Topics

حضرت اسماعیل علیہ السلام

ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر مبارک چھیاسی برس(86) ہو چکی تھی لیکن اولاد کی نعمت تا حال انہیں عطا نہ ہوئی تھی۔

انہوں نے رب العزت کی بارگاہ میں استدعا کی:

’’اے رب! مجھے نیک صالح لڑکا عطا کر۔‘‘

یہ دعاا للہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوئی اور آپ کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہؓ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری سنائی گئی۔ توریت میں اس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:

’’اور ابرام سے ہاجرہ کے ایک بیٹا ہوا اور ابرام نے اپنے اس بیٹے کا نام جو ہاجرہ سے پیدا ہوا تھا اسماعیل رکھا اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا۔‘‘

(باب پیدائش)

عبرانی میں ’’اسماعیل‘‘ کا تلفظ ’’شماع ایل‘‘ہے شماع کے معنی ہیں ’’سن اور ایل ’’اللہ‘‘ کے مترادف ہے۔ چونکہ اولاد کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سن لی گئی تھی اس لئے آپ کا نام اسماعیل علیہ السلام رکھا گیا۔

حضرت سارہؓ جب ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی تھیں۔ اس لئے حضرت ہاجرہؓ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ان پر بہت شاق گزاری اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بہت اصرار کیا کہ حضرت ہاجرہؓ اور ان کے بیٹے کو یہاں سے دور کر دو تا کہ یہ لوگ میری نگاہ کے سامنے نہ رہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ بات بہت ناگوار گزری مگر بارگاہ الٰہی سے جب حکم ہوا کہ بی بی ہاجرہؓ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو عرب کے ریگستان میں چھوڑ دیا جائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہؓ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس جگہ لے آئے جہاں اب کعبہ ہے۔ اس زمانے میں یہ جگہ بالکل غیر آباد تھی۔ ایک تھیلی کھجور اور ایک مشکیزہ پانی کے ہمراہ انہیں وہاں چھوڑ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام جب جانے لگے تو بی بی ہاجرہؓ نے انہیں روک کر پوچھا کہ ہمیں اس بیابان میں چھوڑ کر کہاں چل دیئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خاموشی پر حضرت بی بی ہاجرہؓ نے استفسار کیا کہ کیا یہ میرے رب کے حکم سے ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اثبات میں جواب دیا۔ تب بی بی ہاجرہؓ نے انہیں جانے دیا اور فرمایا کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام چلتے چلتے جب ایسی جگہ پہنچے کہ دونوں ماں بیٹا نگاہوں سے اوجھل ہو گئے تو ہاتھ بلند کئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا:

’’اے میرے رب! میں نے بسائی ہے ایک اولاد اپنی میدان میں، جہاں کھیتی نہیں، تیرے ادب والے گھر کے پاس، اے رب ہمارے تا قائم رکھیں ربط، سو رکھ بعض لوگوں کے دل جھکتے ان کی طرف اور روزی دے ان کو میوؤں سے تا کہ یہ شکر کریں۔‘‘

ابراہیم)

حضرت ہاجرہؓ چند روز تک مشکیزہ سے پانی پیتی رہیں اور کھجوروں پر گزارہ کرتی رہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی رہیں۔ جب پانی اور کھجوریں ختم ہو گئیں تب وہ پریشان ہوئیں چونکہ خود بھوکی تھیں اس لئے دودھ بھی نہ اترتا تھا اور بچے نے بھوک پیاس سے رونا شروع کر دیا تھا۔ بچے کی بے چینی دیکھ کر بی بی ہاجرہؓ نے پانی کی تلاش شروع کر دی۔ قریب کی پہاڑی صفا پر چڑھیں کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ نظر آ جائے یا پانی مل جائے مگر کچھ نظر نہ آیا پھر واپس وادی میں آ گئیں۔ پھر دوسری جانب کی پہاڑی مروہ پر چڑھ گئیں اس طرح آپ نے سات چکر لگائے۔ مامتا کا یہ جذبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس قدر مقبول ہوا کہ بیت اللہ کی زیارت کے لئے آنے والے ہر فرد پر یہ لازم قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ حضرت ہاجرہؓ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے صفا اور مروہ کے درمیان ’’سعی‘‘ کرے۔

