Topics

میرا ٹھکانہ

 

اب میرا یہ معمول بن گیا تھا کہ رات کو جب دنیا والے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہوتے ، میں اپنے پلنگ سے اٹھتا ، پاک صاف کپڑے پہنتا اور جیکب تالاب کی طرف چل دیتا۔

صبح صادق کے وقت مجھے آنے کی اجازت مل جاتی رات بھر جاگنے اورعبات کرنے سے مجھے کبھی بھی تھکاوٹ نہیں ہوئی بلکہ میں نے ہمیشہ خود کو پہلے سے زیادہ خوش و خرم پایا۔ میں نے مستانی کو بتا دیا تھا کہ میں ملازم ہوں۔ مستانی نے مجھے اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ پیٹ بھرنے کی خاطر ہاتھ پاؤں چلاؤں لیکن اس کے ساتھ ہی اُس نے مجھ سے دو باتوں کا وعدہ بھی لیا تھا۔ ایک یہ کہ میرے حلق کے نیچے رزقِ حلال جائے گا۔ دوئم یہ کہ میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں ان دونوں باتوں پر سختی سے قائم تھا۔

میں اب یکسر بدل چکا تھا۔

کوٹ اور پتلون کی جگہ معمولی سے کپڑے کی شلوار قمیض پہننے لگا تھا۔ اس کے ساتھ ہی میرا دل خود بخود نماز کی طرف کھینچنے لگا تھا اور میں پابندی وقت سے نماز ادا کرنے لگا تھا دفتر کے لوگ میری اس تبدیلی سے حیران تھے۔ ان میں سے کچھ میرا مذاق بھی اڑاتے تھے۔ لیکن مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ میں منزل کی تلاش میں صراطِ مستقیم کی جانب گامزن ہو چکا تھا۔

رزق حلال کھانے اور سچ بولنے سے میری زبان میں اتنی تاثیر ہو چلی تھی کہ بعض دفعہ دفتر میں اپنے ساتھیوں سے ایسی بات بھی کہہ دیتا تھا جو کہ ان کے خیال میں ناممکن ہوتی تھی لیکن میرے کہنے کے مطابق ممکن ہو جاتی تھی۔

بہرحال ، کچھ لوگ مجھ سے متاثر تھے مگر کچھ لوگ ناراض اور خوف زدہ سے رہتے تھے۔

مستانی کو بلیاں پالنے کا بہت شوق تھا۔ اس کے حجرے کے آس پاس سفید بے داغ ، کالے اور بھورے رنگ کی لاتعداد بلیاں گھومتی رہتی تھیں۔

ہر بلی کے گلے میں ایک چھوٹا سا گھنگرو پڑا رہتا تھا جو کہ گھنٹی کا کام دیتا تھا۔ مستانی نے ان بلیوں کے نام بھی رکھے ہوئے تھے۔ ان میں میں سے چند ایک کوٹھری کے اندر کے اندر بھی اجاتی تھیں۔ بعض دفعہ مستانی ان بلیوں سے انسانوں کی طرح باتیں بھی کرنے لگتی۔ انہیں ایک شفیق ماں کی طرح سمجھاتی ۔ اِدھر نہ جان ،اُدھر نہ جانا۔۔ جیسے اُسے ان کی حفاظت کا بہت خیال ہو۔ جو بلیاں کوٹھری کے اندر آجاتی تھیں ان کو میں نے مستانی کے منہ اور ہاتھ بھی چاٹتے دیکھا ۔ مستانی بھی اس ہی طرح ان سے پیار کرتی تھی۔

وہ جیسے ہی کوٹھری کے باہر آتی ، یہ میاؤں میاؤں کہہ کر اُسے گھیر لیتیں ۔ وہ بڑے ہی پیار سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتی اور بعض دفعہ ان ہی بلیوں میں سے کسی ایک کو گود میں اٹھا کا کر اُسے بالکل انسانوں کی طرح کام کرنے کا حکم دیتی اور وہ بھی خاموشی سے سر جھکا کر ایک طرف کو چلی جاتی۔ دن میں ان بلیوں کی نگہداشت کا کام وہی سفید ریش بزرگ انجام دیا کرتے تھے کیوں کہ مستانی کا سارا دن شہر میں گزرتا تھا۔

