Topics
مستانی کی ملاقات سے قبل ، میں جتنے بھی ولیوں ، مجذوبوں ، قلندروں اور
مستانوں سے ملا ہوں ، ان سب کے بارے میں میرا خیال ہے کہ میں ”دیوانوں“ سے ملا
ہوں۔ روحانیت کیا ہے ؟ ماورائی علوم کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ مجھے ان کے بارے میں
کوئی علم نہیں تھا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے اپنے بارے میں علم نہیں تھا۔ میں
کیا ہوں ، یہ کائنات کیا ہے ، انسان کیا ہے اور اس کائنات میں اس کی حیثیت کیا ہے
؟ یہ وہ موضوعات تھے جس سے میرے کان ناآشنا تھے۔
میں علم نفسیات کا ماہر نہیں ہوں لیکن رانی پراتر ہو جانے کے بعد میں نے اس
کے ازالہ کی خاطر جو کچھ پڑھا اس نے کسی حد تک مادہ پرست بنا دیا تھا۔ مذہب سے
میرا تعلق صرف روزہ اور نماز کی حد تک تھا ۔ اسلام کیا ہے اور کیا سکھاتا ہے۔ اس
سے میں بے خبر تھا۔ مجھے اللہ کے نیک بندے کہلوانے والوں میں سے کوئی بھی ایسا
نہیں ملا جو مجھے درس انسانیت دیتا ، جو مجھے مذہب کا سبق پڑھاتا ، جو مجھے اس
کائنات کی حقیقت بتاتا ، جو مجھے خود میری حیثیت سے باخبر کرتا۔
مستانی سے قبرستان میں ملاقات ہونے کے بعد میرے ذہن سے مادہ پرستی کی گرد
جھڑنا شروع ہو گئی۔ اس نیک ہستی نے جس طرح مادہ پرستی کے بتوں کو جھنجھوڑ ڈالا
تھا، وہ اسی کا وصف تھا۔
میراذہن اچھی طرح سے صاف نہیں تھا۔ دریا کے قریب آ کے بھی میں تشنہ لب رہ
گیا تھا۔ میں مستانی کی علمی بصیرت کا گرویدہ ہو چکا تھا اور علم کے اس دریا سے
پوری طرح فیض یاب ہونا چاہتا تھا۔ مستانی نے مجھے جیکب تالاب پر بلایا تھا۔ اور
میں کشاں کشاں حصول علم کی خاطر ، آدھی رات کو ، جیکب تالاب کی طرف چل دیا۔
میں نے جیسے ہی ہیرا آباد اور سینٹرل جیل کی حدود کو پار کیا ، ویرانی کا
احساس شدت سے ہوا مگر دل مضبوط کر کے معصوم شاہ کلہوڑہ کے مقبرے تک میں پہنچ ہی
گیا۔
مقبرہ کے پیچھے نشیب میں جیکب تالاب تھا جس کا پانی رت کی سیاہی میں جھلملا
رہا تھا۔ اس تالاب کے بیچ کنارے ایک جھونپڑی بنی ہوئی تھی جس کی دیواریں مٹی کی
تھیں جیکب تالاب کے چاروں جانب دور دور تک ببول کے درخت اور خود درو جنگلی جھاڑیاں
کثرت سے اُگی ہوئی تھیں ۔ مجھے ان جھاڑیوں میں سے گزر کر اس جھونپڑی تک پہنچنا تھا
جس کی ایک کھڑکی میں سے مدہم سی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔
مستانی نے مجھے جیکب تالاب پر بلایا تھا۔ اس نے کسی جگہ کی نشاندہی نہیں کی
تھی ۔ لیکن میرا دل کہتا تھا کہ وہ سامنے کوٹھری میری منزل ہے۔
میں نے اہستہ اہستہ پہاڑی سے قدم جما کر نیچے اترنا شروع کر دیا اور جیکب
میں نیچے پہنچا تو گزشتہ رات والے سفید ریش بزرگ کو چند قدم کے فاصلے پر کھڑا پایا
۔ میں ان کی جانب تیزی سے بڑھا۔ بزرگ نے قریب پہنچتے ہی کہا ۔” آؤ میاں، خاموشی سے
میرے ساتھ چلو۔“
اس کے بعد وہ مجھے لیے ہوئے اسی کچی کوٹھری میں داخل ہو گئے ۔ اس کوٹھری کے
اندر ایک جانب طاق میں ایک لالٹین رکھی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بانوں سے بنا ہوا پلنگ
