Topics
مستانی نے مجھے ایک خاص طریقے سے حق اللہ کی صدا لگانے کی تلقین کی ۔ اس
طریقہ سے جب میں اپنے دل پر حق اللہ کی ضرب لگاتا تھا تو مجھے اپنے دل سے نور کی کرنیں
پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔
کچھ ہی دنوں کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ اس ضرب کے لگاتے ہی میری باطنی
آنکھ کھل جاتی ہے اور ہر شئے سے یہی آواز سنائی دیتی ہے حق اللہ ، حق اللہ ، حق
اللہ ! پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا ، اس ضرب کی ، اس صدا کی دیگر خصوصیات نمایاں
ہوتی چلی گئیں اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب کہ ”حق اللہ“ کی صدا کے ساتھ ہی تمام
مادی اور غیر مادی اشیا سجدہ ریز ہو جاتی تھیں ۔ اس ہی طرح اگر میں ” اللہ ھو “ کا
نعرہ لگا دیتا تو بہتا ہوا دریائے سندھ بھی ساکن ہو جاتا تھا۔
چند سال گزرنے کے بعد مستانی نے مجھے ”سبحان اللہ “ کی تکرار کا طریقہ
بتایا۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد میں جانووروں کی بولیان سمجھنے لگا۔ میری زبان میں یہ
تاثیر پیدا ہوگئی کہ ”سبحان اللہ کی آواز کے ساتھ پرندے بھی میری جانب متوجہ ہو
جاتے ، میری آواز کے ساتھ آواز ملاتے اور ”سبحان اللہ ” کہتے۔
پھر مستانی نے مجھے اور طریقے اور صدائیں اور وظیفے بتائے۔ اب مجھ میں اتنی
قوت پیدا ہو چلی تھی کہ جاندار اور بے جان چیزوں کو روک سکتا تھا۔ میری نظر اتنی
وسیع ہو گئی تھی کہ اگر چاہتا تو کوہ یمالیہ کے پار دیکھ سکتا تھا۔ زمین میں
پوشیدہ ”خزانے مجھے صاف نظر آتے تھے آسمان کی طر ف نظر اٹھاتا تھا تو ایک دوسرے ہی
دنیا نظر آتی تھی۔
ان تمام حقیقتوں کے پا جانے کے باوجود میں کچھ بھی نہیں تھا۔ ابھی تو میری
ناگہ وسیع ہوئی تھی ابھی تو میری باطنی بصیرت بیدار ہوئی تھی ابھی تو میں کسی شئے
کا صرف ظاہری وجود ہی دیکھ سکتا تھا۔ کیونکہ ابھی حاکم و محکوم کا تعلق قائم نہیں
ہوا تھا۔ میری نگاہوں سے اب کوئی شئے پوشیدہ نہیں تھی لیکن مجھے کسی بھی شئے پر
اختیار حاصل نہیں تھا۔
میں ایک دن مغرب کی نماز سے فارغ ہوا تو خلافِ معمول مستانی کو کوٹھری میں
موجود پایا۔ وہ نہایت ہی قیمتی کپڑے کا غرارہ اور کُرتا پہنے آئینہ کے سامنے کھڑی
بال بنا رہی تھی۔
اسے پہلی بار اس حلیہ میں دیکھ کر مجھے سخت تعجب ہوا ۔ ابھی میں کچھ سوچنے
بھی نہیں پایا تھا کہ وہ اپنے بالوں میں گلاب کے پھولوں کا گجرا باندھتے ہوئے ایک
دم پلٹ پڑی ۔ میں نے دیکھا وہ حسن کی تمام زیبائشوں سے مزین تھی۔
”میں ۔۔۔ میں ۔۔ کیسی لگ رہی ہوں؟“ اس نے نہایت دل فریب مسکراہٹ کے ساتھ
پوچھا۔
”اچھی لاگ رہی ہو “ میں نے نظریں جھکا کر جواب دیا ۔” لیکن ، اب تمہیں یہ
سوانگ رچانے کی قطعی ضرورت نہیں اس لیے کہ میرا نفس میرے قابو میں ہے۔“
میرا خیال تھا کہ مستانی یہ سب کچھ مجھے آزمانے کی خاطر کیا ہے۔
”کتنے بھولے ہو تم! وہ زور سے ہنس کر بولی ۔” مجھے تمہیں آزمانے کی ضرورت
نہیں یہ سنگھار تو میں نے اپنے محبوب کی خاطر کیا ہے۔“ پھر اس نے والہانہ انداز
میں ایک چکر لگایا اور مجھ سے بولی ”چلو تم بھی جلدی سے تیار ہو جاؤ۔“
”کیوں ، کیا بات ہے ، کہاں چلنا ہے ؟“ میں نے اس کا ارادہ معلوم کرنے کی
کوشش کی۔
” خان ! تیری فطرت نہیں جاتی ۔“ اس نے شکوہ کیا ۔”ہر بات پوچھنا ضرور ہے۔“
پھر وہ میرے قریب آکر بولی ۔” آج میرے محبوب کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں ہمیں بھی آج
ایک ایسی ہی محفل میں شریک ہونا ہے ۔ جاؤ ۔۔۔ جلدی سے تیار ہو جاؤ ، میر پور خاص
جانا ہے ۔“
”میر پور خاص۔۔؟ میں نے تعجب سے پوچھا۔
”ہاں ۔، وہاں نماز عشا کے بعد عید میلان النبی کی محفل ہے ۔“ مستانی نے مجھے
بتایا۔
”عشاء کے بعد ۔۔۔؟ میں نے مزید تعجب سے پوچھا۔” اور پھر میر پور خاص جائیں
گے کیسے؟ جب کہ وقت بھی کم ہے۔“
