Topics

دیدہ بینا

 

میری ہیئت بالکل ہی بدل چکی تھی ۔ سر کے بال عورتوں کی مانند لمبے ہو چکے تھے ، داڑھی سینہ تک آ چکی تھی ۔ لباس نہایت ہی گندا اور بوسیدہ ہو چکا تھا، اب بھلا مجھے اس فانی جسم کی پروہ کیوں ہوتی ۔ میں تو زیادہ سے زیادہ مظاہر قدرت دیکھنے میں گزارہ کرتا تھا۔ اس کائنات کے ذرّے ذرّے میں نورِ الٰہی پنہاں ہے۔ پانی کے قطرے سے لے کر آتش فشاں تک اس کی حمد و ثنا میں مصروف ہیں۔

اس مشاہدہ سے مجھ پر بے خودی سی طاری رہتی تھی۔ محویت کی اس کیفیت میں بے اختیار میری زبان سے ذاتِ الٰہی کی تعریف میں کلمات نکلتے تھے۔ اب میں خود ایک مجذوب تھا جسے اپنا بھی ہوش نہیں تھا جو ہر وقت جذب و مستی کی حالت میں ”حق اللہ “ اور ” اللہ ھو“ کی صدا لگاتا رہتا تھا۔

میں خود اپنی دنیا میں گم تھا۔

ایک دن نہ جانے کس طرح میں اپنی دھن میں مگن شہر کی جانب نکل گیا۔

سڑکوں پر چلتے ہوئے انسان مجھے دھیلے نظر آتے تھے ، جنہیں میں آسانی سے پیروں تلے روند سکتا تھا۔ کچھ لوگوں نے میری طرف حقارت سے دیکھا بھی ، کچھ لوگ مجھ پر کترا کر نکل گئے کیونکہ میں ان کی نظروں میں پاگل تھا ۔ چند بچوں نے مجھے ستانے کی خاطر پتھر بھی پھینکے لیکن میں اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا۔ مجھے کہاں جاناتھا ، کیوں جا رہا تھا مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔ بس میں یوں ہی چلا جا رہا تھا کہ اچانک شاہد سے میرا سامنا ہو گیا۔

شاہد ایک دکان سے پان لے رہا تھا۔ اسے دیکھ کر میں رُک گیا جیسے زمین نے پاؤں پکڑ لیے ہوں ۔ خونی رشتہ کا پیار ابھر آیا۔ میں اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے پہچان لے گا لیکن اس حلیہ میں بھلا وہ مجھے کیا پہچان سکتا تھا۔

اس نے پان منہ میں رکھا اور جانے کو مڑ گیا۔ اس کی یہ بے رُخی دیکھ کر مجھے سخت افسوس ہوا۔ اس نے مجھے پہچاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔

میں نے اسے آواز دی۔

آواز سنتے ہی اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا۔ اور ٹھٹک کر رک گیا۔ میں خوشی میں تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ میرا خیال تھا کہ اس نے مجھے پہچان لیا ہے لیکن جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا ، وہ نہایت روکھے پن سے بولا ۔”بابا جی تم میرا نام جانتے ہو ۔ لیکن میں ایسے شعبدوں میں آنے والا نہیں۔“

میں شاہد کو بتانا چاہتا تھا کہ میں اس کا خالہ زاد بھائی ہوں ، لیکن اس نے ایک دم میری حیچیت کو چیلنج کر دیا۔ قصور اس کا بھی نہیں تھا۔ وہ مجھے پہچانا نہیں تھا۔ اس کی نظر میں ایک شعبدہ باز ہی ہو سکتا تھا۔ میرے دل میں تو آیا کہ شاہد کو اس گستاخی کا مزا چکھا دوں لیکن دوسرے ہی لمحہ میں نے خود پر قابو پالیا اور اپنی حیثیت کا رُعب جمانے کی خاطر بولا۔”بچہ! میں صرف تمہارا نہیں ، تمہارے ماں باپ اور بہن کا نام بھی جانتا ہوں۔“

”اگر جانتے ہو تو بتاؤ۔“ شاہد نے چڑ کر کہا۔

میں نے خالہ، خالو اور رانی کے نام بتا دیئے ۔ ساتھ ہی اسے یہ بھی بتا دیا کہ اس کا باپ کیا کام کرتا ہے۔

شاہد میرے اس انکشاف سے حیران رہ گیا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور خوشامد سے بولا ۔” بابا جی! اگر آپ کچھ ہیں تو میری بیوی کا علاج کر دیجئے نا۔“

”کیا ہوا تیری بیوی کو ؟“ میں نے ہنس کر پوچھا۔

ویسے مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس عرصہ میں شاہد کی شادی ہو چکی ہے اور میری ہنسی اس ہی خوشی میں نکلی تھی۔

