Topics
اس زمانے میں ریل گاڑیاں بھی پابندی وقت سے نہیں چلا کرتی تھیں۔ کیوں کہ
ہندوستان میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا اور اگر کوئی گاڑی صحیح و سالم پہنچ
بھی جاتی تھی تو اس کے انے اور جانے کا وقت مقرر نہیں تھا ۔ کراچی سے جو ہندو آتے
تھے ، رضا کار انہیں بھی ریل گاڑی کے انے تک چھوٹی لائن کی طرف بھیج دیتے تھے کیوں
کہ لُٹے پٹے جو مہاجرین آ رہے تھے وہ کسی حد تک مشتعل تھے اور اس طرح بڑی لائن کا
پلیٹ فارم سنسان رہتا تھا۔ یہ ۱۹۴۸-۴۹ کی بات ہے۔
میں اسٹیشن پہنچ کر یوں ہی مٹر گشت کرنے لگا۔
میں سوچ رہا تھا کہ سکھر یا روہڑی جانے والی کوئی گاڑی آجائے تو اس میں بیٹھ
جاؤں۔ میں ٹہلتا ہوا اس طرف نکل گیا جدھر بیت خلا بنے ہوئے تھے ۔ یہاں روشنی برائے
نام تھی۔ میں نے دیکھا کہ بیت خلا سے ذرا فاصلہ پر کوئی اپنے گھٹنوں میں سر دیئے
بیٹھا ہے ۔ میں دیکھنے کی خاطر آگے بڑھا تو دبی دبی سسکیاں سنائی دیں۔ میں اور آگے
بڑھا۔ یہ کوئی مصیبت زدہ عورت تھی جو تاریکی میں بیٹھی رو رہی تھی۔
میرے دل میں ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوا ۔ میں اور آگے بڑھا ۔ میری آہٹ پا کر
اس نے سر اٹھایا اور حیرت و خوشی سے چلا اٹھا ۔”شانو!“
لڑکی نے چند سیکنڈ میری طرف دیکھا ، پھر اپنے گلابی رخساروں سے آنسو پونچھتے
ہوئے بولی۔” میں شانو نہیں ۔ دھنو ہوں۔“
”تم ۔۔ تم ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو؟“ میں نے اس ہی حیرت سے پوچھا۔ مجھے یقین
تھا کہ یہ شانو ہی ہے۔
”اپنی قسمت کو رو رہی ہوں ۔“ وہ بے بسی سے بولی۔
”کیا ہوا ؟“ میں نے پوچھا ۔ میری نظروں کے سامنے دس گیارہ سال پہلے کا واقعہ
گھوم گیا جب اسی طرح غیر مناسب حالات میں شانو تک پہنچ گیا تھا اور میں نے اس سے
ویرانے میں رہنے کی وجہ پوچھی تو اس نے اپنی زندگی کی کہانی سنائی تھی۔ وہ خود مر
چکی تھی اور اس کی رُوح مجھ سے مخاطب تھی ۔ موت کے وقت شدید خواہش کی تکمیل نہ
ہونے کی وجہ سے اس کی رُوح بھٹک رہی تھی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ ممکن ہے اس وقت بھی
شانو کی رُوح نے کوئی ڈھونگ رچایا ہو۔
اس نے بتایا کہ وہ سکھر سے ماں باپ کے ہمراہ آئی تھی ان کا ارادہ تھا کہ میر
پور خاص کے راستے ہندوستان چلے جائیں گے۔ لیکن جب چوبیس گھنٹے تک چھوٹی لائن کی
گاڑی نہیں آئی تو ان سب نے کراچی کے راستے بمبئی جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ اس کے ماں
باپ کراچی جانے والی گاڑی میں سوار ہو گئے اور بہت زیادہ رش ہونے کی وجہ سے وہ
سوار نہ ہو سکی۔
یہ کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا۔ میں نے اسے ڈھارس بندھائی اور یقین دلایا کہ
میں اُسے بحفاظت کراچی پہنچا دوں گا۔
میری اس یقین دہانی پر اس لڑکی کی بھی ہمت بڑھی اور وہ میرے ساتھ چلنے کی
خاطر کھڑی ہوگئی اور جب ہم روشنی میں آئے تو میں نے دیکھا وہ بہت زیادہ شانو سے
ملتی تھی لیکن وہ شانو نہیں تھی۔
قارئین!