تلاش و جستجو پر مشتمل اس عمل کی قبولیت کا ایک اشارہ یہ بھی تھا کہ ساتویں چکر میں بی بی ہاجرہؓ بچے کے پاس جب واپس آئیں تو دیکھا کہ جس جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام روتے ہوئے ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں سے ایک چشمہ جاری ہو گیا ہے۔ یہ چشمہ آج بھی موجود ہے۔ لوگ اس چشمہ کو ’’آب زم زم‘‘ کے نام سے جانتے ہیں اور ہزاروں سال گزرنے کے باوجود چشمہ کا پانی اسی طرح جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں مخلوق کے لئے شفاء رکھی ہے۔ حضرت ہاجرہؓ نے رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے بچے کو پانی پلایا اور اپنی پیاس بجھائی۔ اس وقت اللہ کا ایک فرستادہ فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے کہا خوف اور غم نہ کر اللہ تعالیٰ تجھ کو اور بچے کو ضائع نہ کرے گا۔ یہ مقام ’’بیت اللہ‘‘ ہے۔ جس کی تعمیر اس بچے اور اس کے باپ نے کرنی ہے۔

کچھ عرصہ بعد بنی جرہم نامی ایک قبیلہ پانی کی فراوانی دیکھ کر حضرت ہاجرہؓ کی اجازت سے یہاں آباد ہو گیا۔ بچپن کا ابتدائی دور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اسی قبیلہ کے افراد کی صحبت میں گزارا۔

بہت سے احکامات ایسے ہیں جن کا تعلق حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات سے براہ راست وابستہ ہے یا ان پر عمل درآمد کا حکم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دور میں نازل ہوا اور ان اعمال کی اقتداء آج بھی جاری ہے۔ انہی احکامات میں سے ایک حکم ’’ختنہ‘‘ کا ہے۔

کتاب مقدس کے باب پیدائش میں اس بات کا تذکرہ موجود ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر جب ننانوے سال ہوئی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام تیرہ سال کے تھے تو ختنہ کا حکم نازل ہوا۔ اس حکم پر عمل درآمد آج بھی ملت ابراہیمی کا شعار ہے۔
الہامی کتابوں میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات مبارک سے جاری ہونے والی ایک اور سنت کا تذکرہ بھی ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بچپن سے تعلق رکھنے والے اس واقعہ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے والد بزرگوار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسلسل تین راتوں تک ایک ہی خواب دیکھا کہ وہ اپنے لخت جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔

انہوں نے عالم رویاء میں ملنے والے اس حکم الٰہی کی تعمیل کا ارادہ فرمایا اور بیٹے سے پوچھا:

’’میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں بتا تیری رائے کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔‘‘

فرماں بردار بیٹے عرض کیا کہ آپ اللہ کے برگزیدہ بندے اور پیغمبر ہیں۔ آپ اللہ کے حکم کی تعمیل بجا لائیں، انشاء اللہ مجھے آپ صابر اور شاکر بندوں میں سے پائیں گے۔