پڑا تھا۔ ایک طرف کونے میں مٹی کا چولہا بھی تھا اور کھانا پکانے کے چند برتن لکڑی
کے ایک بوسیدہ سے صندوق پر رکھے ہوئے تھے۔ دوسرے کونے میں مستابی ایک چٹائی پر
بیٹھی تھی۔
اس وقت بھی اس کے جسم پر وہی ڈھیلا ڈھالا کرتا تھا۔ لیکن یہ کرتہ سفید اور
بے داغ تھا۔ ایک سبز رنگ کا بڑا سا رومال یا شاید وہ دوپٹہ تھا جسے مستانی نے سر
کے گرد اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ کنپٹیوں کے بال بھی نظر نہیں آتے تھے۔
اس کے سامنے رحل پر قرآن پاک کھلا ہوا تھا اور وہ تلاوت میں مشغول تھی۔ آج
مستانی مجھے نہایت ہی سادہ اور پُروقار انداز میں ملی تھی ۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ
بولی۔” میں جانتی تھی کہ تم آؤ گے۔“
”تم ہیہ کیسے کہہ سکتی ہو؟ تم کو میرے دل کا حال کیسے معلوم ہوا؟ “ میں نے
پھیکی مسکراہٹ سے پوچھا۔
”تمہارا ذہن جاگ چکا ہے۔ کائنات کی حقیقت جاننے کا خیال بیدار ہو چکا ہے اور
تجسس کا یہی جذبہ ہے جو تمہیں مجھ تک پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔“ مستانی نے جواب
دیا ۔ پھر ہاتھ کے اشارے سے مجھے قریب آکر بیٹھنے کو کہا۔
میں قریب پہنچا تو اس نے سمٹ کر چٹائی پر بیٹھنے کو جگہ دی ۔ میں اس کے
دائیں جانب سامنے بیٹھ گیا۔چٹائی نہ جانے کس چیز کی بنی ہوئی تھی وہ عام چٹئیوں سے
مختلف تھی ۔ نہایت ملائم ، موجودہ زمانہ کے فوم کے گدوں کی مانند“
چٹائی پر بیٹھنے کے بعد وہ مجھ سے دوبارہ مخاطب ہوئی۔” تمہیں جس منزل کی
تلاش ہے وہاں تک پہنچنے کی ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے لیکن منزل تک وہی لوگ پہنچتے
ہیں جن کو رہبر کامل مل جاتا ہے۔“
”اسی ہی لئے تو میں تمہارے پاس آیا ہوں۔“ میں نے جواب دیا۔
”اگر تمہیں مجھ پر اعتماد ہے تو ایک نہ ایک منزل پا لو گے لیکن یاد رکھو ۔“
وہ انگلی اٹھا کر بولی ۔” اس منزل تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے صراطِ
مستقیم ۔ اگر تم اس راستے سے بھٹک گئے تو عمر بھر ان پگڈنیوں پر سر گرداں رہو گے
جو بظاہر منزل کی طرف جاتی نظر آتی ہیں لیکن درحقیقت وہ اس راستے کے مسافر کو عمر
بھر اپنے گرد چکر لگواتی رہتی ہیں۔“
”تم درست کہہ رہی ہو ۔ اگر راہی منزل سے بھٹک جائے تو منزل نہیں پہنچ سکتا
یہ سچ ہے۔“ میں نے کہا۔
” تم نے میرے خیالات کی تائید لفظ ”سچ“ بول کر کی ہے س اور چ مل کر لفظ سچ
بناتے ہیں سچ یعنی حقیقت ۔“ مستانی بولی ” بس جان لو ۔ جب تمہارے منہ سے نکلے ہوئے
ان دو حروف میں اتنی طاقت ہے کہ وہ مل کر حقیقت کا مظہر بن جاتے ہیں تو پھر الفاظ
کا اگر ایسا ذخیرہ مل جائے جس کے ایک ایک حروف میں کائنات کی حقیقت پوشیدہ ہو تو
کیا انسان اس کائنات کے رازوں سے آگاہ نہ ہو جائے گا؟“
مستانی نے حروف اور الفاظ کی جو منطق پیش کی تھی اس نے مجھے شش و پنچ میں
ڈال دیا۔ میں نے سوچ کر جواب دیا۔” ضرور ۔ لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے ۔ تم نےحروف
