Topics

تڑپتی رُوح

 

یہ اس زمانے کی بات ہے۔ جب کہ محپلیلی نہر حیدر آباد شہر کے نشیب میں بہا کرتی تھی۔ حکومتِ وقت نے حیدر آباد شہر کو دوسرے بڑے شہروں سے ملانے کی خاطر اس نہر پر پُل بنانے کی اسکیم بنائی۔ اس ہی نہر کے دوسرے کنارے پر میر بحروں جنہیں مچھیرے بھی کہا جاتا ہے، چھوٹی چھوٹی بستیوں میں آباد تھے۔ یہ لوگ اس نہر میں کشتیوں کے ذریعے جال ڈال کر مچھلیاں پکڑا کرتے اور یوں اپنے خاندان کا پیٹ بھرا کرتے ۔ اسکیم بنی ۔۔۔ اور۔۔۔ اور جب اس پر عمل شروع ہوا تو میرِ بحروں کو بھی متبادل جگہ دینا پڑی ۔ کیونکہ حکومت نے پُل بنانے کے لیے جو جگہ تجویز کی تھی وہ ان میر بحروں کی بستیاں تھیں۔ کچھ لوگوں نے جگہ کی بجائے حکومت سے روپیہ لیا اور زیادہ کمانے کے شوق میں حیدرآباد میں رہائش اختیار کر لی۔

کریمو اور فضل دونوں ہی بچپن سے گہرے دوست تھے۔ دونوں ہی میر بحروں کے بیٹے تھے۔ علم و ہنر سے بے بہرہ۔ شہر میں روز گاران کے لیے جو ایک مسئلہ بن گیا۔ حکومت سے جو روپیہ ملا تھا اس سے انہوں نے شہر میں دکان بنا لیے تھے اور باقی بچا اس سے ڈال روٹی چل رہی تھی۔

کریمو ، فضل سے زیادہ غریب تھا کیونکہ حکومت نے اُسے معاوضہ کم دیا تھا اور اس کے گھر میں کھانے والوں کی تعداد بھی زیادہ تھی۔

شانو ، کریمو کی چھوٹی بہن تھی ۔ گاؤں کی آزاد فضا نے اُسے وقت سے پہلے ہی جوان کر دیا تھا۔ پھر شہر کی ہوا نے اُسے اور بھی پروان چڑھایا۔

وہ جب بھی اپنے بھائی کے دوست فضل کو دیکھتی ، اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں ۔ وہ رفتہ رفتہ فضل سے محبت کرنے لگی۔

فضل اور کریمو کے گھر والے بھی ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ اور شہر آنے کے بعد تو اس محبت میں اور شدت آگئی تھی ۔ کیونکہ ایک تو شہر کا ماحول بیگانوں جیسا تھا ، پھر دکھ سکھ میں ساتھ دینے والا بھی یہاں اور کوئی نہیں تھا۔ یہ دونوں خاندان اس طرح سے رہتے تھے جیسے ایک ہی گھر کے افراد ہوں۔

فضل اور کریمو ایک دوسرے کے گھر بلا روک ٹوک آیا جایا کرتے تھے لیکن جب سے شانو جوان ہوئی تھی ، فضل نے بلا جھجھک جانا چھوڑ دیا تھا۔ وہ پہلے دروازے پر کھڑا ہو کر کریمو کو آواز دیتا اور پھر اندر داخل ہوتا کیونکہ وادی مہران کی یہ قدیم روایت تھی کہ اگر گھر میں جوان لڑکی ہے تو سگا بھائی بھی آواز دیئے بغیر نہیں آسکتا پھر فضل اور کریمو تو غیر تھے۔

کچھ پرانی روایات اور کچھ زمانے کے حالات نے دونوں ہی خاندانوں کو چوکنا کر دیا تھا۔ اب فضل گھر میں کبھی کبھار آتا تھا لیکن شام ہوتے ہی وہ کریمو کے گھر ضرور پہنچ جاتا تھا اور پھر یہ دونوں دوست اپنے گھر کے سامنے زمین پر بیٹھ کر خوش گپیوں میں مشغول ہو جاتے تھے۔