”پھر وہی بات ۔“ مستانی مجھے ٹوکا۔” جس نے بلایا ہے وہ خود ہی پہنچنے کا
انتظام بھی کر دے گا ۔ بس تو جلدی سے تیار ہو جا۔ تیرے کپڑے پلنگ پر رکھے ہیں۔“
مستانی کے کسی بھی حکم سے انکار کرنا میرے بس میں نہیں تھا ۔ میں مصلی سے
اٹھا، پلنگ کے پاس آیا تو بالکل نیا جوڑا جیسا کہ مستانی نے پہن رکھا تھا ، ملا ۔
میں نے ایک نظر مستانی کی طرف دیکھا۔
” پہن لے خان ! جنس کی تقسیم غیر فانی لوگوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔
بندہ عورت کے روپ میں ہو یا مرد کے بہروپ میں حق تعالیٰ کے نزدیک بندہ ہے ۔“
مستانی نے مجھے سمجھایا۔
میں نے لباس تبدیل کیا اور پھر ہم دونوں کوٹھری کے باہر نکل آئے۔
جب ہم معصوم شاہ کلہوڑا کے مقبرہ والی پہاڑی پر چڑھ رہے تھے تو سورج مغرب
میں چھپ چکا تھا اور آسمان پر پھیلی ہوئی شفق کی لالی دھند لا رہی تھی۔ میرا خیال
تھا کہ سینٹرل جیل پہنچ کر مستانی کسی تانگہ والے سے کہے گی اور وہ ہمیں اسٹیشن
چھوڑ دے گا۔ جہاں سے ریل کے ذریعے میر پور خاص پہنچ جائیں گے۔ لیکن کیا ہم وقت پر
پہنچ جائیں گے ؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جو کہ مجھے بار بار پریشان کر رہا تھا۔
جب ہم سینٹرل جیل کے سامنے پہنچے تو رات کی سیاہی پھیلنا شروع ہو گئی تھی
اور سڑک کے کنارے لگے ہوئے برقی قمقمے روشن ہو چکے تھے۔
جس زمانے کا یہ ذکر ہے اس زمانے میں ہیرا آباد میں بھی زیادہ چہل پہل نہیں
تھی ۔ مستانی نے ایک نظر چاروں طرف دوڑائی۔ اُسے تانگہ والے کی تلاش تھی لیکن سڑک
بالکل خالی پڑی تھی ۔ البتہ اکّا دکّا آدمی آ جا رہے تھے ۔“ ابھی عشا ء میں دیر ہے
۔“ مستانی مجھ سے بولی ۔” آؤ مارکیٹ تک پیدل چلتے ہیں ۔ وہاں سے اسٹیشن کے لیے
تانگہ جلد ہی مل جائے گا۔
میں نے اس کی تائید کی اور پھر مارکیٹ کی طرف جانے والی اس سڑک پر ہو لیے جو
آج بھی جیل روڈ کہلاتی ہے۔
ہم دونوں سڑک کے کنارے سر جھکائے ہیرا آباد سے گزر رہے تھے ۔ عورت کے بہروپ
میں مجھے بہت زیادہ شرم آرہی تھی ۔ ابھی ہم کچھ ہی دور چلے ہوں گے کہ مستانی نے
میرا داہنا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے اس غیر متوقع رویے پر میں چونکا اور
ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگا ۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا ہاتھ جیسے مستانی
نے نہیں پکڑ رکھا بلکہ کسی آہنی شکنجہ میں جکڑ دیا گیا ہے۔
میں نے بے بسی سے مستانی کی طرف دیکھا ۔ وہ مسکراتی ہوئی گردن جھکائے چل رہی
تھی ۔ پھر مجھے اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر اذان سنائی دی۔
”اوہ ! عشا کا وقت ہو گیا ۔“ میں نے چڑ کر کہا۔” اور ہم ابھی مارکیٹ تک بھی
نہیں پہنچ پائے۔“
مستانی نے کوئی جواب دینے کے بجائے میرا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑ دیا۔ میں نے یہ
دیکھنے کی خاطر کہ ابھی مارکیٹ کتنی دور ہے اوپر گردن اٹھائی لیکن وہاں تو دور دور
تک مارکیٹ کا نام و نشان نہیں تھا ۔ بلکہ ہم ایک گلی میں سے گزر رہے تھے جس کے
آخری مکان کے دروازے پر ”جشن عید میلاد النبی ﷺ “ کا برقی بورڈ لگا ہوا تھا۔۔۔ تو
کیا ہم میر خاص پور پہنچ گئے ؟
میں نے معنی خیز نظروں سے مستانی کی طرف دیکھا ۔ اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی
رکھ کر خاموش رہنے کا مجھے اشارہ کیا اور پھر نہایت ہی آہستہ سے بولی۔” اس محفل کا
انتظام خواتین نے کیا ہے اور خواتین توہمات پر زیادہ یقین رکھتی ہیں ۔ لہذا یہاں
کوئی بھی بات دیکھو تو کوئی غیر متوقع حرکت نہ کرنا۔“
اس کے سمجھانے پر میں نے اقرار کے انداز میں گردن ہلائی اور پھر ہم دونوں
دروازے پر پہنچ گئے۔
مکان کے صدر دروازے پر ایک جاذب ِ نظر ادھیڑ عمر عورت نے مستانی کا نہایت
گرم جوشی سے استقبال کیا ، اسے سینے سے لگایا ، پیشانی چومی اور پھر اس کمرہ تک