اور الفاظ کی جو تعریف بیان کی ہے اس کے مطابق ایسی کتاب کا ملنا مشکل ہے۔“
”تم اسے ناممکن سمجھتے ہو جب کہ ہر بات ممکن ہے۔ تم ایسی کتاب کا ملنا مشکل
سمجھے ہو جب کہ ایسی کتاب موجود ہے۔“ مستانی نے مسکرا کر جواب دیا۔
”وہ کتاب کون سی ہے؟“ میں نے قدرے تعجب سے پوچھا۔
مستانی نے میری بات کا جواب دینے سے قبل کھلے ہوئے قرآن کے درمیان بوسہ دیا
اور پھر اُسے بند کر کے بولی۔” وہ کتاب قرآن ہے ۔ یہ وہ عظیم اور مقدس کتاب ہے جس
کے ایک ایک حرف ، ایک ایک لفظ میں کائنات کی حقیقت پوشیدہ ہے۔“
مستانی کے اس ینکشاف سے مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی کیوں کہ مجھے علم تھا کہ
تصوف کے رسیا ہر بات میں قرآن کو بیچ میں لاتے ہیں۔
میں نے نہایت مایوسی سے پوچھا ۔” تم کیا کہنا چاہتی ہو؟“
”میں تمہیں قرآن کی اہمیت اور حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں۔“ مستانی نے
جواب دیا اور پھر قدرے توقف کے بعد بولی۔” قرآن وہ عظیم کتاب ہے جو انسانوں کو نہ
صرف بھلائی اور راست بازی کا سبق دیتی ہے بلکہ قرآن ہمارے اوپر ان فارمولوں کو
ظاہر کرتا ہے جن پر کائنات قائم ہے اور جن فارمولوں کی بنا پر کائنات ہمارے لیے
مسخر کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ قرآن میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
”اگر تمہاری بات کو تسلیم کر لیا جائے تو مسلمانوں کو دنیا کی نہایت ہی ترقی
یافتہ قوم ہونا چاہیئے تھا۔“ میں نے سوالیہ انداز میں کہا۔
”بالکل ۔ بالکل “ مستانی تائیدی لہجے میں بولی ۔” آج سے سینکڑوں سال قبل جب
کہ مسلمان زندگی کی ہر سانس کے ساتھ قرآن سے استفادہ کرتے تھے ۔ وہ دنیا کی نہایت
ہی ترقی یافتہ قوم تھے ۔ آج کی ترقی یافتہ قومیں ان کے سامنے سر نگوں رہتی تھیں۔“
”لیکن آج یہی قوم دنیا کی پس ماندہ قوم ہے۔ اگر وہ ترقی یافتہ تھے تو اتنی
جلد پستی میں کیوں چلے گئے؟“ میں نے پوچھا۔
” جب تک اس قوم نے ”اللہ کی رسی“ کو مضبوطی سے تھامے رکھا دنیا پر حکمرانی
کی۔“ مستانی نے خلا میں دیکھتے ہوئے کہا۔”لیکن جب اس رسی کو چھوڑ دیا، اللہ سے بے
گانہ ہو گئے۔ دنیاوی جاہ و جلال کے چکر میں پڑ گئے تو ایسی صورت میں سوائے پستی کے
اور کیا حاصل ہو سکتا ہے۔“
”تمہارا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان قرآن سے رہنمائی حاصل کرتے رہتے تو کبھی
بھی پس ماندہ نہ ہوتے۔“ میں نے کہا۔
”یقیناً “ مستانی عزم سے بولی ۔” کیوں کہ قرآن کائنات پر ہماری حاکمیت اور
سرداری تسلیم کرتا ہے لیکن ہم قرآن کو محض برکت کی کتاب سمجھ کر طاقوں میں سجائے
رکھتے ہیں۔ اور جب کوئی مسیبت پڑتی ہے تو اس کی تلاوت کر کے نجات کی دعائیں مانگتے
ہیں۔“
”اس کے علاوہ اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے؟ میں نے پوچھا۔
” اگر قرآن میں تفکر ہمارا شعار بن جائے تو ساری کائنات پر ہماری سرداری
مسلم ہے۔“ وہ تمکنت سے بولی۔
”تمہاری اس بات کو محض مذہبی جوش و جذبہ ہی کا نام دیا جا سکتا ہے ، ورنہ
