Topics

ایک چال

 

وہ بڑی ہی تاریک رات تھی ۔ چاروں جانب سناٹا چھایا ہوا تھا اور کبھی کبھی اس سناٹے کو کتوں کے بھونکنے کی آواز توڑ دیا کرتی تھی۔

میں شاہی بازار کی پیچ در پیچ گلیوں سے گزرتا اسٹیشن کی طرف جا رہا تھا ۔ میں نے ایک لمبی سی گلی کو پار کیا اور ایک دوسری چھوٹی گلی میں داخل ہونا ہی چاہتا تھا کہ ٹھٹک کر رہ گیا۔ وہ ایک شریں اور دل نواز آواز تھی۔ میں نے اتنی دل کش آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی ۔ یہ ایک عورت کی آواز تھی جس نے مجھے خان بابا کہہ کر پکارا تھا۔

میں نے بڑی ہی سادہ اور پاکیزہ زندگی گزاری تھی ۔ آج تک میری زندگی میں کبھی کسی عورت کو دخل نہیں رہا۔ رات کے سناٹے میں اپنا نام سُن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے آواز کی طرف دیکھا۔ اس چھوٹی سی گلی کے درمیان میں ایک نہایت ہی خوبصورت عورت سندھی اجرک سے اپنا جسم چھپائے کھڑی تھی ۔ میں نے قریب پہنچ کر پوچھا ۔” کیا تم نے مجھے آواز دی ہے؟“

”ہاں ، بابا جی !“ اس عورت نے نہایت ہی مترنم آواز میں کہا۔” اس وقت آپ کو دیکھ کر میرا مَن خوشی سے کِھل اٹھا ہے۔ شاید بھگوان نے آپ کو میری رکھشا ہی کے لیے بھیجا ہے۔“

”بتاؤ ، بات کیا ہے ؟“ میں نے پوچھا ۔

میں سمجھ گیا کہ یہ ہندو عورت کسی مصیبت میں گرفتار ہے اور میرے مقتدین سے ہے۔ اس وقت مجھے یہاں سے گزرتا دیکھ کر مدد کی طالب ہوئی ہے۔

”آپ ، اندر آجایئے !“ اس نے ایک دروازہ کی جانب چلتے ہوئے کہا ، جو کہ تین چار قدم کے فاصلے پر تھا۔

میں نے سوچا کہ بے چاری مصیبت کی ماری ہے اور شاید کوئی مرد اس کے گھر میں نہیں ہے ۔ لہذا اس کے پیچھے چل دیا۔ اس نے محراب دار بنے ہوئے دروازے کے کواڑوں کو دھکا دیا اور اندر داخل ہو گئی۔

یہ مکان کافی بڑا تھا لیکن اندر سے بہت پرانا دکھائی دیتا تھا اور اس کے نیچے سے اینٹیں صاف نظر آرہی تھیں۔ رنگ بھی مٹیالا سا ہو گیا تھا ۔ اس کے علاوہ پوری عمارت پر ایک ناقابلِ بیان ویرانی سی مسلط ہو گئی تھی۔

اس عورت نے اس مکان کے صحن کو عبور کیا اور اندر کی جانب بنے ہوئے قطار در قطار کمروں میں سے ایک کمرہ میں داخل ہو گئی ۔ میں ابھی صحن کے درمیان ہی پہنچا تھا کہ اس ہی عورت کی نہایت ہی شریں آواز سنائی دی ۔” اس طرف اندر آجاؤ۔“

 میں نے بے سوچے سمجھے اس کمرہ کی طرف قدم بڑھا دہیئے اور جب میں نے اس کمرہ میں قدم رکھا تو حیران رہ گیا ۔ یہ کمرہ نہایت ہی قیمتی ضروری اشیاء سے سجا ہوا تھا ۔ ابھی میں اس کمرہ کی چیزیں دیکھنے میں محو تھا کہ اس عورت نے مخاطب کیا ”خان بابا ! میں اس وقت ایک زبردست مصیبت میں گرفتار ہوں اور میں نے اسی وجہ سے آپ کو تکلیف دی ہے۔“

”کیا تم اس مکان میں تنہا رہتی ہو؟“ میں نے پوچھا ۔

”ہاں ،بابا جی! “ اس نے نہایت ہی ملائم لہجہ میں جواب دیا ۔” اس مکان میں اپنی کنواری کنیا کے ساتھ تنہا ہی رہتی ہوں۔“

