Topics
اس مرتبہ سکھ دیو جو حرکتیں کر رہا تھا وہ ناقابلِ برداشت تھیں۔ اس کا ہر
وار میرے خلاف کار گر ثابت ہو رہا تھا ۔ اس کی ان حرکتوں نے میرے ”روحانی بھرم“ کو
ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مجھے اپنی بزرگی کا مینارہ زمیں بوس ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔
سکھ دیو نے میری انا کو چیلنج کیا تھا۔ اس نے میرے روحانی وقار کا للکارا
تھا۔ اگر میں رانی اور اس کے بچے کو واپس نہیں لا سکا تو۔۔ تو ۔۔۔ اس کا مطلب ہے
کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔
میرے عقیدت مند مجھے کیا سمجھیں گے۔
نہیں ، نہیں ۔۔ میں بہت کچھ ہوں ۔ مستانی نے مجھے بہت کچھ عطا کی ہے ، بہت
کچھ سمجھایا ہے، بہت کچھ سکھایا ہے ۔ غرور سے میرا سر خود بخود بلند ہو گیا ۔ سکھ
ویو میرے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔
خیالات کی اس کشمکش کو جھٹک کر میں ایک عزم کے ساتھ اٹھا ۔ وضو کیا اور پھر
مصلّی پر بیٹھ کر ایک وظیفہ پڑھنے لگا۔
اس وظیفہ کی یہ خاصیت تھی کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ میری ظاہری اور باطنی دونوں
نگاہیں وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی تھیں۔ مستانی نے یہ وظیفہ مجھے خاص طور سے بتایا
تھا۔
وظیفہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ میں نے اپنی نگاہیں کمرے کی کھڑکی کے باہر
دوڑائیں۔ میری نگاہ وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی تھی اور پھر ایک جگہ جا کر رک
گئی۔
میری آنکھوں کے سامنے گہری دُھند چھا گئی ۔ یہ دھند کیسی تھی میری سمجھ میں
نہیں آرہا تھا میری نگاہیں اس دھند سے نہیں گزر پا رہی تھیں ۔ میں نے بہت کوشش کی
، بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔
ابھی میں اس بارے میں کچھ سوچنے بھی نہیں پایا تھا کہ میری بصیرت خود بخود
ہی سمتنے لگی جیسے کہ تھک گئی ہو ۔ مجھ پر غنودگی سی طاری ہونے لگی اور پھر ۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد میں ہتھیلیوں سے آنکھوں کو مسل رہا تھا ۔ میرے ساتھ پہلی بار ایسا
ہوا تھا۔
اس ناکامی سے میں جھنجھلا سا گیا میں نے اپنی رُوح کو جسم سے جدا کر کے سکھ
دیو کے پاس پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن پھر یہ سوچ کر کہ وہاں پہنچ کر رانی اور اس
کے بچے کو کس طرح واپس لاؤں گا ، یہ ارادہ ترک کر دیا اور ۔۔۔ اور آیت کریمہ کا
ورد کرنے لگا۔
مستانی کا کہنا تھا کہ ایتِ کریمہ کا وظیفہ اس ہی وقت پڑھا جائے جب ہر طرف
سے ناکامی ہو کیوں کہ اس وظیفہ کے تابع جو موکل ہے وہ نہایت ہی عبادت گزار اور
تقدس والا ہے ۔ اس کو بلانے کا مطلب اس کی عبادت میں خلل ڈالنا ہے ۔ جس کا نتیجہ
عامل کے اعمال میں لکھا جا سکتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ جب میں نے یہ وظیفہ پڑھا تھا اور پہلی بار موکل حاضر ہوا تھا