۔۔۔ وہ صرف اور صرف ایک دینی کتاب ہے جس میں احکام خداوندی موجود ہیں پچھلی قوموں
کے عروج و زوال کا ذکر ہے اور چند پیغمبروں کے تذکرے درج ہیں ۔“ میں نے جواب دیا۔
” تم نے یہی پڑھا ہے۔ جو پڑھا ہے ، جو سمجھا ہے کہہ دیا ہے۔“ مستانی قدرے
تحمل سے بولی ۔”قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے میں بڑا فرق ہے ۔ لیکن تم نے جو پڑھا ہے
، اسی ہی پر غور کر لو تو ساری بات سمجھ میں آجائے گی۔“
”وہ کیسے !“ میں نے پوچھا۔
”تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ قرآن پاک میں احکامِ خداوندی موجود ہیں!۔“
میں نے اس کے اس سوال کے جواب میں اقرار کے انداز سے گردن ہلائی۔
”اچھا ۔۔اب ذرا غور کرو۔“ مستانی ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی ۔” احکام ِ
خداوندی انسانوں کی بھلائی کے لیے ہیں اور جب ایسا ہے تو اس کے کسی بھی حرف میں
کسی بھی لفظ میں کبھی کوئی تغیر نہیں آسکتا کیوں کہ حق تعالیٰ اپنے قوانین کو
بدلتا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن ِ پاک اپنے معنوں کے ساتھ ساتھ اپن الفاظ اور
کلمات میں بھی معجزہ ہے۔“
مستانی کے جواب نے مجھے لاجواب سا کر دیا۔ میں صرف اس کے چہرے کو تکے جا رہا
تھا۔
وہ ٹھہر کر دوبارہ بولی ۔” اب تمہیں یقین کر لینا چاہیئے کہ قرآن پاک ہر
شعبہ زندگی میں رہنمائی کر سکتا ہے۔ اور یہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ جہاں تک قوموں کے
عروج و زوال کا تعلق ہے تو یہ بھی اشارہ ہے ان مادہ پرستوں کی طرف جنہوں نے ترقی
کی انتہائی بلندیوں کو چھونے کے بعد وحدانیت سے انکار کیا تھا۔ وہ جو سمجھتے تھے
کہ خدا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم ہواؤں کو روک لیں گے سیلاب آئے گا تو پہاڑوں پر چڑھ
جائیں گے۔ نیست و نابود کر دیئے گئے۔ جہاں تک پیغمبروں کے واقعات کا تعلق ہے ، تو
وہ بھی روشنی کے مینار ہیں بشرطیکہ ان سے روشنی حاصل کرنے والا ذہن موجود ہو۔ حضرت
یوسف ؑ کے وصے میں زراعت کا ڈنگ پوشیدہ ہے حضرت موسیٰ کے قصے میں آگ اور پہاڑ کی
خوبیاں پوشیدہ ہیں حضرت ابراہیم ؑ کے قصے میں امورِ سلطنت کے آداب بتائے گئے ہیں
حضرت سلیمان ؑ کے قصے میں سائنسی راز مخفی ہیں۔
مستانی کی اس گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ قرآن کو مشعل ِ راہ سمجھتی
ہے۔ اس حقیقت سے مجھے بھی انکار نہیں تھا۔ قرآن انسان کو ضابطۂ اخلاق سکھاتا ہے
لیکن جہاں تک دنیاوی مسائل اور مادی ترقی کا سوال تھا ، قرآن اس بارے میں کیا
رہنمائی کر سکتا ہے یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی۔
بحیثیت مسلمان میں نے قرآن کو روایتی انداز میں پڑھا تھا اور جو کچھ سمجھا تھا
اسی کے مطابق مستانی سے بحث کر رہا تھا ۔ مستانی مجھے قرآن کی فضیلت سے آگاہ کرنا
چاہتی تھی اور میری سمجھ میں اس کی باتیں نہیں آرہی تھیں۔
مستانی لمحہ بھر کو پانی پینے کے لیے رُکی تو میرے دماغ میں کئی سوال ابھرنے
