Topics

میرا فیصلہ

 

مستانی کی طبیعت عجیب نوعیت کی تھی۔وہ گفتگو کا آغاز بلا سوچے سمجھے کر دیا کرتی تھی۔ خواہ موضوع کچھ ہی ہو وہ بلا تکان بولے جاتی تھی۔ اس کی بات نہایت ہی جامع اور مدّلل ہوا کرتی تھی۔ مادیت سے لے کر روحانیت تک اس کے پاس علم کا بیش بہا خزانہ تھا۔ لیکن اس کا طریقہ درس کچھ عجیب سا تھا۔ وہ اپنی بات کا آغاز کہیں سے بھی کر دیتی اور پھر مختلف پہلوؤں کو بیان کرتی ہوئی مجھے کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور بتا دیتی جو میرے لیے فائدہ مند ہوتی تھی۔”حق اللہ “ اور ”اللہ ھو“ سے لے کر اب تک میرے ساتھ یہی ہوتا رہا تھا۔ مستانی جب بھی بات کرتی تھی ، بے مصرف نہیں کرتی اور اس وقت ۔۔ اس وقت تو اس نے موضوع ہی ایسا شروع کر رکھا تھا ۔ جس کے بارے میں مجھے شروع ہی سے جستجو تھی۔

لیکن اب اس نے موضوع کا تمام نچوڑ نکالنے کے بعد فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا تھا اور نہایت ہی مشکل کام تھا میرے سامنے اس نے رُوح کی دونوں حقیقتں بیان کر دی تھیں ۔ اب مجھے ان دونوں میں سے کسی ایک کا نتخاب کرنا تھا میں خاموش تھا۔ مستانی بھی خاموش تھی ۔ اسے میرے فیصلے کا انتظار تھا ۔

اس طرح تقریباً دس پندرہ منٹ گزر گئے۔

”چائے ۔۔۔ اور پیو گے؟“ اس نے مجھے سوچ میں گُم دیکھا تو پوچھا۔” اس طرح شاید تمہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔“ اس نے کہا اور میرا جواب پانے سے پہلے ہی کھانا پکانے والے کونے کی طرف چلی گئی ۔ میں نے بیٹھے بیٹھے گردن گھما کر دیکھا۔ میرا خیال تھا کہ مستانی دیر سے بیٹھی میرے ساتھ باتیں کر رہی تھی ۔ لہذا ، اب وہ چولہا جلائے گی۔ لیکن چولہا جل رہا تھا اور اب  رکھی ہوئی کتیلی کا پانی اُبل رہا تھا ۔ وہاں پہلے ہی ایک دوسری مستانی بیٹھی چائے بنانے میں مصروف تھی اور پھر مستانی جو میرے پاس سے اٹھ کر گئی تھی اس بیٹھی ہوئی مستانی کے جسم میں اس طرح سما گئی کہ وہ اب ایک ہی معلوم دے رہی تھی ۔ مستانی کا دوسرا وجود میرے لیے باعث ِ حیرت تھا۔ ایک بات پہلے بھی مجھے اس ہی قسم کا مشاہدہ ہو چکا تھا۔

مستانی کا دوسرا وجود ۔۔۔ کیا وہ۔۔۔ اس کی روح ہے ، میں نے سوچا کہ کیا۔۔۔۔ مستانی کو اپنی روح پر قابو ہے ! ہاں ۔۔ یہی بات ہے ، میرے دل نے تائید کی ، جب ہی اَن دیکھی دنیا کی سیر کرتی ہے ، جب ہی تو وہ ذاتِ الٰہی کے حضور میں سرخرو ہے۔ جب ہی تو ہر کام اس کے لیے آسان ہے ۔ وقت اور زمانہ اس کے قدموں سے لپٹ کر چلتا ہے۔ مادی اور غیر مادی اشیاء اس کے زشاروں پر ناچتی ہیں اور پھر ۔۔ پھر ۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا۔

مستانی مٹی کے دو پیالوں میں بغیر دودھ کی چائے لے آئی۔ اس نے ایک پیالہ مجھے دے دیا اور دوسرا پیالہ ہاتھ میں لیے ہوئے ۔ پھر تکیہ کے سہارے پہلے ہی کی طرح بیٹھ گئی۔

”اگر میں اپنی روح پر قابو حاصل کر لوں ، اُسے اپنے تابع کروں تو۔۔۔؟ میں نے پوچھا۔

”تو ۔۔۔ بہت ہی جلد ، تمہارا حق تعالیٰ سے رابطہ ہو جائے گا ۔ میرا محبوب تمہیں کون سی سند سے نوازے گا مجھے اس کا علم نہیں۔“ مستانی نے خوش ہو کر کہا۔” لیکن تم اس کے محبوب ضرور ہو جاؤ گے اور جو اس کا محبوب ہوتا ہے ، جس پر اس کی رحمت کا سایہ ہو جائے یہ دنیا اس کی ٹھوکروں میں ہوتی ہے۔“

