Topics

ان داتا

 

کتنا غلط خیال تھا میرا !

کتنا سفلی ذہن تھا میرا!

کاش ، اس وقت میں اپنے نفس پر قابو پا لیتا ! شیطان کے بہکانے میں نہ اتا!

ابھی میں سجدے میں ہی تھا کہ کمرے میں ایک زور دار دھکماکہ ہوا اور ساتھ ہی قہقہ بھی بلند ہوا ۔ میں نے گردن اٹھا کر دیکھا۔ سکھ دیو کمرے کے درمیان میں کھڑا قہقہ لگا رہا تھا ۔یقین جانئے جس طرح ایک بار سکھ دیو مجھے اپنے سامنے اچانک دیکھ کر اچھل پڑا تھا ، وہی حال اس وقت میرا ہوا تھا۔

میرے ساتھ ہی دھنو نے بھی سکھ دیو کو دیکھا اور ۔۔۔ ان داتا کہہ کر اس نے اپنا سر سکھ دیو کے قدموں میں رکھ دیا۔

دھنو کی یہ حرکت مجھے پسند نہ آئی ۔ میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا ۔” یہ کیا حرکت ہے؟ تم ایک انسان کو سجدہ کر رہی ہو!“

”اور ۔۔۔ جو تو ۔۔۔ ابھی ایک مورتی کو سجدہ کر رہا تھا؟“ سکھ دیو نے طنزیہ ہنس کر پوچھا۔

”میں سجدہ نہیں کر رہا تھا ۔“ میں نے برجستہ جواب دیا ۔ میری دینی حمیت بیدار ہو گئی۔

”یہ تو اور بھی انیائے ہے ۔“ سکھ دیو نے آنکھیں نکال کر کہا۔” انسان ہو کر بے جان چیزوں کو دھوکا دیتا ہے۔“

”تمیز سے بات کرو۔“ میں نے اس کے طنز پر تلملا کر ڈانٹا۔

”اوہو ۔۔۔ پتھروں کو سجدہ کرنے والا مجھے سبق پڑھانے چلا ہے۔“ سکھ دیو نے فلک شگاف قہقہ لگا کر بھر پور طنز کیا ۔

”تم۔۔ تم یہاں کیوں آئے ہو؟“ میں نے کھسیانا ہو کر پوچھا۔

”لو ! بھلا یہ بھی بتانے کی بات ہے ۔“ وہ فضا میں ہاتھ لہرا کر بولا۔”پچھلے دنوں تم نے جو مجھے کشٹ دیا تھا ! اب اس کا اُپائے کرنے آیا ہوں ۔“ پھر وہ زہر خند سے بولا ۔” کیا آپ کو سب کچھ بتانا ہوگا؟“

”اور ۔۔۔ اور ۔۔۔ واقعی میں تو سب کچھ بھول چکا تھا ۔ میں گھر سے ”نفس“ کو کچلنے کی خاطر نکلا تھا ۔ میں تو سکھ دیو سے معافی مانگنے جا رہا تھا ۔ لیکن دھنو کے چکر میں پڑ کر ایک بار پھر راستہ سے بھٹک گیا تھا۔۔ کیا ۔۔۔ کیا ۔۔نفس اپنے ماصد میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔؟

مجھے خاموش دیکھ کر سکھ دیو عیاری سے بولا۔” کیا وچار کر رہے ہو ، خان؟“

”سکھ دیو !“ میں سنجیدگی سے بولا۔” میں نے تمہارے ساتھ جو سلوک کیا ، اس پر مجھے شرمندگی ہے۔“ میں نے ایک بار پھر حالات کو سنبھالنا چاہ۔

”اب ، سمے گزر چکا ہے خان۔“ وہ حقارت سے بولا۔” غلطی معاف کرنا میں نے نہیں سیکھا۔“

”کیا مطلب؟“ میں نے ہراساں ہو کر پوچھا۔

”میں نے تم سے کہا تھا کہ اس دھرتی پر ایک ہی شکتی دان رہ سکتا ہے۔“ وہ غرور سے بولا ” اور اب سمے آگیا ہے کہ فیصلہ کر لیا جائے۔“

”اوہو!“ مجھے یہ سنتے ہی جھر جھری سی آگئی ۔ دنیا کے جھمیلے میں پڑ کر میں یہ بھول ہی گیا تھا کہ رُوحانی دنیا میں میرا رقیب بھی پیدا ہو چکا ہے۔