چھوڑنے بھی آگئی جس میں عید میلاد النبی ﷺ کا اہتمام کیا گا تھا۔ یہ ایک کافی بڑا
سا ہال تھا جس میں نہایت ہی خوش نما دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔ ہال کے آخری سرے پر
زمین سے قدرے ایک دٹ بلند اسٹیج تھا جس کے کونوں پر لُوبان سلگ رہا تھا اور اس کی
مسحور کن خوشبو پورے ہال میں پھیلی ہوئی تھی۔
جس وقت مستانی کے ساتھ میں اندر داخل ہوا تو پورا ہال عورتوں سے بھرا ہوا
تھا اور سب کی سب حسبِ عادت نجی نوعیت کی باتوں میں مصروف تھیں۔
مستانی نے جیسے ہی قدم اندر رکھا ۔ یکبارگی سب کی نگاہیں اس کی جانب اٹھ
گئیں۔ وہ سب کی سب خاموشی سے اُسے دیکھے جا رہی تھیں۔ اور کیوں نہ دیکھتیں، گلاب
کی خوشبو نے ان سب کے دماغوں کو معطر کر دیا تھا۔ مستانی سب کے درمیان سے نہایت ہی
پروقار انداز میں گزرتی ہوئی چبوترہ کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔ مستانی کے بیٹھتے ہی
عورتیں پھر باتوں میں مشغول ہو گئیں لیکن کسی نہ کسی بہانے مستانی کو بھی چور
نظروں سے دیکھتی رہتی تھیں۔
”جانتے ہو ؟ یہ مکان کس کا ہے ؟“ مستانی نے نہایت دھیمی آواز میں مجھ سے
پوچھا ۔
” میں نے نفی کے انداز میں گردن ہلا دی۔
”یہ ایک ہندو طوائف کا مکان ہے ۔“ مستانی نے بتایا ۔” وہ جس دروازے پر ہمارا
استقبال کیا تھا ، اس کا نام لیلاوتی تھا لیکن اب وہ خیر النسا ہے۔“
”تو کیا وہ مسلمان ہو گئی ہے ؟“ میں نے پوچھا۔
”ہاں ، یہ اس پر اللہ کی رحمت ہے ۔“ مستانی بولی۔” اب وہ نہ صرف مسلمان ہو
چکی ہے بلکہ اپنی گناہ آلود زندگی سے تائب بھی ہو چکی ہے اور اب عشقِ رسول ﷺ میں
مگن زندگی گزار رہی ہے۔“ اس کے ساتھ ہی مستانی نے مجھے آنکھ سے اشار کیا۔ میں نے
دیکھا اور دروازہ کے عین درمیان میں ایک سولہ ، سترہ سالہ لڑکی کھڑی سب کا جائزہ
لے رہی ہے جیسے اسے کسی کی تلاش ہو، اس کے معصوم حُسن سے میں متاثر ہوئے بغیر نہیں
رہ سکا۔ ”یہ خیر النسا کی بیٹی مہر النساء ہے۔“ مستانی نے مجھے بتایا۔” دونوں ماں
بیٹیاں نہایت ہی پاک صاف زندگی گزار رہی ہیں۔ اس لڑکی کو قرآن کی تعلیم میں دے رہی
ہوں۔“
مستانی کے آخری جملے پر میں چونک اٹھا اور ھیرت سے پوچھا ۔” تم۔۔ تم ۔۔ ہر
روز یہاں آتی ہو ۔۔؟“
مستانی نے میری اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
مہرالنساء نے مستانی کو دیکھ لیا تھا ۔ لہذا وہ نہایت تیزی سے اس کے قریب آئی
اور سلام کرنے کے بعد گردن جھکا کر بیٹھ گئی ۔ مستانی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر
دعا دی۔
اتنے میں خیر النساء نے محفل ِ میلاد شروع کیے جانے کا اعلان کیا۔ عورتیں جو
کہ ابھی تک غول بنائے بیٹھی باتیں کر رہی تھیں ۔ سنبھل سنبھل کر اسٹیج کے رُخ ہو
کر بیٹھ گئیں۔
مستانی اپنا غرارہ سمیٹتی ہوئی اسٹیج پر آئی۔ اس نے اپنے دوپٹے کو سر پر اس
طرح اوڑھا کہ تمام بال اور جسم چھپ گیا۔ اس کے بعد اس نے نہایت سنجیدگی ے کہا۔
”میری بہنو ! آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ محفل کس کی شان میں منعقد کی گئی ہے۔
لہذا میری ان تمام بہنوں سے جو کہ نسوار استعمال کرتی ہیں یا بیڑی پیتی ہیں ،
گزارش ہے کہ وہ اب جب تک محفل ختم نہ ہو جائے کسی بھی چیز کا استعمال نہ کریں۔
خیال رہے کہ اندرونِ سندھ خواتین نسوار اور بیڑی کا استعمال کثرت سے کرتی
ہیں اس کے بعد وہ لمحہ بھر کو رکی جیسے وہ اپنی ہدایت کا جائزہ لے رہی ہو اور پھر
اس نے محفلِ میلاد کا آغاز کرتے ہوئے تلاوت َ قرآن ِ پاک کے لیے مہر النسا کا نام
پکارا۔
مہر النساء کی آواز اور قرآن کے الفاظ ۔۔۔ ان دونوں نے ایسا سماں باندھا کہ
محفل میں سناٹا چھا گیا اور ماحول سحر زدہ ہو کر رہ گیا۔
تلاوت ِ قرآن پاک کے ختم ہوتے ہی خواتین اس طرح چونکیں جیسے خواب سے بیدار
ہوئی ہوں ۔ مستانی نے سب سے پہلے درود شریف پڑھا اور پھر سیرتِ النبیﷺ کے سلسے میں
اپنی تقریر کا آغاز اس طرح کیا۔
”معزز خواتین!
