Topics
مستانی کی وصیت کے مطابق میں نے اس کوٹھری کو اپنا مسکن بنا لیا تھا ۔ اب
وظیفوں اور چِلوں کی خاطر میں دُور نہیں جاتا تھا ۔ مستانی کے بعد مجھ سے کوئی بات
کرنے والا نہیں تھ۔ اس کی موت کا مجھے بے افسوس ہوا تھا کیوں کہ میں ابھی منزل سے
دور ہی تھا کہ اس نے اچانک میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا لیکن اس کے آخری الفاظ نے بڑی
ڈھارس بندھا دی تھی ۔ میرا خیال تھا کہ اب تک مستانی نے جو کچھ مجھے بتایا ہے وہی
سب کچھ ہے اور اگر میں اس پر عمل کرتا رہوں گا تو ایک نہ ایک دن اپنی منزل ضرور پا
لوں گا۔
میں عبادت و ریاضت میں پھر سے مشغول ہو گیا ۔
میرے شب و روز اس ہی طرح گزر رہے تھے۔ ایک دن ، جب کہ میں عصر کی نماز سے
فارغ ہوا تو خیر النسا ء کو اپنی چوکھٹ پر کھڑے دیکھا ۔ خیر النساء وہی تھی جس کے
گھر کافی عرصہ پہلے مجھے مستانی عید میلاد النبی ﷺ کی محفل میں لے کر گئی تھی۔خیر
النساء کے چہرے پر زمانے کی گرد جمی ہوئی تھی ۔ لیکن میں نے اسے پہچاننے میں دیر
نہیں کی ۔ البتہ وہ مجھے نہیں پہچان سکی ۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میرا حلیہ
بگڑا ہوا تھا نہ بھی ہوتا جب بھی وہ مجھے پہچان نہیں سکتی تھی کیونکہ اس نے مجھے
مستانی کے ساتھ عورت کے رُوپ میں دیکھا تھا۔
مستانی کا یہ آستانہ صرف حیدرآباد شہر کے باہر واقع تھا بلکہ کوئی بھی اسے
نہیں جانتا تھا۔
خیر النساء کی اس غیر متوقع آمد نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا ۔ بہرحال ،
خیر النساء یہاں تک پہنچ گئی تھی ۔ میں نے یہاں آنے کا مقصد پوچھا تو خیر النساء
نے بتایا کہ اس کی بیٹی مہرالنساء کی شادی کو ایک طویل عرصہ بیت چکا ہے لیکن ابھی
تک اس کے اولاد نہیں ہوئی اور اب اس کا مستقبل خطرہ میں پڑ گیا ہے کیونکہ اولاد نہ
ہونے کے جُرم میں اس کے سسرال والے طلاق دینے کی سوچ رہے ہیں۔
خیر النساء ، بیٹی کی طرف سے سخت پریشان تھی ۔ اس کا جہاں تک بس چلا ، وہ
نامی گرامی پیروں اور گدی نشینوں کے پاس گئی لیکن کسی در سے اس کی مراد پوری نہیں
ہوئی۔
پھر ایک دن جب وہ ایک بزرگ کے مزار سے اپنی بیٹی کے لیے منت مان کر لوٹ رہی
تھی تو اس کی ملاقات مستانی سے ہو گئی تھی۔ عرصہ دراز کے بعد دونوں نے ایک دوسرے
کو پہچان لیا تھا اور جب خیر النساء نے اُسے اپنی بیٹی کا دکھڑا سنایا تو اس نے
بتایا کہ حیدرآباد میں جیکب تالاب کے کنارے ایک فقیر رہتا ہے وہ اس کے پاس چلی
جائے اور اس طرح خیر النساء مجھ تک پہنچ گئی۔
اس داستان کو پڑھنے والوں کو علم ہوگا کہ خیر النساء کی بیٹی مہر النساء کی
استانی ”مستانی “ تھی۔
میرے لئے سب سے زیادہ حیران کُن بات یہ تھی کہ مستانی جس طرح غائب ہوئی تھی
اور جس حالت میں اس نے جس طرح کی باتیں مجھ سے کی تھیں ان سے تو یہی ظاہر ہوتا تھا
کہ وہ مر چکی ہے اور اس کے وصال کو بھی ایک عرصہ گزر چکا تھا۔