”تو ۔۔ پھر تم مجھے ، اپنی ہی روح کا تابع بنا دو۔۔ مجھے اپنی ہی رُوح پر قابض کر دو۔“ میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

” مبارک ہو خان ، مبارک ہو ! ۔۔۔“ وہ والہانہ خوشی سے بولی ۔” یہ میرے محبوب کا کرم ہے کہ اس نے تمہارے دماغ میں یہ بات ڈالی ۔ تم نے جیتے جی ایسی دنیا کا انتخاب کیا ہے جس کے سامنے اس جیسی ہزار دنیائیں بھی ہیچ ہیں ۔ تم نے یہ فیصلہ کر کے میرے شریکِ حیات بننے کا حق ادا کر دیا۔“

”شریک ِ حیات ۔۔۔؟“ میں نے اس کے آخری جملہ پر چونک کر کہا۔

”خان! “ وہ اس ہی طرح والہانہ خوشی سے بولی ۔”تو نے ثابت کر دیا ، تجھے مجھ سے سچا عشق ہے اور میرے محبوب کا منشا ہے کہ میں ابدی زندگی کے لیے بھی ایک ایسا ساتھی چن لوں جو وہاں میرے ساتھ رہ سکے۔“

مستانی کی یہ بات سن کر شریک ِ حیات والی بات میری سمجھ میں آگئی۔ مستانی کے کہنے کے مطابق اس نے مجھے ابدی حیات کے لیے چن لیا تھا۔

مستانی کے اس فیصلہ سے مجھے خوشی ہوئی۔ اللہ کی مستانی ، ذاتِ الٰہی کی دیوانی میری ہو جائے گی ۔ خدا کی طرف سے عطا کی گئی اس نعمت پر میں جتنا بھی چاہتا ناز کرتا لیکن ، نہیں۔ میرا نفس میرے قابو میں تھا۔ میں نے اس نعمت کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ بس خوشی کی ایک لہر سی آئی اور گزر گئی۔

”لیکن خان !“ مستانی ایک گہری سانس لے کر بولی۔” یہ نفس بڑا ہی فتنہ پرور ہے ۔“

”نفس کی کیا بات ہے!“ میں نے اس کی بات کاٹ کر جواب دیا ۔” میں نے نفس کو مار دیا ہے۔“

”نفس مرتا نہیں خان۔“ وہ سپاٹ لہجہ میں بولی ۔” یہ تو انسان کو مارتا ہے۔“

”بات یہ ہے کہ انسان جب تک زندہ رہتا ہے یہ اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔“ اس نے جواب دیا۔” اور ابھی ہم دونوں میں سے کسی کا یہ وقت نہیں آیا کہ ابلیس کی اس آماجگاہ سے چھٹکارا حاصل کر لیں ۔“

”لیکن ، میں تو موت سے پہلے ہی اس سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہوں ۔“ میں نے بڑے ہی اعتماد سے کہا۔

”تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟“ اس نے سوالیہ انداز میں کہا پھر خود ہی بولی ۔” انسان عرفان و آگہی کی کسی بھی منزل پر پہنچ جائے ، یہ اُسے صراطِ مستقیم سے بھٹکانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور پھر جو لوگ ذات ِ الٰہی کا قرب چاہتے ہیں ان کا تو یہ خاص کر دشمن ہو جاتا ہے ۔“

”تم کیا کہنا چاہتی ہو؟“ میں نے وضاحت چاہی۔

”میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ کہیں تم اس شیطان کے بہکانے میں نہ آجاؤ۔ کیوں کہ تم نے حق تعالیٰ تک پہنچنے کے جو راہ منتخب کی ہے اس پر یہ ظالم تمہیں قدم قدم پر بہکائے گا۔“

”تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔“ میں نے سے تسلی دی۔

”مجھے تم پر بھروسہ ہے“ مستانی نے مسکرا کر جواب دیا۔” لیکن اس ظالم کی کارستانیوں سے بھی خوب واقف ہوں ، اس بد بخت کی بدولت کئی زاہد راندہ درگاہ ہو چکے ہیں۔“

”تم بے فکر رہو، اب یہ میرے قابو میں ہے۔“ میں نے کہا۔

”مجھے فکر اس بات کی ہے کہ تم مرد ہو۔“ مستانی بولی ۔ ”اور یہ بد بخت مرد کو ہی جلد بے قابو کر دیتا ہے ۔“ پھر وہ قدرے فکر مندی سے بولی۔” اور جس مرد کے پاس ماورائی طاقت ہوتی ہے اُسے یہ ٹکنے ہی نہیں دیتا۔“