”کیوں خان! یاد آیا؟“ سکھ دیو نے اس ہی طرح حقارت سے پوچھا۔

میں نے دل ہی دل میں ایک وظیفہ پڑھا لیکن اس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوا میری روحانی صلاحیتیں ختم ہو چکی تھیں۔ میری ماورائی طاقتیں گم ہو چکی تھیں۔ میں تو لٹا لٹایا بس ایک انسان تھا ایک عام سا بے بس اور مجبور انسان ۔ نفس نے مجھے کہیں کا نہیں رہنے دیا تھا ۔ شیطان نے مجھے عرش سے اٹھا کر فرش پر پھینک دیا تھا اور ایک عام سا انسان جب اپنے سامنے طاقتور کو دیکھتا ہے تو خوشامد کا ہتھیار استعمال کرتا ہے۔میں نے بھی وہی حربہ استعمال کیا اور بولا” پرانی باتوں کو چھوڑو۔ ہم دوست بن کر بھی رہ سکتے ہیں۔“ اور اس کے ساتھ ہی میں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔

”دوست۔۔۔؟ اس نے نفرت سے میرا ہاتھ جھٹک کر کہا۔” اس دھرتی پر میری صرف ایک ہی دوست تھی (اس کا اشارہ مستانی کی طرف تھا) میں اس سے پریم کرتا تھا اس کی عزت کرتا تھا اس لی کہ وہ جنم جنم سے بھگوان کی اوتار تھا۔ اس نے بھگوان کے پریم میں اپنا جیون تیاگ دیا تھا اور تم۔۔ تم پریم کو کیا جانو ، تم۔۔ تم تو ۔۔ ایک حقیر سے کیڑے ہو۔!“

”کسی کو حقیر سمجھنا اچھا نہیں۔“ میں نے اُسے خوشامد سے سمجھایا۔” اس دنیا میں کوئی حقیر نہیں۔“

”خان! جب تم نے حویلی میں کشٹ دیا تھا تو میں نے تمہیں اخلاق کا درس نہیں دیا تھا ۔“ وہ تکبر سے بولا۔” لیکن اس ہی دن میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ تمہیں تباہ کرنا ضروری ہے کیوں کہ تم گیان دھیان کیا جانو ! تمہاری مثال تو اس کتے کی طرح ہے جو روٹی کے تکرے کی خاطر اپنے مالک کا در چھوڑ دیتا ہے۔“

سکھ دیو نے کتنی صحیح مثال دی تھی۔ میں نے دنیا کی خاطر اپنے رب کا در چھوڑ دیا تھا ۔ اپنی محسنہ کا ٹھکانہ چھوڑ دیا تھا۔ اس کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ میرے دماغ پر ہتھورے برسا رہا تھا ۔ وہ اس طرح اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔” تمہیں تباہ کرنے کی خاطر مجھے بڑے ہی جتن کرنے پڑے ہیں۔ مجھے قدم قدم پر تیری نگرانی کرنی پڑی ہے ۔“ پھر اس نے قدموں میں پڑی ہوئی دھنو کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور شیاطانی قہقہ لگا کر بولا۔” اسے پہچانو خان! یہ میری داسی شانو ہے۔“

میں نے اس کے متوجہ کرنے پر غور سے دھنو کو دیکھا ۔ وہ شانو ہی تھی۔

”میری اس داسی کو تمہارے پیر نے بلی کے جسم میں قید کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی بیا کل آتما کو چین نہیں تھا اور تمہارے پیر کے سورگ باش ہونے کے بعد یہ پھر میرے پاس چلی آئی اور میں نے اسے تمہارے کام پر لگا دیا۔“ سکھ دیو نے برے ہی فخر سے بتایا ۔ پھر اس کی جانب تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔” اس نے بڑا ہی کام کیا ہے۔ بڑا ہی کام اور اب اس کام کے عوض اس کی اتما کو چین مل جائے گا۔“

یہ کہہ کر سکھ دیو نے اپنے سر کے بالوں میں سے ایک بال توڑا اس پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور شانو کے گلے میں ہار کی مانند ڈال دیا۔

شانو کے چہرے پر خوشی اور مسرت دوڑ گئی ۔ اس نے دوبارہ جھک کر سکھ دیو کے چرنوں کو چھوا پھر دونوں ہاتھ جوڑ کر اُسے پرنام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

مجھے یہ جان کر سخت غصہ آیا کہ سکھ دیو نے اپنی داسی کے ساتھ مل کر مجھے تباہ کر دیا لیکن اس میں سارا قصور میرا ہی تھا ۔ اگر میں نفس کے ہاتھوں مجبور نہ ہوتا تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے ۔ اگر میں دنیاوی آسائشوں میں نہ پڑجاتا تو سکھ دیو کی کیا مجال تھی کہ وہ مجھے تباہ کر دیتا ۔ میرے تکبر سے ، میرے غصے سے میرے نفس کی کمزوری سے اس نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ وہ جان چکا تھا کہ روحانی دنیا میں ، میرے مزاج کے مطابق ، میری حیثیت بچے کی طرح ہے جسے کھلونے دے کر بہلایا جا سکتا ہے۔