میں کبھی کبھی سوچتا آخر یہ بلیاں مستانی سے اتنی مانوس کیوں ہیں ؟ جب کہ وہ سفید ریش بزرگ سے دور دور رہتی تھیں اور اگر میں کبھی انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تو وہ اس طرح بھاگ جاتی تھیں جیسے کچھ سُنا ہی نہیں۔ بعض دفعہ ان کی حرکتیں دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ یہ بلیاں نہیں ، انسان ہیں ۔ بلیوں کا یہ انداز کبھی کبھی مجھے حیرت زدہ کر دیتا تھا۔

میں نے ایک بار مستانی سے ان بلیوں کے بارے میں معلوم کرنا چاہا تو اُس نے یہ کہہ کر بات ٹال دی ” خان ہر بات کو جاننے اور سمجھنے کا وقت ہوتا ہے۔“

البتہ کچھ عرصہ بعد میرے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے ان بلیوں کی حقیقت عیاں ہو گئی۔

ایک رات جب کہ میں حسبِ معمول مستانی کے پاس ارہا تھا تو معصوم شاہ کلہڑا کی پہاڑی سے جیسے ہی نیچے اترا ، آسمان پر زور سے بجلی چمکی ۔ جس سے دور تک کا ماحول لمحہ بھر کے لیے روشن ہو گیا ۔ میں نے دیکھا کہ اب وہاں جیکب تالاب کے کنارے کچی اینٹوں کا ایک دو منزلہ مکان کھڑا ہے ۔ لمحہ بھر کی روشنی کے بعد پھر چاروں طرف اندھیرا پھیل چکا تھا میں نے نظر اٹھا کر اوپر دیکھا ۔ بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ رکھا تھا ۔ ہوا بھی تیز چلنے لگی یہ بارش کے آثار تھے۔

میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اچانک یہ بادل کہاں سے آگئے ۔ جب میں گھر سے چلا تھا تو مطلع بالکل صاف تھا اور آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ لیکن یہاں پہنچتے ہی مجھے بارش نے آگھیرا تھا اور بارش بھی ایسی تیز تھی کہ اس کی موسلا دھار بوندیں جسم میں گھستی معلوم ہوتی تھیں پھر طوفانی ہوا بھی چل رہی تھی اور وقفہ وقفہ سے آسمانی بجلی بھی چمک رہی تھی۔

میرا لباس چند ہی لمحوں میں پانی سے شرابور ہو گیا اور ہوا کی شدت سے بدن کپکپانے لگا۔ اب میں اس طوفان سے بچنے کی سوچنے لگا۔ آس پاس کوئی ایسا بڑا درخت بھی نہیں تھا جس کے نیچے پناہ لے سکتا۔

اب میرا رُخ مستانی کی کوٹھری کی طرف تھا۔ میں جُوں جُوں اگے بڑھتا جا رہا تھا ، اندھیرے میں مکان وضح ہوتا جارہا تھا۔ کچھ دیر بعد ، میں ایک دو منزلہ کے سامنے کھڑا حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ جیکب تالاب کے کنارے یہ منزلہ مکان کہاں سے آگیا۔ کہیں میں راستہ تو نہیں بھول گیا ہوں۔ لیکن اس صورت میں بھی مجھے مستانی کی کوٹھری تک ہی پہنچنا چاہیئے تھا کیوں کہ اس ویرانے میں سوائے اس کے اور کسی کا مسکن نہیں تھا۔

ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک بارش کے پانی کا ایک زور دار تھپیڑا منہ پر لگا اور میں اندر جانے کا راستہ تلاش کرنے لگا۔