لگے اور بالآخر میں نے اس سے پوچھا ۔” قرآن روای ترقی میں ہماری کیا راہنمائی کر
سکتا ہے؟“
”جن پیغمبروں کا میں نے نام لیا ہے ، ان کے تذکروں میں مادی ترقی ہی کے راز
پوشیدہ ہیں۔“ مستانی نے جواب دیا ۔” زندگی کی اصل مادہ ہے۔ سب سے اچھا وہ ہے جو
اپنے فکر و عمل سے انسانوں کی مادی خوش حالی میں اضافہ کرے لیکن اس کا مطلب یہ
نہیں کہ لوگ مادی زندگی تو اپنا لیں اور روحانی حقیقت سے انکار کر دیں ۔ قرآن میں
ان ہی لوگوں کے واقعات بیان کرنے کے بعد حق تعالیٰ فرماتا ہے۔
کیا انہوں نے زمین پر سیر نہیں کی اور ہم نے بہت سی قوموں کو ہلاک کر دیا جو
اپنی عقل اور وسائل کی فروانی پر اتراتے تھے۔
” اس کا مطلب ہے کہ خدا عقل کا دشمن ہے ۔ جب انسان اپنی عقل کے سہارے ترقی
کرتا ہے تو پھر ہلاکت کیا معنی رکھتی ہے ۔“ میں نے ہلکا سا طنز کیا۔
”تم بات سمجھتے نہیں ۔“ مستانی زیر ِ لب مسکرا کر بولی ۔” عقل انسان کو ترقی
کی منازل پر پہنچا کر وحدانیت سے غافل کر دیتی ہے ۔ عقل انسان کو سیدھی راہ بھی
دکھاتی ہے اور الٹی بھی۔ جب سے انسان نے اس حسین کائنات میں قدم رکھا ہے عقل اس کی
دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ اگر انسان نے عقل سے خدا کو پہچان ہے تو اس ہی کے بل
بوتے پر خدا کے وجود سے انکار بھی کیا ہے ۔“ پھر وہ تسبیح کے دانوں پر انگلیاں
پھیرتے بولی ۔” انسان ازل سے مادہ کی ہیت جاننے کی کوشش میں مصروف ہے اور اس طرح
وہ مادہ پرست بن گیا ہے ۔ پچھلی تہذیبوں کی تاریخ میں ان ہی لوگوں کے لیے درسِ
عبرت ہے پیشتر تاریخ نے بار بار مشاہدہ کیا ہے کہ مادی ترقی حاصل کر کے وحدانیت کو
جھٹلانے والی قومیں کو نقشِ پا کی طرح مٹا دیا گیا ہے۔ قرآن میں ان ہی لوگوں کے
واقعات بیان کرنے کے بعد حق تعالیٰ نے آنے والی نسلوں کے لیے جو کچھ فرمایا ہے وہ
میں تم کو ابھی ابھی بتا چکی ہوں ۔“
”اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پہلے وحدانیت پر ایمان لانا چاہیئے۔“ میں نے
پوچھا۔
مستانی نے کہا۔” اس انسان پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے جو ایک جانب تو عقل
کے بل پر مادہ کی ہیت پر غور کرتا ہے اور دوسری طرف یہ نہیں سوچتا کہ اس کا موجد
کون ہے۔ اس کا خالق ، اس کا موجد جو بھی ہے وہی اللہ ہے۔“
میں نے جواب دیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ مستانی نے مجھے انتہائی مادہ پرست
سمجھ لیا ہے۔” اللہ پر تمہارا اس قدر اعتقاد ہے!۔“
مستانی نے مجھے سوالیہ انداز سے دیکھا ۔ پھر ایک دل آویز تبسم سے بولی ۔” حق
تعالیٰ نے انسان کو اس زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے اور یہ کائنات اس کی بھلائی
کی خاطر بنائی ہے اور خلیفہ ہونے ہی کی وجہ سے حق تعالیٰ نے انسان کو نیک اور صالح
بنایا ہے۔ پھر اُسے عقل دی۔ ہاں ، انسان کی فطرت میں برائی نہیں ہے۔ وہ عقل کی وجہ
سے تمام حیوانات سے ممتاز ہے کیوں کہ فطری میلان کو پورا کرنے میں عقل اس کی معاون
و مدد گار ثابت ہوتی ہے۔“
