Topics

پیر اور مرید

اللہ کہتا ہے کہ ہم نے تمہیں سڑی ہوئی بجنی مٹی سے بنایا۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ آدمی ناقابل تذکرہ شئے تھا اور ہم نے اس کو سنتا اور دیکھتا بنا دیا یعنی جب تک پتلے کے اندر دیکھنا اور سننا موجود نہیں تھا وہ ناقابل تذکرہ شئے قرار پایا۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ تم ہماری سماعت سے سنتے ہو، ہماری بصارت سے دیکھتے ہو اور ہمارے فواد سے سوچتے ہو۔ ظاہر ہے اللہ کی سماعت کو اور اللہ کی بصارت کو ہم غیب سے الگ نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے سماعت اور بصارت کی صورت میں ہمیں غیب منتقل کر دیا ہے۔ اسی طرح پتلے کے اندر اللہ نے روح ڈال دی۔ اللہ کی روح یا اللہ کی پھونک یا اللہ کی جان کو غیب سے الگ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ انسان کے اندر جب تک روح موجود ہے زندگی برقرار ہے۔ اور جب تک زندگی ہے حواس موجود ہیں۔ حواس میں دیکھنا، سننا، چکھنا، چھونا تمام باتیں شامل ہیں۔
ان تمام حقائق کے پیش نظر ہم سمجھتے ہیں کہ انسان کی بنیاد غیب کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ایسا غیب جو اللہ نے اپنی مرضی اپنی منشاء اور اپنی مشیئت کے مطابق انسان کو عطا کیا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمت سے ہر انسان مستفیض ہو سکتا ہے۔ یہ نعمت اللہ نے اس لئے عطا کی ہے کہ انسان اس سے فائدہ اٹھائے(غیب میں ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی آدمی اللہ بن جائے گا۔ نعوذ باللہ)
’’اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تا کہ وہ اس کا استعمال کرے اور جو لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال کرتے ہیں اور اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اس کا فائدہ انہیں کو پہنچتا ہے۔ اور جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں اس کا نقصان انہیں کو پہنچتا ہے۔ اللہ ان دونوں چیزوں سے ماوراء ہے۔‘‘ (قرآن)
ایک طبقہ فکر غیب کے نام سے الرجک ہے اور اس کا کہنا ہے کہ غیب صرف اللہ کو حاصل ہے تمام صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ کا بھی یہی فرمان ہے کہ غیب صرف اللہ کی ذات برحق ہے لیکن اس ذات برحق نے جتنا علم انسان کو عطا کر دیا وہ آدمی کے اوپر اللہ کا انعام و اکرام ہے اور انسان کے لئے ازلی سعادت ہے۔
دوسری بات غیب کے ضمن میں یہ عرض کرنی ہے کہ جب کوئی چیز سامنے آ جاتی ہے تو وہ غیب کے دائرے سے نکل جاتی ہے۔ مثلاً نوع انسان کے لئے فرشتے اور جنات غیب ہیں لیکن اگر کوئی بندہ اللہ کی دی ہوئی نعمت اور صلاحیت کو استعمال کر کے اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ جنات کو دیکھ لے اور فرشتوں سے ہم کلام ہو جائے تو ایسی حالت میں اس کے لئے فرشتے اور جنات غیب نہیں رہے اور جن لوگوں کے سامنے فرشتے اور جنات نہیں آئے فرشتے اور جنات ان کے لئے غیب ہیں۔
روحانی نقطہ نظر سے غیب وہ علم ہے جس کو اللہ نے اپنے لئے مخصوص فرما لیا ہے جو کسی کو حاصل نہیں ہے اور جو علم اللہ نے بندوں پر آشکارہ کر دیا ہے اور اپنے بندوں کی روح میں انڈیل دیا ہے وہ اس غیب کے دائرے میں آتا ہے جس کو اللہ ظاہر کرنا پسند فرماتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں اللہ نے ایک بندے کا تذکرہ کیا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر۔ سفر کی صعوبتیں اور تکالیف برداشت کر کے جب اس بندے تک پہنچتے ہیں تو اللہ فرماتا ہے موسیٰ نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جس کو ہم نے اپنی رحمت خاص سے ایک علم عطا کیا اور ہم نے اسے علم لدنی سکھایا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر اور صاحب کتاب نبی ہیں، ظاہر ہے کتاب کا نازل ہونا غیب سے باہر نہیں ہے۔ اگر کتاب فرشتے کے ذریعے نازل ہوئی تو اس لئے غیب اس میں شامل ہے کہ فرشتہ غیب ہے اور اگر براہ راست اللہ نے مخاطب فرمایا تو الفاظ اس لئے غیب ہیں کہ ذات حق کے الفاظ ہیں اور ذات الٰہی غیب ہے۔ جلیل القدر پیغمبر بظاہر ایک عام بندہ سے ملتے ہیں، جلیل القدر پیغمبر کی بظاہر ایک عام انسان سے ملاقات اور پھر جو واقعات پیش آئے مثلاً کشتی میں سوراخ کرنا، بچے کا قتل کر دینا، گرتی ہوئی دیوار کا بنا دینا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اس بندے کے درمیان یہ معاہدہ ہونا کہ موسیٰ علیہ السلام اس بندے کی کسی بات پر تبصرہ نہیں کریں گے، پھر اپنی بات پر قائم نہ رہنا اور اس بندے سے الگ ہو جانا اور اس بندے کا یہ بتانا کہ ان واقعات میں اللہ کی کیا حکمت ہے، یہ ثابت کر رہا ہے کہ علم غیب کو اللہ نے بندے پر منکشف کر دیا ہے۔
اس علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو پیغمبران کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو عطا کیا جاتا ہے۔ علم کی دوسری قسم وہ ہے جس سے بندہ اللہ کا کارندہ بنتا ہے۔ ایک بندہ وہ ہے جو اللہ کے قانون کے مطابق نوع انسان کو راہ راست پر لانے کی نہ صرف جدوجہد کرتا ہے بلکہ اپنی زندگی کا ایثار کرتا ہے۔ بڑی بڑی تکالیف برداشت کرتا ہے۔ اس کی زندگی کا مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ نوع انسانی میں اچھائی اور برائی کے تصور کو عام کر دے اور ان راستوں سے دور لے جائے جو راستے بندے اور اللہ کے درمیان پردہ بنتے ہیں۔ دوسرے بندے کی یہ شان ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں پہلے اللہ کی مشیئت دیکھتا ہے اور مشیئت میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر بے چوں و چرا عمل کرتا ہے۔
مفہوم یہ ہے کہ وہ مشیئت کے تحت اللہ کے احکامات پر عمل کرتا ہے اس کی اپنی مرضی شامل نہیں ہوتی۔ اس کے سامنے نہ اچھا ہوتا ہے نہ برا ہوتا ہے۔صرف یہ ہوتا ہے کہ اللہ کیا چاہتا ہے اس کی نظر اس طرف بھی نہیں جاتی کہ اللہ تعالیٰ ایسا کیوں چاہتا ہے۔ بس اللہ چاہتا ہے اور بندہ اس پر عمل درآمد کرتا ہے۔
تصوف وہ علوم کی بطور خاص نشاندہی کرتا ہے۔ وہ علوم جو پیغمبروں کو سکھائے جاتے ہیں اور وہ علوم جو اہل تکوین کو عطا کئے جاتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وحی کے ذریعے پہلا پیغام یہ سنا:
’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھو جس نے سب کو پیدا کیا۔ بنایا انسان کو جمے ہوئے خون سے۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ (القرآن)
جس طرح ساری مخلوق میں انسان بہترین مخلوق ہے اسی طرح علم حاصل کرنے والا آدمی نوع انسانی میں بہترین انسان ہے۔ طریقت، ایمان، معرفت اور رضائے الٰہی کے حصول میں کسی بھی طرح علم کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ہر مرحلے میں علم بنیادی ضرورت ہے۔ راہ سلوک میں توحیدی عقیدہ کے ساتھ عبادات کو صحیح طریقہ پر پورا کرنا۔ اور معاملات درست رکھنا، احوال قلب، حسن اخلاق اور تزکیہ نفس ہونا ضروری ہے۔ قرآنی آیات اور احادیث سے علم کی قدر و منزلت اور عظمت و شان کا اظہار اس طرح کیا گیا ہے۔
۱۔ ترجمہ: کیا جاننے والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں۔‘‘(پ ۲۳۔ زمر ۹)
۲۔ ترجمہ: اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بہت بلند فرمائے گا۔
۳۔ ترجمہ: اے میرے رب میرا علم زیادہ کر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی فضیلت میں فرمایا:
۱۔ ’’جو شخص علم کی تلاش میں سفر اختیار کرے، اللہ اس کے لئے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالب علم کی عظمت میں اس پر اپنے پر جھکا دیتے ہیں اور بے شک علم سیکھنے والوں کے واسطے زمین و آسمان کی مخلوق اور پانی کی مچھلیاں مغفرت طلب کرتی ہیں۔ انہیں اس طرح فضیلت ہے جس طرح چاند کو تاروں پر ہے۔ بے شک علمائے حق انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے وراثت میں درہم و دینار کے بجائے علم چھوڑا ہے جس نے علم سیکھا اس نے بڑا حصہ پایا۔‘‘
انسان کی شخصیت بنانے اور اخلاق سنوارنے میں صحبت کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ایک ساتھی دوسرے ساتھی کے اوصاف سے عملی اور روحانی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ انسان کی طبیعت میں اجتماعیت ہے طبعاً اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہے۔ اس کے دوست اور ساتھی ہوں۔ اگر کوئی مصاحبت کے لئے شری، فسادی، فاسق اور تفرقہ ڈالنے والے لوگوں کا انتخاب کرتا ہے تو اس کا اخلاق تباہ ہو جاتا ہے۔ بتدریج اچھے اوصاف اس کے اندر سے ختم ہو جائیں گے۔
اگر کوئی شخص ہم نشینی کے لئے غیب میں اہل ایمان، اہل استقامت اور عارف باللہ لوگوں کو پسند کرتا ہے تو بہت جلد ان جیسا ہو جائے گا اور ان پاکیزہ نفس حضرات کی رہنمائی میں اللہ کی معرفت حاصل کر لے گا۔ عیوب اور برے اخلاق سے چھٹکارا پا جائے گا۔جس قوم میں بھی رہو، اس قوم کے اچھوں کی صحبت اختیار کرو اور برے لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرو۔ کسی کے اخلاق کا پتہ چلانے کے لئے اس کے بارے میں مت پوچھو بلکہ اس کے ساتھیوں کے بارے میں معلوم کرو کیونکہ دوست، دوست کی پیروی کرتا ہے۔
صحابہ کرام کو اعلیٰ مقام نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت اور مجلس کے سبب حاصل ہوا وگرنہ اس سے قبل وہ جہالت کے اندھیروں میں تھے اور تابعین نے اس عظیم شرف کو صحابہ کرام کی صحبت سے حاصل کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث علماء باطن اولیاء اللہ سے قرب، اصلاح نفس کا ذریعہ ہے ان کی صحبت میں وقت گزارنے سے ’’یومنون بالغیب‘‘ کی عملی تشریح سامنے آ جاتی ہے۔ جو بات کتابوں کے پڑھنے سے سمجھ نہیں آتی وہ ان کی مجالس میں حاضر ہونے سے سمجھ آ جاتی ہے۔ دنیا کا کوئی آدمی ظاہری اور باطنی امراض سے آزاد نہیں ہے۔ان امراض میں غرور، حسد، کینہ، انانیت، خود پسندی، تکبر اور بخل کے امراض نمایاں ہیں۔ اولیاء اللہ کی قربت دعا اور توجہ سے ان امراض کا شافی علاج ہو جاتا ہے۔
’’اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم! آپ فرمایئے ہم تم کو بتائیں کہ سب سے بڑھ کر خسارے میں پڑے ہوئے عمل کس کے ہیں، ان لوگوں کے ہیں جن کی ساری کوشش دنیا ہی کی زندگی میں گم ہو گئیں اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘
پ۱۶۔کہف ۱۰۳۔۱۰۴)
جس طرح انسان اپنے چہرے کے عیوب کو آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھتا ہے اسی طرح۔۔۔۔۔۔عیوب مومن، مخلص، صادق، صاحب حال بزرگ سے تعلق قائم کرنے سے نظر آتے ہیں اور اس پر اپنے اندر موجود خفیہ امراض منکشف ہو جاتے ہیں۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:
’’المومن مراۃ المومن۔‘‘ مومن، مومن کے لئے آئینہ ہے۔