تو میں نے کوئی کام لیے بغیر اس کو واپس کر دیا تھا لیکن ، اب میں ایک مشکل میں آن
پھنسا تھا۔ میں نے تمام باتوں کو فراموش کر دیا تھا میں ہر طریقہ سے رانی اور اس
کے بچے کی بازیابی چاہتا تھا میں سکھ دیو کی برتری ختم کر دینا چاہتا تھا۔ یہ میری
انا کا سوال تھا ۔ میرے بھرم کا مسئلہ تھا۔
اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا کہ میں اس وظیفہ سے مدد حاصل
کروں۔
میں نے وظیفہ پڑھنا شروع کیا۔ اور چند منٹ بعد ہی میرے سامنے ، زمین پر
روشنی کی دھار پڑنا شروع ہوگئی اور پھر ۔۔۔ پھر نورانی شکل نے ظاہر ہو کر سلام
کیا۔
میں نے سلام کا جواب دینے کے ساتھ ہی کہا۔” اے مقدس بزرگ ! میں نے ایک کام
کی خاطر آپ کو تکلیف دی ہے ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ رانی اور اس کا شیر خوار بچہ
کہاں ہیں؟“
نورانی شکل نے میری بات سنتے ہی جواب دیا ۔” اے بندہ خدا! وہ سکھ دیو کے
قبضے میں ہیں۔“
”کیا آپ نہیں لا سکتے ہیں؟ “ اتنی جلد جواب دینے پر میں نے حیرت سے پوچھا۔
”اے بندہ خدا ! ایسا ہونا ناممکن ہے ۔“ نورانی شکل نے جواب دیا۔
”کیوں؟“ میںنے کسی قدر غصہ سے پوچھا
”اے بندہ خدا! شاید تجھے علم نہیں کہ سکھ دیو شیطان طاقتوں کا مالک ہے ۔“
نورانی شکل نے جواب دیا ۔ ”اور ہمیں شیطان سے دور رہنے کا حکم ہے۔“
”تم جانتے ہو کہ سکھ دیو شیطانی طاقتوں کا مالک ہے ۔“ میں نے اسی طرح تیز و
طرار لہجے میں کہا۔” اور وہ مخلوق خدا کو آزار پہنچانے میں مصروف رہتا ہے۔“
”مجھے صرف اس بات کا علم ہوتا ہے جو مشاہدے میں آتی ہے ۔“ نورانی شکل نے
جواب دیا ۔” سکھ دیو بھی بندہ خدا ہے لیکن اس وقت شیطانی قوتیں اس کے ساتھ ہیں۔“
”اے محترم ہستی! میں نے اُسے احترام سے مخاطب کیا ۔” تم اس وقت کوئی ایسی
ترکیب کرو کہ اس کی شیطانی قوتیں بے کار ہو جائیں ۔ تم پاک ہو ، تم سب کچھ کر سکتے
ہو ۔“
”اے بندہ خدا ! جس چیز سے چھو کر پاک شے بھی ناپاک ہو جاتی ہے۔“ نورانی شکل
نے مختصر جواب دیا۔
”ہونہہ ! تو تم اس وقت بے بس ہو ۔“ میں نے جھنجھلا کر کہا ۔” اس آیت کی جو
برکتیں تم سے منسوب ہیں کیا وہ۔۔۔؟“
اے بندہ خدا ! حق تعالیٰ اپنے نیک بندوں پر رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔“ نورانی
شکل نے جواب دیا۔” اور مجھے حکم الٰہی کے مطابق اس کا اختیار حاصل ہے ۔ لیکن میں
اس اختیار کو غلط استعمال نہیں کر سکتا۔ میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ اس وقت سکھ دیو
کے پاس شیطانی قوتیں موجود ہیں اور میں اس پر رحمت نہیں کر سکتا۔“
”تو پھر تم رانی اور اس کے بچے پر اپنی رحمتیں نازل کر دو۔“ میں نے سوچ کر
کہا۔
”اس وقت وہ بھی شیطانی قوتوں کے گھیراؤ میں ہیں ان تک پہنچنے کی خاطر تمہیں
میرے زیرِ دست موکلوں سے کام لینا ہوگا۔“ نورانی شکل نے بتایا۔