شانو نے جوانی کے جہنم زار میں قدم رکھ دیا تھا جہاں ارمان شعلوں کی مانند بلند ہوتے ہیں۔ جہاں ہر لڑکی کی آنکھوں میں سُرخ ڈورے نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے بوڑھے باپ اور نوجوان بھائی کو اس بات کا احساس تھا لیکن وہ مجبور تھے۔ پھیلی کے اس پار سے آئے ہوئے انہیں پورے دو سال ہو چکے تھے۔ لیکن ابھی تک ذریعہ معاش میسر نہیں ایا تھا۔ فضل دن میں تین چار روپے کی مزدوری کر کے اپنے گھر کا گزارا کر رہا تھا لیکن کریمو کا حال اس سے بُرا تھا۔ دو دو تین تین دن تک اُسے مزدوری نہیں ملتی تھی۔

شانو سے گھر یلو حالات پوشیدہ نہیں تھے۔ وہ جانتی تھی کہ باپ بوڑھا ہے اور جوان بھائی کی آمدنی اتنی قلیل ہے کہ مشکل سے دو وقت کی روٹی میسر ہوتی ہے۔ ایسے میں اُسے اپنی ماں یاد اجاتی جو اس کی پیدائش کے سال بھر بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔ شانو اپنے حالات کے بارے میں جتنا سوچتی ، مایوسی اور غربت کے اندھیرے گہرے ہوتے چلے جاتے۔ اس کے دماغ میں کبھی کبھی یہ خیال پیدا ہوتا کہ وہ دلہن نہیں بن سکتی۔ اس کے گھر کبھی دولہا نہیں آ سکتا۔ ا س کے ارمانوں کی سیج یوں ہی سونی رہے گی پھر۔۔ پھر وہ اپنی ہی طرح غریب ودلہا کو تلاش کرتی اور گھما پھرا کر نگاہِ انتخاب فضل پر جا ٹھہرتی۔

فضل جوان تھا۔ آخر اسے بھی تو زندگی گزارنے کی خاطر ”ساتھی“ کی ضرورت تھی لیکن غربت اس کا بھی راستہ روکے کھڑی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ شانو اس کے دوست کی بہن ہے لیکن وہ حالات سے مجبور تھا۔

مرد کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ جب محبت کرتا ہے تو صبر نہیں کر سکتا۔

شانو اتنا کہہ کر خلا میں دیکھنے لگی ۔ پھر وہ ٹھنڈی سانس لے کر بولی۔” اور ہم نے خفیہ طور پر نکاح کر لیا اور جانتے ہو پھر کیا ہوا ؟“ دوشیزہ نے اچانک مجھ سے پوچھا۔

”کیا۔۔۔؟ میں اس کے اس اچانک سوال سے چونک پڑا۔

”جب آدمی معاشرہ میں رائج قوانین کو توڑتا ہے تو اس کا انجام بھی بہت خطرناک ہوتا ہے ۔ شانو جانتی تھی کہ اس پر جو قیامت آنے والی ہے اُسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ وہ جانتی تھی کہ راز افشا ہوتے ہی نہ صرف اس کی زندگی ختم کر دی جائے گی بلکہ فضل بھی نہیں بچ سکے گا۔

فضل کو بھی یہی خطرہ لاحق تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک نہ ایک دن راز ضرور کھل جائے گا۔

لہذا اب اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کہ اس شہر کو چھوڑ دیا جائے۔

ان دونوں نے دریائے سندھ کے پار سہون شریف میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا اور پھر ایک رات جب کہ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے ، ہر طرف اندھیرا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ سبح سے پہلے بارش نہیں ہوگی ، وہ دونوں میاں بیوی گھروں سے نکل پڑے ۔ وہ چاہتے تھے کہ صبح بارش ہونے سے پہلے ہی دریا پار کر لیں ۔ پھر ۔۔۔ پھر انہیں کوئی نہیں ڈھونڈ سکے گا۔ وہ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے پگ ڈنڈی پر جا رہے تھے جو دریائے سندھ کی طرف جاتی تھی۔ ابھی وہ یہاں تالاب تک ہی پہنچے تھے کہ اچانک بارش اور ہوا کے طوفان نے ان کا راستہ روک لیا ۔ وہ طوفان بالکل آج ہی جیسا تھا۔“