جس طرح شیشے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں بعض میں بالکل صحیح عکس نظر آتا ہے، بعض چہرے کو چھوٹا یا بڑا دکھاتے ہیں، بعض میں چہرے بدصورت نظر آتے ہیں۔ اور کچھ شیشے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں عکس نظر ہی نظر آتا ہے۔ اسی طرح صاحب مجلس حضرات کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض وہ ہیں جو تمہارے نفس کے عیوب ظاہر نہیں کریں گے۔ تمہاری تعریف کریں گے اور تم اپنے آپ کو کامل خیال کر کے خود بینی و خود پسندی کا شکار ہو جاؤ گے یا وہ تمہاری اس قدر مزمت کریں گے کہ تم اصلاح سے ناامید ہو جاؤ گے۔ مومن صادق وہ ہے جس کی ذات روشن اور منور ہے۔ وہ اپنے مرشد کا وارث ہوتا ہے۔ اور وراثت کا یہ سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متصل ہے اور یہی وہ آئینہ فیض ہے جسے اللہ نے انسانوں کے لئے اعلیٰ مثال اور کامل نمونہ قرار دیا ہے۔
’’اے مسلمانو! بے شک تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی بہتر نمونہ ہے، ان لوگوں کے لئے جو اللہ و قیامت کے دن کی امید رکھتے ہیں اور اللہ کا بہت زیادہ  ذکر کرتے ہیں۔‘‘(پ۲۱۔اجزاب۔۲۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے وارث مرشد کریم کی قربت ہی وہ عملی طریقہ ہے جس سے نفس کا تزکیہ ہوتا ہے اور نفس اخلاق سے مزین ہو جاتا ہے۔ابی بن کعب سے روایت ہے۔’’میں مسجد میں بیٹھا تھا، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے پہلے والے سے مختلف قرأت کی۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم سب رسول اللہ صلی علیہ و سلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان دونوں نے مختلف قرأتیں کی ہیں۔ جنہیں میں نہیں جانتا۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں سے سنا اور دونوں کو تحسین فرمائی۔ یہ دیکھ کر میرے دل میں تکذیب آنے لگی۔ حالانکہ میں جہالت کے دور سے نکل آیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے میری کیفیت دیکھی تو میرے سینے پر ضرب لگائی جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔ گویا میں نے جمال باری تعالیٰ کا مشاہدہ کیا۔‘‘
حضورﷺ کے صحابہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے شفا خانے سے وابستہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان کی اصلاح و تربیت فرماتے تھے۔
’’اللہ وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہیں میں سے ایک عظیم الشان رسول بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو تمام برائیوں سے پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب و حکمت کا علم سکھاتے ہیں۔‘‘ (پ۲۸۔ جمعہ۲)
بہت سے لوگ اس بارے میں متحیر ہیں۔ وہ قرآن پڑھتے ہیں اسلامی علوم پر عبور رکھتے ہیں اور شیطانی وسوسوں سے بچاؤ کی باتیں بھی کرتے ہیں اور ان تمام باتوں کے باوجود نماز میں وسوسوں سے بچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
۱۔ ’’مومنین میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا وعدہ جو اللہ سے کیا تھا، سچ کر دکھایا۔‘‘ (پ ۲۱۔احزاب۲۳)
۲۔ ’’اور اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم! آپ اپنے آپ کو ان لوگوں سے مانوس رکھیں جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں اور اس کے دیدار کے ارادتمند ہیں اور آپ کی نگاہ کرم ان پر سے نہ ہٹے۔ کیا آپ دنیاوی زندگی کی آرائش چاہیں گے(نہیں) اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانیئے جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے تابع ہو گیا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔‘‘ (پ۱۵۔کہف۲۸)
۳۔ ’’اور ان لوگوں کے راستے کی اتباع کرو جو میری طرف جھکے ہوئے ہیں۔‘(پ۲۱۔لقمٰن۱۵)