لیکن خیر النساء کی اس بات نے میرا ٹھکانہ مستانی نے بتایا ہے ، مجھے یہ
سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ۔۔۔۔ کیا مستانی زندہ ہے اگر وہ زندہ ہے تو مجھے اس سے
ملنا چاہیئے لیکن پھر ۔۔۔ پھر میرے ذہن میں فوراً ہی دوسرا خیال آیا کہ اب وہ مجھ
سے نہیں مل سکے گی۔ اگر اُسے میرے ساتھ ہی رہنا ہوتا تو وہ مجھ سے جدا ہی کیوں
ہوتی۔
مستانی کا یہ رُخ میرے لیے باعثِ حیرت تھا لیکن میں نے اس کے خیال کو دماغ
سے جھٹک دیا اور ا”اللہ ھو“ کا نعرہ لگا کر مراقبہ کی واردات و کیفیات میں ڈوب
گیا۔
مراقبہ کے بعد معلوم ہوا کہ خیر النساء کی بیٹی پہر النسا ء پر سخت قسم کا
جادو کیا گیا ہے میں نے خیر النساء سے پوچھا ”تم اپنی بیٹی کو یہاں لا سکتی ہو؟“
”سائیں بابا! خیر النساء نے ہاتھ جوڑ کر کہا ۔”اپسے یہاں لانا مشکل ہے کیوں
کہ اس پر دورے پڑتے ہیں۔ پھر سسرال والے بھی کسی قسم کی مدد کرنے کو تیار نہیں ۔“
”اس کا مطلب ہے ۔“ میں نے سوچ کر کہا ۔”پھر مجھے ہی چلنا ہو گا۔“
”آپ۔۔۔آپ۔۔۔چلیں گے ؟“ وہ خوشی سے بولی کیونکہ مستانی نے اسے بتا دیا تھا کہ
یہ فقیر آستانہ چھوڑ کر کہیں نہیں جاتا ۔
”چلو!“ میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور کوٹھری سے باہر آگیا۔
میرا خیال تھا کہ میں صبح تک واپس لوٹ آؤں گا ۔ اس وقت مستانی کی وصیت میرے
ذہن میں نہیں تھی۔
میں ایک بار پھر شہر کی طرف جا رہا تھا ۔
خیر النساء نے مجھے اپنی بیٹی کے سسرال کے دروازے پر لا کھڑا کر دیا اور خود
اندر چلی گئی۔
اُسے کیا معلوم یہ میرا اپنا گھرتھا۔ یہ میرے خالو کا گھر تھا اور شاہد میرا
بھائی خیرالنساء کا داماد تھا۔ جس وقت مجھے اندر بلایا گیا تو گھر کے افراد رات کا
کھانا کھا کر فارغ ہوئے تھے میں صحن میں آیا تو شاہد مجھے دیکھ کر چونکا۔ وہ مجھے
پہچان گیا تھا کیوں کہ اس سے قبل بازار میں میری اس سے ایک بار ملاقات ہو چکی تھی
اور اس نے مجھے گھر چلنے کی دعوت دی تھی ۔ شاہد نے نہایت عقیدت و احترام سے میرے
لیے تخت پر چادر بچھائی اور بولا۔” سائیں بابا! بیٹھیئے۔“ میرے سامنے پلنگ پہ خالہ
اور خالو بیٹھے تھے وہ دونوں عمر کا طویل سفر طے کر چکے تھے اور اب ان کی خواہش یہ
تھی کہ مرنے سے پہلے شاہد کی اولاد کو دیکھ لیں ۔ شاہد کی بھی یہی خواہش تھی۔ اس
کی عمر بڑھتی جا رہی تھی اور وہ ابھی تک بڑھاپے کے سہارے سے خالی تھا۔
میری جانب ہر شخص پُر امید نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔ میں نے سوچا کہ ان سب
سے اپنا تعارف کرا دوں ۔ ان سب کو بتا دوں کہ میں تو تمہارا ہی ہوں۔ لیکن پھر سوچ
کر خاموش رہا۔ کہ اس سے کیا فائدہ؟ تیری دنیا تو ان سب سے الگ ہے ، تیرا ٹھکانہ تو
ویرانہ ہے ، تیرے لیے تو اپنے بھی بیگانے ہیں۔ تجھے تو واپس لوٹ کر جیکب تالاب
جانا ہے۔