”لیکن ، جب میں اس بے لگام گھوڑے کو قابو میں رکھوں گا تو۔ پھر۔۔۔؟ میں نے جیسے پوچھا۔

”ہاں ، اگر تم نے رُوح پہ قابو پانے کے بعد بھی نفس کو بے قابو نہیں ہونے دیا تو پھر بآسانی قرب الٰہی حاصل کر لو گے ۔ لیکن ، یاد رکھو !“ وہ انگلی اٹھا کر بولی ۔” اگر اس دوران تم سے ذرا بھی لغزش ہو گئی تو پھر ۔۔۔ تم زندگی بھر پچھتاتے رہو گے۔“

”مجھے خود پر بھروسہ ہے۔“ میں نے پُر عزم انداز میں کہا ۔ ”لیکن پھر بھی اگر مجھ سے کوئی لغزش ہوئی تو۔۔۔ تم ساتھ ہو۔“

”ہاں ، جب تک میں ساتھ ہوں شاید یہ تم پر قابو نہ پا سکے ۔“ وہ خلا میں دیکھتے ہوئے بولی۔”لیکن میں بھی کب تک ساتھ ہوں۔۔۔ میری منزل قریب ہے اور تُم منزل سے دور ہو۔“ پھر وہ مجھے سمجھاتے ہوئے بولی۔” خان ! روح کو تابع کرنے کے بعد تم روحانیت کا ایک مرحلہ طے کر لو گے ، تم کسی حد تک ماورائی طاقتوں کے مالک ہو جاؤ گے پھر۔۔ پھر ۔۔۔ تمہیں سخت آزمائشوں سے گزر نا ہوگا اور اگر تم نے ثابت قدمی سے یہ مرحلہ بھی طے کر لیا تو پھر تم”پردہ حجاب“ کے قریب پہنچ جاؤ گے ۔ تمہارے اور ذاتِ الٰہی کے درمیان صرف یہی ایک چیز رہ جائے گی ۔“

”اللہ مجھے ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے !“ بے ساختہ میرے منہ سے دعائیہ کلمہ نکلا۔

”آمین !“ مستانی نے جواب میں کہا۔ پھر تکیہ سے اٹھتے ہوئے بولی ۔” میں بھی چاہتی ہوں کہ تم جلد از جلد منزل تک پہنچ جاؤ ۔“ پھر پلنگ سے اٹھتے ہوئے بولی ۔” وقت گزرتا جا رہا ہے ، نماز پڑھ لو۔“

یہ سُن کر میں بھی ساتھ ہی اٹھ گیا۔

مستانی نے مجھے ایک آسن بتایا ۔ اس خاص آسن کے طریقے سے میں ”حق اللہ “ کی ضرب کے ساتھ سانس کی مشق کرنے لگا ۔

جب میں اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر ”حق اللہ “ کے قاف کے ساتھ سانس روکتا تھا تو بڑی دشواری ہوتی تھی ۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی دشواری پر قابو پاتا چلا گیا میں حق کے ساتھ سانس اندر لیتا تھا اور ”اللہ“ کے ساتھ خارج کرتا تھا۔ اس طریقہ سے میں ”حق اللہ “ کے قاف کے ساتھ سانس کھینچ کر جتنی دیر چاہتا اپنے جسم میں روکے رکھتا اور اس ہی طرح ”اللہ“ کی ہ کے ساتھ جتنی دیر چاہتا باہر رکھتا۔ اس طریقہ سے مجھے اپنی سانس پر اختیار حاصل ہوتا چلا گیا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں نے اپنی حقیقت کو پا لیا ۔ یہ گوشت پوست کا جسم اب میرے لیے محض ایک لباس کی حیثیت رکھتا تھا ۔ میں جب بھی چاہتا خود کو اس لباس سے آزاد کر لیتا اور پھر ایک دوسری ہی دنیا میں پہنچ جاتا۔ وہ دُنیا کیا تھی ، کیسی تھی ، میرا قلم بیان نہیں کر سکتا۔

اُس دنیا میں پہنچنے کے بعد میرا دل واپس آنے کو نہیں چاہتا تھا۔ لیکن مجھے مجبوراً واپس انا پڑتا تھا کیوں کہ ابھی میں نے موت کا ذائقہ نہیں چکھا تھا اور اس دنیا میں موت کا ذائقہ چکھے بغیر رہا نہیں جا سکتا تھا۔

اب یہ دنیا میرے لیے مٹی کا ڈھیر تھی مجھے موت کی تمنا تو تھی ۔ لیکن وہ مجھ سے بہت دور تھی۔