”ہوں ۔۔“ میں نے ایک گہری سانس لے کر پوچھا ۔”بات کیا ہے؟“

”اس سمے بہت مجبور ہو کر آپ کو تکلیف دے رہی ہوں ۔“ وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر بولی۔”اس گھٹنا کا اُوپائے آپ ہی کر سکتے ہیں۔ اس دھرتی پر آپ بھگوان کے اوتار ہیں ۔ آپ کی شکتی میری مہاہتا کر سکتی ہے۔“

اس کی زبان سے تعریفی کلمات سن کر میرے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور میں نے نہایت ہی تمکنت سے کہا۔” تم کچھ بتاؤ تو۔۔۔ میں ضرور کچھ نہ کچھ کروں گا۔“

”اَن داتا !“ وہ اسی طرح ہاتھ جوڑے ہوئے غم زدہ لہجے میں بولی ۔” میری ایک ہی کنواری کنیا ہے ۔۔۔ اور ۔۔۔ وہ ۔۔۔ اس وقت سخت بیمار ہے۔“

”تمہاری بیٹی کہاں ہے ؟“ میں نے قدرے سینہ پُھلا کر پوچھا۔

میری بات سنتے ہی وہ تیزی سے کمرے میں ایک دیوار کے ساتھ پڑی ہوئی مسہری کے پاس پہنچی اس مسہری پر نہایت دیدہ زیب چھپر کھٹ پڑا ہوا تھا اس کے چاروں جانب سُرخ ریشمی پردے لٹک رہے تھے ۔ اس عورت نے ہاتھ بڑھا کر سامنے کی جانب کا پردہ اٹھاتے ہوئے کہا۔” یہ ہے میری کنیا ، مہراج !“

مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ ایک سولہ سالہ نہایت ہی حسین لڑکی بستر پر محوِ خواب تھی۔ اس کے چہرے پر رنائیاں ہی رعنائیاں تھیں۔ اس کے حسن میں شباب ہی شباب تھا۔ میں نے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔ اتنا حسین چہرہ تو میں نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔میں اس کے حسن کے سحر میں ڈوبا ہوا آگے بڑھا اور مسہری کے قریب پہنچ کر رُک گیا ۔

مجھے وہ چہرہ جانا پہچانا سا لگا جیسے میں نے اُسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہو لیکن کہاں دیکھا کب دیکھا ہے یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔

میں نے دل ہی دل میں چند ایتیں پڑھ کر اس کے چہرے پر پھونک ماری۔ میرا خیال تھا کہ اس پر اگر کوئی اثر ہے یا یہ بے ہوش ہے تو ضرور آنکھیں کھول دے گی لیکن نہیں ، دوشیزہ اسی طرح بے ہوش لیٹی رہی ۔ اس کی سانس کے زیرو بم کے علاوہ جسم نے ذرا سی بھی حرکت نہیں کی۔

”یہ کیا بیمار ہے؟“ میں نے اپنی ناکامی کو چھپاتے ہوئے کہا ۔” کب سے بیمار ہے؟“

”بابا جی! “ عورت بولی ۔” یہ آج سے نہیں تین برس سے اسی طرح خاموش لیٹی ہے ۔“

”تین برس سے !“ تعجب میں میرے منہ سے نکلا۔

”ہاں ، یہ ناگ دیوتا کا شڑاپ ہے۔“ عورت نے جواب دیا اور ہاتھ میں پکڑا ہوا پردہ چھوڑ دیا۔ ریشمی پردے کے پیچھے مسہری پر لیٹی ہوئی دوشیزہ پھر چھپ گئی۔