اتنا کہہ کر دوشیزہ کھڑکی کے باہر دیکھنے لگی۔ باہر بارش اور ہوا کا طوفان پہلے ہی کی طرح جاری تھا۔

”بارش نے ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ کر دی تھی ۔“ وہ دوبارہ بولی ۔” چلنا دو بھر ہو گیا تھا۔ وہ دونوں طوفان سے بچنے کی خاطر اس مکان میں آگئے۔ ویسے بھی یہ مکان صدیوں سے خالی پڑا تھا۔ فضل کا خیال تھا کہ ذرا طوفان کم ہو تو سفر دوبارہ شروع کر دیا جائے۔ لیکن یہ طوفان تو رکنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ بارش کی ٹھنڈی ہوا سے شانو کپکپانے لگی۔ اس کے کپڑے پہلے ہی بارش میں بھیگ چکے تھے فضل نے اُسے کونے میں بیٹھ جانے کو کہا اور خود لکڑیاں تلاش کرنے چلا گیا۔

”لیکن ایسے طوفان میں اُسے لکڑیاں کہاں سے ملتیں۔“ میں نے پوچھا۔

”یہ طوفان بڑا ہی ظالم ہے۔“ دوشیزہ نے میری بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ”اس طوفان نے ان دونوں کے گھر والوں کو بیدار کر دیا۔ شانو کے باپ اور بھائی نے اپنے اپنے پلنگ اندر کمرے میں کھینچ لیے۔ لیکن شانو کا پلنگ ؟؟ وہ تو خالی پڑا تھا۔“

”رات کی تاریکی میں جوان بیٹی کا پلنگ خالی پڑا ہو تو ماں باپ کی جان نکل جاتی ہے۔“ اس نے ایسے کہا جیسے اپنی بات کی تصدیق چاہتی ہو۔

میں نے اقرار کے انداز میں سر ہلا دیا۔

”اس کے بوڑھے باپ نے بھی پلنگ خالی دیکھا تو کلیجہ تھام لیا ۔“ دوشیزہ بولی۔” لیکن کریمو جوان تھا۔ اس کی رگوں میں گرم خون دوڑ رہا تھا۔ اس کے دل میں غم کی جگہ غصہ نے لے لی۔ اس نے ایک دم باپ کو پلنگ پر لٹایا اور کونے میں رکھی ہوئی کلہاڑی لے کر باہر نکل آیا۔“

”تم جانتے ہو ؟“ اس نے انگلی اٹھا کر پوچھا۔” گاؤں کے لوگ پیروں کے نشانات دیکھ کر چوروں کا کھوج لگا لیتے ہیں ۔ کریمو بھی بہن کے پیروں کے نشانات دیکھتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں لالٹین تھی۔ شانو کونے میں دبکی بیٹھی تھی۔ خوف سے نہیں سردی کی وجہ سے ۔ کریمو اس کے سر پر پہنچ گیا۔ شانو اپنے بھائی کو دیکھ کر فرطِ محبت سے کھڑی ہو گئی۔“

”ادا۔۔۔! شانو محبت سے چلائی ۔۔( ادا سندھی زبان میں بھائی کو کہتے ہیں)

”تیرے ساتھ اور کون ہے؟ کریمو نے پھولی سانس سے پوچھا۔

”میرا شوہر۔“ شانو نے کپکپاتے ہونٹوں سے جواب دیا ۔

”پاؤں کے نشان جھوٹ نہیں بولتے۔“ کریمو غصہ سے کانپتے ہوئے بولا۔” وہ ذلیل ۔۔۔ کمینہ کہاں ہے؟“

”قصور ، اس کا نہیں ، میرا ہے ادا ! مجھ سے غلطی ہو گئی۔ مجھے رسم و رواج کے مطابق شادی کرنی چاہیئے تھی ۔“ شانو نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا۔ وہ اپنے بھائی کا دل اپنے شوہر کی طرف سے صاف کر دینا چاہتی تھی۔

