Topics

تلاش

 

اس واقعہ کے تین ماہ بعد ایک روز شام کے وقت میں نے مستانی کو شاہی بازار میں دیکھا۔ میں فوراً ہی اس کی طرف لپکا۔ یہ رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ اس وقت شاہی بازار میں بہت ہی کم رش ہوتا تھا۔ بیشتر دوکاندار اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے اور اس طرح خرید و فروخت کرنے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہو گئی تھی۔

مستانی مجھ سے دس پندرہ قدم آگے جا رہی تھی۔ میں نے آہستہ سے اُسے آواز دی۔ مستانی نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔ میں سمجھا کہ اس نے مجھے پہچان لیا ہے۔ اور شاید رک جائے گی۔ لیکن وہ تو ماحول سے بے خبر مارکیٹ کی طرف گامزن تھی۔

میرا خیال تھا کہ دس پانچ قدم تیز چلوں گا اور مستانی کو جا لوں گا۔ لیکن نہیں۔ میں جتنا تیز چلتا ، فاصلہ ویسے ہی قائم رہتا اور یہ فیصلہ ایسا تھا کہ اسے شاہی بازار جیسے سنگ اور پھر سے بازار میں آسانی سے طے کیا جا سکتا ہے لیکن نہ جانے کیا بات تھی میں جب بھی لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتا ہوا آگے بڑھتا مجھے مستانی ویسے ہی پہلے والے فاصلے پر جاتی ملتی۔

اس طرح ہم دونوں مارکیٹ تک آگئے ۔

اُس زمانے میں مارکیٹ کے پہلے چوراہے پر پان والوں کی دکانیں تھیں۔ مستانی ایک پان والے کی دکان پر جا کر رک گئی۔ پنواڑی نے فوراً ہی مستانی کی پسند کا پان بنا کر اُسے پیش کیا۔ اتنی دیر میں بھی وہاں پہنچ گیا۔

مستانی نے ایک نظر مجھے دیکھا اور مسکرا کر بولی ۔” پان کھائے گا!“

”نہیں ، پان میں کھلاؤں گا۔“ میں نے جواب دیا۔

دراصل اس طرح میں چاہتا تھا کہ اُسے منہ کر کے اپنے مطلب کی بات کروں۔

”پان کھلائے گا !“ مستانی نے مجھ سے قدر ے تعجب سے پوچھا اور پھر ایک زور دار قہقہ لگا کر پنواڑی سے بولی ۔” لو سنو ، یہ مجھے پان کھلائے گا!“

”بابو جی ، اسے پان کھلانا آسان نہیں ہے۔“ پنواڑی نے مجھے سمجھایا ” بہتر ہے اسی سے پان کھا لو۔“

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا پنواڑی سے بولی ۔” اسے پان دو بیٹا ۔“

پنواڑی نے ایک سادہ پان بنا کر میری طرف بڑھایا اور اس سے پہلے کہ میں پان لیتا مستانی نے اس کے ہاتھ سے اُچک لیا اور پھر میرے منہ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔” اپنے متوالے کو میں خود پان کھلاؤں گی۔“

مستانی کے اس جملے پر میں جھینپ سا گیا۔ پنواڑی بھی مسکرانے لگا۔ لیکن کیا کرتا بادل ِ نخواستہ پان اس ہی کے ہاتھ سے کھانا پڑا۔

پان۔۔ وہ پان جسے مستانی نے اپنے ہاتھ سے کھلایا تھا ۔ یقین جانیے اس جیسا پان پھر کبھی کھانے کو نہیں ملا۔ اس کی خوشبو اور لذت آج بھی کبھی کبھی زبان پر محسوس ہو جاتی ہے۔

پان کھانے کے بعد میرا منہ جیسے بند ہو گیا۔ میں کہتا ہوں دنیا کی لذیذ سے لذیذ کھانے کی چیز بھی اس پان کے ذائقے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

پان کھلانے کے بعد مستانی مارکیٹ کے چوراہے سے تھوڑا آگے بڑھی اور تانگہ اسٹینڈ کی دوسری جانب کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ گئی۔

میں اس کے پیچھے ہی تھا یہ وہ جگہ تھی جہاں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ صرف تانگوں کی لمبی سی قطار ہوتی تھی ۔ میں چلتا ہوا اس کے سامنے پہنچ گیا۔

”کیا بات ہے؟ اب میرا پیچھا چھوڑ نا۔“ مستانی نے مسکرا کر کہا۔

”مستانی !“ میں نے پیک نگلتے ہوئے کہا۔” اس دن تو کہاں غائب ہو گئی تھی۔“

”میں کہاں غائب ہوئی تھی۔“ مستانی نے لاپروائی سے جواب دیا ۔”میں تو تم سب کے سامنے ہی تھی لیکن اگر تم سب اندھے ہو گئے تو میں کیا کرتی۔“