”کیا مطلب ؟“ میں نےکچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔

”بیٹھے ، بتاتی ہوں“ اس نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ جب میں بیٹھ گیا تو وہ سامنے کھڑی ہو کر بولی ”مہاراج یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ آج سے کئی برس پہلے میں تھر پار کر کے گاؤں میں اپنے پتی دیو کے ساتھ رہا کرتی تھی بھگوان نے بڑی ہی پرار تھناؤں کے بعد مجھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی سے نوازا تھا۔ اس گاؤں کے ایک کنارے پر ناگ دیوتا کا مندر بھی تھا۔ میری بیٹی اپنی سکھیوں کے ساتھ صبح شام وہاں پوجا پاٹ کے لیے جاتی تھی ۔ ناگ دیوتا کی یہ ریت ہے۔“ وہ نہایت دکھ سے بولی ۔” کہ جب کوئی کنواری کنیا جوان ہو جاتی ہے تو ناگ پنچھی کے دن اسے ایک سال کے لیے داسی بنایا جاتا ہے ۔ لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور پھر ایک ہفتہ بعد ہی جب کہ میری بیٹی سورج ڈھلے کنوئیں سے پانی بھر کر لا رہی تھی، کسی ناگ نے اُسے ڈس لیا۔“

اتنا کہہ کر وہ عورت لمحہ بھر کو رُکی ۔ پھر گلوگیر آواز سے بولی ۔” میں نے فوراً ہی سنیاسیوں اور سپیروں کو بلایا۔ انہوں نے اس کا زہر تو چوس لیا لیکن اسے ہوش میں نہ لا سکے ۔ بس جب سے یہ یوں ہی بے ہوش پڑی ہے ۔ میں نے اس کا بہت علاج کرایا ، بہت علاج کرایا اور میں اسے لے کر یہاں حیدرآباد شہر میں آگئی۔ یہاں آکر میں نے نہ صرف ڈاکٹروں اور ودیدوں کا علاج کرایا بلکہ برے بڑے بہا پُرش سادھوؤں کو بھی دکھایا لیکن کوئی بھی اسے ہوش میں نہیں لا سکا۔“

”پھر ۔۔۔؟ “میں نے بے خیالی سے کہا ۔

”پھر ، ایک دن ۔“ وہ خلا میں دیکھتی ہوئی بولی ۔” ایک مہان گیانی سادھو نے بتایا کہ یہ بے ہوشی دراصل ناگ دیوتا کا شڑاپ ہے اور اس کا اوپائے صرف شیش ِ ناگ کا ”من“ ہے۔“

”شیش ناگ کا من ؟“ میں نے تعجب سے کہا۔

”مہاراج !“ وہ ہندو عورت عقیدت سے بولی ۔” جب ناگ ہزار سال کا ہو جاتا ہے تو اس کے شریر کا زہر ایک روشن گولا بن جاتا ہے اور وہ سیاہ راتوں میں اس ”من“ کو منہ سے نکال کر اس کی روشنی میں گھومتا ہے۔ اسی ”من“ میں ناگ دیوتا کی وہ شکتی بھی ہوتی ہے کہ اگر کسی مرے ہوئے انسان کو بھی اس کا پانی پلا دیا جائے تو وہ آنکھیں کھول دیتا ہے۔“

” تم نے عجیب سی بات بتائی ہے ۔“ میں نے اسی طرح حیرانی سے کہا۔

”مہاراج !“ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا۔” دھرم کتھا میں یہی کچھ لکھا ہے ۔ شیش ناگ کا ”من“ حاصل کرنا بڑا ہی کٹھن ہے ۔۔۔ بڑا ہی کٹھن ، لیکن جوتش اس دھرتی پر بھگوان کا اوتار ہوتے ہیں ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے ۔“

”مجھ سے کیا چاہتی ہو ؟“ میں نے پوچھا۔

”میں ایک کمزور عورت ہوں ۔“ وہ آبدیدہ ہو کر بولی ۔” مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ کچھ کر سکوں ۔“ پھر اس نے ہاتھ جوڑ کر گڑ گڑاتے ہوئے کہا ۔” آپ گیانی ہو مہاراج ۔ آپ میں بھگوانوں جیسی شکتی ہے ۔ میری کنیا کو اس مسیبت سے نجات دلا دو ۔ ناگ دیوتا کے شڑاپ سے بچالو ، یا پھر“ اس نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا ۔” بھگوان سے کہو اسے اپنے پاس بلالے ۔ میں کب تک اس لاش کو یوں ہی سینے سے لگائے رہوں گی ۔“

یہ کہہ کر وہ رونے لگی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کمرے کی خاموش فضا میں اس کی دبی دبی سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔

اس کی التجا نے میرا دل پگھلا دیا۔ میں نے سوچا کہ اب تک میں نے جو کچھ کیا ، اپنے تسکینِ نفس کی خاطر کیا اپنے روحانی بھرم کو قائم رکھنے کی خاطر کیا اور اب مجھ سے ایک عورت التجا کر رہی تھی ۔ اپنے دکھ کا مداوا چاہتی تھی ۔ پھر یہ حسین لڑکی کب تک یوں ہی بے ہوش پڑی رہے گی۔ اس کے معصوم حُسن نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔ ویسے بھی میں سکھ دیو کے پاس معافی مانگنے جا رہا تھا ۔ لیکن اب سوچا کہ پہلے اس نیک کام سے فارغ ہو لوں ۔ شاید میں غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے کی ایہ ایک سبیل بھی ہو۔ اور ۔۔۔ اور پھر میں نے اس عورت کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس عورت نے بتایا کہ تاریک راتوں میں وہ ناگ پھلیلی نہر کے کنارے کسی جگہ پر نمودار ہوتا ہے اور پھر اپنے ”من“ کو نکال کر اس کی روشنی میں سیر و تفریح کرتا ہے ۔

اس ناگ کے بارے میں برسہا برس سے شہرت تھی۔ کوئی اسے شیش ناگ بتاتا تھا اور کوئی اسے دیوتا کہتا تھا۔ اس ناگ کے بارے میں باتیں پھیلانے والے وہ مچھیرے تھے جو پھلیلی نہر میں مچھلیاں پکڑا کرتے تھے۔

میں اس عورت کے ساتھ ہی حویلی میں ٹھہر گیا اور پھر دوسری رات جب نیلے آسمان پر تارے جھلملا رہےتھے ، میں عزم اور ولولے کے ساتھ اپنی مہم پر روانہ ہو گیا۔

 میں کبھی بھی اس قسم کے واقعے سے دو چار نہیں ہوا تھا میں نہیں جانتا تھا کہ شیش ناگ کو کس طرح قابو میں کر کے اس کا من حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ بس مجھے خود پر اعتماد تھا ، بھروسا تھا۔ نہ جانے یہ کیسی لگن تھی ، کیسا جذبہ تھا۔

اس زمانے میں تین نمبر تالاب سے لے کر پھلیلی نہر کے کنارے ویرانی ہی ویرانی تھی اور اتنی زیادہ خوردرو جنگلی جھاڑیاں تھیں کہ ان میں سے آدمی کا گزرنا مشکل تھا ۔ البتہ ان جھاڑیوں میں چند پگڈنڈیاں بنی ہوئی تھیں ۔ جنہیں دن میں آنے جانے والے مچھیرے استعمال کرتے تھے۔

میں ان ہی پگڈنڈیوں میں سے ایک لمبی پگ ڈنڈی پر ہو لیا ۔ یہ پگ ڈنڈی بل کھاتی ہوئی پھلیلی نہر کے کنارے کی طرف جاتی تھی ابھی میں کچھ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ ایک زبردست غراہٹ سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی دائیں طرف کی جھاڑیوں سے ایک کالے رنگ کی بلی نکلی اور میرے سامنے کی جانب اسی پگڈنڈی پر اس طرح سے بھاگتی چلی گئی جیسے وہ مجھ سے پہلے پہنچنا چاہتی ہو ۔ میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ بس ایک لمحہ کے لیے رک کر اُسے دیکھا اور پھر آگے بڑھ گیا۔

ابھی میں تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک فضا میں بین کی آواز سنائی دی ۔ میں ٹھٹک کر کھڑا ہو گیا اور بین کی آواز کی طرف دیکھنے لگا۔ پگ ڈنڈی سے ہٹ کر گھنی جھاڑیوں کے درمیان ایک نہایت ہی سیاہ چمک دار سانپ جس کا قد ایک گز یا اس سے کچھ زیادہ ہوگا اپنی دُم کے سہارے کھڑا بین کی لَے پر جھوم رہا تھا ۔ اس کے چوڑے پھن پر سنہری بالوں کا ایک چھوٹا سا تاج تھا۔ اس کی ہولناکی میں اضافہ کر رہی تھی ۔ اس کی نگاہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہو۔

میں نے بین بجانے والے کی طرف دیکھا۔ وہ بیس بائیس سال کا ایک خوب رو سپیرا تھا ۔ اس نے سیاہ رنگ کی قمیض پر سفید دھوتی باندھ رکھی تھی اور سر پر زرد رنگ کی پگڑی تھی۔ اس کے دونوں بازؤوں کی مچھلیاں ابھری ہوئی تھیں اور وہ مضبوطی سے بین کو دونوں ہاتھوں میں تھامے ناگ کے سامنے رقص کرتے ہوئے بجا رہا تھا۔