آپ کو معلوم ہے کہ ہر سال آج کے دن اسی جگہ عید میلاد النبی ﷺ کی محفل منعقد
ہوتی ہے جس میں نبی کریم ﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔آج خیر النساء
اور مہر النساء کی خواہش پر مجھے یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے کہ اس محفل کے شرکا سے
خطاب کروں۔
میری بہنو! اس محفل کا مقصد یہ نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ کے حضور میں نذرانہ
عقیدت ان کے معجزوں کو بیان کر کے پیش کریں بلکہ ہمارا صحیح اور حقیقی نذرانہ
عقیدت یہ ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کے ھکم پر عمل کریں۔ ان کے اسوہ حسنہ کو دل سے
اپنائیں اور وہ سب کریں جو نبی ﷺ نے ہمارے لیے خود کر کے دکھایا ہے۔
آج سے پہلے ، جتنی بھی محفلیں ہوئی ہیں ان میں میالد پڑھنے والیوں نے وہی
کچھ پڑھا جو لکھا ہوا تھا اور لکھنے والوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے اپنے جذبہ محبت
اور عقیدت کی بنا پر لکھا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نبی کریم ﷺ
سے ساری دلچسپی حصول ثواب کے لیے رکھتے ہیں اور اس سلسلہ میں نہایت ہی دھوم سے
محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ پھر مققرر اہلِ مجلس کو نبی کریم ﷺ کے بارے میں نہایت
پراسرار اور متحیر کر دینے والے واقعات سناتا ہے۔ یاد رکھیئے ، (وہ انگلی اٹھا کر
بولی) انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ کسی بھی نظرئیے کو اپنانے سے پہلے اس کے مبلغ کے
بارے میں جاننا چاہتا ہے اور پھر اس کے ذہن میں مبلغ کا جو بھی تصور سما جاتا ہے
وہ ویسے ہی نظریہ کو اپنا لیتا ہے۔
میری بہنو!
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نوعِ انسانی میں نبی کریم ﷺ کا
روحانی و اخلاقی درجہ نہایت بلند ہے ۔ وہاں معجزے ہیں اور ان کے دربار میں فرشتے
بھی حرکت کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ ہستی اتنی پاک ہے کہ اللہ بھی اس پاکیزہ ہستی پر
درود و سلام بھیجتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ ہم حضورِ اکرم ﷺ کی
حیاتِ طیبہ سے عزم و ہمت کا سبق حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہم حضور ﷺ کی سیرتِ پاک سے فرض
شناسی اور انسانیت کا جذبہ اخذ کر سکتے ہیں۔
میری بہنو !
ہم اگر اپنے پیارے نبیﷺ کے مقدس کردار کو صرف معجزہ سمجھنے لگیں گے تو پھر
بتاؤ ہم مٹی کے بنے ہوئے انسانوں کے لیے کیا رہ جاتا ہے!
بتاؤ مٹی کے بنے ہوئے انسان ان کے عمل کو کس طرح مشعل ِ راہ بنائیں گے۔ یہ
بتاؤ کہ ہم سنتِ نبوی ﷺ پر کس طرح عمل پیرا ہوں گے!
