپنے لگتا ہے اور وہ ایسی باتیں شروع کر دیتا ہے جو ماضی سے متعلق ہوتی ہیں مثلاً ایک آدمی کا نام ولیم ہے اس کی گردن پر سفید نشان ہے وہ مرگیا۔

مرنے کا مطلب یہ نہیں آدم کا ریکارڈ ختم ہو گیا، مرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس کائناتی مشین سے چھپ کر وہ نکلا ہے وہ ریکارڈ تو موجود ہے لیکن چھپی ہوئی تصویر ختم ہو گئی۔ چھپائی کے دوران کچھ نقوش انفرادی طور پر ایسے چھپ جاتے ہیں جن کی وجہ سے یہ نظر آتا ہے کہ یہ فلاں آدمی ہے یہی وجہ ہے کہ جب عمر کے ساتھ ساتھ چھپائی کے نقوش مدہم پڑ جاتے ہیں تو بندہ بھول جاتا ہے جیسے کہ آپ نے مجھے ابھی بتایا کہ آٹھ سال کی عمر کے بعد بچہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ دوسری شخصیت ہے۔

موجودہ سائنس شعور اور لاشعور کا تذکرہ کرتی ہے لاشعور ریکارڈ ہے اور شعور اس ریکارڈ پر مظاہراتی خدوخال پیش کرتا ہے۔ شعور کی ذاتی حیثیت اتنی ہے کہ وہ لاشعور کی دیکھی ہوئی چیزیں مادی طور پر بیان کرتا ہے یعنی شعور اسکرین ہے لاشعور فلم ہے۔

فلم ’’ریکارڈ‘‘ میں جو کچھ ہوتا ہے وہی کچھ اسکرین پر نظر آتا ہے، فلم کے اوپر اگر چھوٹا سا نقطہ ہو تو اسکرین پر یہی نقطہ نظر آ جاتا ہے۔

اسپریچول لیڈی پریشا اور پروفیسر رائے بہت خوش ہو کر رخصت ہوئے۔


Mehboob Baghal Mein

خواجہ شمس الدین عظیمی



’’ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو نہایت احسن طریقہ پر پیدا فرمایا اور پھر اس کو بد سے بھی بدترین مقام پر پھینک دیا۔

زمین کو اللہ تعالیٰ نے بد سے بھی بدترین مقام کہا ہے۔ اس لئے آدم کو سخت اضطرب لاحق ہو اور وہاں آپ کو ایسی چیزوں سے واسطہ پڑا جن کو کہ اس سے قبل آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ یعنی بھوک پیاس وغیرہ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو آپ کے پاس بھیجا۔ جنہوں نے اس منزل اور ضرورت گاہ کے تمام عقیدے آپ پر کھول دیئے۔ یوں استاد شاگرد کا رشتہ ازل تا ابد قائم ہو گیا۔ غرض ہر صاحب علم کا کوئی نہ کوئی استاد اور کوئی نہ کوئی شاگرد ہو گا جس سے بندہ تربیت حاصل کر کے اللہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ علم کی بنیاد دراصل کسی چیز کی خبر یا کسی چیز کی شکل و صورت کو یا کسی چیز کے وصف کو جاننا ہے۔ علم کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی کے اندر جاننے اور کسی چیز سے واقف ہو جانے کا عمل پیدا ہو جائے۔