”بے غیرت ۔“ کریمو نے یہ کہہ کر اپنے دائیں ہاتھا پورا پنجہ اس کے منہ پر مار دیا۔ سندھی معاشرہ کے مطابق اس طرح کی حرکت نہ صرف انتہائی اظہار ِ نفرت ہوتی ہے بلکہ گالی بھی ہے۔

” مجھے معاف کر دے ادا۔؛ شانو نے اسی ہی طرح ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی۔”میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔“

لیکن اب معاف کرنے کا وقت گزر چکا تھا۔” بے گیرت ، تو نے باپ کی عزت کو پامال کیا ہے ۔“ کریمو غصہ سے دھاڑا اور لالٹین نیچے رکھ کر کلہاڑی اس کے سر پر تان لی۔

”اچھا ۔ فضل کو اجانے دے ۔“ شانو نے موت سامنے دیکھی تو اسے اپنا محبوب شوہر یا د آگیا۔۔ لیکن فضل۔۔ یہ نام کریمو کے لیے گالی تھا۔ اس نے اپنی بہن کے منہ پر تھوک دیا۔ وہ غصہ میں دیوانہ ہو چکا تھا ۔ خاندانی عزت کی خاطر بہن کے خون کا پیاسا ہو گیا۔ اس نے اپنی بہن کی خواہش کو پورا نہ ہونے دیا۔ فضا میں ایک دبی ہوئی چیخ بلند ہوئی۔ کلہاڑی شانو کے عین سر کے درمیان میں پیوست ہوگئی۔

”فضل کو آجانے دے ۔۔“ شانو ایک بار پھر گڑ گڑائی انتظار کی شدت نے شانو کے دل سے موت کا خوف نکال دیا تھا۔ اس کے سر سے گاڑھا گاڑھا سرخ خون بہہ بہہ کر چہرہ پر آرہا تھا اسی لمحے زینہ پر آہٹ سنائی دی ۔ شاید فضل آرہا تھا۔ کریمو خون آلود کلہاڑی لیے اس طرف دوڑ ا اور ۔۔۔ اور ۔۔ پھر فضل کبھی نہ آ سکا۔“ کریمو نے اسے بھی قتل کر دیا ہوگا۔ “ میں نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔

”لیکن۔۔ شانو تو آج بھی اس طوفان میں اس کا انتظار کر رہی ہے۔“ دوشیزہ نے کرسی کی پشت سے سر لگاتے ہوئے کہا۔

میں نے غور سے دیکھا ۔ دوشیزہ کے سر سے گاڑھا گاڑھا خون بہہ رہا تھا۔

”تم ۔۔۔ تم ۔۔۔ شانو ہو!“ میں نے خوف زدہ ہو کر پوچھا۔

” ہاں ، میں شانو ہوں جسے اس کے بھائی کریمو نے محض غلط فہمی کی بنا پر مار دیا۔ جسے اپنے محبوب شوہر کا اس طوفان میں بھی انتظار ہے۔“ دوشیزہ نے جواب دیا۔

لالٹین کی روشنی میں اس کا خون آلود چہرہ بڑا ہی بھیانک لگ رہا تھا۔ خوف سے میرا بدن کپکپانے لگا۔ لیکن میں نے اپنے حواس پر قابو رکھا۔ اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔

”تم ۔۔۔ تم ۔۔۔ کہاں جا رہے ہو؟“ شانو نے مجھے کھڑا دیکھ کر پو چھا۔

میں نے کوئی جواب دینے کے بجائے زینہ کی جانب دوڑ لگا ئی۔

”میرے فضل کو بھی ڈھونڈ لانا“ دوشیزہ نے بلند آواز سے کہا۔

میں بے تحاشہ تیزی سے زینہ اتر رہا تھا کہ اچانک پاؤں پھسلا۔۔ شاید کوئی تختہ نکل گیا تھا میں لڑھکتا ہوا نیچے آیا۔ میرا ذہن تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا اور پھر مجھے کوئی ہوش نہیں رہا۔