اس کی دُھن بڑی ہی دل کش اور مسحور کُن تھی ۔ وہ ماحول سے بے خبر بین بجاتا رہا۔ سیاہ ناگ مست ہو کر جھومتا رہا اور۔۔اور۔۔۔ میں ایک بڑی سے جھاڑی کے پیچھے چھپ کر یہ سب دیکھنے لگا۔

کچھ دیر بعد۔۔ اچانک تاریک ماحول چکاچوند کردینے والی روشنی سے جگمگا اٹھا یہ اس قدر تیز روشنی تھی کہ کوئی بھی شخص آنکھوں کو جھپکائے بغیر نہیں رہ سکتا پھر حیرت سے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ میرے سامنے ایک نا قابلِ یقین منظر تھا۔

سانپ نے بین کی دھن پر مست ہو کر پنگ پانگ کی گیند سے بھی چھوٹی ایک سفید رنگ کی گول سی چیز منہ سے نکال کر زمین پر ڈال دی ۔ یہ اس کا مَن تھا ۔ من کے زمین پر گرتے ہی قریب کی ایک جھاڑی کے پیچھے سے عورت بر آمد ہوئی ۔ شاید وہ اس موقع کی منتظر تھی۔

اس عورت کے دائیں ہاتھ میں کانسی کی ایک بڑی سی تھالی تھی۔ اس تھالی میں ایک درجن سے زیادہ گھی کے چراغ جل رہے تھے ۔ وہ عورت ہاتھ میں تھالی لیے ہوئے ناگ کے سامنے رقص کرنے لگی۔ اس کا پورا جسم سیاہ تھا، بالکل ناگ کی مانند اور وہ بین کی دھن پر ناگن ہی کی طرح لہرا رہی تھی۔

ایسا رقص میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ ماحول نہایت ہی پُراسرار ہو گیا تھا۔ اور وہ عورت ۔۔ عورت کے بجائے ناگن نظر آرہی تھی۔ اس کے جسم کا ایک ایک عضو کی بین کی لے پر ناگ کی طرح لہرا رہا تھا۔

وہ عورت ناگ کے چاروں جانب رقص کرتے ہوئے گھوم رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بلا کا سحر تھا۔ ناگ بھی اس کے ساتھ ہی گھوم رہا تھا ۔ عورت کی کوشش تھی کہ ناگ کی توجہ زمین پر پڑے ہوئے ”من“ سے ہٹ جائے۔ پھر بین کی لے بدل گئی۔ اس کی دھن بار بار بلند ہو کر آہستہ ہو جاتی تھی اور ساتھ ہی رقص کرتی ہوئی عورت کبھی زمین پر بیٹھ جاتی تھی اور کبھی کھری ہو جاتی تھی۔

بین کی دھن اور عورت کے رقص کے ساتھ ہی ناگ بھی اسی طرح حرکت کر رہا تھا ۔ پھر بین کی دھن آہستہ ہوتی چلی گئی۔ اس کے ساتھ ہی عورت اور ناگ بھی بیٹھنے لگے پھر عورت نے رقص کرتے ہوئے تھالی زمین پر رکھ دی ۔ تھالی میں دودھ تھا اور اس کے کناروں پر گھی کے چراغ جل رہے تھے ۔

ناگ نے جوں ہی دودھ پینے کی خاطر تھالی میں منہ ڈالا اس عورت نے مٹی کی ایک پکی ہانڈی تیزی سے ”من“ پر اوندھا دی۔ ماحول ایک دم تاریک ہو گیا۔ ناگ نے غضب ناک ہو کر اپنا سر اٹھایا ۔ فضا میں ”فوں“ کی خوفناک آواز گونجی ۔ پھر اس کے منہ سے شعلے سے لپکے اور تھالی میں رکھے ہوئے چراغ گل ہو گئے۔

رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ عورت نہ جانے کہاں غائب ہو گئی۔ مٹی کی ہانڈی پر جگہ جگہ کیلیں لگی ہوئی تھیں اور ناگ دیوانہ وار اپنا پھن اس ہانڈی پر مار رہا تھا وہ جب بھی ایسا کرتا زخمی ہو جاتا تھا چند منٹ بعد۔۔۔ اس نے آخری سر اٹھایا اور پھر پوری قوت سے ہانڈی پر دے مارا فضا میں دھپ کی آواز بلند ہوئی شیش ناگ کا جسم ایک بار اکڑا اور پھر اس میں کئی بل پڑ گئے ۔ وہ مر چکا تھا۔

سپیرے نے ایک لکڑی سے اسے ہانڈی سے دور ہٹایا اور پھر ہانڈی کے نیچے ہاتھ ڈال کر ”من“ اٹھایا اس کے ساتھ ہی ماحول لمحہ بھر کے لیے روشن ہو گیا۔ پھر اس نے ایک چھوٹے سے رومال میں ”من“ کو لپیٹا اور اپنے تھیلے میں ڈال لیا۔ اس کے ساتھ ہی میں جھاڑی کے پیچھے سے نکلا اور اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔ مجھے دیکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رہ گیا۔ پھر زہر خند سے بولا۔” کون ہو تم ، کیوں آئے  ہو؟“

”یہ من مجھے دے دو ۔“ میں نے ہاتھ پھیلا کر کہا ۔” مجھے اس کی سخت ضرورت ہے۔“

”واہ ، یہ بھی خوب رہی ۔“ اس نے فضا میں ہاتھ نچا کر غصہ سے کہا۔” جان جوکھوں میں ڈال کر میں نے اسے حاصل کیا اور تمہیں دے دوں؟؟“

”مجھے ایک انسان کی جان بچانی ہے ۔“ میں نے اسے بتایا۔

”تو میں کیا کروں ؟“ اس نے لاپروائی سے کہا۔اور تھیلے پر گرفت مضبوط کر کے چل دیا۔

”ایک لڑکی تین سال سے بے ہوش ہے۔“ میں نے اس کا راستہ روکتے ہوئے کہا۔ اس کی ماں نے بتایا ہے کہا کہ اگر شیش ناگ کا من مل جائے تو وہ پھر پہلے جیسی ہو سکتی ہے ۔“

”اگر تجھے اس سے اتنی ہمدردی تھی تو مجھ سے پہلے آکر لے لیا ہوتا۔“ اس نے نہایت ہی طنزیہ لہجے میں کہا۔

”میں اسی مقصد کے لیے آرہا تھا۔“ میں نے بتایا ۔” لیکن تم مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔۔۔ اور ۔۔۔“

”یہ تو بھگوان کی دین ہے ۔“ اس نے مسکرا کر کہا۔” جسے چاہے جو چاہے دے دے۔“

یہ سن کر ایک بار تو جی میں ایا کہ اسے بتا دوں کہ مجھ میں کتنی طاقت ہے اور خدا مجھ سے یہ کام لینا چاہتا ہے لیکن پھر مجھے فوراً ہی خیال آیا کہ اب مجھ میں پہلی جیسی روحانی طاقت نہیں رہی ہے۔

مجھے خاموش دیکھ کر وہ حقارت سے بولا۔” چل اپنی راہ لے ۔“

”نہیں ۔۔۔ نہیں ، ایسا نہ کرو ۔“ میں نے خوشامد سے کہا۔” یہمن اس لڑکی کے لیے ”امرت“ ہے مجھے دے دو۔ یہ اس کے لیے آبِ ھیات ہے۔“

یہ بات سن کر اس نے غور سے میرے چہرے کو دیکھا اور پھر نہایت معنی خیز انداز سے پوچھا۔”کیسی ہے وہ لڑکی؟“

”بری ہی خوبصورت ہے۔“ بالکل غیر ارادی طور پر میں نے کہا۔

”مجھ سے شادی کرے گی؟“ وہ سپاٹ لہجہ میں بولا۔ اس کی آنکھوں میں ہوس ناک چمک پیدا ہو چکی تھی۔ نجانے کیوں مجھے اس بات پر غصہ سا آگیا لیکن میں نے ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا۔” تمہیں ایسا نہیں سوچنا چاہیئے ۔ انسان کو انسان کے کام آنا چاہیئے۔“

”اس دھرتی پر کوئی کسی کے کام بغیر مطلب کے نہیں اتا۔“ اس نے بے رخی سے جواب دیا۔

اس کی بات سُن کر میرے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا ۔ یہ میرے نفس کی آواز تھی۔