میں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا ۔” تو پھر یہ برائی کہاں سے آتی ہے؟“
مستانی نے اس ہی طرح زیر ِ تبسم مجھ سے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔” انسان
اپنے عمل سے خیر یا شر کماتا ہے اور عمل اس کی عقل کے تابع ہوتا ہے۔ اور یہ عقل ہی
اس کا نفس ہے جو بے قابو ہو جاتا ہے تُو ابلیس اس پر قبضہ جما لیتا ہے۔ اور پھر
انسان برائی کو برائی سمجھتے ہوئے بھی عمل کر ڈالتا ہے۔ عقل میزان عدل ہے ۔ جب اس
کا پلڑا برائی کی طرف جھکتا ہے تو انسان گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے
اور جب اچھائیوں کی طرف جھکتا ہے تو انسان عرفان و آگہی کی منزل پا لیتا ہے۔
حق تعالیٰ نے انسان کو عقل دی ہے اور ساتھ ہی اختیار بھی دیا ہے کہ چاہے تو
اس دُر نایاب سے بھلائی کر کے اپنے لیے جنت میں مقام بنا لے یا پھر برائی کر کے
جہنم کو اپنا لے۔ اس بات کو اچھی طرح سے جان لو کہ انسان کے عمل کا دارومدار عقل
پر ہے یہ عقل ہی ہے جس سے انسان وحدانیت کو پہچانتا ہے ، حق تعالیٰ کو جانتا ہے۔
میں بڑے ہی غور مستانی کی باتوں کو سُن رہا تھا ۔ اس کے ہر جملے سے تدبر اور
فراست عیاں تھی میں نے دیکھا سفید ریش بزرگ کوٹھری میں نہیں تھے۔
گزشتہ رات جب قبرستان میں میری ملاقا مستانی سے ہوئی تھی تو عقل کا موضوع
ادھورا رہ گیا تھا لیکن آج کی ملاقات میں موضوع کسی حد تک مکمل ہو چکا تھا۔ عقل
کیا ہے ، کچھ کچھ میری سمجھ آ چلا تھا۔ مستانی نے اپنے سر سے دوپٹے کو کھولا اور
شانوں پر ڈال لیا اس کے بالوں سے نہایت ہی بھینی خوشبو نکل رہی تھی۔ یہ خوشبو ایسی
تھی کہ اس نے میرے دماغ کو ترو تازہ کر دیا۔ یک لخت مجھے اپنا ذہن ، اپنا جسم ہلکا
محسوس ہونے لگا ۔ مستانی نے دوبارہ گفتگو شروع کر دی ۔” حق تعالیٰ نے انسان کو
تخلیق کیا۔ پھر اس کے اندر عقل اور علم پھونکا اور پھر اس کائنات میں اس کو اپنا
نائب مقرر کیا ۔ اب ذرا غور کرو۔ جب حق تعالیٰ وسائل کے بغیر حاکم ہے تو اس کا
نائب اور خلیفہ بھی وسائل کا دست نگر نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس راز سے واقف ہوتا
ہے کہ کائنات کے تمام مظاہر حق تعالیٰ کی ذات سے منسلک ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کا
نائب بھی اپنے طور سے اس کی تخلیق میں تصرف کر سکتا ہے۔“
”وہ کس طرح سے؟ “ میں نے تعجب سے پوچھا۔
”اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے ۔ حق تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں پر صدق دل سے
عمل کیا جائے اور حق تعالیٰ کے تمام اصول قرآن میں موجود ہیں ۔ لیکن کس قدر
افسوسناک بات ہے کہ ہم ہر بات کو جانتے ہوئے بھی عمل نہیں کرتے۔ مسلمانوں کے پاس
ماورائی علوم کا جتنا بڑا خزانہ موجود ہے وہ اس ہی مناسبت سے مفلوک الحال ہیں۔
ہمارے اسلاف نے حاکمیت اور تسخیر کائنات کے بڑے بڑے خزانے ترکے میں چھوڑے ہیں لیکن
ہم ہیرے کو پتھر سمجھ کر ان سے بیگانے ہو گئے ہیں اور دوسروں کے نقشِ قدم پر چلنا
ہم نے اپنی روش بنا لیا ہے۔“