اب اس داستان کا عبرتناک حصہ شروع ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی اس داستان کے اختتام
کا آغاز بھی ہے۔۔ میں اس حصہ کو بہت ہی مختصر بیان کر رہا ہوں ۔
میں دھنو کو لے کر کراچی آگیا۔ دھنو نے بتایا کہ اس کے ایک بہت دور کے رشتہ
دار گرومندر کے آس پاس کہیں رہتے ہیں ۔ ہم انہیں تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچے لیکن
وہ لوگ بھی جا چکے تھے اور وہاں دروازہ پر تالا پڑا ہوا تھا۔ میں نے تالا توڑا اور
دھنو کے ہمراہ اس مکان میں رہائش اختیار کر لی۔
رہائش کی طرف سے مطمئن ہونے کے بعد میں نے اس کے ماں باپ کی تلاش شروع کر
دی۔ میں ہر روز ایک ہفتہ تک دھنو کے ہمراہ کیماڑی جاتا رہا۔ یہاں بھی ترکِ وطن کر
کے جانے والوں کا بے پناہ ہجوم تھا ۔ ہم دونوں نے گودی کا چپہ چپہ دیکھ ڈالا لیکن
اس کے ماں باپ کو نہ ملنا تھا ، نہ ملے۔ وہ کشتی اسٹیمر یا کسی اور چھوٹے موٹے
جہاز سے چلے گئے تھے۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے،
دھنو ہندو تھی ۔۔ وہ جن حالات میں مجھے ملی تھی ، ان کا تقاضا تھا کہ میں
اسی کے ساتھ رہوں ۔ میں نے ایک دو بار سوچا بھی کہ اپنی راہ لوں لیکن دھنو کی
معصوم جوانی نے میرے پاؤں پکڑ لیے ۔ میں جانتا تھا کہ افرا تفری کے اس دور میں
کوئی بھی اُسے غلط راہ پہ ڈال سکتا ہے۔
دھنو کے ساتھ رہ کر بہت ہی جلد فکرِ معاش نے مجھے ستانا شروع کر دیا ۔ میں
تو بس ایک خالی انسان تھا ۔ جس کے پاس نہ دولت تھی اور نہ ہی کوئی ہنر تھا ۔ صرف
تعلیم تھی۔ لیکن اس زمانے میں اس تعلیم سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا
جا سکتا تھا کیوں کہ اس وقت سرکاری دفاتر کی تعداد محدود تھی اور جو تھے وہ
مہاجروں کی آمد و رفت کی وجہ سے بند پڑے تھے۔
معاش کے مسئلے کو دھنو نے اپنا زیور بیچ کر حل کر دیا۔ گو کہ اس کا زیور بہت
زیادہ نہیں تھا وہ اتنا قیمتی تھا کہ اسے بیچ کر جو پیسے ملے تھے ، وہ اتنے زیادہ
تھے کہ ہم دونوں کئی برس تک نہایت ہی ٹھاٹ کی زندگی گزار سکتے تھے۔
میں نے دیکھا دھنو نے سب سے پہلے غذائی ضروریات کا بندو بست کیا اور پھر
آہستہ آہستہ گرہستی بنانا شروع کر دی۔ مجھے بھی گرہستی سے دل چسپی ہونے لگی۔ میں
بھی اس کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگا۔
میں نے اپنے لیے اور دھنو کے لیے نیا لباس بنوا لیا تھا پیسے زیادہ ہونے کی
وجہ سے غیر ضروری اشیاء بھی خرید لایا کرتا تھا۔اس زمانے میں جو لوگ جا رہے تھے ۔
وہ اپنی قیمتی اشیاء سستے داموں فروخت کر دیا کرتے تھے اور میں اکثر و بیشتر ایسی
چیزیں خرید لیا کرتا تھا۔
اس ہی طرح جب میں نے ایک بار کچھ سامان خریدے تو ان میں سے پتھر کی بنی ہوئی
ایک نہایت خوبصورت مورتی بھی نکل ائی۔ مورتی دیکھ کر دھنو خوشی سے کھل اٹھی۔ اس نے