میں نے زائد خیالات کو دماغ سے جھٹک دیا اور شاہد سے کہا ۔”تمہاری بیوی کہاں
ہے؟“
میری آواز سن کر خالہ اور خالو یکبارگی اس طرح چونکے جیسے یہ آواز ان کی
جانی پہچانی ہو۔ چمند لمحوں بعد مہر النساء میرے سامنے کھڑی تھی ۔ میں نے نظر بھر
کر دیکھا جادو اس کے جسم میں سرایت کر چکا تھا ۔ میں نے ”سبحان اللہ“ کا نعرہ
لگایا اور وہ ٹوٹی ہوئی پتنگ کی طرح زمین پر گر گئی۔
میں نے شاہد سے پوچھا ۔”تجھے اولاد کی تمنا ہے ؟“
شاہد نے ماں باپ اور ساس کو موجودگی میں شرم سے گردن جھکا لی ۔
”سائیں بابا ! اولاد کی تمنا کسے نہیں ہوتی ۔“ خالہ جان نے نہایت ہی دکھ
بھرے لہجے میں کہا۔” ہم کو شاید خدا نے اب تک زندہ ہی اس لیے رکھا ہے کہ پوتے
پوتیوں کو دیکھ لیں۔“
”اگر آپ کی دعا سے میری بیٹی کی گود بھر گئی تو منہ مانگا انعام دوں گی ۔“
مہرالنساء کی ماں نے خیر النساء نے کہا۔
”ہاں ، ہاں !“ خالہ جان نے چڑ کر کہا۔” اس کا بانجھ پن دور ہو گیا تو جو کہو
گے ، انعام ملے گا۔“
خالہ جان کے اس تمخر آمیز جملے سے چڑ کر میں بھی بولا ۔”مجھے انعام نہیں
چاہیئے ، خالہ جان ! خدا آپ کی خواہش پوری کردے گا۔“
میری یہ بات سنتے ہی خالہ اور خالو اور شاہد جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگے۔
مجھے فوراً ہی خیال آیا کہ میں نے بے خیالی میں خالہ جان کو براہ راست مخاطب کیا
تھا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا !۔۔۔ زبان سے نکلے
ہوئے الفاظ کبھی واپس نہیں اتے۔ اب خود کو چھپانا بے کار تھا ۔ لہذا میں نے شروع
سے لے کر آخر تک اپنی کہانی ان لوگوں کو سنا دی۔
میں نے مہر النساء پر کیے گئے جادو کو دو راتوں ہی میں کاٹ دیا۔ اس کام سے
فارغ ہونے کے بعد میں واپس اپنی کوٹھری میں جانا چاہتا تھا لیکن اپنوں کی محبت نے
میرے پاؤں میں زنجیریں ڈال دیں ۔ دراصل خالہ اور خالو چاہتے تھے کہ میں کم از کم
اس وقت تک تو ساتھ رہوں جب تک ان کی گود میں پوتا پوتی آجائے ۔ خدا جانے ان کی
محبت تھی یا وہ میرے دعویٰ کی تصدیق کرنا چاہتے تھے۔
مجھے اوپر والی منزل پر ایک کمرہ دے دیا گیا ۔ اس میں آسائش کی ہر چیز موجود
تھی ۔ میرے برابر والے کمرے میں مہرالنساء کی ماں خیر النساء رہتی تھی ۔ بیٹی کی
شادی کے بعد اس نے میر پور خاص چھوڑ دیا تھا اور وہ اب حیدر آباد میں اپنے داماد
کے پاس ہی رہائش اختیار کر چکی تھی ۔ اس دنیا میں بیٹی کے سوا اور کوئی اس کا تھا
بھی تو نہیں ۔ وہ نیک بخت ہر وقت میرا خیال رکھتی تھی۔ شاید اُسے اپنی بیٹی کے
مستقبل کی بہت زیادہ فکر تھی اور وہ اسی ہی وجہ سے نوکر کی طرح آگے پیچھے رہتی تھی
تاکہ میں زیادہ سے زیادہ اس کی بیٹی کے لئے دعا کرتا رہوں ۔ میں اس کی خدمت گزاری
سے متاثر تھا۔
رانی کو بھی میرا حال معلوم ہو چکا تھا ۔
اس کے سسرال والے بھی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اس سے سخت نالاں تھے اور