اس دو منزلہ مکان کا دروازہ کافی بڑا تھا۔ جس پر موٹی لکڑی کے کواڑ لگے ہوئے تھے۔ میں نے کواڑ کے ساتھ لٹکی ہوئی زنگ آلود زنجیر کو پکڑ کر زور سے دروازہ کھٹکھٹایا اور ساتھ ہی بلند آواز میں مستانی کو پکارا۔ میرا خیال تھا کہ میں مستانی کی کوٹھری تک پہنچ گیا ہوں۔ اور اس نے طوفان کی وجہ سے دروازہ بند کر رکھا ہے ۔ میری آواز کی بازگشت دور تک سنائی دی۔ پھر کھٹ پٹ ۔۔۔ کھٹ پٹ ، اندر سے کسی کے چلنے کی آواز ائی اور چند لمحے بعد دروازہ اہستہ اہستہ کھلتا چلا گیا۔

دونوں کواڑوں کے کھلتے ہی میں دم بخود کھڑے کا کھڑا رہ گیا ۔ میرے سامنے ایک نہایت ہی حسین و جمیل دوشیزہ لالٹین ہاتھ میں کھڑی تھی۔

اس دوشیزہ کی عمر مشکل سے سترہ اٹھارہ سال ہوگی اس نے وادی مہران کا روایتی لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ اس کی قمیض پر سامنے کی جانب دامن تک شیشے جرے ہوئے تھے جو کہ لالٹین کی روشنی میں ستاروں کی مانند جھلملا رہے تھے ۔ اس کے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے اور سامنے مانگ کی جگہ سُرخ رنگ کے موتی چمک رہے تھے اس کا سُرخ و سفید چہرہ نہایت ہی دل کش تھا۔ اس کی غزالی آنکھوں کے اوپر گھنی سیاہ پلکیں قوس کی شکل میں جھکی ہوئی تھیں وہ وادی مہران کا مکمل حسن تھی۔

میں قدرت کی صناعی کے اس بے مثال نمونے کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ میں اس وقت یہ بھی بھول گیا تھا کہ طوفانی بارش میں کھڑا ہوں۔

”اندر آجایئے۔“ اس کے یاقوتی لبوں کو جنبش ہوئی۔

مجھے یوں محسوس ہوا جیسے فضا میں ایک ساتھ کئی گھنٹیاں بج اٹھی ہوں۔ اس کی آواز بھی اس کی شکل کی طرح حسین تھی ۔ پھر وہ دروازہ کے ایک جانب ہٹ کر کھڑی ہوگئی میں نے بلا سوچے سمجھے ایک قدم آگے بڑھایا اور اندر داخل ہوگیا۔ وہ میرے آگے لالٹین سے راستہ دکھاتی چل رہی تھی۔

ہم دونوں اہل لمبی سی راہداری سے گزر کر اوپر کے ایک کمرے میں اگئے۔ اس کمرے میں نہایت پرانے قسم کا فرنیچر تھا۔ دیواروں پر چند قلمی تصاویر لٹک رہی تھیں۔ جو شاید اس دوشیزہ کے بزرگوں کی ہوں گی کیونکہ لالتین ی روشنی میں وہ صاف نہیں دکھائی دے رہی تھین۔

”بیٹھ جایئے ۔“ دوشیزہ نے ایک نہایت ہی پرانی سندھی وضع کی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

”جی ۔ شکریہ !“ میں نے کرسی پر بیٹھ کر کہا۔ ”مستانی کہاں ہے؟“ میں نے پوچھا۔

”کون مستانی؟“ اس نے چونک کر پوچھا ۔” یہاں تو صرف میں رہتی ہوں۔“

”تم ۔۔۔ تم ۔۔ کون ہو ؟ یہ مکان کِس کا ہے؟ “ میں نے بے چینی سے پوچھا،

”میں کون ہوں ، یہ مکان کس کا ہے ۔“ اس نے میرے الفاظ کو دوہرایا۔ پھر دائیں جانب والی دیوار کے طاق میں لالٹین رکھ کر بولی۔” یہاں آنے والا ہر شخص مجھ سے یہی پوچھتا ہے۔“