۴۔ ’’اور اس دن کافر اپنے ہاتھ افسوس سے چبائے گا اور کہے گا اے کاش میں نے کسی طرح رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی۔ ہائے میری خرابی! کاش میں نے فلاں کو (اللہ اور اس کے رسول کے دشمن کو) دوست نہ بنایا ہوتا۔ بے شک اس نے تومیرے پاس نصیحت آنے کے بعد مجھے بہکایا اور شیطان انسان کو بے یارومددگار چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ (پ۲۹۔فرقان۲۷تا۲۹)
۵۔ ’’(خبردارہو جاؤ) اس روز سوائے پرہیز گاروں کے تمام گہرے دوست آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔‘‘
(پ۲۵۔زحزف۶۷)
۶۔ ’’پھر اس عرش پر استوار فرمایا، رحمٰن کے بارے میں اس سے پوچھو جو اس کی خبر رکھتا ہے۔‘‘ (پ۲۹۔فرقان ۵۹)
۷۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے عزم صادق طویل اور پرمشقت سفر کے بعد خضر علیہ السلام سے ملاقات کی تو کہا۔’’میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہوں گا کہ جو کچھ علم آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیں۔‘‘ خضر علیہ السلام نے کہا۔ ’’آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔‘‘ (پ۱۵۔کہف۶۶۔۶۷)
۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ اچھے اور برے ساتھی کی مثال عطر فروش اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے۔ عطر فروش یا تو تمہیں عطر عطا کر دے گا یا تم اس سے عطر خرید لو گے یا پھر جتنی دیر تم اس کے پاس بیٹھے رہو گے تمہیں اس سے خوشبو پہنچتی رہے گی جب کہ بھٹی دھونکنے والا لوہار یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا پھر اس کے پاس سے تمہیں بدبو آتی رہے گی۔
۲۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! ہمارے لئے کون سا ہم نشین بہتر ہے ؟ فرمایا۔ وہ جس کو دیکھنے سے تمہیں اللہ کی یاد آئے، جس کے کلام سے تمہارے عمل میں اضافہ ہو اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔
۳۔ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ آدمی اپنے ساتھی کے دین پر ہوتا ہے پس خیال رکھو کہ تم کس کو اپنا دوست بنا رہے ہو۔
۴۔ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کے ایسے بندے بھی ہیں جو نہ نبی ہیں نہ شہید مگر بروز قیامت اللہ کے یہاں ان کے مرتبہ کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم!ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر نسبی رشتے اور بغیر مالی لین دین کے اللہ کی محبت کی بناء پر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم ان کے چہرے پرنور ہوں گے۔ جب لوگ خوف اور غم کا شکار ہوں گے اس وقت انہیں کوئی خوف و غم نہ ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی۔
’’اللہ کے دوستوں کی پہچان یہ ہے کہ انہیں دین اور دنیا کی زندگی میں خوف اور غم نہیں ہوتا۔‘‘
۵۔ حضرت ابوذرغفاریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! آدمی ایک قوم سے محبت کرتا ہے مگر ان جیسے عمل کی استطاعت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ اے ابوذر! تم ان کے ساتھ ہو گے جن سے تم محبت کرتے ہو۔
۶۔ حضرت حفظعہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی مجھ سے ملاقات ہوئی انہوں نے میرا حال دریافت کیا۔ میں نے کہا حفظعہؓ منافق ہو گیا۔ انہوں نے کہا۔۔۔۔۔۔! تم کیا کہتے ہو۔ میں نے کہا۔ جب ہم حضورﷺ کی مجلس میں ہوتے ہیں اور وہ ہم سے جنت و دوزخ کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ہمارا یہ عالم ہوتا ہے گویا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب ہم حضورﷺ کی بارگاہ سے واپس اپنے بیوی بچوں اور کھیتی باڑی میں آتے ہیں تو اس میں سے بیشتر باتیں بھول جاتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے یہ سن کر فرمایا، خدا کی قسم میرا بھی یہی حال ہے۔ ہم دونوں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم! حفظعہؓ منافق ہو گیا۔ آپﷺ نے فرمایا اس کا کیا مطلب ہے؟