انہوں نے اُسے واپس میکہ بھیج دیا تھا ۔ رانی کا شوہر پڑھا لکھا تھا اُسے رانی سے
محبت تھی لیکن اولاد نہ ہو نے کا داغ ایسا تھا جس کی وجہ سے وہ ماں باپ کے سامنے
کچھ نہیں کہہ سکتا تھا وہ انہیں بتائے بغیر اپنی بیوی سے ملنے سسرال چلا آتا تھا۔
میں نے رانی کا بھی علاج کیا اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ نند بھاوج دونوں
کا پاؤں بھاری ہو گیا۔
دوسرے تیسرے مہینے ہی حمل کے واضح آثار ظاہر ہونے لگے ۔ پورا خاندان مجھے
آنکھوں پر بٹھانے لگا۔
اب رانی کے سسرال والے بھی آنے لگے اور جوں جوں دن قریب آتے جا رہے تھے میرے
تذکرے زیادہ سے زیادہ ہوتے جا رہے تھے اور یوں میری شہرت پھیلتی جا رہی تھی۔
بے اولاد خواتین کا میرے پاس جھمگٹا لگنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ میرے لیے عمدہ
کھانے پینے کی چیزیں لاتیں ۔ شروع میں تو میں نے ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دی
بلکہ میں نے انہیں سختی سے منع بھی کیا ۔ لیکن یہ اندھا اعتقاد بھی کیا خوب ، چیز
ہے ، میرے انکار کو وہ اپنے لیے مطلب بر آوری کی نوید سمجھتی تھیں۔
دنیا میں رہ کر اس کی لذتوں سے انکار کرنا، انسان کے بس کی بات نہیں ۔ میں
بھی کب تک انکار کر سکتا تھا۔ باجرہ کی روٹی کھانے والا کب تک حلوہ سے منہ موڑ
سکتا تھا۔
آج اس بات کو سوچتا ہوں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اللہ کو محبوب رکھنے
والوں کے دل میں اسی لیے دنیا کی محبت نہیں ہوتی۔ میں نے اس نعمتوں سے بھری ہوئی
پُرکشش دنیا میں پھر غلطی کی تھی یا نہیں اس کا اندازہ آپ کو میری اس داستان کے
ختم ہونے پر ہو جائے گا۔
رانی کے گھر والے اُسے آنکھوں پر بٹھا کر لے گئے ان کا کہنا تھا کہ بچہ کی
ولادت شوہر کے گھر میں ہونا چاہیئے ۔ میں نے بھی ان کے اس موقف کی ھمایت کی کیونکہ
میں بھی یہی چاہتا تھا کہ یہ خوشی اس کے اپنے ہی گھر پر ہو اور پھر ۔۔۔ پھر شاہد
بھی باپ بن گیا۔
ہر شخص خوش تھا۔ اس خوشی میں تمام برادری اور محلہ میں لڈو تقسیم کیے گئے ۔
رات گئے تک ہیجڑوں کی ٹولیاں گانا بجانا کرتی رہیں۔ اور یہ جسشن ایک دو دن نہیں ،
پورے سات دن تک منایا جاتا رہا اور میں بھی لطف اندوز ہوتا رہا۔
ایک رات ، جب کہ تمام لوگ جشن ختم ہونے کے بعد خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔
میں اپنے کمرے میں مسہری پر بیٹھا دل ہی دل میں ”سبحان اللہ ، سبحان اللہ کا ورد
کر رہا تھا کہ اچانک خوں ، خوں کی آواز سنائی دی یہ آواز فضا سے کھڑکی کے راستے سے
آرہی تھی ۔ میں نے لیٹے ہی لیٹے گردن اٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھا ۔ ایک کچی ہانڈی
فضا میں تیرتی ہوئی اسی گھر کی طرف آ رہی تھی۔
میں تیزی سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس آکر انگلی پر پھونک مار کر ہاندی کی طرف