اس انکشاف سے میں چونک اٹھا ۔ مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ اس کے تبع اور بھی
موکل ہیں۔ میں نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے دریافت کیا۔” وہ کیا کر سکتے ہیں؟“
”وہ حکمِ الٰہی سے اپنے فعل کے مختار ِ کُل ہیں ۔“ نورانی شکل نے بتایا۔” وہ
جو چاہیں کر سکتے ہیں ۔ وہ خیر و شر کا مجموعہ ہیں ۔“
”کیا مطلب؟“ میں نے پوچھا۔
”اے بندہ خدا ! تم ان سے جو چاہو کام لے سکتے ہو۔“ نورانی شکل نے وضاحت کی
۔“ اہ اپنی فطرت میں گم ہیں ۔ انہیں نفع و نقصان پہنچانے کا پورا پورا اختیار حاصل
ہے ۔ ان کے فعل کی تمام ذمہ داری ان سے کام لینے والے پر عائد ہوتی ہے اور اس طرح
وہ معصوم ہیں۔“
”ٹھیک ہے ۔ کیا تم انہیں پیش کر سکتے ہو ؟“ میں نے نورانی شکل کے بتائے ہوئے
اشارات کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
اس وقت میرے ذہن پر صرف رانی اور اس کے بچے کو واپس لانے کا جنون سوار تھا
خیر و شر سب کچھ میرے دماغ سے نکل چکا تھا۔
”کیوں نہیں !“ نورانی شکل نے میرے پوچھنے پر جواب دیا اور اس کے ساتھ ہی یک
لخت روشنی ختم ہو گئی اور عین اس ہی جگہ سبز لباس میں ملبوس نہایت ہی چھوٹے قد کے
دو ماورائی انسان نمو دار ہوئے۔ دونوں نے مجھے سلام کیا ۔ میں نے سلام کا جواب
دیا۔ پھر دونوں ایک ساتھ بولے ۔”کیا حکم ہے؟“
میں نے پوچھا ”تم کون ہو؟“
دونوں ایک ساتھ بولے ۔”ہم دونوں خیر و شر ہیں۔“
میں نے دیکھا کہ دونوں ایک ساتھ بولتے ہیں جس سے آواز بلند ہو جاتی ہے ۔
لہذا میں نے پوچھا ۔” تم دونوں ایک ساتھ کیوں بولتے ہو؟“
”یہ ہماری فطرت ہے۔ ہم اپنی فطرت سے مجبور ہیں ۔“ دونوں نے ایک ساتھ جواب
دیا ۔
”لیکن اگر چاہو تو مناسب ہے کہ ایک بولے۔ میں نے مشورہ دیا۔
”ہم منشائے الٰہی کے تابع ہیں ۔ اپنی فطرت نہیں بدل سکتے ۔ لوگ خیر و شر کو
بہ آسانی پہچان لیں گے ۔ لہذا ذاتِ الٰہی نے جو فطرت بنائی ہے اس ہی پر قائم رہنے
پر مجبور ہیں ۔“ دونوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔
”سکھ دیو کو جانتے ہو ؟“ میں نے مقصد کی بات کی۔
”کیوں نہیں ، کیوں نہیں ؟“ دونوں نے ایک ساتھ مسکرا کر جواب دیا۔
” اس کے قبضے میں رانی اور بچہ ہیں ۔“ میں نے بتایا ۔”کیا تم انہیں واپس لا
سکتے ہو ؟“
”ہاں لا سکتے ہیں۔“ دونوں نے ایک ساتھ گردن ہلا کر کہا ۔”لیکن اس کے لیے
تمہیں بھی ہمارے ساتھ چلنا ہوگا تم جو چاہو گے ہم وہی کریں گے ۔“
ان کی یہ بات سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ۔ میں نے فورا ً ہی سکھ دیو کے پاس
پہنچ کر اُسے مزہ چکھانے کا فیصلہ کیا لہذا بے تابی سے بولا ” مجھے سکھ دیو کے پاس
پہنچا دو۔“
میری یہ بات سنتے ہی دونوں ایک میری دائیں جانب اور ایک بائیں جانب آکھڑے
ہوئے۔
میں زندگی میں پہلی بار اپنے خاکی جسم کے ساتھ پرواز کر رہا تھا ۔ مجھے
حیدرآباد شہر کی روشنیاں عجیب سی لگ رہی تھیں۔