”اُسے دَورے پڑتے ہیں بابا جی ۔“ شاہد اُداسی سے بولا۔” اولاد بھی نہیں ہوتی کہتے ہیں اس کی کوکھ باندھ دی ہے۔“

”اور تیری بہن کا کیا حال ہے ؟“ میں نے یوں ہی پوچھا

شاہد میرے اس سوال پر حیران رہ گیا۔ اس کے خیال میں مجھے اس کی بہن کا حال معلوم تھا۔

وہ نہایت رازداری سے بولا۔” بابا جی ! اب آپ سے کیا چھپانا، اس کی شادی کو پانچ سال ہو چکے ہیں ۔ اس کے بھی اولاد نہیں ہوئی۔“

مجھے جان کر اطمینان ہوا کہ رانی کی شادی ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے گردن جھکا کر اپنے سینے پر نظریں گاڑ دیں اور چند ہی لمحوں میں مجھے معلوم ہو گیا کہ ان دونوں پر کسی نے جادو کیا ہوا ہے۔

”ہونہہ ! دونوں ایک ہی عذاب میں مبتلا ہیں ۔“ میں بڑبڑایا۔

”چلو بابا جی ، گھر چلو“ شاہد نے میرا بازو پکڑ کر چلنے کو کہا۔

دل تو میرا بھی چاہ رہا تھا لیکن مجھے اس کی بیوی اور بہن پر سے جادو کا اثر ختم کرنا تھا جس کے لیے مجھے تنہائی درکار تھی۔ میں یہ کام اس کے گھر والوں کے سامنے نہیں کرنا چاہتا تھا، لہذا اپنا بازو چھڑاتے ہوئے بولا۔” نہیں بیٹا نہیں۔ ہم کسی کے گھر نہیں جاتے ۔ تم جاؤ ۔ ہم دعا کریں گے۔“

میں نے دیکھا شاہد کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ وہ مجھے غیر یقینی نظروں سے دیکھتے ہوئے چل دیا۔ اس کی نظروں میں کوئی یوں ہی سا ملنگ تھا۔

میں دو منٹوں میں واپس کوٹھری میں چلا گیا۔

میں نہایت ہی جلالی کیفیت میں مصلّے پر بیٹھا حق اللہ کی ضرب لگا رہا تھا ۔ مستانی کچھ پکانے میں مصروف تھی لیکن اس کی نگاہیں بدستور میرا جائزہ لے رہی تھیں۔

کچھ دیر بعد میں نے ضرب لگانا بند کر دیا اور غصہ کے عالم میں ایک وظیفہ پڑھنے لگا اس یہ خاصیت تھی کہ میں ذہن میں جس کا تصور کرتا وہ سامنے آجاتا اور اس وقت میرے ذہن میں اس شخص کا تصور تھا جس نے شاہد کی بیوی اور اس کی بہن کو اولاد سے محروم کر رکھا تھا ۔ میں نے اس شخص ہی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ابھی میں نے وظیفہ کے چند الفاظ ہی دہرائے ہوں گے کہ میرے سامنے دھواں سا پھیل گیا اور اس دھوئیں میں ایک پندت کی شبیہ ابھری۔ وہ ایک ٹانگ پر کھڑا مالا جپ رہا تھا ۔ ابھی اس کے خدو خال اچھی طرح نمایاں بھی نہ ہو پائے تھے کہ میں نے نفرت اور حقارت سے دیکھا اور اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا ۔ مستانی تیزی سے میری طرف آتے ہوئے بولی۔” نہیں ، خان ! ۔۔ نہیں ۔“

”اس نے میرے بھائی کو ستا رکھا ہے ۔“ میں نے نفرت سے اس شبیہ پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا جو درمیان میں وظیفہ چھوڑ دینے سے دھند لا گئی تھی۔

”میں جانتی ہوں ۔“ مستانی نے بالکل میرے قریب کھڑے ہو کر کہا۔

”یہ سمجھتا کیا ہے ۔“ میں نے غصہ سے دانت پیس کر کہا۔ اور اس کے ساتھ ہی دایاں ہاتھ فضا میں بلند کر دیا۔

”خبردار !“ مستانی تقریباً چلا اٹھی ۔ پھر اس نے نہایت پھرتی سے میرا اٹھا ہوا ہاتھ پکر لیا اور نہایت ہی نرم لہجہ میں بولی۔” خان ! در گزر کرنا بہادروں کی شان ہے۔“ اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔“

