Topics
میں ہر روز ہی گرو مندر سے صدر بس کے ذریعے جایا کرتا تھا اور اس طرح خان سے
میری شناسائی ہو گئی۔
پھر ایک دن اس نے مجھ سے التجا کی کہ میں اُسے ایکسر لائن جسے شاید گڑ
باغیچہ بھی کہتے ہیں کے آخری سرے پر واقع ایک مزار تک پہنچا دوں۔
اس کا خیال تھا کہ وہ اس ولی کی چوکھٹ سے ضرور صحت یاب ہو کر اٹھے گا میں نے
اُسے مزار تک پہنچادیا ۔ مجھے خان سے ہمدردی ہو چلی تھی ۔ میں ہر جمعرات کو اس کے
پاس جایا کرتا تھا ۔ وہ دوسرے فقیروں سے الگ تھلاگ مزار کے احاطے کے باہر سیڑھیوں
کے قریب پڑا رہتا تھا جیسے اندر جانا چاہتا ہو۔
ایک جمعرات کو جب میں وہاں پہنچا تو خان نہیں تھا میں نے اُسے بہت تلاش کیا
جب وہ نہیں ملا تو آس پاس موجود فقیروں سے اس کے بارے میں معلوم کیا ۔ ان ہی میں
سے ایک فقیر نے نہایت ہی عجیب بات بتائی۔
اس نے بتایا کہ جب میں پچھلی جمعرات کو خان سے مل کر چلا گیا تو اگلے دن
جمعہ کو ایک نہایت ہی حسین و جمیل دوشیزہ جو عربی لباس پہنے ہوئے تھی اور اس کے لب
و لہجے سے بھی یہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ عربی ہے ، مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے
آئی۔ اس کے ساتھ ایک عمر رسیدہ بزرگ بھی تھے جس وہ دونوں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے
لگے تو خان نے انہیں دیکھ لیا اور وہ ”مستانی“ کہہ کر چلایا۔
عربی دوشیزہ اور عمر رسیدہ بزرگ نے مُڑ کر اُس کی طرف ایک نظر دیکھا اور پھر
سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ خان دیوانوں کی طرح ”مستانی اور بابا جی “ کہہ کر انہیں آوازیں
دیتا رہا۔ عربی دوشیزہ عمر رسیدہ بزرگ کے ہمراہ مزار کے اندر چلی گئی جیسے ان
دونوں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ پھر خان پوری قوت سے اپنا جسم گھسیٹ گھسیٹ کر سیڑھیاں
چڑھنے لگا یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ ہر حال میں مزار کے اندر داخل ہونا چاہتا تھا
وہ جوش میں کئی سیڑھیاں چڑھ گیا لیکن پھر اس کے ہاتھوں نے جواب دے دیا ۔ خان ہمت
ہار گیا ۔ وہ اوپر کی آکری سیڑھی سے لڑکھتا ہوا نیچے آیا اور دم توڑ دیا ۔ وہ پہلی
سیڑھی کے پاس اس طرح سے پڑا تھا کہ جیسے مزار سے کسی کے نکلنے والے کو دیکھ رہا
ہو۔
عربی دوشیزہ اور عمر رسیدہ بزرگ مزار سے نکلے اور تیزی سے سیڑھیاں اتر کر
خان کے پاس پہنچے۔ ان دونوں نے گلاب کے پھولوں کی چادر اس پر ڈالی اور پھر عمر
رسیدہ بزرگ نے اُسے ہاتھوں پر آتھا لیا اور جھاڑیوں کے درمیان وسیع علاقہ مین
پھیلے ہوئے قبرستان کی طرف چلے گئے ۔
وہ عربی دوشیزہ اور عمر رسیدہ بزرگ کون تھے ، کہاں سے آئے تھے ۔ میں نے بہت
معلوم کرنا چاہا لیکن کچھ پتہ نہ چل سکا کیوں کہ انہیں پہلے کبھی کسی نے بھی مزار
پر آتے جاتے نہیں دیکھا تھا۔
اور مجھے آج بھی کبھی کبھی یہ خیال اتا ہے کہ کہیں مستانی اور بابا جی عالم
ِ اعراف سے صرف خان کو لینے تو نہیں آئے تھے۔۔