سکھ دیو سے مقابلہ
جب میں حویلی کے ایک سجے سجائے کمرے میں داخل ہوا تو سکھ دیو ایک صوفہ پر
بیٹھا شراب پی رہا تھا۔ اس کے قریب ہی رانی کا شیر خوار بچہ سو رہا تھا ۔ سامنے
فرش پر بچھے ہوئے قالین پر رانی اپنا پورا پورا بچاؤ کر رہی تھی ۔ نورانی شکل کی
مجبوری میری سمجھ میں آگئی۔ اس کمرے میں اصغر کے اوپر سکھ دیو کا شیطان سوار تھا۔
یہی وجہ تھی کہ نورانی شکل نے رحمتیں نازل کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔
دونوں بونے میرا ہاتھ تھامے کھڑے تھے یہ منظر میری برداشت سے باہر تھا میں
نے ان سے ہاتھ چھڑا لیے ۔ ہاتھ چھوڑتے ہی میں نظر میں آگیا۔ سکھ دیو مجھے دیکھتے
ہی صوفہ سے اس طرح اچھل کر کھڑا ہو گیا جیسے بچھو نے ڈنک مار دیا ہو۔ اصغر بھی
رانی کو چھوڑ کر دم بخود ہو گیا ۔ رانی ”بھیا“ کہہ کر میرے قدموں سے لپٹ گئی۔
”سکھ دیو ۔۔۔ذلیل ، کمینے ۔۔۔! میں غصہ سے چلایا۔
”کون ہے تو؟ سکھ دیو نے آنکھیں مچکا کر پوچھا۔ وہ مجھے پہچاننے کی کوشش کر
رہا تھا ۔
”میں کون ہوں ، یہ تجھے ابھی معلوم ہو جائے گا ۔“ میں نے غصہ سے بے قابو ہو
کر کہا اور پھر اصغر کی طرف پلٹ کر کہا ۔” خبیث! تو اپنی سزا کے لیے تیار ہو جا۔“
”اصغر فوراً ہی سکھ دیو کے قدموں سے لپٹ کر بولا ”مہاراج ! کچھ کیجئے۔“
لیکن اس سے پہلے کہ سکھ دیو کچھ کرتا میں نے ” حق اللہ “ کا نعرہ لگا کر
انگلی کا اشارہ کیا اور اس کے ساتھ ہی اصغر نے ایک چیخ مار کر کہا ”مہاراج ! مجھے
کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ ہائے میں مر گیا۔“ وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا۔
”مورکھ ! تو کون ہے ؟“ سکھ دیو نے بڑے اطمینان سے پوچھا۔
”سکھ دیو ! میں مستانی کا غلام ہوں “ میں نے بڑے ہی پُر عزم لہجے میں کہا۔
”اور اب ۔۔۔“
”ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔“ سکھ دیو میری بات کاٹ کر اطمینان سے بولا۔” میں کئی
دنوں سے وچار میں تھا کہ میرے منتر کا توڑ کرنے والا کون ہو سکتا ہے ۔ اچھا ہوا آج
تم خود ہی اگئے۔“
”ہاں ، اور آج میں تمہیں تمہارے کرتوتوں کی سزا دینے آیا ہوں۔“ میں نے اسی
طرح غصے کے انداز میں کہا۔
”تم مجھے سزا دو گے ؟“ ا س نے ایک فلک شگاف قہقہ لگایا ۔
مجھے تعجب اس بات کا تھا کہ سکھ دیو کو میری کسی بھی حرکت پر کسی بھی بات پر
غصہ نہیں آیا بلکہ وہ دریا کی طرح پُر سکون تھا جب کہ میں غصہ میں سمندر کی مانند
بپھر رہا تھا۔
”سناؤ ، تمہارے پیر و مرشد کا کیا حال ہے؟“ اس نے مجھ سے اس طرح پوچھا جیسے
کچھ ہوا ہی نہیں۔
”او کمینے ! تو اپنی ناپاک زبان سے میرے پیر و مرشد کا نام نہ لے ۔“ میں غصہ
سے چلایا۔
”اوہ ! بڑا گھمنڈ ہے اپنے پیر و مرشد پر ۔“ اس نے حقارت آمیز مسکراہٹ سے
کہا۔
اس کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ اصغر بالکل ٹھیک ٹھاک کھڑا پلکیں جھپکا رہا
ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ سکھ دیو نے باتوں ہی باتوں میں میرے وار کا توڑ کر لیا
تھا۔
اصغر کو ٹھیک حالت میں دیکھ کر میں ایک بار پھر آپے سے باہر ہو گیا۔ میں نے
”حق اللہ “ کہہ کر ایک بار پھر انگلی اٹھائی لیکن میری انگلی فضا میں اٹھی کی اٹھی
رہ گئی۔ جیسے کسی نے پکڑ لی ہو۔ میں نے انگلی نیچے لانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام
رہا ۔ سکھ دیو کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی میں نے دونوں بونوں کی طرف
دیکھا۔ میرا اشارہ کرتے ہی دونوں نے فضا میں اس طرح ہاتھ چلائے جیسے کسی کو پکڑ
رہے ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی فضا میں ایک بھیانک چیخ سنائی دی اور میرا ہاتھ نیچے
آگیا۔ ہاتھ کے نیچے آتے ہی سکھ دیو کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی ۔ لیکن دوسرے
ہی لمحے وہ قہقہ لگا کر بولا۔” جس کی خاطر تو یہاں آیا ہے دیکھ وہ کیا کر رہی ہے
۔۔۔؟“
”او خبیث ! تو اوچھی حرکتوں پر اتر آیا ہے ۔“ میں دھاڑا اور ایک ایت پڑھ کر
اس کی طرف پھونکا۔ میرا خیال تھا کہ وہ اس وظیفہ سے جل کر بھسم ہو جائے گا لیکن وہ
اپنی جگہ پر اطمینان سے کھڑا رہا ۔ میں نے اپنی اس ناکامی پر بے بسی سے بونوں کی
طرف دیکھا ۔ وہ دونوں ایک ساتھ بولے۔”تمہارا کلام پاک ہے اور یہ بندہ ناپاک ہے،
ہمیں حکم دو۔“
میں نے کہا ۔”پہلے رانی کو ہوش میں لاؤ ۔“
”یہ تو نظر بندی کا کمال ہے ۔“ ان دونوں نے جواب دیا ۔”وہ دیکھو ، تمہاری
بہن تو وہ بیٹھی ہے ۔“
میں نے صوفہ کی طرف دیکھا ۔ رانی شرم و حیا کی پیکر بنی اپنے بچے کو سینہ سے
لگائے صوفہ پر بیٹھی تھی۔ رانی کو صحیح حالت میں دیکھ کر سکھ دیو طنزیہ مسکراہٹ سے
بولا۔” معلوم ہوتا ہے اس چھوکری نے تمہیں کچھ سکھا دیا ہے ۔ لیکن یاد رکھ مورکھ !
اس دھرتی پر دو شکتی دان نہیں رہ سکتے ۔“
اس کے ساتھ ہی اس نے نہایت پھرتی سے آگے بڑھ کر شراب کا گلاس اٹھایا اس پر
پھونک ماری اور شراب میری طرف اچھا ل دی۔
شراب کے قطروں نے ننھے ننھے بچھوؤں کی شکل اختیار کر لی۔ وہ لاکھوں کی تعداد
میں رینگتے ہوئے میری طرف بڑھ رہے تھے۔ میں نے بونوں کو اشارہ کیا ۔ انہوں نے ہاتھ
بڑھا کر انہیں اس طرح سمیٹا جس طرح جھاڑو سے کوڑا سمیٹا جاتا ہے۔
اپنے منتر کا یہ حشر دیکھ کر اس نے پریشانی سے کمرے میں چاروں جانب نظر
دوڑائی جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔ لیکن اُسے کچھ نظر نہ آیا۔ دونوں بونے پردہ غیب
میں تھے وہ اُسے نظر نہیں آئے ۔ بونے صرف
مجھے ہی نظر آرہے تھے۔
پھر وہ نہایت ہی ڈھٹائی سے بولا ” مورکھ ! تو نرکھ میں جانے کو تیار ہو جا۔“
اب میں اسے کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی حرکت کرتا
میں نے بونوں سے کہا ۔” اس بد بخت کو جہنم رسید کرو۔“