اتنا کہنے کے بعد اس نے حاضرین ِ مجلس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور پھر اس
ہی جذبہ سے بولی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم خاک کے پتلے نور کی پیروی نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ
آج ہم اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی کو معجزہ سمجھ کر اس سے کنارہ کش ہو
چکے ہیں ، حالانکہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بارے میں یہ مصدقہ حقیقت ہے کہ وہ عین
قرآن کے مطابق اور احکامِ خداوندی کے تابع تھی ۔ آپ ﷺ کی زندگی ایک مکمل انسان کی
زندگی تھی۔
یاد رکھو! تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایک بار آپﷺ کے پاس آیا۔ اُسے پھر
زندگی کے کسی بھی معاملے میں کسی دوسرے کے پاس ہدایت کے لیے نہیں جانا پڑا کیوں کہ
آپ میں تمام انسانی خصوصیات بدرجہاتم موجود تھین جنہیں آپ ﷺ موقع و محل کے مطابق
کام میں لاتے تھے۔
اوّل دَور کے مسلمانوں کا آج کے دور کے مسلمانوں پر یہ بڑا احسان ہے کہ
انہوں نے اس عظیم ہستی کی زندگی کو اس طرح سے محفوظ کر دیا ہے کہ کوئی گوشہ انسانی
آنکھ سے اوجھل نہیں ہو پاتا اور یہ سب اتنا سچ اور صحیح ہے کہ غیر مسلم تک انگشت
نمائی کرنے سے عاجز ہیں ۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو انسان کے لیے روشنی کا مینار
ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ھیاتِ طیبہ سورج کی مانند ہے۔ جس کی روشنی ہر شے پر پڑ رہی ہے
اور حق کے متلاشی اس روشنی میں صراطِ مستقیم کی راہ پا لیتے ہیں ۔ آنحجرت ﷺ کی
زندگی آج بھی روزِ اول کی طرح روشن ہے ۔ جس طرح قرآن آج بھی روز اول کی طرح مستند
ہے۔
میری بہنو!
اگر ہمیں اپنے نبی کریم ﷺ سے سچی محبت ہے تو ہمیں چاہیئے کہ سچے عاشق کی طرح
اپنے محبوب پیغمبر ! کے ہر عمل کو جزو عمل بنا لیں۔
اگر ہمیں نبی کریم ﷺ سے سچی عقیدت ہے تو ہمیں آج ہی اس بات کا عہد کر لینا
چاہیئے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں گے۔
”یاد رکھیے “ مستانی نے نہایت ہی جوش سے کہا۔ ” رسول کی اتباع خدا سے محبت
کا ثبوت ہے۔“
اس کے ساتھ ہی پورے ہال میں حنا کی خوشبو پھیل گئی اور روشنی کے دو تین
جھماکے ہوئے۔ مستانی نے فوراً ہی اپنی تقریر روک دی اور خواتین سے کہا کہ وہ درود
شریف کا ورد شروع کر دیں۔ پورا ہال درود شریف کی سحر انگیز آواز سے گونجنے لگا۔
مستانی جھوم جھوم کر درود شریف پڑھ رہی تھی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے پورے
ہال پر سایہ رحمت محیط ہے۔ ہر طرف نور ہی نور تھا اور پھر میں بھی درود شریف پڑھنے
میں ایسا محو ہوا کہ مجھے اپنا ہوش نہ رہا۔
جب مجھے ہوش آیا تو میں کوٹھری میں مصلے پر بیٹھا تھا اور فجر کی اذان ہو
رہی تھی۔ میں نے گردن اٹھا کر دیکھا۔ مستانی وہی لمبا سا کرتا پہنے کونے میں بیٹھی
چائے بنا رہی تھی۔
”کپڑے تبدیل کر کے چائے پی لو ۔“ وہ مجھ سے مخاطب ہوئی۔
میں اپنی جگہ سے اٹھا اور پلنگ کے پاس آگیا۔ میرے پرانے کپڑے موجود تھے۔ میں
نے کپڑے تبدیل کیے اور پھر مستانی کے پاس آکر بیٹھ گیا۔
”لو۔۔ چائے پیو! “ مستانی نے ایک پیالہ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
میں نے پیالہ اس کے ہاتھ سے لے لیا اور معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
”مجھے دو باتوں کی جستجو ہے۔ تمہارے پاس نئے کپڑوں کا جوڑا کہاں سے آیا اور ہم
بغیر کسی وسیلہ کے میر پور خاص کیسے پہنچ گئے اور واپس بھی آگئے۔“
میری بات سن کر مستانی مسکرائی اور پھر چائے گھونٹ لے کر بولی ۔”وقت اور
فاصلہ سب کچھ انسان کے تابع ہے خان۔ قرآن کے مطابق حق اللہ تعالیٰ نے ہمیں شمس و
قمر ، ارض و سماوات سب کا حاکم بنا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اس زمین پر