”مستانی ! میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ یہ معلوم کرنا چا ہتا ہوں رانی پر کس کا آسیب تھا ؟“ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

”ہنو مان تھا وہ، زمیندار کے بیٹے نے بھیجا تھا ۔“ مستانی نے اسی طرح لاپروائی سے جواب دیا۔

”مستانی !۔۔۔ میں نے اسے مخاطب کیا اور پھر سوچنے لگا کہ اس سے اپنے دل کی بات کس طرح کروں ۔ کیا یہ حواس باختہ عورت واقعی کوئی ماورائی ہستی ہے؟

”جا ، اب مجھے تنگ نہ کر ۔“ مستانی نے مجھے خاموش دیکھ کر کہا۔

” نہیں ، مستانی نہیں۔ مجھے بتا یہ ہنو مان کون ہے ، اسے کس طرح بھیجا جا سکتا ہے؟کیا آسیب کا وجود ہے کیا جادو واقعی اثر رکھتا ہے ! میں نے ہمت کر کے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔

مستانی پاگلوں کی طرح خالی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی جیسے اُسے میری عقل پر شبہ ہو۔ پھر اس نے زور دار قہقہ لگایا اور ذرا فاصلے پر کھڑے ہوئے تانگہ والے کی طرف دیکھ کر بولی۔

”تو مجھے بے عزت کرنا چاہتا ہے، مجھے بے نقاب کرنا چاہتا ہے۔ مجھ سے شادی کرے گا؟“

مستانی کے ان جملوں سے میں گھبرا سا گیا۔ تانگہ والا بھی میری طرف مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا۔

ان دنوں حید رآباد کی آبادی اتنی زیادہ نہ تھی اور اوباش قسم کے نوجوان اکثر فقیر عورتوں سے غیر اخلاقی باتیں کیا کرتے تھے اس وقت میں نے مستانی کے پاس سے چلا جانا ہی بہتر سمجھا کیونکہ واقعی پاگلوں جیسی باتیں کر رہی تھی میرے دماغ میں نہ جانے کیوں یہ بات سما گئی تھی کہ مستانی کچھ نہ کچھ ضرور ہے اور وہی میرے دل کے اندر موجزن تجسس کو ختم کر سکتی ہے۔

گو کہ مستانی نے میرے سوالوں کو جواب نہایت ہی احمکانہ انداز میں دیا تھا لیکن میرا دل کہتا تھا کہ اس طرح اس نے مجھ سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مستانی کی بے تکی باتیں سننے کے بعد بھی اس کو کسی بھی صورت میں چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔

میں نے سوچا کہ رات کا کچھ حصہ گزر جائے اور جب ہر جانب سناٹا ہو جائے تو ایک بار پھر مستانی سے ،طلب کی بات کروں گا۔ یہی سوچ کر میں ایک ایسی جگہ آ کر کھڑا ہو گیا جہاں سے مجھے وہ صاف دکھائی دے رہی تھی۔

رات بھیگی جا رہی تھی۔ میں تانگوں کی آڑ میں کھڑا تھا۔ مستانی کافی فاصلے پر کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھی کاغذ کے ٹکڑوں سے ھیل رہی تھی۔ فلم کا آخری شو ختم ہو چکا تھا۔ قطار میں صرف دو چار ہی تانگے رہ گئے تھے۔ سڑک پر اُکا دُکا آدمی جا رہے تھے۔ کبھی کبھی کوئی گاڑی گزرتی تو اس اس کے پیچھے چند آوارہ کتے بھونکتے ہوئے دوڑنے لگتے۔

مارکیٹ کے ٹاور نے رات کے ڈیڑھ بجنے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی مستانی کوڑے کے ڈھیر سے اٹھ گئی۔ اب اس کا رُخ قبرستان کی طرف تھا جس کے ایک کنارے پر سرفراز شاہ بابا کا مزار واقع ہے۔

یہ صدیوں پرانا قبرستان تھا جو کہ ہیرا آباد کی پہاڑی کے نشیب سے شروع ہوتا تھا اور زیر ِ تعمیر بیراج کالونی پر جا کر ختم ہوتا تھا۔ دوسری جانب غریب آباد سے لے کر پولیس گراؤنڈ اور داون شاہ کے پڑتک پھیلا ہوا تھا۔ اس ہی قبرستان کے آخری سرے پر اللہ کے نیک بندے سید سر فراز شاہ بابا کا مزار واقع ہے۔جو کہ آج کل زیارت گاہ خاص و عام ہے یہ جگہ دن میں بھی ویران رہا کرتی تھی لیکن اب یہاں پٹھان کالونی اور سرفراز کالونی واقع ہیں اور قبروں کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