ان الفاظ کے ساتھ ہی میرے مزاج میں نرمی اگئی۔ مستانی کے ہاتھ میں میرا ہاتھ تھا اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے واقعی میں بہادر ہوں۔ جیسے واقعی میں کوئی گلطی کر رہا تھا۔

دھوئیں کا بادل ایک بار سمٹا اور اب وہاں کچھ بھی نہ تھا ۔ میں نے ایک جھر جھری سی لی اور مستانی کی طرف دیکھا۔

”کیا بات ہے خان! تم اتنے پریشان کیوں ہو گئے تھے ؟“ اس نے میرا ہاتھ چھوڑ کر پوچھا۔

میں نے مستانی کے چہرے پر وظیفے کی پھونک ماری اور بولا۔”آج میں شہر چلا گیا تھا۔“

”اور وہاں تمہاری ملاقات شاہد سے ہوگئی۔“ مستانی نے میری بات کاٹ کر کہا” اس نے اپنا دکھڑا سنایا اور تم آپے سے باہر ہوگئے۔“

”ہاں ، یہی بات تھی۔“ میں نے اس کی تائید کی۔

”میں اس ہی وجہ سے تمہیں شہر نہیں جانے دیتی ہوں۔“ مستانی نے پیار بھرے لہجے میں بولی۔” وہاں دکھ ہی دکھ ہے“

”لیکن ، ان دکھوں کو دور کرنا بھی تو ہمارا کام ہے۔“ میں نے جیسے پوچھا۔

”ابھی تمہیں یہ کام نہیں سونپا گیا ہے ۔“ مستانی نے مسکرا کر جواب دیا ” اور ۔۔۔“

”لیکن ، مجھ سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوتا۔“ میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔

”تمہیں ، یہ سب کچھ برداشت کرنا ہے خان ۔“ اس نے سمجھایا۔” تمہیں دنیا والوں کی مصیبتیں دیکھ کر دل پر جبر کرنا ہے ، اس وقت تک جب تک مشیت ِ ایزدی نہ حاصل ہو جائے۔“ پھر وہ ٹھنڈی سانس لے کر بولی۔” میں جانتی ہوں اس شہر میں ایک باطل قوتوں کا مالک بھی ہے۔“

”تو پھر ، کیوں نہ اس باطل کا سر کچل دیا جائے ، کیوں نہ اسے ختم کر دیا جائے۔ “ میں نے جھنجھلا کر کہا۔

”تم میں مارنے کی قوت ہے خان ؟“ اس نے ہنس کر پوچھا اور میں لاجواب ہو کر اس کا چہرہ تکنے لگا۔

اس نے نہایت پیار بھرے لہجے میں کہا ۔” مارنا اور جلانا ۔ یہ کام تو خدا کا ہے خان ۔ ہمارا کام تو صرف دکھوں کو دور کرنا ہے۔“

”میں بھی تو یہی چاہتا ہوں “ میں نے جواب دیا ۔

”تم کیا چاہتے ہو ، یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔“ اس نے میرے رویہ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔”لیکن یہ مت بھولو کہ ہم دکھوں کو بھی منشائے الٰہی کے بغیر دور نہیں کر سکتے۔“ پھر سمجھاتے ہوئے بولی۔” اور تم ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے ہو جہاں یہ زمہ داری سونپی جاتی ہے ۔“ مستانی نے صاف الفاظ میں مجھے میری حیچیت کا احساس دلا دیا تھا۔” ابھی تو تم اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے ہو۔“ اس نے اپنا سلسہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔” ابھی تمہاری حیثیت کشتی میں سوار اس طرح کی سی ہے جسے صرف چپو چلانا ہی آتا ہے ۔ جس کی کشتی کو تیز و تند موجیں جدھر چاہیں لے جا سکتی ہیں ، جو صرف ہواؤں کا محتاج ہوتا ہے۔ اور ہوائیں منزل سے دور بھی کر دیتی ہیں ۔؛ پھر اس نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔” تم اس وقت منجدھار میں ہو۔ روحانیت کا بے کراں سمندر تمہارے سامنے ہے ! تمہیں سمندر کو پار کرنا ہے ۔ تمہیں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہے ۔“

اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ جیسے اس نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ میں نے ایک گہری سانس لی جیسے خواب سے بیدار ہوا ہوں۔ غصہ کی حالت میں مجھ سے جو کچھ ہوا اس پر مجھے ندامت تھی۔

”میں نے مکئی کی روٹی پکائی ہے ۔ کھاؤ گےَ“ مستانی نے مسکرا کر پوچھا۔

میں نے خاموشی سے اقرار کے انداز میں گردن ہلا دی۔ وہ میرے پاس سے اٹھ کر کھانے پکانے والے کونے کی طرف چل دی۔