اپنا خلیفہ بنایا ہے۔“
” ہوں ! “ میں نے چائے کا گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے اقرار کیا۔
” خان! تمہاری نظر اتنی وسیع ہو چکی ہے کہ تم مادہ کے اندر جھانک سکتے ہو ۔
زمین اور آسمان تمہارے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہیں۔ تم خود سوچو ۔ اس کا طریقہ
کیا ہو سکتا ہے ۔“ مستانی نے اتنا کہا اور اطمینان سے چائے پینے لگی۔
مستانی کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ میری نظر وسیع ہو
چکی تھی میں مادی اشیاء کے اندر جھانک سکتا تھا لیکن ان کے تصرف کا طریقہ کیا تھا
، مجھے معلوم نہیں تھا۔
مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ سمجھاتے ہوئے بولی۔” جب حق تعالیٰ وسائل کے
بغیر حاکم ہے تو اس کا نائب بھی وسائل کا محتاج نہیں رہ سکتا ۔ کیونکہ اس کا نائب
اس حقیقت سے آگاہ ہوتا ہے کہ کائنات کا باطن نورِ خداوندی ہے ۔ اس ہی وجہ سے اس کا
نائب بھی کائنات میں تصرف کر سکتا ہے۔“
”لیکن ۔۔۔ لیکن یہ کس طرح ممکن ہے ؟“ میں نے پوچھا۔
” سب کچھ ممکن ہے خان۔“ وہ چائے کا پیالہ لکڑی کے بوسیدہ صندوق پر رکھ کر
بولی ۔” جب کوئی انسان حق اللہ تعالیٰ کا تصور کرتا ہے تو حق اللہ تعالیٰ اس کی
آنکھ کا ادراک بن جاتا ہے۔ کیونکہ وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے ، وہی ابتدا ہے۔ وہی
انتہا ہے۔“ پھر وہ انگلی اٹھا کر بولی ۔” جب تم ”حق اللہ “ یا ”اللہ ہو“ کا نعرہ
لگاتے ہو تو تمہارا ذہن اور آنکھ دونوں کا مرکز حق تعالیٰ ہوتا ہے اور انسان کے
پاس یہی دو ایسے وسیلے ہیں جن کی بدولت انوارِ الٰہی کا دیدار کیا جا سکتا ہے اور
اگر اس ہی قوت کو زیادہ بڑھا دیا جائے تو انسان کے تابع ہر شے ہو سکتی ہے ۔ زمانہ
اور وقت اس کے ذہن کی حرکت سے بدل سکتا ہے ۔“
” قوت کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے ؟“ میں نے بڑے ہی شوق سے پوچھا۔
” اس قوت کو بڑھانے کی خاطر انسان کو مادہ سے نجات حاصل کرنا پڑتی ہے۔“
مستانی نے جواب دیا۔
”مادہ سے نجات حاصل کرنا ۔۔۔ کیا مطلب ۔۔۔؟ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے
پوچھا۔
” جسم مادّہ ہے اور مادّہ وزن رکھتا ہے۔“ اس نے مسکرا کر کہا ۔” جب کہ ہر شے
کا باطن نور ہے اور اس طرح نور پر چکر چلانے کی خاطر نور ہی درکار ہوتا ہے ۔
کیونکہ اور لطیف ہوتا ہے ۔ لہذا ضروری ہے کہ انسان اس نور کی خاطر جسم سے نجات
حاصل کر لے۔“
”۔۔۔۔ یعنی ، مر جائے ۔“ میں نے بے ساختہ کہا۔
وہ میری بات پر کھل کھلا کر ہنسی۔ پھر سنجیدگی سے بولی ۔” نہیں ۔۔۔ بلکہ
اپنے اندر پوشیدہ نور پر دسترس حاصل کرے اور جانتے ہو وہ نور کیا ہے ؟“ یہ کہہ کر
وہ جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔
”نہیں ، میں نہیں جانتا ،“ میں نے جواب دیا ۔
”وہ روح ہے۔“ اس نے بتایا۔
رُوح کا نام سنتے ہی میرے دل و دماغ میں سویا ہوا شوق ایک بار پھر بیدار
ہوگیا۔
مستانی لمحہ بھر کو سستائی اور پھر پیار بھرے لہجے میں بولی ۔” درحقیقت یہی
شوق تم کو یہاں لایا تھا۔ لیکن یہاں آکر تم دوسرے چکروں میں پڑ گئے۔“
”یہ سب تمہارا کرم ہے۔“ میں نے جواب دیا۔
”حق تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے کئی مدارج ہوتے ہیں۔“ مستانی نے بتایا ۔ ”
اور تم اب اس مقام تک پہنچ گئے ہو جہاں کائنات کے رازوں پر سے پردہ اٹھ جاتا ہے۔
تمہاری باطنی نگاہ وسیع ہو چکی ہے اور تم ہر شئے کے اندر جھانک سکتے ہو۔“
میں نے اقرار کے انداز میں گردن ہلائی اور پھر پوچھا ۔” روح کیا ہے؟“
”روح کیا ہے ؟“ مستانی نے الفاظ کو دوہرایا ۔ پھر بولی ” یہ ایک ایسا راز ہے
جس کے بارے میں حق تعالیٰ نے قرآن میں بھی خاموش رہنے کو کہا ہے کیونکہ یہ اس کی
قدرت کا راز۔“