اگر مستانی زندہ رہتی تو ممکن تھا کہ وہ مجھے اس دنیا کا پختہ ذہن رکھنے والا باسی بنا دیتی۔ لیکن میں تو ظاہر شان و شوکت میں ایسا کھویا کہ اس کی تمام ہدایات کو فراموش کر بیٹھا تھا مستانی کے یہ الفاظ میرے دماغ میں گونجنے لگے ”خان! اپنے نفس کو وابو میں کرو، اس نے برے بڑے زاہدوں کو راندہ گاہ خداوندی کر دیا ہے۔“

لیکن اب پچھتانے سے کیا ہو سکتا تھا۔ وقت گزر چکا تھا اور سکھ دیو میرے سامنے چٹان کی مانند سینہ تانے کھڑا تھا وہ سمجھ چکا تھا کہ میں اب کچھ بھی نہیں ہوں۔ اس کے باوجود وہ انتقام لینے پر تلا ہوا تھا۔

سکھ دیو نے کچھ پڑھ کر میری طرف پھونکا ۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے پورے بدن میں آگ لگ گئی ہے ۔ میں نے تکلیف سے چیختے چلاتے ہوئے اس کی منت سماجت شروع کر دی۔ سکھ دیو میں ابھی شرافت باقی تھی ۔ میرے چیخنے چلانے پر اس نے لمحہ بھر کو سوچا اور پھر نہایت غرور سے بولا ۔”خان! میں سمجھتا تھا کہ تم کچھ نہ ہو کر بھی کچھ نہ کچھ ضرور ہوگے لیکن اب معلوم ہوا کہ تم تو فقط متی کا ڈھیر ہو اور یہ میری شان کے خلاف ہے کہ مٹی کے ڈھیر کو روند ڈالوں۔“

اتنا کہہ کر اس نے دوسری پھونک ماری جس سے میرے جسم کو قرار آگیا لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے انگلی کا اشارہ کیا جس سے میں زمین پر بیٹھتا چلا گیا جیسے میرے جسم کی جان نکل گئی ہو پھر وہ نہایت فاتحانہ انداز میں بولا۔” میرا یہ کشٹ تم کو عمر بھر رُلاتا رہے گا ۔ آج سے تم کوڑھی بن کر در در کی بھیگ مانگتے پھرو گے۔“

پھر آخر میں اس نے ایسی بات بتائی جسے یاد کر کے مجھے آج بھی حیرت ہوتی ہے۔

اس نے کہا ”خان! ممکن ہے اب ہم جیون بھر نہ مل سکیں لہذا تمہیں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مستانی کے پتا میرا گرو تھا ، میرا پیر و مرشد تھا۔ میں نے اپنا جیون اس کے پیروں تلے گزرا۔ میں جو کچھ بھی ہوں ، اسی کی بدولت ہوں۔ میں اس کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن میرے پیر و مرشد کا کہنا تھا کہ میں اپنا مسلک ترک کر دوں جب کہ مجھے ہندو دھرم صرف اس وجہ سے پیارا تھا کہ وہاں میری بے پناہ عزت تھی۔ بس یہی ایک اختلاف تھا۔“

اس کے بعد سکھ دیو چلا گیا ۔ وہ پھر کبھی نہیں دکھائی دیا اور میں کوڑھی بن کر فٹ پاتھ پر آگیا۔

خان نے آخری جملہ ادا کرکے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے وہ رو رہا تھا۔

 

 

عرض ِ مصنف

یوں تو یہ داستان یہاں آکر ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن جب تک خان کے انجام کا علم نہ ہو تشنگی سی باقی رہتی ہے اور یوں اس داستان کا آخری باب ابھی باقی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں آپ کو خان کے انجام سے آگاہ کروں ، بہتر سمجھتا ہوں کہ خان سے اپنی ملاقات کا حال سنا دوں۔

خان سے میری ملاقات نہایت ہی ڈرامائی انداز میں گرومندر کے چوراہے پر ہوئی۔ میں صدر جانے کے لیے بس کے انتظار میں کھڑا تھا کہ کسی نے میری پتلون کا پائنچہ پکڑ کر کھینچا۔ میں نے دیکھا کہ ایک فالج زدہ شخص نہایت کمزور آواز میں مجھ سے پانی پلانے کو کہہ رہا ہے ۔ وہ نہ جانے کب سے پیاسا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر پڑیان سی جمی ہوئی تھیں اور سینے سے نیچے کا تمام دھڑ مفلوج تھا۔ وہ شخص نہایت ہی سسکتی ہوئی زندگی گزار رہا تھا ۔ میں نے اُسے ایک جھونپڑے میں بنے ہوئے ہوٹل سے لا کر پانی پلایا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہندو مسلم فسادات میں زخمی ہو کر مفلوج ہو گیا ہے لیکن جب میں نے پوچھا تو اُس نے جو عبرتناک داستان سنائی وہ آپ بھی پڑھ چکے ہیں۔