مشیت الٰہی کے تحت اللہ کے یہ دونوں برگزیدہ بندے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ روایت ہے کہ ابلیس نے ان کے ارادہ کو متزلزل کرنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ پہلے وہ حضرت ہاجرہؓ کے پاس آیا اور انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ارادہ سے آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے لے جا رہے ہیں۔ بی بی ہاجرہؓ نے فرمایا کہ اسماعیلؑ ہماری اکلوتی اولاد ہے اور بہت دعاؤں کے بعد یہ نعمت اللہ نے ہمیں عطا کی ہے، اسماعیلؑ کا باپ ایسا نہیں کر سکتا کہ بلا وجہ اسے جان سے مار دے۔ ابلیس نے وار کارگر ہوتا دیکھ کر کہا، تمہارے اللہ نے ابراہیمؑ کو یہی حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کو قربان کر دو۔ یہ سن کر بی بی ہاجرہؓ نے کہا کہ اگر یہ میرے خالق کا حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کو قربان کر دو۔ یہ سن کر بی بی ہاجرہؓ نے کہا کہ اگر یہ میرے خالق کا حکم ہے تو میں اس کی رضا پر راضی ہوں۔

حضرت ہاجرہؓ کو بہکانے میں ابلیس جب ناکام ہوا تو حضرت ابراہیمؑ کے پاس آیا اور ان کے اندر موجود پدرانہ شفقت کے جذبات کو مہمیز کرنے کے لئے بولا کہ آپ عمر رسیدہ ہیں اور اسماعیلؑ آپ کی اکلوتی اولاد ہے۔ اگر آپ نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا تو آپ کی نسل نہیں بڑھے گی۔ حضرت ابراہیمؑ نے جواب میں فرمایا ’’اسماعیلؑ سے میرا تعلق اللہ کی معرفت قائم ہے۔ اس سے میرا واسطہ اور تعلق صرف اس بناء پر ہے کہ اللہ نے اس کی پیدائش کے لئے میرا گھر منتخب فرمایا ہے۔ یہ بیٹا میرے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اللہ ہم سب کا مالک اور مختار کل ہے۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے حکم دے ہم سب اس کے تابع فرمان ہیں۔‘‘

حضرت ابراہیمؑ کے جواب سے ابلیس کو سخت مایوسی ہوئی لیکن اس نے حکم الٰہی کی تعمیل سے انہیں باز رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ اسے ایک اور ترکیب سوجھی کہ حضرت اسماعیلؑ کی کم عمری کا فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے باپ سے متنفر کر دے لیکن حضرت اسماعیلؑ نے اس کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا۔’’میں اس بات پر بخوشی راضی ہوں جو میرے اللہ کا حکم ہے ، میرے والد اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ ملائکہ مقربین کے سردار جبرائیل ان کے پاس وحی لے کر آتے ہیں، ان کا ہر عمل اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ مجھے قربان کر دینے کا حکم انہیں اللہ کریم نے براہ راست خواب میں دیا ہے اور انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ قربان گاہ کی طرف جاتے ہوئے ابلیس نے تین بار ان کے ارادہ میں خلل انداز ہونے کی کوشش کی اور ہر بار حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے اس پر سنگ باری کی اور اس کو اپنی راہ میں حائل ہونے نہ دیا۔ یہی وہ سنت ہے جس کو حجاج کرام ہر سال حج کے موقع پر دہراتے ہیں اور یہ سنت ’’رمی‘‘ کہلاتی ہے۔

دونوں باپ بیٹے جب اس مقام پر پہنچے جو موجودہ زمانے میں ’’منیٰ‘‘ کہلاتا ہے تو حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیلؑ کو پیشانی کے بل زمین پر لٹا دیا اور گلے پر چھری پھیر دی۔

’’اور ہم نے اس کو پکارا یوں کہ اے ابراہیم تو نے سچ کر دکھایا خواب، ہم یوں دیتے ہیں بدلا نیکی کرنے والوں کو۔ بے شک یہی ہے صریح جانچنا اور اس کا بدلا دیا ہم نے ایک جانور ذبح کو بڑا۔‘‘

(الصٰفٰت)