اشارہ کیا ہانڈی فضا میں معلق ہوگئی اور اس کے اندر سے انے والی خوں خوں کی آواز
غوں غوں میں بدل گئی ۔ میں نے ایک وظیفہ پڑھا اور ہاندی کو واپس جانے کا اشارہ
کیا۔ ہانڈی نے اپنا رُخ بدلا اور جدھر سے آئی تھی اس طرف چلی گئی۔
میری نگاہیں ہانڈی کے تعاقب میں لگی ہوئی تھیں۔
ہانڈی اُڑتی ہوئی حیدرآباد شہر کے باہر سبز و شاداب کھیتوں پر سے ہوتی ہوئی
ایک کوٹ کے اندر پہنچ گئی ۔ میں نے فوراً ہی پہچان لیا ۔ میں اس حویلی میں پہلے
بھی آ چکا تھا یہ اصغر کی حویلی تھی۔
ہانڈی کو واپس فضا میں آتے دیکھ کر اصغر بدحواس ہو کر اندر بھاگا اور دوسرے
ہی لمحہ سکھ دیو باہر نکلا ۔ اس کے ہاتھ میں کھلا ہوا چاقو تھا اور دوسرے ہاتھ کی
چھنگلی سے خون بہہ رہا تھا ۔ ہانڈی کے قریب آتے ہی اُس نے اپنی چھنگلی کے خون کے
چھینٹے اس پر پھینکے۔ ہانڈی سے ایک شیطانی قہقہ بلند ہوا اور وہ اس کے قدموں میں
اُتر گئی۔
سکھ دیو نے ہانڈی کو اٹھایا اور حویلی کے اندر چلا گیا ۔ میرے چہرے پر
فاتحانہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ میں نے اپنی بصیرت کو سمیٹا اور واپس کھڑکی کو تکنے لگا۔
سکھ دیو ۔۔۔ میرے ذہن پر ایک بار پھر یہ شخص چھا گیا۔۔۔ مجھے پہلی بار خطرہ
کا احساس ہوا۔ اس نے یہ ہانڈی کیوں بھیجی تھی ، میں نے سوچا۔
اور پھر ساری بات میری سمجھ میں آگئی۔
اصغر اس گھرانے سے رانی کے ساتھ شادی نہ ہونے کا انتقام لے رہا تھا اور اس
سلسلہ میں سکھ دیو شروع ہی سے اس کا معاون و مددگار بنا ہوا تھا ۔ اصغر ہی کے کہنے
پر اس نے نہ صرف رانی بلکہ اس کی بھاوج کی بھی کوکھ باندھ دی تھی۔ اور جب اسے پتہ
چلا کہ ان دونوں کی گود بھر چکی ہے تو اس نے انتقاماً یہ ہانڈی بھیج دی ۔ اس کا
مقصد کسی کی جان لینے کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔ لیکن وہ کس کی جان لینا چاہتا تھا
۔۔شاہد کے بچے کی یا اس کے جادو کا توڑ کرنے والے کی؟
مجھے ایک بڑے خطرے کا احساس ہوا میں فوراً ہی مسہری سے اٹھا اور اپنی اور
تمام افرادِ خانہ کی حفاظت کا فیصلہ کیا۔ روحانیت کی تھوڑی سی بھی سوجھ بوجھ رکھنے
والے اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ کسی گھر کے اطراف میں پڑھی ہوئی کیلیں گاڑ دینت سے
وہ گھر حصار میں آجاتا ہے ۔ اس کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے یہ دیکھنے کی خاطر
کہ اب سکھ دیو کے ارادے کیا ہیں ، اپنی نگاہ کو وسیع کر دیا۔
میری باطنی نگاہ وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی تھی۔ میری نظریں تمام مادی
رکاوٹوں کو پار کرتی ہوئی حویلی کے اس کمرے میں پہنچ گئیں جہاں سکھ دیو اور اصغر
پریشان سے بیٹھے ہوئے تھے۔
”یہ۔۔۔یہ ہانڈی واپس کیسے آگئی مہراج؟ “ اصغر نے خوف زدہ ہو کر پوچھا۔
”یہی وچار تو مجھے بھی ہے ۔“ سکھ دیو نے جواب دیا۔ پھر کمرہ میں ٹہلتے ہوئے