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپﷺ جنت و دوزخ کا ذکر فرماتے ہیں تو ہماری کیفیت یہ ہوتی ہے گویا ہم اسے دیکھ رہے ہوں مگر جب آپﷺکی مجلس سے واپس لوٹتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں  اورکھیتی باڑی میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میرے پاس جوتمہاری کیفیت ہوتی ہے اگر تم اس پر ہمیشہ قائم رہتے تو فرشتے تم سے راستوں میں اور بستروں پر مصافحہ کرتے مگر اے حفظعہؓ! وقت کے ساتھ کیفیات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صحابہ کرام جب تک نبی مکرم کی صحبت میں رہتے تھے۔ ان کے لطائف نور نبوت سے رنگین رہتے تھے۔ غیب کی دنیا ان کے اوپر روشن ہے جن کے لطائف رنگین ہوں۔
راہ طریقت کے ارادتمند کو چاہئے کہ وہ ایسے مرشد سے منسلک ہو اور جسے نبی مکرم کی نسبت حاصل ہو۔
مرشد کریم روحانی طالب علم کو نفسانی اندھیروں سے نجات دے کر انوار الٰہیہ سے متعارف کرا دیتا ہے۔ خود کو اس کے سپرد کر دیں جب ایسا شیخ مل جائے تو روحانی طالب علم کو چاہئے کہ اوصاف حمیدہ سے مزین ہونے اور مقام احسان کے حصول کے لئے شیخ کی فرمانبرداری کرے۔
’’اے نبی! بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں اور ان کے ہاتھ پر اللہ کا دست قدرت ہے جس کسی نے عہد توڑا تو وہ اپنی خرابی کے لئے عہد توڑ لے گا اور جس نے عہد کو پورا کیا جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اس کو بڑا بدلہ عطا فرمائے گا۔‘‘ (پ۲۶۔فتح۔۱۰)
’’اور جب تم اللہ کے نام سے عہد کرو تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پورا کرنے کے بعد نہ توڑو حالانکہ تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کر چکے ہوں۔‘‘ (پ۱۴۔نحل۱۹)
’’اور عہد کو پورا کرو بے شک عہد کے بارے میں پرشس ہو گی۔‘‘ (پ۱۵۔بنی اسرائیل۳۴)
نبی کریمﷺنے مختلف موقعوں پر مختلف صورتوں میں بیعت لی ہے۔ آپﷺنے کبھی مردوں سے کبھی عورتوں سے کبھی فرد واحد سے کبھی پوری جماعت سے اور کبھی کم عمر لڑکوں سے بھی بیعت لی ہے۔
رسول اللہﷺ نے صحابہ سے فرمایا: ’’مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیکی کے کاموں میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ جس نے اس عہد کو وفا کیا، اللہ اسے اجر دے گا اور جس نے خلاف ورزی کی دنیا میں اسے سزا مل جائے تو یہ اس کے واسطے کفارہ ہو گا۔ اور اگر اللہ اس کے جرم کو پردہ میں رہنے دے تو وہ اللہ کے حوالے ہے ۔
’’چاہے اللہ اسے معاف کر دے اور چاہے اسے سزا دے۔‘‘ جماعت کو تلقین کے بارے میں ابو شداد بن اوسؓ اور عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے، آپﷺنے فرمایا۔ کیا تم میں کوئی اجنبی ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہﷺ۔ آپ نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا، ہاتھ بلند کرو اور کہو۔’’لا الہ الا اللہ‘‘۔ ہم نے ہاتھ بلند کئے اور کہا: لا الہ الا اللہ۔ آپﷺ نے فرمایا۔ الحمدللہ۔
اے اللہ اس کلمے کے ساتھ تو نے مجھے مبعوث کیا، اسی کا تو نے حکم دیا، اسی پر تو نے جنت کا وعدہ فرمایا اور بے شک تو اپنے وعدہ سے نہیں پھرتا۔ اس کے بعد فرمایا تم سب کو بشارت ہو کہ بے شک اللہ نے تمہیں بخش دیا۔
