Topics

محبوب بغل میں

نہایت عزیز بہت پیارے دوست۔ محترم رفیق

السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔

اس سے پہلے بھی آپ کے خط کا جواب لکھ چکا ہوں امید ہے موصول ہو چکا ہو گا۔ آج  آپ سے کچھ باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے۔

یہ جو روحانی سلسلہ ہے، بڑا عجیب اور مشکل راستہ ہے۔ جب آدمی تھوڑا سا سفر طے کر لیتا ہے تو اس کے اوپر شکوک و شبہات اور مایوسی کے خیالات غالب آنے لگتے ہیں۔ شیطان اپنا زور اس بات میں لگا دیتا ہے کہ بندہ ناخوش ہو جائے۔ ناخوشی کے لئے شیطان جو خود کار ہتھیار استعمال کرتا ہے وہ انا کا خول ہے۔ یعنی آدمی اپنی انا میں سمٹنے لگتا ہے۔ وہ جو سوچتا ہے اپنی ذات، اپنی انا اور اپنی انفرادیت شخصیت کے بارے میں قیاس کرتا ہے۔ اللہ کے لئے ذرا سا کچھ کام ہو جائے تو اسے بہت بڑا کارنامہ قرار دیتا ہے۔ اور اس کمزوری کی وجہ سے اللہ سے اپنے حقوق قائم کر دیتا ہے۔ یہ بات ذہن سے نکل جاتی ہے کہ اللہ نے ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔

ایک ہفتے پہلے کی بات ہے کہ ایک کروڑ پتی شخص نے کہا میرا دوست اللہ سے باغی ہو گیا ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے اس کی دعا قبول نہیں کی۔ اس نے دعا کی تھی کہ اس کا باپ زندہ رہے، لاکھوں روپے علاج پر خرچ کر دیئے مگر باپ مر گیا۔ اب وہ ہر وقت شراب و کباب میں مست و بے خود رہتا ہے۔

میں نے جواب دیا کہ اول تو یہ دعا ہی غلط تھی۔ تم نہیں مرو گے تو تمہاری کرسی پر تمہارا بیٹا کیسے بیٹھے گا۔ مرنا جینا دونوں کام اس قدر یقینی ہیں کہ ان سے کسی بھی طرح چھٹکارا نہیں۔ آپ مجھے یہ بتائیں۔ تمہارا دوست جس گھر میں رہتا ہے۔ اس گھر کی زمین کی قیمت اس نے اللہ کو کتنی دی ہے۔ جو سرمایہ لئے بیٹھا ہے وہ کس نے دیا ہے۔ اگر وہ پیدائشی طور پر کمزور دماغ ہوتا یا اس کے ہاتھ پیر ہی نہ ہوتے، وہ ایک بھکاری اور مفلوک الحال کا بیٹا ہوتا تو شراب کہاں سے پیتا۔

میرے عزیز! آپ نہات خوبصورت روح اور دلکش ذہن کے انسان ہیں۔ اور یہ دلکشی، یہ خوبصورتی آپ کا کوئی کارنامہ نہیں ہے۔ اللہ نے آپ کو اس طرح کا بنایا ہے۔

مایوسی اور پریشان خیالی راستہ کی چیزیں ہیں۔ جب کوئی مسافر سفر کے لئے نکلتا ہے تو اسے طوفانوں گردو غبار اور تھکان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ صحیح مسافر وہ ہے جو منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اس کا مقصد منزل کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اور منزل چونکہ سامنے نہیں آتی۔ اس لئے وہ ہر حال میں چلتا رہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ پریشان کن خیالات سے نکل آئیں گے جو اس راستہ میں سب کو پیش آتے ہیں۔ آپ نے مجھے استاد بنایا ہے۔ میں نے بھی آپ کو آنکھوں کی روشنی بنا کر قبول کیا ہے۔ میرے اوپر فرض ہے کہ میں آپ کے راستہ کی بھول بھلیوں سے آگاہ کرتا رہوں۔ آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ منزل کے علاوہ کسی بڑی اور چھوٹی یا عارضی شئے کو قبول نہ کریں۔ منزل جب مل جاتی ہے تو ہر شئے منزل رسیدہ شخص کے سامنے خود بخود جھک جاتی ہے۔میرے تصور میں جب آپ کا ہنستا مسکراتا چہرہ، ٹینشن کی صورت میں بن جاتا ہے تو میں بے چین ہو جاتا ہوں۔ اس لئے کہ مجھے معلوم ہے کہ خوش رہنے والے لوگ ہی اللہ کے دوست بن سکتے ہیں۔ ناخوش رہنے والے لوگوں کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا۔

