Topics
مجھے جب ہوش آیا تو رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ کمرے کی کھرکی میں سے
آدھی رات کا چاند نظر آرہا تھا ۔ میرا کمرہ خالی تھا ۔ لوگ جا چکے تھے اور ان کے
لائے ہوئے پھل فروٹ رکھے ہوئے تھے۔
میں نے تنہائی میں سوچا کہ وظیفہ کیوں ناکام ہو گیا۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا ۔
وضو کیا اور مصلّٰی پر جا کر نفلوں کی نیت باندھ لی ۔
نفلوں سے فارغ ہوا تو میں نے ایک بار پھر وظیفہ شروع کر دیا ۔ میں وظیفہ
پڑھتا رہا پڑھتا رہا اور پھر ۔۔۔ مجھے چاروں جانب سے ”نفس ، نفس “ کی آوازیں سنائی
دینے لگیں۔ ان آوازوں کو سن کر میں اور تیزی کے ساتھ وظیفہ پڑھنے لگا اور پھر ۔۔۔
میں نے کوخود کو سامنے کھڑا پایا ۔ میرا وجود ، میرے سامنے کھڑا تھا۔
میں وظیفہ چھوڑ کر حیرت سے اپنے وجود کو تکنے لگا۔
میرا سیاہی مائل وجود مجھ سے مخاطب ہوا ۔” خان! اس سے پہلے کہ تم ختم ہو سنبھل
جاؤ ۔ تم اپنے نفس کے گلام بنتے جا رہے ہو۔“
”میں اپنے نفس کا غلام بن گیا ہوں ؟“ میں نے تعجب سے پوچھا۔
”تم اپنے اعمال کا جائزہ لو ۔“ میرا وجود بولا ۔” تم نے اب تک جو کچھ کیا ہے
اپنے نفس کے کہنے پر کیا ہے۔“
”نا ممکن ۔۔۔ قطعی ناممکن ۔“ میں نے پُر اعتماد لہجے میں کہا۔
”خان ! تم حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے ۔“ میرے وجود نے کہا ۔” تمہارا نفس
تمہیں برباد کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ تمہاری عبادت و ریاضت ضائع ہوتی جارہی ہے ۔
تمہیں خیر و شر کی پہچان نہیں رہی۔ تم نے سکھ دیو کو جھلسا کر اپنے نفس کو تسکین
دی ہے ۔“
اس کے بعد میرا وجود دھند لانے لگا۔ اس کے خدو خال بگڑتے چلے گئے ۔ پھر وہاں
کچھ بھی نہیں تھا۔
اپنے وجود کے غائب ہوتے ہی میں اس طرح سے چونکا جیسے نیند سے بیدار ہوں۔۔۔
یہ سب کیا تھا؟
میں اسے اشارہ خداوندی ہی کہوں گا ۔ حق تعالیٰ کی بھی کیا شان ہے کہ اپنے
بھٹکے ہوئے بندوں کو بھی کن طریقوں سے ہدایت دیتا ہے ۔
اس اشارہ کو پاتے ہی میں نے اپنے دل کو ٹٹولا۔ واقعی یہاں آکر میں نفس کا
غلام بن گیا تھا۔ نفس نہایت چلاکی سے مجھ پر قبضہ کرتا چلا جا رہا تھا۔
میں یہاں آکر دنیاوی شان و شوکت میں ایسا کھویا کہ خدا کو بالکل ہی بھول گیا۔
میں جو اس کے قریب ہوتا جا رہا تھا ، اپنے اعمال کی بدولت اس سے دور ہوتا چلا گیا
۔ میری عبادت و ریاضت سب کچھ اسی کے لیے ہوتی تھی لیکن اب وہ سب اپنا روحانی
اقتدار قائم رکھنے کی خاطر کر رہا تھا۔
سکھ دیو کے ساتھ میں نے جو کچھ کیا ، وہ ایک فطری عمل تھا لیکن کیا میرا یہ
عمل جائز تھا ؟ مجھ جیسے انسان کو جو قرب الٰہی کا خواستگار ہو۔ اس کی مخلوق کو
نقصان پہنچانے کا حق تو نہیں ہے ۔ میرے دل میں عجزو انکساری کی جگہ تکبر نے لے لی
تھی ، اصغر مجھ سے معافی مانگتا رہا لیکن میں نے غرور سے اُسے ٹھوکر مار دی تھی ۔
سکھ دیو کلمہ تمجید پڑھ رہا تھا اور میں حقارت سے اُسے جہنمی کہتا رہا۔ بونے جو
خیر و شر کا مجموعہ تھے ، انہوں نے بھی دل کا حال جاننے سے مجبوری ظاہر کر دی تھی۔
پھر ۔۔پھر ، میں کون تھا جو اس کے جہنمی ہونے کا اعلان کر رہا تھا ۔ میری حیثیت
کیا تھی ؟
اپنی غلطیوں کا احساس ہوتے ہی میں
کانپ اٹھا ۔میں فلسفہ رُوحانیت کو بھلا بیٹھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کیری رُوحانی