”لیکن رُوح مرکزِ حیات ہے“ میں نے اپنی عقل کے مطابق کہا۔” روح منبع ِ حیات
ہے اس لحاظ سے وہ نہایت قوی ہے ، نہایت ہی اہم ہے اور اس کے بارے میں بھی انسان کو
بتایا جانا چاہیے تھا۔“
”اس بارے میں نسان کو جتنا بتایا جانا تھا ، حق تعلایٰ نے بتایا ہے ۔“
مستانی نے جواب دیا۔
”وہ کیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”سنو!“ وپ اپنی جگہ سے اٹھ کر پلنگ کی طرف آتے ہوئے ۔” جب انسان تخلیقی مراحل
سے گزرتا ہوا چھٹے ماہ میں داخل ہوتا تو اس کے جسم میں رُوح داخل کر دی جاتی ہے ۔
یہ وجود روح کی دلیل ہے۔ حیات کا احساس ہے ۔ جسم میں رُوح کو داخل کیے جانے کے بعد
بھی اس جسم کہ مزید تین ماہ شکم مادر میں پرورش کیا جاتا ہے جس کا مقصد سوائے اس
کے اور کچھ نہیں کہ رُوح جسم انسانی میں مستحکم ہوجائے ۔ پھر وہی جسم دنیا میں آتا
ہے اور اس طرح اللہ کا یہ فرمان پورا ہوتا ہے کہ ہم نے انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے
پیدا کیا ۔۔“
اتنا کہہ کر وہ پلنگ پر تکیہ کے سہارے بیٹھتی ہوئی بولی ۔” جب تک جسم طاقت
ور رہتا ہے، اس وقت تک روح کا جسم سے تعلق رہتا ہے لیکن جب جسم اپنی طبعی عمر کو
پہنچ جاتا ہے تو رُوح جسم کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے جسے موت کہا جاتا ہے لیکن ۔۔۔“ وہ
خلا میں دیکھتے ہوئے بولی ۔” قرآن میں اس زندگی کے بعد ایک اور ابدی زندگی کا تصور
پیش کیا گیا ہے جس پر تمام مسلمانوں کا ایمان ہے۔ درحقیقت یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ
روح کبھی فنا نہیں ہوتی۔“
”انسانی جسم کے فنا ہونے کے بعد رُوح کی موجودگی کی عقلی دلیل کیا ہے؟“ میں
نے پوچھا۔
”سنتے ۔“ وہ دوبارہ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بولی۔” روحیں کیونکہ جسم میں
ایک طویل عرصہ گزارتی ہیں ۔ لہذا جسم سے نکلنے کے بعد ان کو جسمانی خدوخال کے
مطابق ہی عالم برزخ میں رکھا جاتا ہے تاکہ قیامت کے دن انصاف کرنے میں آسانی ہو۔
عالمِ برزخ میں بھی ان روحوں کے درجات ہوتے ہیں ۔ ان میں روحوں کے جسم احکام
خداوندی کے خلاف دنیا میں کام کرتے رہے ہوتے ہیں، ان کو سب سے کم درجہ میں رکھا
جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے جسمانی اعمال کے مطابق اتنی بھاری اور گندی ہو جاتی ہیں کہ
دنیائے وحدت کی نوری حدود کو پار نہیں کر سکتیں ۔ ان سے بھی نہایت ہی کمتر درجہ کی
روحیں فضا میں بھٹکتی رہتی ہیں جنہیں دنیا والے اپنے قابو میں کر لیتے ہیں۔ اب
جہاں تک روح کی موجودگی کی عقلی ثبوت کی بات ہے۔۔۔“ وہ ہنس کر بولی ۔” تو تم اپنی
خالہ زاد بہن کا حال دیکھ چکے ہو جس پر ہنومان کی رُوح مسلط کر دی گئی تھی۔۔۔۔ اور
شانو کی رُوح سے بھی واقف ہو چکے ہو۔“
مستانی کی بات اپنی جگہ بہت بڑا عقلی ثبوت تھی۔ روحوں کی موجودگی کے جو
اسباب بتائے تھے وہ بھی قابلِ اعتبار تھے۔
”ان روحوں کو قابو کس طرح کیا جا سکتا ہے؟“ میں نے اصل موضوع کی بات کی۔
”ان کم درجہ کی روحوں کو قابو میں کرنے کا دنیا کے ہر مذہب میں کوئی نہ کوئی
طریقہ ہے“ مستانی نے سوچتے ہوئے بتایا۔”لیکن ہمارے دین میں سب سے آسان اور سہل
طریقہ ہے کلامِ الٰہی۔ جسے قرآن بھی کہا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہی ابدی دنیا کی
مشترکہ زبان ہے اور اس ہی زبان میں وہ جملے موجود ہیں جن کی مسلسل تکرار سے کائنات
میں بھٹکی ہوئی کسی بھی روح سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔“
”وہ ۔۔۔کس طرح سے؟“ میں ے تعجب سے پوچھا۔
”اس کی مثال ، تم اس طرح سمجھ سکتے ہو ۔“ مستانی نے تکیہ سے سر اٹھا کر کہا۔
” کہ ہمیں دنیا میں جو کچھ نظر آتا ہے ان سب میں ”قدرت ِ الٰہی “ پوشیدہ ہے اور جب
تم ”حق اللہ “ کی صدا لگاتے ہو تو اس کی مسلسل تکرار سے ہر شئے میں پوشیدہ نورَ