آپ جانتے ہیں کہ یہاں دنیا میں کوئی آپ کا اور میرا نہیں ہے۔ کوئی ہمیں چھوڑ جائے گا اور زیادہ کو ہم چھوڑ جائیں گے۔ ہمارا آخری سرمایہ، دو گز قبر ہے۔ وہ بھی اس وقت جب ہمیں مل جائے۔ ہمارا جسمانی نظام، قبر کے اندر کیڑوں کی خوراک ہے۔ ہماری انا، مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اور انا کے ذرات کو آدمی، کتے، بلیاں، گدھے، گائے، بھینس اپنے پیروں میں روندتے پھرتے ہیں۔

کتنے بڑے بڑے بادشاہوں کے سر اور ان کے تاج کتنے بڑے بڑے نمرود، فرعون، شداد، قارون ہو گزرے ہیں۔ زمین نے انہیں نگل لیا اور مٹی کے ذرات میں تبدیل کر دیا اور آج ان نمرودوں، فراعین، شدادوں اور قارونوں کے دماغوں اور جسموں سے بنے ہوئے مٹی کے ذرات پر ہم چل پھر رہے ہیں۔ تھوک رہے ہیں اور ان ذرات کو اپنی غلاظت سے خراب کر رہے ہیں۔

میرے دوست!

میں نے جوانی میں ایک واقعہ پڑھا تھا۔

ایک آدمی نے اپنی انا کے خول میں بند بہت ریاضت کی۔ اپنی دانست میں اللہ کے کاموں کو آگے بڑھایا۔ لوگوں سے مانگ مانگ کے معابد بنائے۔ خود بادشاہوں کی طرح زندگی گزاری اور اللہ کی مخلوق کو سوکھی روٹی دے کر خوش ہو گیا۔ شعوری دنیا سے نکل کر جب لاشعوری دروازہ پر دستک دی تو حضرت ابلیس نے استقبال کیا۔ خوش پوشاک، دراز ریش، بزرگ کے روپ میں ابلیس نے کہا۔ آپ کی داد عیش، خیرات، عبادت و ریاضت اللہ کو پسند آ گئی ہے۔ آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی جاتی ہے۔ انا کے خول میں بند آدمی نے آنکھیں موند لیں اور سیر شروع ہو گئی۔ پستی سے بلندی کی طرف پرواز ہوئی اور پھر بلندی سے پستی کی طرف نزول ہوا۔

آنکھ کھلی تو ایک کوڑے پر جہاں تعفن، بدبو اور غلاظت کے سوا کچھ نہیں تھا وہ آدمی لتھڑا ہوا پڑا تھا۔

حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

بندہ جب اللہ کے لئے قدم اٹھاتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ میں نے اللہ کے اوپر احسان کر دیا ہے۔ وہ کیوں نہیں سوچتا کہ اللہ نے اسے نو مہینے ماں کے پیٹ میں روزی فراہم کی، پیدائش کے بعد ۲ سال تک بلامشقت غذا کا اہتمام کیا، ہوا پانی آکسیجن زندگی کے سارے وسائل فراہم کئے۔ بندہ سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔ صحت دی اولاد دی عزت و وقار دیا کاروبار کرنے کے لئے عقل دی۔

بندہ پیدا ہونے کے بعد ستر(۷۰) اسی(۸۰) سال جیتا ہے۔ اللہ کی زمین پر دندناتا پھرتا ہے۔ سرکشی کرت ہے۔ اللہ کو کچھ نہیں جانتا۔ اللہ کے پھیلائے وسائل کی اللہ سے زیادہ قیمت لگاتا ہے۔ پھر بھی اللہ اسے ہر قدم پر یاد رکھتا ہے۔

میرے دوست!