بولا ۔” اس دھرتی پر ایسا شکتی دان کون ہے جو میرے منتر کا توڑ کر سکے ؟“
”یہ وقت سوچنے کا نہیں ، کچھ کرنے کا ہے مہاراج ۔“ اصغر نے اسی طرح خوف زدہ
لہجہ میں کہا۔
”وچار بنا کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔“ سکھ دیو نے بے چینی سے ٹہلتے ہوئے
کہا۔”جب تک مقابل کا پتہ نہ چل جائے ، کچھ نہیں کیا جا سکتا ، کچھ نہیں کیا جا
سکتا۔“
”میرا تو خیال ہے وہ جو کوئی بھی ہے ، اسی گھر میں رہتا ہے ۔“ اصغر نے ڈرتے
ڈرتے کہا۔
”ہاں ! تیرا وچار صحیح ہے۔“ سکھ دیو نے اس کے خیال کی تائید کی ۔ پھر فضا
میں نظریں گاڑتے ہوئے بولا ۔”لیکن ۔۔۔ وہ کون ہو سکتا ہے ؟“
”وہ جو کوئی بھی ہے ، اس نے آپ کے جادو کا توڑ کر کے میری محبوبہ کی گود
بھردی ہے۔“ اصغر بے بسی سے بولا۔
سکھ دیو نے اصغر کی اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ گردن جھکائے بے چینی
کی حالت میں ٹہل رہا تھا ۔ اُسے خاموش دیکھ کر اصغر کو مزید بولنے کا حوصلہ ہوا ۔
وہ نہایت ہی بے چارگی سے بولا۔” مہاراج! آپ کے ہوتے ہوئے میرا دشمن سکون سے رہ رہا
ہے۔“
یہ سُن کر سکھ دیو ایک دم رُک گیا ۔ پھر وہ مسکرا کر بولا۔” آج سے وہ تمہارا
ہی نہیں میرا بھی دشمن ہے اور میں اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کرتا ۔۔۔ کبھی نہیں
۔“
سکھ دیو کی بات سن کر اصغر کا حوصلہ بڑھا اور وہ بے تابی سے بولا ۔” تو پھر
کچھ کیجئے نا۔“
”جلد بازی اچھی نہیں ۔“ اس نے اصغر کو سمجھایا ۔” پہلے مجھے دشمن کے بارے
میں جان لینے دو کہ وہ کتنی شکتی کا مالک ہے ۔“
”مہراج! “ اصغر کھسیانہ ہو کر بولا۔” وہ آپ کے منتر کا بار بار توڑ کر رہا
ہے اور آپ ہیں کہ اس کی طاقت کا اندازہ لگانے کی سوچ رہے ہیں۔“
”اس کی اس ہی حرکت نے تو مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔“ اس نے خلا میں
دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ پھر اصغر کے جاندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے سمجھاتے ہوئے
بولا۔” تم نہیں جانتے جب دو پہلوان مقابلہ پر آتے ہیں تو جیت اس ہی کی ہوتی ہے جو
سوچ سمجھ کر داؤ لگاتا ہے ۔“ پھر وہ فضا میں دوبارہ دیکھتے ہوئے بولا۔” تم چنتا نہ
کرو ۔ میں اپنے سے ٹکرانے والے کو سکھ کی نیند نہیں سونے دوں گا ۔۔۔ نہیں سونے دوں
گا۔“
یہ کہہ کر اس نے دبا ہوا قہقہ لگایا۔ میں نے اس کی فضول باتیں سننے کے بجائے
واپس آنا ہی بہتر سمجھا۔
اس واقعہ کے کوئی ایک ماہ بعد ہی جب کہ رانی اپنے میکے آئی ہوئی تھی۔ صبح ہی
صبح اس کا بچہ پلنگ پر سے غائب ہو گیا ۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیسے
ہوا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ یہ سکھ دیو کی شرارت ہے۔
میں نے مراقبہ کے ذریعے معلوم کرنا چاہا کہ بچہ کہاں ہے لیکن صحیح طور سے
کچھ معلوم نہ ہو سکا۔