ابھی الفاظ میری زبان سے پوری طرح ادا بھی نہیں ہوئے تھے کہ سکھ دیو کے اطراف
میں آگ بھڑک اٹھی ۔ وہ آگ کے اس دائرے میں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اس کی زابن
تیزی سے کسی منتر کا جاپ کر رہی تھی اس نے آگ سے دوبارہ نکلنے کی کوشش بھی کی لیکن
ناکام رہا ،
پھر آگ کا دائرہ تنگ ہونے لگا ۔ سکھ دیو کے چہرے پر پریشانی چھا گئی ۔ جوں
جوں دائرہ تنگ ہوتا جا رہا تھا ، وہ سخت خوف زدہ اور پریشان ہوتا جا رہا تھا ۔ اور
میرے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔ پھر پھر میں نے دیکھا کہ سکھ دیو
زمین میں دھنسنا شروع ہو گیا ۔ اس کے ہونٹوں سے کلمہ تمجید نکل رہا تھا ۔ میں نے
سمجھا کہ وہ آخری وقت مین مسلمان ہو رہا ہے لہذا حقارت سے بولا۔” سکھ دیو “ تو خدا
کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔ تیرا ٹھکانہ جہنم ہے۔“
سکھ دیو نے گردن تک دھنسنے کے بعد نہایت ہی بے بی سے کہا ۔” مورکھ ! ہم پھر
ملیں گے ۔ میری بات یاد رکھنا اس دھرتی پر دو شکتی دان نہیں رہ سکتے۔“
آخری الفاظ کے ساتھ ہی وہ میری نظروں سے غائب ہو گیا اور آگ یک لخت بجھ گئی
۔ لیکن اس کے آخری الفاظ میرے دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگے۔۔۔کیا سکھ دیو بچ گیا،
کیا ۔۔۔ کیا ۔۔۔ وہ مجھے دوبارہ ملے گا؟
میں نے سولایہ نظروں سے بونوں کی طرف دیکھا ۔ وہ میری پریشانی دیکھ کر ایک
ساتھ بولے : ”ہم نے اسے جلانے کی پوری پوری کوشش کی لیکن آخری وقت پر اُس پاک کلام
نے بچا لیا ۔“
”لیکن ۔۔وہ تو کافر ہے ۔“ میں نے تعجب سے کہا۔
” دلوں کا حال تو ذاتِ الٰہی کو معلوم ہے ۔“ دونوں نے جواب دیا۔
تو کیا ۔۔۔سکھ دیو مسلمان ہے؟ ۔۔اچانک میرے ذہن میں یہ خیال آیا ۔ ابھی میں
کوئی فیصلہ نہیں کر پایا تھا کہ اپنے پاؤں پر کسی کے سر کا احساس ہوا ۔ میں نے
دیکھا اصغر میرے پاؤں پکڑ کر معافی مانگ رہا تھا ۔ میں نے غصہ سے اُسے ٹھوکر ماری
اور بونوں سے کہا کہ وہ مجھے ، رانی اور اس کے بچے کو واپس چھوڑ آئیں ، اصغر رو رو
کر مجھ سے معافی مانگتا رہا لیکن میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔
رانی اور اس کے بچے کی بازیابی سے یہ گھر ایک بار پھر خوشیوں کا گہوراہ بن
گیا۔ رانی نے میرےبارے میں جو کچھ بتایا اس نے لوگوں کو نہ صرف حیرت زدہ کر دیا
بلکہ میری بھی قد رو منزلت پہلے سے کہیں زیادہ برھ چکی تھی۔
گھر کے تمام لوگ عقیدت و احترام میں میرے اگے بچھے بچھے جاتے تھے ۔ نتیجہ یہ
ہوا کہ اب میں دنیاوی رکھ رکھاؤ میں ایسا الجھا کہ فقیرانہ وضع قطع کو بالکل ہی
بھول گیا۔ ویسے بھی میں نے یہاں آکر مصروفیات کے پیشِ نظر عبادت و ریاضت کی طرف
بہت ہی کم توجہ دی اور اس واقعہ کے بعد تو صبح کی روشنی پھیلنے سے لے کر آدھی رات
تک میرا کمرہ عقیدت مند عورتوں اور مردوں سے بھرا رہتا تھا۔ جب وہ سب چلے جاتے تو