میں جو اس لڑکی کے حُسن سے متاثر ہو کر بلا سوچے سمجھے مَن حاصل کرنے چلا آیا تھا۔لیکن پھر سیکنڈ سے بھی کم وقفہ میں پہلے ہی کی طرح نارمل تھا ۔ میں نے اُسے سمجھانے کی خاطر کہا۔” اس لڑکی پر مجھے کوئی اختیار نہیں ہے ۔ اس کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں کر سکتا ۔“

”اگر اختیار نہیں تو پھر یہاں کیوں آئے ہو؟ وہ نہایت ہی شرارت آمیز تبسم سے بولا۔” تم اس کی سندرتا پر مر مٹے ہو۔ تم اس پر احسان کر کے اُسے جیون بھر کے لیے غلام بنانا چاہتے ہو۔“

میں سمجھ گیا کہ یہ شخص انتہائی مطلب پرست ہے اور مجھے بھی اپنا ہی جیاسا سمجھ رہا ہے لہذا میں نے ایک بار پھر اُسے سمجھانے کی خاطر کہا۔” نہیں ، یہ بات نہیں ہے ۔۔۔ دراصل ۔۔۔“

”کوئی کسی کے لیے بنا لالچ کے کچھ نہیں کرتا۔“ اس نے میری بات کاٹ کر کہا اور پیٹھ موڑ کر چل دیا۔

اس کے مڑتے ہی میری نظر اس تھیلے پر پڑی جس کے اندر رومال میں لپٹا ہوا من رکھا تھا نجانے کیا ہو گیا میرا ہاتھ اس تھیلے کی طرف بڑھ گیا۔ تھیلے پر ہاتھ پڑتے ہی سپیرا مڑا اور نہایت ہی نفرت سے بولا۔” مورکھ ، تو کیسا منش ہے جو میری محنت کا پھل خود لینا چاہتا ہے ۔“ اس کے ساتھ ہی اس نے دائیں ہاتھ کا پورا پنجہ میرے منہ پر مار دیا۔ سندھی رسم و رواج کے مطابق یہ نہایت ہی گندی گالی تھی۔ اس کی اس حرکت پر میں ایک دم مشتعل ہو گیا اوتر اپنے سیدھے ہاتھ کا مُکا اس کے جبڑے پر رسید کر دیا۔ میرے اس غیر متوقع حملے کے لیے وہ تیار نہیں تھا۔ اس کے منہ سے ایک زبردست غراہٹ نکلی۔ اس نے زمین پر گر کر ایسا جبڑا پکڑا اس کے ہونٹوں کے کنارے سے خون کی باریک سی دھار بہ نکلی لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے زمین پر لیٹے لیٹے میری ٹانگوں میں اپنی ٹانگیں پھنسائیں اور نیچے گرا دیا۔ اب ہم دونوں زمین پر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو چکے تھے۔

مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میرا حریف غیر معمولی طاقتور ہے۔ اس نے ایک بار پٹخنی دے کر مجھے نیچے گرایا اور سینہ پر چڑھ بیٹھا۔ مجھے یوں معلوم ہوا جیسے منوں بوجھ تلے دب گیا ہوں۔میرا سانس رکنے لگا اور آنکھیں اُبل پڑیں اسی لمحہ وہ میرے سینے سے اتر گیا جیسے مجھے سنبھلنے کا موقع دے رہا ہو۔ میں نے لیٹے لیٹے سانس درست کی اور پھر اس پر چھلانگ لگا دی۔ لیکن دوسرے ہی لمحہ میں اس کے دونوں ہاتھوں میں اس طرح تھا جیسے بلی چوہے کو دباتی ہے ۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سر سے بلند کیا اور یہ کہتے ہوئے اچھال دیا ۔”کیوں اپنی جیون ہتیا کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔“

زمین پر گرتے ہی میں نے اپنی کمر پکڑ لی ۔ کمر میں درد کی ایک لہر سی اٹھی اور ۔۔اور۔۔ پھر مجھے خود پر قابو نہ رہا ۔ غصہ کی نہایت شدید حالت میں بے اتیار میرے منہ سے ”حق اللہ “ نکلا اور ساتھ ہی انگلی بھی اٹھ گئی۔