حضرت ابراہیمؑ کی تابعداری اور حضرت اسماعیلؑ کی فرمانبرداری بارگاۂ ایزدی میں مقبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ ان کی جگہ جس جانور کی قربانی دی گئی اس سے متعلق روایت یہ ہے کہ وہ جنت سے لایا گیا ایک مینڈھا تھا۔ یہی وہ عظیم قربانی ہے جس کو تا قیامت امت مسلمہ کے لئے عملی نمونہ بنا دیا گیا ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کو اللہ کریم کی جانب سے جب حکم ملا کہ وحدانیت کے پرچار کے لئے اور مرکزیت کے تعین کے لئے اللہ کے گھر کی تعمیر کریں تو اس تعمیر میں حضرت اسماعیلؑ اپنے والد کے ساتھ شریک تھے۔ کعبہ کی تعمیر کے وقت باپ بیٹے نے اللہ کریم کی بارگاہ میں خوب دعائیں کیں۔ ان میں وہ دعا بھی شامل ہے جس سے متعلق سیدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ میں اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کی دعا ہوں۔

’’اے رب ہمارے! اور اٹھا ان میں ایک رسول انہی میں سے، پڑھے ان پر تیری آیتیں اور۔ سکھا دے ان کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور ان کو سنوارے اور تو ہی ہے اصل زبردست حکمت والا۔‘‘

 (بقرۃ)

قرآن پاک نے بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی مناجات، اقامت الصلوٰۃ اور مناسک حج ادا کرنے کے لئے شوق اور تمنا کے اظہار کا اور بیت اللہ کو توحید کا مرکز قرار دینے کا جگہ جگہ ذکرکیا ہے۔

خانہ کعبہ کی تعمیر کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ دو پیغمبروں نے مل کر اس کی تعمیر کی۔ باپ راج کی حیثیت سے اور بیٹا مزدور کی حیثیت سے تعمیر میں مصروف رہے اور جب اس کی دیواریں اتنی اوپر اٹھ گئیں کہ مزید تعمیر کے لئے پاڑھ کے ضرورت محسوس ہوئی تو قدرت کی ہدایت کے مطابق ایک پتھر کو پاڑھ بنایا گیا جس کو حضرت اسماعیلؑ اپنے ہاتھ سے سہارا دیتے تھے اور حضرت ابراہیمؑ اس پر چڑھ کر تعمیر کرتے تھے۔ یہی وہ یادگار پتھر ہے جو آج ’’مقام ابراہیم‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ جب بیت اللہ کی تعمیر مکمل ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو بتایا کہ یہ ملت ابراہیمی کے لئے قبلہ اور اللہ کے سامنے جھکنے کا نشان ہے، اس لئے اس گھر کو توحید کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ تب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے دعا مانگی کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کی ذریت کو اقامت صلوٰۃ اور ادائیگی زکوٰۃ کی ہدایت اور استقامت بخشے۔ ان کے لئے پھلوں، میوؤں اور رزق میں برکت عطا فرمائے اور تمام دنیا کے بسنے والوں میں سے ہدایت یافتہ گروہ کو اس طرف متوجہ کرے کہ وہ دور دور سے آئیں اور مناسک حج ادا کریں اور رشد و ہدایت کے اس مرکز میں جمع ہو کر سعادتوں سے اپنا دامن بھریں۔

حضرت اسماعیلؑ خدا کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ آپ کو عرب و حجاز، یمن اور حضرموت کے لئے مبعوث کیا گیا تھا۔ آپ نے اپنے والد ابوالانبیاء حضرت ابراہیمؑ کی دی ہوئی تعلیمات کا پرچار جاری رکھا۔

حضرت اسماعیلؑ کی مادری زبان قبطی اور پدری زبان عبرانی تھی۔ اس کے علاوہ آپ عربی زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔ دین ابراہیم کی تبلیغ و اشاعت کے لئے ان زبانوں میں حضرت اسماعیلؑ کی مہارت بہت کارگر ثابت ہوئی۔