فرد کی تلقین کے بارے میں حضرت علیؓ سے روایت ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺمجھے اللہ تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ بتائیں جو عبادت میں آسان ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے افضل ہو۔ رسول اللہﷺنے فرمایا، ہمیشہ اللہ کا ذکر سری اور جہری طور پر کرتے رہو۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺاللہ کا ذکر تو سب کرتے ہیں، مجھے تو آپ کوئی خاص چیز بتائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا، افضل ترین ذکر جو میں نے اور مجھ سے قبل تمام انبیاء نے کیا ہے وہ لا الہ الا اللہ ہے۔ اگر زمین و آسمان ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور لا الہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری رہے گا اور جب تک لا الہ الا اللہ کہنے والا یک شخص بھی زمین پر موجود ہو گیا قیامت نہیں ہو گی۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا، میں یہ ذکر کس طرح کروںَ نبی کریمﷺنے فرمایا، آنکھیں بند کرو اور مجھ سے تین مرتبہ لا الہ الا اللہ سنو اور پھر تین مرتبہ مجھے سناؤ۔ پھر آپﷺ نے تین مرتبہ بلند آواز سے ذکر فرمایا۔
حضور جریر بن عبداللہ سے روایت ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ بیعت کے واسطے آپ جو پسند کریں مجھ پر کچھ شرائط عائد فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا، میں تمہیں اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، مسلمانوں کی خیر خواہی کرو اور شرک سے بچو۔
عورتوں سے بیعت لینے کے بارے میں آپﷺ کی خالہ حضرت سلمہؓ بنت قلیس فرماتی ہیں، ہم انصار کی عورتیں حضورﷺ کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئیں تو آپﷺ نے اس شرائط پر ہم سے بیعت لی کہ ہم شرک نہ کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، بہتان نہیں باندھیں گی، نیکی اور اطاعت میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی اور خاوند کے مال میں خیانت نہیں کریں گی۔
’’تم اپنے اندر کیوں نہیں جھانکتے میں تمہارے اندر ہوں۔‘‘ (القرآن)
نہ میں زمین میں سما سکتا ہوں نہ آسمان میں لیکن اپنے مومن بندہ کے دل میں سما سکتا ہوں۔(حدیث)
جب میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو میں اس سے محبت کرتا ہوں اور اس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اس قدر قریب ہو جاتا ہوں کہ میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں اور وہ مجھ سے دیکھتا ہے۔ میں اس کے کان بن جاتا ہوں اور وہ مجھ سے سنتا ہے میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں اور وہ مجھ سے پکڑتاہے اور اس کے قدم بن جاتا ہوں اور وہ مجھ سے چلتا ہے۔
وہ ہمارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اللہ انسان کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔ ’’اور ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔‘‘ کے مصداق ’’روح‘‘ عالم قدس کی چیز ہے۔ جو انسان کو اوپر کی طرف کھینچتی ہے اور جسم عالم ناسوت کی چیز ہے جو انسان کو نیچے کی طرف کھینچتا ہے۔ لیکن تزکیہ نفس ہو جانے کے بعد روح انسان کو آسانی کے ساتھ عالم قدس کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔
علم کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا انسان کو جو فضیلت حاصل ہے وہ صرف علم کی وجہ سے ہے۔ آدم علیہ السلام کو اللہ نے علم الاسماء سکھا کر مخلوق میں سب سے افضل بنا دیا۔ علم کے بغیر انسان جہالت کی تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ علم ایک ایسی دستاویز ہے جس میں انسانی شرف چھپا ہوا ہے۔ علم کے حصول میں استاد بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ظاہری علم ہو یا باطنی، مادی علم ہو یا روحانی ہر قسم کے علم سیکھنے کے لئے استاد کی بڑی اہمیت اور ضرورت ہے۔