مستانی نہایت ہی نپے تلے قدموں سے اس قبرستان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہر طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا اور اس اندھیرے میں وہ ایک ہیولیٰ کی مانند نظر آرہی تھی۔ میں ماحول سے ذرا سا خوف زدہ ہوا۔ لیکن مستانی کے وجود نے میری ہمت بڑھائی گو کہ اُسے علم نہیں تھا کہ میں پیچھے پیچھے آرہا ہوں لیکن مجھے ڈھارس تھی کہ مستانی آگے جا رہی ہے۔

میرا ارادہ تھا کہ قبرستان میں داخل ہوتے ہی مستانی کو روک لوں گا اور جب تک وہ میرے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دے گی ، نہیں چھوڑوں گا۔

لیکن میں دیکھا کہ پہاڑی کی ڈھلان پر جہاں سے قبرستان میں جانے کے لیے پگڈنڈی سی بنی ہوئی ہے ایک کوٹھری بنی ہوئی ہے۔ مستانی اس کوٹھری میں داخل ہو گئی۔

دن میں اس قبرستان سے میرا بارہا گزر ہوا ہے کیوں کہ میرے چند دوست بیراج کالونی میں رہا کرتے تھے اور مارکیٹ سے بیراج کالونی تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ اسی قبرستان میں سے ہو کر گزرتا تھا۔ لیکن میں نے کبھی پہلے بھی اس قبرستان میں کوئی کوٹھری نہیں دیکھی تھی اور پھر یہ کوٹھڑی تو رات کی سیاہی میں صاف نظر آرہی تھی جیسے اس پر سفید رنگ کیا گیا ہو۔

مستانی کوٹھری کی دائیں جانب کو گھوم کر اندر گئی تھی سامنے کی جانب ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس کے پٹ بند تھے لیکن درزوں میں سے روشنی چھن چھن کر باہر آرہی تھی۔ میں نے یہ دیکھنے کی خاطر کہ اس کوٹھری کے اندر کون ہے ایک باریک سی درز سے آنکھ لگا دی۔ اندر اس قدر تیز روشنی تھی کہ میری آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ اور مجھے کچھ بھی نظر نہ آیا۔ میں نے ایک بار آنکھوں کو ہتھیلیوں سے مسلا اور دوبارہ جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اپنی پیٹھ پر کسی کے ہاتھ کا احساس ہوا۔ میں نے کھڑکی سے گردن ہٹا کر دیکھا۔ میرے پیچھے ایک نہایت ہی سفید ریش بزرگ ہاتھ میں تسبیح لیے کھڑے تھے۔ ان کے نورانی چہرے پر نظر پڑتے ہی میں کانپ اٹھا/ ابھی میں کچھ سوچنے بھی نہیں پایا تھا کہ انہوں نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے نہایت ہی ملائم لہجہ میں کہا ۔ ” بیٹا! اس طرح جھانکنا اچھی عادت نہیں۔ جب یہاں تک آ ہی گئے ہو اندر چلو۔“

اتنا کہہ کر بزرگ دروازہ کی جانب چل دیئے پھر میں ان کے پیچھے ہی کوٹھری میں داخل ہوگیا۔ کوٹھری کے اندر سفید دودھیا رنگ کی روشنی پھیلی ہوئی تھی یہ اس قدر تیز تھی کہ سوئی میں دھاگہ ڈالا جا سکتا تھا۔ میں نے دو بار آنکھوں کو جلد جلد جھپکایا اور چاروں طرف نظر ڈالی۔ مجھے اس روشنی کا منبع کہیں بھی نظر نہیں آیا۔

کوٹھری کے آخری سرے پر دیوار کے قریب ، زمین سے تقریباً ایک فٹ بلند تخت تھا جس پر نہایت دیدہ زیب قالین بچھا ہوا تھا اور اس تخت پر سفید بے داغ لباس میں ملبوس مستانی بیٹھی ہوئی تھی۔

مستانی کا حسن ، نہیں اُسے حُسن نہیں کہا جا سکتا۔ مستانی کے دائیں ہاتھ میں سرخ رنگ کے دانوں کی تسبیح تھی اور اس میں سے نہایت ہی ہلکی سرخ روشنی پھوٹ رہی تھی۔

کوٹھری گلاب کی خوشبو سے مہک رہی تھی۔