”حق اللہ“ کی آواز کے ساتھ ہی اس نے ایک کربناک چیخ مار کر اپنی گردن پکڑ لی اور ”مر گیا مہاراج“ کہتا ہوا زمین پر لوٹنے لگا ۔ میرا دل اس کامیابی پر خوشی سے جھوم اٹھا۔ ابھی میری زبان میں تاثیر تھی۔ میں نے فخر سے تڑپتے ہوئے سپیرے پر نظر ڈالی اور پھر ۔۔۔ کپڑے کا تھیلا اٹھا کر جس میں من تھا ، واپس چل دیا۔

ابھی میں پانچ دس قدم ہی چلا ہوں گا کہ مجھے ایک ساتھ بہت سی بلیوں کے غرانے کی آواز سنائی دی ۔ میں نے چلتے چلتے اطراف میں نظر ڈالی لیکن کچھ بھی دکھائی نہ دا۔ دہشت سے میرے رونگٹے کھرے ہو گئے۔ میں نے بہت سے سانپوں کی پھنکار سنی تھی ۔ ان کے رینگنے کی سر سراہٹ صاف سنائی دے رہی تھی ۔ میں نے اپنے اوسان درست کیے اور بے تحاشہ دوڑنے لگا۔

میں نے دوڑتے ہوئے پکےے قلعہ کی چڑھائی کو عبور کیا اور ایک گلی میں داخل ہو گیا۔ یہ گلی میری جانی پہچانی تھی۔ اس کول کے زمانے میں می اس گلی سے گزرا کرتا تھا ۔ میں اپنے خیال کے مطابق اس گھر کی طرف جا رہا تھا جس میں وہ عورت اپنی بے ہوش بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔

لیکن یہ کیا ؟ وہ گلی تو کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی ۔ حالانکہ میں نے کئی گلیوں کو پار کیا تھا اور اب مجھے مطلوبہ گلی میں ہونا چاہیئے تھا۔

میں نے ایک بار پھر گلیوں کا چکر لگایا اور ہر گلی میں محراب دار دروازہ کو تلاش کیا لیکن مجھے اس مکان کا درواز کہیں نظر نہیں آیا۔ اب رات ختم ہونے کو تھی نیلے آسمان کے افق پر صبح کے ستارے جھلملانا شروع کر دیا تھا ۔ اپنی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد میں کچھ جھنجھلا گیا اور تھیلے میں ہاتھ ڈال کر ناگ کا من نکالا۔ میرا خیال تھا کہ اگر اس عورت کا مکان یہیں کہیں قریب ہوگا تو من کی چکا چوند کر دینے والی روشنی میں مجھے بخوبی نظر آجائے گا۔ لیکن میں یہ دیکھ کر ھیرت زدہ رہ گیا کہ من کے بجائے بھر بھری مٹی کی ایک ڈلی میرے ہاتھ میں تھمی ہوئی تھی۔

یہ کیا ہوا ؟ میں نے سوچا ۔ میں تو سپیرے سے من چھین کر بھاگا تھا ۔ پھر یہ مٹی کی ڈلی کہاں سے آگئی! میرے مزاج میں ایک بار پھر جھنجھلاہٹ پیدا ہو گئی اور میں نے مٹی کی وہ دلی سامنے والے مکان کی دیوار پر دے ماری۔

اس کے ساتھ ہی کوئی بہت دور ۔۔۔ بہت ہی زور سے ہنسا تھا جیسے وہ میری ناکامی پر خوش ہوا ہو۔ پھر میرے کانوں میں سنسناہٹ دوڑنے لگی ۔ یہ ہنسی تو بالکل سکھ دیو کی آواز جیسی تھی ۔ میں نے چونک کر چاروں جانب نظر ڈالی اور پھر اپنی بے وقوفی پر خود ہی مسکرانے لگا۔ سکھ دیو یہاں کہاں ۔۔ وہ سکھر میں اپنے زخموں کی مرہم پٹی کر رہا ہے۔

سکھ دیو کا خیال آتے ہی میں نے سوچا کہ میں یہاں کس چکر میں پڑ گیا ہوں۔ مجھے تو سکھ دیو کے پاس سکھر جانا ہے ۔” جہنم میں جائے وہ عورت “ میں غصہ میں بڑبڑایا اور پھر میرے قدم خود بخود اسٹیشن کی طرف اٹھتے چلے گئے۔