صلاحیتیں ختم ہوتی جا رہی تھیں ۔ آیت کریمہ کا اثر ختم ہو چکا تھا۔
اور پھر ۔۔۔ پھر میں سجدہ میں گر گیا ۔
سجدہ میں گر کر میرا دل بھر آیا۔ میں خدا کے حضور میں رو رو کر اپنی غلطیوں
کی معافی مانگتا رہا۔ مجھ پر شرم و ندامت کا شیاد احساس غالب تھا۔
کافی دیر بعد میں نے سجدہ سے سر اٹھایا تو ایک بار پھر خود کو ہلکا محسوس
کیا ۔ میں نے اُس دنیا کو چھوڑ کر واپس جیکب تالاب چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ میری
اصلی دنیا تو وہی تھی اور مستانی کا ٹھاکانہ تھی۔لیکن میرے ذہن میں ایک دم خیال
آیا کہ اپنی دنیا میں واپس جانے سے پہلے ایک بار سکھ دیو سے مل لوں ۔ اس کے ساتھ
میں نے جو انتہائی غیر مناسب سلوک کیا تھا اس کی معافی مانگ لوں۔
مستانی کا کہنا تھا کہ حق تعالیٰ درگزر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور میں حق
تعالیٰ کو راضی کرنے کی خاطر سکھ دیو کا پیر پکڑنے کو تیار ہو گیا۔
میں نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ وہ کہاں ہوگا، وظیفہ پڑھا اور پھر میری
ظاہری و باطنی نگاہ وسیع ہوتی چلی گئی۔
میں نے دیکھا ، دریا کے بیچ درختوں کے جھنڈ میں واقع ایک مندر کی سیڑھیوں پر
جھلسا ہوا سکھ دیو لیٹا تھا ۔ اس کے پاس ایک بوڑھا سنیاسی بیٹھا زخموں کا علاج کر
رہا تھا ۔ چھ ماہ گزرنے کے باوجود اس کے زخم نہیں بھرے تھے ۔ اس کی یہ حالت دیکھ
کر مجھے سخت افسوس ہوا۔ میں نے فوراً ہی اپنی بصیرت کو سمیٹا اور ”بھکر“ پہنچ کر
اس سے معافی مانگنے کا ارادہ کر لیا ۔
بھکر سکتھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ کے بیچ میں ایک جزیرہ ہے یہ
ہندوؤں کا نہایت ہی متبرک اور مقدس مقام ہے۔سکھ دیو تک پہنچنے کی خاطر میں نے
اسپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور سانس کے ساتھ ”حق اللہ “ کی گردان کرنے لگا۔ میں
اپنے جسم سے رُوح کو جُدا کرنا چاہتا تھا لیکن کافی دیر گزرنے کے باوجود میں اپنی
اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوا۔ میری رُوح نے جسم کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا
تھا۔ شاید میری رُوح میرے اعمال کی وجہ سے بھاری ہو چکی تھی۔ میں نے اس عمل کو ترک
کر دیا اور مادی ذرائع سے اس تک پہنچنے کا خاطر اٹھ کھڑا ہوا۔ اور پھر کچھ ہی دیر
بعد میں اسٹیشن کی طرف جا رہا تھا۔ میں نے گھر والوں کو کچھ بتانا مناسب نہیں
سمجھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ لوگ مجھے نہیں جانے دیں گے۔
اب جو واقعات میں بیان کر رہا ہوں ، یہ اس وقت کے ہیں ۔ جب پاکستان وجود میں
آ چکا تھا اور اس کرۂ ارض پر سب سے بڑا نقل مکانی کا سلسلہ جاری تھا۔
کچھ لوگ اس زمین کو چھوڑ کر جا رہے تھے اور کچھ لوگ اس زمین پر آ رہے تھے ۔
اس افراتفری کے زمانے میں کب کسی کو کسی کا ہوش رہتا ہے۔ شہر کی گلیاں اور سڑکیں
سنسان تھیں ۔ جو لوگ اس شہر کو چھوڑ کر جا رہے تھے وہ ہندو تھے اور اپنی جانوں کے
خوف سے دن ہی کو اسٹیشن چلے جایا کرتے تھے۔
جو مسلمان مہاجرین آرہے تھے انہیں مسلم لیگی رضا کار دن نکلتے ہی کیمپوں میں
پہنچا دیا کرتے تھے ۔ غرض جب میں اسٹیشن پہنچا تو چھوٹی لائن کے پار جو کھو کھرا
پار سے ہندوستان جاتی تھی ، ہندوؤں کا وہاں جم غفیر تھا۔ وہ سب مونا باؤ جانے کے
لیے ریل گاڑی کے منتظر تھے۔