الٰہی عیاں ہونے لگتا ہے۔ بالکل اس ہی طرح مسلسل تکرار سے روح بھی عامل کی طرف
متوجہ ہو جاتی ہے اور پھر عامل جب چاہے اُس روح کو مخاطب کر سکتا ہے۔“
”یہ تو بہت آسان ہے۔“ میں نے خوش ہو کر کہا۔” لیکن روح سے کس طرح کام لیا جا
سکتا ہے؟ “ میں نے پوچھا۔
”روح سے روح کے ذریعے ہی کام لیا جا سکتا ہے ۔“ اس نے مسکرا کر جواب دیا ۔”
جب ہی تو میں نے تم سے ایک بار کہا تھا کہ اپنی روح کو پاک کر لو تاکہ تم دوسری
اَرواح پر حکم چلا سکو۔“
”تو ۔۔۔ کیا ۔۔۔ ابھی بھی۔۔۔ میری رُوح۔۔۔ پاک نہیں ہوئی؟“ میں نے جھجکتے
ہوئے پوچھا۔
”نہیں ۔۔۔ یہ بات نہیں۔“ وہ میرا خدشہ سُن کر زور سے ہنسی ۔” اب تم ٹھیک
راستے پر چل رہے ہو۔“ اس نے تحسین آمیز لہجہ میں کہا۔” یہی وجہ ہے آج میں تمہارے
دل میں برسوں کے چھپے ہوئے تجسس کے بارے میں باتیں کر رہی ہوں۔ یاد رکھو!“ وہ حسبِ
عادت انگلی اٹھا کر بولی۔” جسم گوشت کا مادہ ہوتا ہے ۔ لہذا ، اس کی حرکات محدود
ہوتی ہیں جب کہ روح نہایت ہی لطیف اور ہلکی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی حرکات
لامحدود ہوتی ہیں اور وہ ایسے کام انجام دے لیتی ہیں جو کہ جسم انجام نہیں دے سکتا
، اور عقلِ انسانی حیران رہ جاتی ہے۔“
اتنا کہہ کر مستانی نے تکیہ پر سَر اس طرح رکھ دیا جیسے وہ تھک گئی ہو۔ میں
خاموشی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
کچھ دیر کے بعد وہ دوبارہ بولی ۔”یہ تو ان روحوں کی بات تھی جو طبعی طور سے
جسم کے ناکارہ ہو جانے کے بعد بھٹکتی رہتی ہیں لیکن اگر کوئی رُوح جسم کے فنا ہو
نے سے قبل ہی اپنے رب سے ناطہ جوڑ لے تو؟“ اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔
”کیا ایسا ممکن ہے ؟“ میں نے پوچھا ” اگر ایسا ہے تو وہ رُوح سب سے عظیم اور
طاقتور ہوگی۔“
”ایسی روحیں جو جسم کے فنا ہونے سے قبل ہی حق تعالیٰ سے ناطہ جوڑ لیتی ہے ،
تمام قیود سے آزاد ہوتی ہیں۔“ مستانی نے دوبارہ کہنا شروع کیا۔” زمین و مکان ان کے
لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ وپ پلک جھپکتے میں کائنات کی وسعتوں کو پار کر لیتی
ہیں۔ ایسی روحوں کو حق تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور وہ منشائے الٰہی کے مطابق
کام انجام دیتی ہیں۔“
”وہ روحیں اتنی پاک اور مقدس ہوتی ہیں؟“ میں نے حیرت سے پوچھا۔
”ہاں !“ مستانی نے میری حیرت پر مسکرا کر جواب دیا ۔” وہ نفس سے پاک روحیں
ہوتی ہیں۔ انہیں فرشتوں سے زیادہ درجہ دیا جاتا ہے ایسی روحیں احکام الٰہی کی منتظر
رہتی ہیں ۔ انہیں عرشِ معلی سے بغیر وسیلہ کے احکام ملتے رہتے ہیں۔ اور وہ منشائے
الٰہی کے مطابق ہر کام انجام دیتی رہتی ہیں۔“
”یہ تو تم نے نہایت ہی عجیب بات بتائی ہے۔“ میں نے کہا
”اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ ایسی روحوں کے جسم دنیا میں موجود رہتے ہیں۔“
اس نے اس ہی طرح مسکراتے ہوئے کہا۔” لیکن وہ خود ذاتِ الٰہی کے حضور میں سر سجود
احکام کے منتظر رہتے ہیں۔“
”کمال ہے ۔“ میں نے حیرت زدہ ہو کر کہا ۔ یعنی ، انسان چاہے تو زندگی ہی میں
حق تعالیٰ سے ناطہ جوڑ سکتا ہے۔“
”بالکل !“ مستانی نے تائیدی لہجہ میں کہا۔” انسان چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے
ایسے لوگوں کو دنیا والے اللہ کے برگزدہ بندوں میں شمار کر کے ان کی پوجا شروع کر
دیتے ہیں۔“
اتنا کہہ کر اس نے میری جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا اور پھر نہایت ہی
سنجیدگی سے بولی ۔” اب یہ فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تم اپنی رُوح کو اس مادی اور
فانی جسم سے جدا ہو کر حق تعالی سے ناطہ جوڑنا چاہتےہو یا کسی بھٹکی ہوئی روح کو
قابو کرنا چاہتے ہو۔“
مستانی یہ کہہ کر خاموش ہو گئی اور مجھے الجھن میں ڈال دیا۔