”قرآن کے بارے میں تمہارا یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے۔ ابھی تک مجھے اس کا
کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔“ میں نے کسی قدر اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
”تم اندھے ہو۔“ مستانی نے غصہ سے آنکھیں نکال کر کہا ۔ اس کی یکبارگی کرختگی
سے میں سہم گیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اس کے چہرے پر پھر پہلے ہی جیسی شگفتگی پھیل
گئی اور وہ نہایت ہی شریں لہجے میں بولی۔ ” تمہارے سامنے حقیقت موجود ہے۔ پھر بھی
تم ثبوت مانگتے ہو۔ میرے محبوب کی کیا شان ہے کہ سب کچھ تمہارے سامنے ہے اور پھر
بھی تمہارے ذریعے مجھ سے ثبوت مانگ رہا ہے۔ہائےواری جاؤں اس شان کے ، کہا ں کہاں
مجھے آزمائے گا، کس کس انداز سے امتحان لے گا۔ ارے میں تو تیری ہوں۔“ مستانی نے
میرے سر کے اوپر نظریں گاڑتے ہوئے کہا۔ ” تیری ہی بات کروں گی ، تیرے رازوں سے
پردہ اٹھاؤں گی انسان کو تیری حقیقت بتاؤں گی۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ اس کی نظریں میری پیشانی پر قائم تھیں ۔ میں نے
سمجھا کہ شاید میرے پیچھے کوئی کھڑا ہے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہاں تو کوئی بھی
نہیں تھا۔ صرف دیوار پر میرا سایہ تھا۔ میں نے دیکھا مستانی کے ہونٹ آہستہ اہستہ
ہل رہے تھے۔ وہ زیر ِ لب حق اللہ حق اللہ ، حق اللہ کہہ رہی تھی پھر رفتہ رفتہ یہ
آواز بلند ہوتی چلی گئی اور مستانی پر جذب و مستی کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ وہ پوری
قوت سے جھوم جھوم کر حق اللہ کی صدا لگا رہی تھی ۔ اس کے سیاہ لمبے بال گردن کی
حرکت کے ساتھ فضا میں پروں کی مانند پھیل پھیل جاتے تھے اور ان میں سے نکلنے والی
بھینی بھینی خوشبو نے پوری کوٹھری کو معطر کر رکھا تھا۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کوٹھری میں چاروں جانب سے حق اللہ کی آواز آرہی ہے
۔ ہر شے حتٰ کہ درو دیوار تک حق اللہ کی صدا لگاتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ مجھے خود پر
قابو نہ رہا، میرا دل بے اختیار یہ صدا لگانے پر مجبور کرنے لگا۔ میں جدھر نظر
ڈالتا تھا ، ہر شے سے حق اللہ کی صدا آتی تھی۔ مجھے اپنے لباس سے بھی یہی آواز آتی
محسوس ہوئی پھر میں خود بھی اس آواز میں ڈوبتا چلا گیا۔ کوٹھری کے درو دیوار اور
وہاں موجود ہر چیز سے حق اللہ کی صدا نکل رہی تھی۔ ماحول کی اس گونجار میں مستانی
کی آواز سب سے بلند اور پُر سوز تھی۔ پھر مجھے اپنے تن من کا ہوش نہیں رہا اور
دنیا و مافیہا سے بے خبر میں بھی سر دُھننے لگا۔
جذب و مستی کی یہ کیفیت کتنی دیر قائم رہی مجھے اس کا علم نہیں ۔ بہر حال ،
مجھے ہوش اس وقت آیا جب مستانی نے میری پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ مجھے ہر شے پہلے ہی کی
طرح پر سکون دکھائی دے رہی تھی۔
مستانی کے گلے میں صندل کی لکڑی کی تسبیح پڑی ہوئی تھی۔ اس کے بال پیٹھ پر
بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ میرے برابر پہلے ہی کی طرح بیٹھی تھی۔
میں نے ایک نظر چاروں جانب دیکھا ، صبح صادق کا اجالا کوٹھری میں داخل ہو
رہا تھا ۔ تو۔۔ تو۔۔ کیا ساری رات گزر گئی۔ ذہن میں خیال آیا۔ میں نے کلائی پر
بندھی ہوئی گھڑی پر نظر ڈالی۔ جس وقت میں کوٹھری میں داخل ہو تھا رات کے بارہ بجے
کا عمل ہوگا۔ اس سے جو میری گفتگو ہوئی تھی ، اس میں گھنٹہ سوا گھنٹہ سے زیادہ وقت
صرف نہیں ہوا تھا ممکن تھا یہ موضوع اور وقت لے لیتا لیکن اچانک ہی مستانی پر بے
خودی طاری ہوگئی یا پھر یوں سمجھ لیجئے کہ محث اس مر حلے میں داخل ہوگئی تھی جہاں
مستانی کو خود پر قابو نہ رہا۔ وہ جھوم جھوم کر حق اللہ کی ضرب لگانے لگی تھی اور
پھر مجھے نہ جانے کیا ہوا تھا شاید یہ ماحول کا اثر تھا کہ میں بھی دل کے ہاتھوں
مجبور ہو کر حق اللہ کی صدا لگانے لگا تھا۔
لکین ، میں نے یہ صدا کتنی دیر لگائی؟ ۔۔ پندرہ منٹ ، بیس منٹ یا آدھا گھنٹہ
۔ اس سے زیادہ میرا شعور ماننے کو تیار نہیں تھا اور اب جو ہوش آیا تو صبح ہو رہی
تھی۔
تو ، کیا وقت ٹھہر گیا تھا؟
کیا مستانی کو وقت پر قدرت حاصل ہے؟
متعدد سوالات میرے ذہن میں ابھرے ۔۔ اور ۔۔اور ۔۔ پھر عقیدت سے میں نے اپنا
سر اس کے پیروں پر یہ کہہ کر رکھ دیا ۔ ” تم ۔۔ تم۔۔ بہت عظیم ہو!“
”میں عظیم نہیں ہوں ، خان!“ مستانی نے میرا سر اٹھاتے ہوئے کہا۔” عظیم تو صرف
اور صرف ذاتِ الٰہی ہے۔ میں تو خاک کا پتلا ہوں ۔ عظیم تو وہ ہے جو خاک کے پتلے کو
فرش سے عرش تک لے جاتا ہے۔“
”تم جو کچھ ابھی حاصل کرنا چاہتے ہو جس کی تمہیں تلاش ہے اس کے لیے سخت محنت
اور جدو جہد کی ضرورت ہے۔“
”میں اس کے لیے تیار ہوں ۔“ میں نے پُر عزم لہجے میں کہا۔
”تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ انسان کا نفس بڑا ہی ظالم ہے ۔ اس بے لگام گھوڑے کو
اپنے قابو میں کرو۔ اور ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاؤ۔“ مستانی نے میری آنکھوں میں
آنکھیں ڈال کر کہا۔ اس کے ساتھ ہی سیکنڈ کے ہزارویں حصہ سے بھی کم وقت میں میرے
دماغ کو ایک جھٹکا لگا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں بہت ہلکا ہوگیا ہوں ۔ میرے
اندر کوئی وزن نہیں ہے مجھے اپنا دماغ نہایت ہی ہلکا معلوم ہوا۔ میں نے اپنے دل
میں ایک عجیب سی مسرت محسوس کی۔
”یہ میرا اصل ٹھکانہ ہے ۔“ مستانی اپنی جگہ سے اٹھتی ہوئی بولی ۔”تم جب چاہو
، یہاں آ سکتے ہو۔“۔
”خوش قسمت ہو بیٹا !“ مجھے سفید ریش بزرگ کی آواز سنائی دی۔ وہ کوٹھری کا
دروازہ پکڑے کھڑے تھے۔ ”اٹھوآ“ انہوں نے جیسے مجھے حکم دیا۔ ” آج سے یہ کوٹھری
تمہارا مسکن ہے، چاہو تو آرام کر لو ، چاہو تو کچھ کھا پی لو۔ اور چاہو تو ذکرِ
الٰہی میں مشغول ہو جاؤ۔“
میں ان تینوں ہدایات میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کر پایا۔ ابھی میرا نفس
میرے قابو میں نہیں تھا۔ میں نے مستانی کی طرف دیکھا۔ وہ کونے میں بنے ہوئے مٹی کے
چولہے میں آگ جلانے میں مشغول تھی۔