حضرت اسماعیلؑ کی شادی قبیلہ بنی جرہم کی ایک لڑکی سے ہوئی۔ توریت کے مطابق حضرت اسماعیلؑ کے بارہ بیٹے تھے جو اپنے اپنے قبیلہ کے سردار کہلائے اور یہ قبیلے اپنے سرداروں کے نام سے مشہور ہوئے۔

حضرت اسماعیلؑ کے بیٹوں میں سے دو بڑے بیٹے بنایوت اور قیدار بہت مشہور ہیں اور ان کا ذکر توریت میں بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ عرب مورخین بھی ان کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ بنایوت کی نسل ’’اصحاب الحجر‘‘ کہلائی اور قیدار کی نسل ’’اصحاب الرس‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ قیدار کی اولاد خاص مکہ میں رہی اور اسی سلسلۂ نسب میں نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کا ظہور ہوا۔

حضرت اسماعیلؑ کی ایک بیٹی بھی تھی جس کی شادی عیسو سے ہوئی جو آپ کے چھوٹے بھائی حضرت اسحاقؑ کے بڑے فرزند حضرت یعقوبؑ کے بھائی تھے۔

حضرت اسماعیلؑ سیدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جد اعلیٰ ہیں۔ آپؑ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کم و بیش پونے تین ہزار سال قبل پیدا ہوئے۔ حضرت اسماعیلؑ نے 137برس کی عمر میں انتقال فرمایا۔ حضرت اسماعیلؑ کا مدفن کعبہ شریف میں میزاب اور حجر اسود کے درمیان بتایا جاتا ہے۔ اسی مقام سے متعلق روایت ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی ہاجرہؓ یہیں مدفون ہیں۔ انتقال کے وقت تک حضرت اسماعیلؑ کی اولاد اور نسل کا سلسلہ حجاز، شام، عراق، فلسطین اور مصر تک پھیل گیا تھا۔

قرآن حکیم میں مذکور یہ واقعہ ہمیں درس دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے صلہ و ستائش کی تمنا کے بغیر جب کوئی عمل کیا جاتا ہے تو وہ عمل بارگاہ رب العزت میں شرف قبولیت حاصل کر لیتا ہے کہ اللہ کریم آنے والی نسلوں تک اس عمل کو بطور سنت کے جاری فرما دیتے ہیں۔

حضرت اسماعیلؑ کے واقعہ میں اس کی کئی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ بی بی ہاجرہؓ کا اللہ کی ذات پر توکل کر کے جنگل بیابان میں رہ جانا اور ایمان و یقین کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کی تلاش میں دو پہاڑیوں کے مابین دوڑنا اللہ کریم کو اس قدر پسند آیا کہ اس کے انعام میں بنجر زمین کی کوکھ سے شفاء بخش پانی کا چشمہ جاری کر دیا۔ تلاش و جستجو کا یہ عمل دہرانا ہر اس فرد پر لازم قرار دے دیا گیا ہے جو اس کے مقدس گھر کی زیارت کے لئے آئے۔

اللہ کی راہ میں اپنی عزیز ترین شئے کو قربان کرنے کا درس دیتے ہوئے اس قصہ میں بتایا گیا ہے کہ بندہ جب اس تعلق سے واقف ہو جاتا ہے جو اس کا اپنے کالق کے ساتھ اور خالق کی معرفت دوسری مخلوق کے ساتھ استوار ہے تو وہ اپنے ہر عمل کے پس پردہ کام کرنے والی مشیئت سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ پھر کائنات کا کوئی رخ اسے دھوکا نہیں دے سکتا۔ اس کے اندر ایمان و یقین کی طرزیں اس طرح مستحکم بنیادوں پر استوار ہو جاتی ہیں کہ وہ ہر شئے میں ذات باری تعالیٰ کا عکس دیکھ لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانے والی ہے۔ حضرت اسماعیلؑ کا اللہ کی راہ میں قربان ہو جانے پر آمادہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ مادی دنیا میں رہتے ہوئے مادیت سے ماوراء عالمین سے نہ صرف یہ کہ واقف تھے بلکہ ان عالمین میں وارد ہونے والی کیفیات اور مشاہدات ان کے تجربہ میں شامل تھے اس لئے انہوں نے باپ کے خواب کو خیالی بات سمجھ کر رد نہیں کیا بلکہ عالم رویاء میں وارد ہونے والے حکم کی تعمیل میں سر تسلیم خم کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواب اور بیداری کے حواس سے مکمل واقفیت رکھتے تھے۔ نیز بیداری کی طرح خواب کی اہمیت ان پر واضح تھی۔