”تم یہاں اکیلی رہتی ہو؟“ میں نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔

اس نے اقرار کے انداز میں گردن ہلا کر جواب دیا۔

”بھلا اس ویرانے میں تمہارا کیا کام ؟“ میں نے پریشانی سے پوچھا۔

” یہ ویرانہ میرا مسکن ہے۔“ اس نے ایک دل فریب مسکراہٹ سے کہا۔ پھر بائیں جانب والی دیوار کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے بولی ۔”آج طوفان بہت تیز ہے۔“

”نہ جانے ، اچانک یہ طوفان کیسے آگیا۔“ میں نے اسی ہی طرح پریشانی سے کہا۔ اور گردن گُھما کر کھڑکی کے باہر دیکھنے لگا۔ باہر بارش کا طوفان اس ہی طرح زور و شور سے جاری تھا۔

”طوفان ہمیشہ اچانک ہی آیا کرتے ہیں۔“ دوشیزہ کھڑکی کے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

”جی ۔۔۔؟“ میں نے اس کےالفاظ کا مطلب نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔

”تم۔۔ یہاں طوفان سے بچنے کی خاطر آئے ہو ؟ “ دوشیزہ پوچھا۔

”ہاں اور اس طوفان کے ختم ہوتے ہی چلا جاؤں گا ۔“ میں نے جواب دیا اور سردی کی شدت کم کرنے کی خاطر پوچھا۔” آگ کا انتظام نہیں ہو سکے گا؟“

”فضل آگ ہی لینے گیا ہے ۔ بس آتا ہی ہوگا۔“ دوشیزہ نے جواب دیا۔ پھر خود کو سمیٹتے ہوئے بولی ۔” سردی مجھے بھی لگ رہی ہے۔“

”فضل کون ہے؟“ میں نے پوچھا ۔” تمہارا شوہر ہو گا۔“

فضل کا نام سن کر دوشیزہ کے چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ گئی لیکن جب میں نے اس کو شوہر کہا تو دوشیزہ نے نفی کے انداز میں گردن ہلادی۔

”فضل کون ہو سکتا ہے؟“ میں نے سوچا۔

”دوشیزہ کے رویے نے مجھے شش و پنچ میں ڈال دیا تھا۔

”تم چلے جاؤ گے؟“ دوشیزہ نے مجھے دیکھ کر پوچھا۔

”ہاں ۔ لیکن طوفان ختم ہونے کے بعد۔“ میں نے جواب دیا اور پھر قدرے آگے کو جھک کر بولا ۔” تم نے بتایا نہیں۔ یہ فضل کون ہے ، اس تمہارا رشتہ کیا ہے؟“

”فضل میرا ساتھی ہے میری خوشی ہے۔“ دوشیزہ نے جذباتی انداز سے کہا۔ پھر دوسرے ہی لمحہ اُداسی سے بولی ۔” لیکن یہ طوفان مجھے غم دیتا ہے ۔ یہ طوفان میرے دُکھ کو بڑھا دیتا ہے۔“

”کیا دکھ ہے تمہیں؟“ میں نے ہمدردی سے پوچھا۔

”میرا دکھ۔۔؟ وہ سامنے کرسی پر بیٹھ کر بولی ۔” میرا دکھ سنو گے؟

”سنایئے، ہو سکتا ہے میں کچھ مدد کر سکوں۔“ میں نے جواب۔

دوشیزہ نے یہ سن کر پیٹھ کی پشت سے لگا دی اور اپنی بوجھل پلکیں اُٹھا کر غور سے میری طرف دیکھنے لگی۔ جیسے بات شروع کرنے کی خاطر سوچ رہی ہو۔

پھر کچھ دیر بعد وہ اس طرح گویا ہوئی۔