میں اتنا تھک چکا ہوتا تھا کہ بستر پر لیٹتے ہی نیند کی آغوش میں چلا جاتا تھا۔
شاید چھ ماہ گزرے ہوں گے کہ ایک دن ایک حواس باختہ دوشیزہ کو میرے سامنے
لایا گیا۔ ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔ وہ اپنی ماں اور دو جوان بھائیوں کے
ساتھ آئی تھی ۔ ایسی حواس باختہ یا آسیب زدہ خواتین میرے پاس بہت ہی کم آتی تھیں۔
اور اگر آ بھی جاتیں تو ان میں سے بیشتر گھریلو تنازعات کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ
کا شکار ہوتی تھیں اور زیادہ تر ہسٹریا کی مریض ہوتی تھیں ۔ انہیں میں اپنی قوتِ
ارادی سے ٹھیک کر دیا کرتا تھا اور پانی وغیرہ پر پڑھ کر دے دیا کرتا تھا۔
لیکن اگر کوئی واقعی آسیب زدہ آجاتا تھا تو مجھے ایتِ کریمہ کے موکل سے مدد
لینا پڑتی تھی لیکن ایسا صرف ایک یا دو بار ہی ہوا تھا اور وہ بھی رانی اور اس کے
بچے کے اغوا ہونے کے بہت پہلے کے واقعات ہیں۔
اس دوشیزہ کے اندر داخل ہوتے ہی لوگوں نے سمٹ سمٹ کر جگہ دینا شروع کر دی۔
وہ دوشیزہ بری طرح جھوم رہی تھی ۔ میں نے دل ہی دل میں ایک ایت پڑھی اس ایت کے
پڑھنے سے بے قرار شخص کو قرار آجاتا تھا لیکن میں نے دیکھا کہ اس لڑکی پر کوئی اثر
نہیں ہوا ۔ دوشیزہ میرے سامنے دو زانو بیتھ کر جھومتی رہی۔
میں نے مراقبہ کے ذریعے معلوم کیا کہ اس پر واقعی اثر تھا وہ ایک نہایت ہی
شریر جن تھا۔ میں نے پڑھ کر اس کے چہرے پر پھونکیں ماریں ۔ کچھ دیر بعد جن بول
اٹھا۔
اس نے بتایا کہ اس لڑکی کے گھر میں چنبیلی کے درخت ہین۔ یہ جن روز صبح ہی
صبح ان کی خوشبو کی خاطر دو چار پھول توڑ لیا کرتا تھا ۔ کوئی مہینہ بھر قبل جب وہ
پھول توڑنے ایا تو اس نے اس لڑکی کو دیکھا ۔ لڑکی پھول توڑ رہی تھی ۔ بس نہ جانے
اسے اس کی کون سی ادا بھا گئی کہ وہ اس کا عاشق ہو گیا۔
میں نے اس جن سے چلے جانے کو کہا۔ لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہا ۔ میں نے
اُسے دھمکیاں دینا شروع کر دیں لیکن پھر بھی اس کو ئی اثر نہیں ہوا۔ اس کی سر کشی
دیکھ کر میرے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگ میری طرف دیکھنے لگے ۔ بالآخر میں نے ایتِ
کریمہ کا وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا میرا خیال تھا کہ وہ فوراً بھاگ جائے گا لیکن
دوشیزہ برابر جھومے جا رہی تھی ۔
وظیفہ پڑھتے ہوئے پانچ منٹ سے زیادہ ہو گئے لیکن نہ تو موکل ظاہر ہوا اور نہ
ہی لڑکی کے اوپر اثر ہوا ۔ میں پریشان تھا کہ وظیفہ کا اثر کیوں نہیں ہوا۔ میں نے
سوچا کہیں مجھ سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی۔ لیکن نہیں! میں ٹھیک پڑھ رہا تھا ۔
اس ناکامی پر مجھے جھنجھلاہٹ سی ہونے لگی اور اس جھنجھلاہٹ میں وظیفہ چھوڑ
کر حق اللہ کی ضرب لگانے لگا۔ اس ضرب لگانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن وقت طور سے چلا
گیا اور لڑکی کو قرار آگیا۔