میں بھی آپ کی طرح کا ایک آدمی ہوں۔ یہ سب کچھ میں نے اس لئے لکھ دیا ہے کہ میرے مرشد کریم کی عنایات سے چند حقیقتیں مجھ پر منکشف ہو گئی ہیں۔ جن حقیقتوں کو میں جان گیا ہوں، چاہتا ہوں کہ آپ بھی ان حقیقتوں سے تعلق قائم کر لیں۔

راستہ چلتے ہوئے مسافر کے لئے یہ آسان ہے کہ وہ بے یقین ماحول کا اثر لے کر راستہ چھوڑ دے لیکن ایک بار مسافر راستہ بھٹک جائے تو اسے دوبارہ رہنمائی نہیں ملتی۔

میرے فرزند!

آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کو کتنا چاہتا ہوں۔ مجھے بھی یہ علم ہے کہ آپ مجھے کتنا پیار کرتے ہیں۔ ہم دونوں ادراک کے مسافر ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک مسافر ایک منزل آگے ہو دوسرا مسافر ایک منزل دور ہو۔ راستے کے دونوں مسافر اس وقت منزل کا نشان پائیں گے جب وہ چلتے رہیں اور راستہ کھوٹا نہ کریں۔

میری زندگی ایک وقت تھا کہ شکوک و شبہات بے یقینی اور وسوسوں کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی۔ یقین کے راستے پر قدم بڑھایا تو وسوسوں اور بے یقینی کا طوفان میرے اوپر حملہ آور ہوا۔۔۔۔۔۔میں نے کہا۔ اس کا بدل مجھے کیا ملا۔ میں نے اتنا طویل عرصہ اللہ کو پکارا، اللہ نے جواب کیوں نہیں دیا۔ راتیں آنکھوں میں سمیٹ لیں، کوئی کشف کیوں نہیں ہوا۔ مرشد کے اوپر میرا یہ حق ہے وہ حق ہے، مجھے کیا دیا۔ سلسلہ کے لئے میں نے خود رات دن ایک کر دیئے، سلسلہ سے مجھے کیا ملا۔ فلاں آدمی کیوں نواز دیا گیا۔ مجھے کیوں محروم رکھا گیا۔

حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے نام جتنے خطوط آتے تھے مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں خطوط پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ جواب بھی میں لکھتا تھا۔

ایک روز میں نے عرض کیا۔ حضور میں آپکے اوپر قربان۔ کیا میرے اندر اتنی صلاحیت بھی نہیں ہے جتنی ان صاحب کے اندر ہے، جن کا خط میں نے پڑھا ہے۔

حضور فرماتے۔ نہیں تمہارے اندر صلاحیت نہیں ہے۔

کبھی میں سوچتا کہ یہ صاحبہ ماشاء اللہ کتنی اچھی سیر کرتی ہیں، آسمانوں میں اڑتی پھرتی ہیں۔ کیا میں ان سے بھی گیا گزرا ہوں۔

فرماتے۔ ہاں۔

جب پانی سر سے اونچا ہو گیا اور میرے اوپر مایوسی کے دورے پڑنے لگے۔ شیطان نے مجھے اپنا آلہ کار بنا لیا تو ایک دن مرشد کو رحم آیا۔

فرمایا۔ خواجہ صاحب بیٹھ جائیں۔

پوچھا۔ میرا آپ کا رشتہ کیا ہے۔ میں نے عرض کیا۔

آپ کا غلام ہوں۔ فرمایا یہ تو ٹھیک ہے۔ میں تمہارا کیا لگتا ہوں۔

میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ حضور آپ میرے محبوب ہیں۔

مسکرا کر فرمایا۔ لیجئے یہ تو مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ اب آپ یہ بتائیں کہ جب محبوب بغل میں ہو تو کیا کوئی اور خیال آتا ہے اور اگر آتا ہے تو یہ محبوب کی توہین ہے۔ اس لئے کہ محبوب کی ہم آغوشی کے بعد اگر کوئی خیال آتا ہے تو دراصل وہ محبوب ہے جس کا خیال آ رہا ہے۔ آپ جنت دیکھنا چاہتے ہیں۔ آسمانوں میں پرواز کرنا چاہتے ہیں۔ تو آپ کا محبوب میں کس طرح ہوا۔ آپ کا محبوب جنت ہے، پرواز ہے، کشف و کرامات ہے۔