قرآن میں تفکر ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ حضرت اسماعیلؑ کے قصہ میں دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ عالم رویاء کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

آیئے! ہم خواب کے اجزاء، خواب کی اہمیت اور خواب کی حقیقت تلاش کریں۔

جس کو ہم خواب دیکھنا کہتے ہیں ہمیں روح اور روح کی صلاحیتیوں کا سراغ دیتا ہے۔ وہ اس طرح کہ ہم سوئے ہوئے ہیں۔ تمام اعضاء بالکل معطل ہیں۔ صرف سانس کی آمد و شد جاری ہے لیکن خواب دیکھنے کی حالت میں ہم چل پھر رہے ہیں، باتیں کر رہے ہیں، سوچ رہے ہیں، غم زدہ اور خوش ہو رہے ہیں، کوئی ایسا کام نہیں ہے کہ جو ہم بیداری کی حالت میں کرتے ہیں اور خواب کی حالت میں نہیں کر تے۔

یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ خواب دیکھنا اگر خیالی حرکات نہیں تو جاگ اٹھنے کے بعد کئے ہوئے اعمال کا کوئی اثر باقی کیوں نہیں رہتا؟
یہ بات بالکل لا یعنی ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں ایک، دو، چار، دس، بیس ایسے خواب ضرور نظر آتے ہیں کہ جاگ اٹھنے کے بعد یا تو نہانے اور غسل کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے یا کوئی ڈراؤنا خواب دیکھنے کے بعد اس کا پورا خوف اور دہشت دل و دماغ پر مسلط ہو جاتی ہے یا جو کچھ خواب میں دیکھا جاتا ہے، وہی چند گھنٹے، چند دن یا چند مہینے یا چند سال بعد من و عن بیداری کی حالت میں پیش آتا ہے۔ ایک فرد واحد بھی ایسا نہیں ملے گا جس نے اس طرح کا ایک خواب یا ایک سے زائد خواب نہ دیکھے ہوں۔ اس حقیقت کے پیش نظر اس بات کی تردید ہو جاتی ہے کہ خواب محض خیالی حیثیت رکھتا ہے۔ جب یہ مان لیا گیا کہ خواب محض خیالی نہیں ہے تو خواب کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔

بیداری یا خواب دونوں حالتوں میں اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم اس دوران انجام پذیر کام کی طرف متوجہ ہیں۔

تحقیق، بیداری ہو یا خواب جب ہمارا ذہن کسی چیز کی طرف یا کسی کام کی طرف متوجہ ہے تو اس کی اہمیت ہے ورنہ بیداری اور خواب دونوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

بیداری کا بڑے سے بڑا وقفہ بے خیالی میں گزرتا ہے اور خواب کا بھی بہت سا حصہ بے خبری میں گزر جاتا ہے۔ کعنی ہی مرتبہ خواب کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور کتنی ہی مرتبہ بیداری کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ پھر کیونکر مناسب ہے کہ ہم خواب کی حالت اور کواب کے اجزاء کو جو زندگی کا نصف حصہ ہیں نظر انداز کر دیں۔ بیداری ہو یا نیند دونوں کا تعلق حواس سے ہے۔ ایک حالت میں یا ایک کیفیت میں حواس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور ایک حالت میں یا کیفیت میں حواس کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ لیکن حواس کی نوعیت نہیں بدلتی۔ بیداری ہو یا خواب دونوں میں ایک ہی طرح کے اور ایک ہی قبیل کے حواس کام کرتے ہیں۔ بیداری اور نیند دراصل دماغ کے اندر دو خانے ہوتے ہیں یا یوں کہیئے کہ انسان کے اندر دو دماغ ہیں۔ ایک دماغ میں جب حواس متحرک ہوتے ہیں تو اس کا نام بیداری ہے۔ دوسرے دماغ میں جب حواس متحرک ہوتے ہیں تو اس کا نام نیند ہے۔ یعنی ایک ہی حواس بیداری اور نیند میں رد و بدل ہو رہے ہیں اور حواس کا رد وبدل ہونا ہی زندگی ہے۔