اسے کپڑے سے صاف کیا ۔ دودھ سے نہلایا اور گلے میں پھولوں کا ہار ڈال کر کمرے کے
ایک طاق میں سجا دیا ۔
ایک رات مجھے دھنو کے کمرے سے گانے کی آواز سنائی دی۔ میں اپنے کمرے سے نکلا
اور اس طرف چل دیا۔ میں معلوم کرنا چاہتا تھا کہ یہ آواز کیسی ہے؟
اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ مورتی کے سامنے رقص کرتی ہوئی
بھجن گا رہی تھی ۔ کمرے میں برقی قمقمہ روشن تھا اور اس روشنی میں اس کا جسم سنگِ
مر مر کی طرح چمک رہا تھا۔
اسے میرے آنے کی خبر تک نہ ہوئی ۔ وہ مورتی کے سامنے والہانہ انداز میں رقص
کرتی رہی ۔ وہ نہ جانے کب سے اس ہی طرح رقص کر رہی تھی۔ اس کے بدن پر پسینے کے
قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ میرے دل میں پہلی بار ایک لہر سی اٹھی اور پورے
جسم میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی ۔ میں نے یہ رقص پہلی بار دیکھا تھا دل نے چاہا کہ
دھنو اس ہی طرح رقص کرتی رہے۔
صنفِ نازک کیا ہے؟ اس کے دم سے اس کائنات میں کتنی رونق ہے ؟ مجھے پہلی بار
احساس ہوا کہ میں ایک انمول نعمت سے محروم ہوں۔
جوانی کی حدود میں داخل ہوتے ہی میں روحانیت کے چکر میں پڑ کر میں مستانی کا
ہو رہا اور اس طرح میں نے اپنی زندگی کے انتہائی قیمتی دن ”تارک الدنیا “ ہو کر
گنوا دیئے۔
مجھ سے زیادہ کم عقل ، مجھ سے زیادہ بے وقوف کون ہوگا جس نے اس دنیا کا مزہ
چکھنے سے قبل ہی اُسے چھوڑ دیا یہ دنیا ۔۔۔ اور اس دنیا کی رنگینیاں پہلی بار
سامنے آئیں تو مجھے اپنے ماضی پر افسوس ہونے لگا مجھ سے زیادہ بد نصیب بھلا کون
ہوگا جو اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس کی لذتوں سے فیض یاب نہیں ہوا۔
یہ دنیا بہت حسین ہے ۔ اس دنیا کے خالق نے انسانی فطرت کے پیشِ نظر اس میں
کسی بھی چیز کی کمی نہیں رہنے دی۔ اور انسان کو اختیار دیا کہ وہ جس طرح چاہے اس
کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے۔
میں گزرے ہوئے دنوں پر پچھتا رہا تھا اور ساتھ ہی میرے دل و دماغ میں وہ
تمام جذبات بیدار ہوتے جا رہے تھے جو فطرت کے عین مطابق ہیں۔
دھنو نے کب اپنا رقص ختم کیا مجھے نہیں معلوم میں تو اس دیوی کو دیکھنے میں
محو تھا۔
رقص ختم کرنے کے بعد وہ مورتی کے سامنے سجدے میں گر گئی۔
”دھنو ۔۔۔! میں نے جذبات سے کپکپاتی آواز میں پکارا۔
دھنو نے سجدے سے سر اٹھایا۔ میری طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکرائی
اور پھر مجھے بھی آنکھ سے اشارہ کرتی ہوئی دوبارہ سجدے میں گر گئی۔
دھنو کی مسکراہٹ نے میرے دلو دماغ میں ایک ہلچل سی مچا دی تھی۔ اس نے آنکھ
کے اشارے سے مورتی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کو کہا تھا ۔ اور میں۔۔۔ میں اس کی
خوشنودی کی خاطر مورتی کے سامنے سجدے میں گر گیا۔