میرے ہمدم! آپ یقین کریں میں لرز گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ دل کی دنیا ماتم کدہ بن گئی۔ تھکے قدموں سے اٹھا اور مرشد کے پیروں پر سر رکھ کر رویا کہ مرشد کریم نے ایک آہ بھری اور مجھے اپنے سینہ سے لگا لیا۔ محبوب کے وصل کی لذت آج بھی میرے اندر زندہ ہے۔ اور یہی وہ لذت وصل ہے جو مجھے دن رات بے قرار کئے ہوئے ہے۔ میں اس لذت کی تلاش میں کہاں کہاں نہیں پہنچا۔

میں نے جنت کا ایک ایک گوشہ دیکھا۔ آسمانوں کی رفعتوں میں فرشتوں کے خوشنما صفاتی پروں کا جمال دیکھا۔ ملائے اعلیٰ کے قدسی اجسام میں تجلی کا عکس دیکھا۔ دوزخ کے طبقات میں گھوم آیا۔ موت کو دیکھا۔ موت سے پنجہ آزمائی کی۔ وہ کچھ دیکھا جن کے لئے الفاظ نہیں ہیں کہ بیان کر دیا جائے لیکن۔۔۔۔۔۔مرشد کے وصل کی لذت نہیں ملی۔ ہر لمحہ مرنے کے بعد اس لئے جیتا ہوں کہ مرشد سے قربت ملے گی۔ جینے کے بعد ہر آن اس لئے مرتا ہوں کہ مرشد کا وصال نصیب ہو گا۔

اندر جھانکتا ہوں مرشد نظر آتے ہیں۔ باہر دیکھتا ہوں مرشد کی جھلک پڑتی ہے۔

ہائے وہ کیسی لذت وصل تھی کہ زمانے گزرنے کے بعد بھی روح میں تڑپ ہے، اضطراب ہے، انتظار ہے۔ اس یقین کے ساتھ زندہ ہوں، اس یقین کے ساتھ مروں گا، اس یقین کے ساتھ دوبارہ زندہ رہوں گا کہ مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ مجھے ایک بار اپنے سینے سے لگائیں گے اور مجھے اس طرح اپنے اندر سمیٹ لیں گے کہ میرا وجود نفی ہو جائے اور کوئی یہ نہیں جان سکے گا کہ مرشد اور مرید دو الگ الگ پرت ہیں۔

روحانی راستے کے مسافر میرے فرزند، میں آپ کو چند سطریں لکھنا چاہتا تھا۔ مگر میرے اندر مرشد کریم کی محبت کا رُکا ہوا طوفان برملا ظاہر ہو گیا اور میں داستان جنون لکھتا گیا۔ خدا کرے میرا جنون آپ کا جنون بن جائے۔

(آمین)


Mehboob Baghal Mein

خواجہ شمس الدین عظیمی



’’ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو نہایت احسن طریقہ پر پیدا فرمایا اور پھر اس کو بد سے بھی بدترین مقام پر پھینک دیا۔

زمین کو اللہ تعالیٰ نے بد سے بھی بدترین مقام کہا ہے۔ اس لئے آدم کو سخت اضطرب لاحق ہو اور وہاں آپ کو ایسی چیزوں سے واسطہ پڑا جن کو کہ اس سے قبل آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ یعنی بھوک پیاس وغیرہ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو آپ کے پاس بھیجا۔ جنہوں نے اس منزل اور ضرورت گاہ کے تمام عقیدے آپ پر کھول دیئے۔ یوں استاد شاگرد کا رشتہ ازل تا ابد قائم ہو گیا۔ غرض ہر صاحب علم کا کوئی نہ کوئی استاد اور کوئی نہ کوئی شاگرد ہو گا جس سے بندہ تربیت حاصل کر کے اللہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ علم کی بنیاد دراصل کسی چیز کی خبر یا کسی چیز کی شکل و صورت کو یا کسی چیز کے وصف کو جاننا ہے۔ علم کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی کے اندر جاننے اور کسی چیز سے واقف ہو جانے کا عمل پیدا ہو جائے۔