بیداری میں حواس کے کام کرنے کا قاعدہ اور طریقہ یہ ہے کہ آنکھ کے ڈیلے پر پلک کی ضرب پڑتی ہے تو حواس کام کرنا شروع کر دیتے ہیں یعنی انسان نیند کے حواس سے نکل کر بیداری کے حواس میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہاں ان صلاحیتوں کا تذکرہ کر دینا ضروری ہے جو خواب یعنی رویاء کے نام سے روشناس ہیں۔ چنانچہ خواب کے عالم میں انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ روح گوشت پوست کے جسم کے بغیر بھی حرکت کرتی ہے اور چلتی پھرتی ہے۔ روح کی یہ صلاحیت جو صرف رویاء میں کام کرتی ہے ہم کسی خاص طریقے سے اس کا سراغ لگا سکتے ہیں اور اس صلاحیت کو بیداری میں استعمال کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔انبیاء علیہم السلام کا علم یہیں سے شروع ہوتا ہے اور یہی وہ علم ہے جس کے ذریعے انبیائے کرام نے اپنے شاگردوں کو یہ بتایا کہ پہلے انسان کہاں تھا اور اس عالم ناسوت کی زندگی پوری کرنے کے بعد وہ کہاں چلا جاتا ہے۔

ان غیبی کوائف کا مشاہدہ کرنے کے لئے تمام برگزیدہ ہستیوں، انبیاء اور رسولوں نے تفکر سے کام لیا ہے اور اپنے شاگردوں کو بھی اجزائے کائنات میں تفکر کی تعلیم دی ہے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ مرتبۂ پیغمبری کوشش سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ اللہ کا خصوصی فضل ہے جو کسی بندے پر کرتے ہیں۔ سلسلۂ رسالت و نبوت ختم ہو گیا ہے لیکن الہام اور روشن ضمیری کا فیضان جاری ہے۔ 


Mehboob Baghal Mein

خواجہ شمس الدین عظیمی



’’ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو نہایت احسن طریقہ پر پیدا فرمایا اور پھر اس کو بد سے بھی بدترین مقام پر پھینک دیا۔

زمین کو اللہ تعالیٰ نے بد سے بھی بدترین مقام کہا ہے۔ اس لئے آدم کو سخت اضطرب لاحق ہو اور وہاں آپ کو ایسی چیزوں سے واسطہ پڑا جن کو کہ اس سے قبل آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ یعنی بھوک پیاس وغیرہ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو آپ کے پاس بھیجا۔ جنہوں نے اس منزل اور ضرورت گاہ کے تمام عقیدے آپ پر کھول دیئے۔ یوں استاد شاگرد کا رشتہ ازل تا ابد قائم ہو گیا۔ غرض ہر صاحب علم کا کوئی نہ کوئی استاد اور کوئی نہ کوئی شاگرد ہو گا جس سے بندہ تربیت حاصل کر کے اللہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ علم کی بنیاد دراصل کسی چیز کی خبر یا کسی چیز کی شکل و صورت کو یا کسی چیز کے وصف کو جاننا ہے۔ علم کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی کے اندر جاننے اور کسی چیز سے واقف ہو جانے کا عمل پیدا ہو جائے۔