ہمیں یہ بات جاننی چاہئے کہ انسان کو کیوں پیدا کیا گیا ہے۔ ہم مر کیوں جاتے ہیں؟ اگر ہم اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ جانوروں کی طرح کھائیں، پئیں اور مر جائیں تو پھر انسان کی فضیلت کیا ہے؟
اگر روزی کمانا، کھانا پینا اور مباشرت زندگی کا مقصد ہے تو پھر انسان اور جانوروں میں کیا فرق ہے؟ ظاہر ہے کہ صرف روزی کمانا ہی انسان کی زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ اس زندگی کے بعد بھی دوسری زندگی ہے۔
تیری منزل مقصود تیرا رب ہے۔ (القرآن)
سچی بات یہ ہے کہ اللہ تک رسائی اور اس کا قرب حاصل کرنا انسانی زندگی کا مقصد ہے۔
حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر میں لیعبدون کے معنی لیعر فون بتائے گئے ہیں۔ ابن عباسؓ جلیل القدر صحابی سے بہتر قرآن کے معنی کون مفسر سمجھ سکتا ہے۔ چنانچہ اس آیت کی رو سے بھی انسان کی زندگی کا مقصد اللہ سے قرب اور معرفت الٰہی ہے۔ مقام عبدیت اس وقت حاصل ہوتا ہے جب بندہ اللہ کو دیکھ لے اور پہچان لے۔
اولیاء کرام اور مشائخ اس پر یقین رکھتے ہیں ریاضت، مجاہدہ اور عبادت کے ذریعے انسان کے اندر غیب دیکھنے والے حواس متحرک ہو جاتے ہیں۔ انسان دیکھ لیتا ہے کہ اللہ رگ جان سے زیادہ قریب ہے۔
انسان جب اللہ سے واقف ہونا چاہئے اس کا قرب حاصل کرنا چاہئے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ روحانی استاد تلاش کرے۔
’’بیعت‘‘ کا مطلب ہے کہ انسان ایسے استاد کا انتخاب کرے جو اسے قدم قدم چلا کر، روحانی علوم سکھا دے، راہ سلوک کا مسافر یا روحانی طالب علم روحانی اسکول میں داخل ہو کر، مرشد کریم(روحانی استاد) کی توجہ اور محنت سے اپنے اندر کی دنیا سے واقف ہو جاتا ہے۔ اندر کی دنیا کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا رابطہ اپنی روح سے ہو جاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ازل میں روح اللہ کو دیکھ چکی ہے۔
’’اللہ‘‘ کی آواز سن کر اللہ کے رب العالمین ہونے کا اقرار کر چکی ہے چونکہ روح اللہ کو دیکھ چکی ہے، اللہ کی آواز سن چکی ہے اور اللہ کو اپنا رب تسلیم کر چکی ہے۔ اس لئے مرشد کریم کی تعلیمات، مدرکات اور نسبت وحدت سے جب مرید روح کو دیکھ لیتا ہے تو وہ روح کے دیکھنے کو دیکھ لیتا ہے۔ اور اللہ کا عارف بن جاتا ہے۔ اللہ کا عارف، اللہ کا دوست ہوتا ہے۔
’’اللہ کے دوستوں کو خوف اور غم نہیں ہوتا۔‘‘ ہر آن، ہر لمحہ اور ہر سانس میں ان کا رشتہ اللہ کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے۔


Mehboob Baghal Mein

خواجہ شمس الدین عظیمی



’’ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو نہایت احسن طریقہ پر پیدا فرمایا اور پھر اس کو بد سے بھی بدترین مقام پر پھینک دیا۔

زمین کو اللہ تعالیٰ نے بد سے بھی بدترین مقام کہا ہے۔ اس لئے آدم کو سخت اضطرب لاحق ہو اور وہاں آپ کو ایسی چیزوں سے واسطہ پڑا جن کو کہ اس سے قبل آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ یعنی بھوک پیاس وغیرہ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو آپ کے پاس بھیجا۔ جنہوں نے اس منزل اور ضرورت گاہ کے تمام عقیدے آپ پر کھول دیئے۔ یوں استاد شاگرد کا رشتہ ازل تا ابد قائم ہو گیا۔ غرض ہر صاحب علم کا کوئی نہ کوئی استاد اور کوئی نہ کوئی شاگرد ہو گا جس سے بندہ تربیت حاصل کر کے اللہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ علم کی بنیاد دراصل کسی چیز کی خبر یا کسی چیز کی شکل و صورت کو یا کسی چیز کے وصف کو جاننا ہے۔ علم کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی کے اندر جاننے اور کسی چیز سے واقف ہو جانے کا عمل پیدا ہو جائے۔